Resultado de imagen de Jihad greatest

جہاد کی حقیقت

اصغر علی مصباحی

اللہ کی راہ میں گھڑی بھر ٹھہرنا حجر اسود کے پاس لیلۃ القدر میں قیام کرنے سے بہتر ہے

جہاد ایک عربی لفظ ہے جس کا مادہ ’’جہد‘‘ ہے ،اس کے معنی ہیں کوشش کرنااور دوڑ دھوپ کرنا۔اسلامی اصطلاح کے مطابق اس کا مفہوم ہے دین اسلام کے غلبے ،اس کی حفاظت اور اُس کی نشرو اشاعت کے لیے بھرپور کوشش کرنا ،تاکہ اللہ کا قانون پوری دنیاپر نافذ ہوجائے۔

جہاد کی نوعیت جہاد تین طرح کا ہوتا ہے:

 ۱۔ مال سے جہاد کرنا

۲۔جان سے جہادکرنا

 ۳۔زبان سے جہاد کرنا۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ۔(ابوداؤد،باب : كراهية ترك الغزوۃ)

ترجمہ: مشرکوں سے اپنے مال،اپنی جان اور اپنی زبان سے جہاد کرو۔

 مال سے جہاد کرنے کاثبوت:

حضرت عدی بن حاتم طائی نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا:

 أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: خِدْمَةُ عَبْدٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَوْ ظِلُّ فُسْطَاطٍ، أَوْ طَرُوْقَةُ فَحْلٍ فِي سَبِيلِ الله۔ (سنن ترمذي،باب ما جاء في فضل الخدمة في سبيل الله)

 ترجمہ: کون سا صدقہ سب سے افضل ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ اللہ کی راہ میں خادم مہیاکرنا، یااللہ کی راہ میں سایے کے لیے خیمہ مہیا کرنا یاجوان اونٹنی اللہ کی راہ میں پیش کرنا ۔

 جان سے جہاد کرنے کا ثبوت:

 حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا :یا نبی اللہ !(صلی اللہ علیہ وسلم)

 أَيُّ الْأَعْمَالِ أَقْرَبُ إِلَى الْجَنَّةِ؟ قَالَ: الصَّلَاةُ عَلٰى مَوَاقِيْتِهَاقُلْتُ: وَمَاذَا يَا نَبِيَّ اللهِ؟ قَالَ: بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قُلْتُ: وَمَاذَا يَانَبِيَّ اللهِ؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ۔ (مسلم ،باب بيان كون الايمان بالله تعالىٰ افضل الاعمال)

 ترجمہ:کون سا عمل جنت سے سب سے زیادہ قریب ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ہرنماز کو اُس کے وقت پر ادا کرنا، پھر میں نے عرض کیا کہ یانبی اللہ!اس کے علاوہ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ والدین کی خدمت کرنا ،پھر میں نے عرض کیا کہ یانبی اللہ!اس کے علاوہ ؟اس پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ کی راہ میں اپنی جان کو لگا دینا۔

 زبان سے جہاد کرنے کا ثبوت:

 حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

اهْجُوْا قُرَيْشًا، فَإِنَّه أَشَدُّ عَلَيْهَا مِنْ رَشْقٍ بِالنَّبْلِ۔ (مسلم،باب فضائل حسان بن ثابت)

 ترجمہ: (اے حسان ! ) قریش کی ہجو کرو، کیوںکہ اُن کی ہجوکرنا تیر کی بوچھار سے زیادہ سخت ہے ۔

 اس کے علاوہ بھی جہاد کی درج ذیل قسمیں ہیں :

 ۱۔جہاد اصغر

 ۲۔جہاد اکبر

 جہاد اصغر،یہ جہادکا سب سے آخری درجہ ہے۔اس کو قتال سے بھی تعبیر کیاجاتاہےجب کہ جہاد کا سب سے اعلی درجہ جہاد اکبر ہے،جس کو جہاد بالنفس بھی کہتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے اندر سے ظلم ،نافرمانی اور معصیت کو ختم کرنے کے لیے ہمیشہ جدوجہد کرتا رہے ۔

حدیث پاک میں ہے :

قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزَاةِ،فَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ:قَدِمْتُمْ خَيْرَ مَقْدَمٍ، وَقَدِمْتُمْ مَنَ الْجِهَادِ الْأصْغَرِ إلَى الْجِهَادِ الْأكْبَرِ،قَالُوْا:وَمَا الْجِهَادُ الْأكْبَرُ؟قَالَ:مُجَاهَدَةُ الْعَبْدِ هَوَاهُ۔ (كشف الخفاء للعجلونی،حرف الراء المهملہ)

 ترجمہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ سے واپس ہوئے تو ارشاد فرمایاکہ تمہارا آنا مبارک ہو ،کیوں کہ تم جہادِ اصغر سے جہادِ اکبر کی طرف پلٹ رہے ہو۔

 صحابۂ کرام نے عرض کیا کہ جہادِاکبر کیاہے ؟ اس پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ بندے کا اپنےخواہشات کے ساتھ لڑنا،جہادِ اکبرہے ۔

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا:

 أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالْمُؤْمِنِ، مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلٰى أَمْوَالِهِمْ، وَأَنْفُسِهِمْ، وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِه، وَيَدِه، وَالْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَه فِي طَاعَةِ اللهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذُّنُوْبَ۔ (صحيح ابن حبان،ذكر البيان بانَّ كل هجرة ليس فيها)

 ترجمہ:کیا میں تمھیں مومن کے بارے میں نہ بتا دوں؟ مومن وہ ہے جس سے لوگوں کے مال اور جان محفوط رہیں، مسلم وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ سلامت رہیں، مجاہد وہ ہے جو اللہ کی طاعت میں اپنی خواہشات سے لڑے اور مہاجر وہ ہے جو غلطیوں اور گناہوں کو چھوڑ دے ۔

جہاد کی فضیلت

 حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

غَدْوَةٌ، أَوْرَوْحَةٌ فِي سَبِيْلِ اللهِ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا۔( مسلم، باب فضل الغدوة والروحة في سبيل الله)

 ترجمہ:ایک صبح یا ایک شام اللہ کی راہ میں چلنا دنیا اور جو کچھ اُس میں ہےاس سے بہتر ہے ۔

 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :

 مَوْقِفُ سَاعَةٍ فِي سَبِيْلِ اللهِ خَيْرٌ مِنْ قِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ عِنْدَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ۔ (صحيح ابن حبان،ذكر تفضل الله جل وعلا على الواقف ساعة في سبيل الله)

 ترجمہ:اللہ کی راہ میں گھڑی بھر ٹھہرنا حجر اسود کے پاس لیلۃ القدر میں قیام کرنے سے بہتر ہے ۔

 مجاہدین کی فضیلت

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیاکہ یا رسول اللہ!( صلی اللہ علیہ وسلم) لوگوں میں سب سے افضل کون ہے؟ اس پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:

 مُؤْمِنٌ يُجَاهِدُ بِنَفْسِه وَمَالِه فِي سَبِيْلِ اللهِ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَعْبُدُ رَبَّه وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّه۔ ( مسلم،باب فضل الجهاد والرباط،حدیث:۱۸۸۸)

 ترجمہ:وہ مومن جو اپنی جان اور مال کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرے۔اس نے دوبارہ دریافت کیاکہ پھر کون ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ وہ شخص جو کسی پہاڑ کی گھاٹی میں الگ ہو کر اپنے رب کی عبادت کرے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

 ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللهِ عَوْنُهُمْ:المُجَاهِدُ فِي سَبِيْلِ اللهِ، وَالمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيْدُ الْأَدَاءَ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيْدُ العَفَافَ۔ (سنن ترمذي :باب ما جاء في المجاهد،حدیث:۱۶۵۵ )

ترجمہ:تین آدمیوں کی مدد کرنا اللہ کے ذمہ ہے ،ایک اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا،دوسراوہ غلام جو غلامی سے آزادی حاصل کرنے کے لیے قیمت ادا کرنا چاہتا ہواور تیسرا وہ شخص جس نےگناہ سے بچنے کے لیے نکاح کیا ہو۔

 حضرت زید بن خالد جہنی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

 مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيْلِ اللهِ، كَانَ لَه مِثْلُ أَجْرِهٖ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَّنْقُصَ مِنْ أَجْرِ الْغَازِي شَيْء۔ (سنن ابن ماجه، باب فضل النفقة في سبيل الله،حدیث:۲۷۵۹ )

 ترجمہ:جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے سامان فراہم کیا اس کو اتناہی ثواب ملے گا جتنا جہاد کرنے والے کو اور جہاد کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی بھی نہ ہوگی۔

جہاد کےمقاصد

جہاد کا مقصد پوری دنیا سے فسق وفجور ،خوں ریزی اور بداَمنی کو دور کرنا ہے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :

مَنْ رَاٰى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْه بِيَدِه، فَإِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِه، فَإِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِه، وَذٰلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ۔ ( مسلم ،باب بيان كون النهي عن المنكر من الايمان،حدیث:۷۸)

 ترجمہ: تم میں سے جوبرائی کو دیکھے چاہیے کہ اُسے اپنی قوت سے روکے ،اگر قوت سے نہ روک سکے تو اپنی زبان سے روکے اور اگر زبان سے بھی نہ روک سکے تو دل سے بُرا جانے،یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے ۔

 جہاد کے ممنوعات

 حضرت یحی بن سعید رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں :

 أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ بَعَثَ جُيُوشًا إِلَى الشَّامِ، فَخَرَجَ يَمْشِي مَعَ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ , وَكَانَ أَمِيرَ رُبْعٍ مِنْ تِلْكَ الأَرْبَاعِ، فَزَعَمُوا أَنَّ يَزِيدَ قَالَ لأَبِي بَكْرٍ: إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ، وَإِمَّا أَنْ أَنْزِلَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا أَنْتَ بِنَازِلٍ، وَمَا أَنَا بِرَاكِبٍ، إِنِّي أَحْتَسِبُ خُطَايَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّكَ سَتَجِدُ قَوْمًا زَعَمُوا أَنَّهُمْ حَبَّسُوا أَنْفُسَهُمْ لِلَّهِ، فَدعهُمْ وَمَا زَعَمُوا أَنَّهُمْ حَبَّسُوا أَنْفُسَهُمْ لَهُ، وَسَتَجِدُ قَوْمًا فَحَصُوا عَنْ أَوْسَاطِ رُؤُوسِهِمْ مِنَ الشَّعَرِ، فَاضْرِبْ مَا فَحَصُوا عَنْهُ بِالسَّيْفِ، وَإِنِّي مُوصِيكَ بِعَشْرٍ: لاَ تَقْتُلَنَّ امْرَأَةً، وَلاَ صَبِيًّا، وَلاَ كَبِيرًا هَرِمًا، وَلاَ تَقْطَعَنَّ شَجَرًا مُثْمِرًا، وَلاَتُخَرِّبَنَّ عَامِرًا، وَلاَ تَعْقِرَنَّ شَاةً، وَلاَ بَعِيرًا، إِلاَّ لِمَأْكَلَةٍ، وَلاَتُغَرِّقَنَّ نَحْلاً وَلاَ تَحْرِقَنَّه، وَلاَ تَغْلُلْ وَلاَ تَجْبُنْ۔ (موطاامام مالك،باب ما تؤمر به السرايا في سبيل الله)

 ترجمہ: جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نےشام کی طرف لشکربھیجا تو حضرت یزید بن ابو سفیان کے ساتھ کچھ دیر پیدل گئے،اس وقت حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ لشکر کے ایک چوتھائی حصے کے امیر تھے ۔ حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے عرض کیاکہ یا تو آپ بھی سوار ہوجائیں یا میں بھی اتر جاؤں۔

 اس پرحضرت ابوبکر نے فرمایا کہ نہ تم اترو اور نہ میں سوار ہوتاہوں،کیوں کہ میں جتنے قدم چل رہا ہوں اُسے اللہ کی راہ میں شمار کرتا ہوں۔ پھر حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ تم ایک ایسی قوم کے پاس جار ہے ہو جس میں کچھ لوگ وہ ہیں جنھوںنے اپنے آپ کو اللہ کے لیے الگ کر رکھا ہے انھیں ان کے حال پرچھوڑ دینااور کچھ لوگ ایسے ملیں گے جو درمیان سے بال منڈواتے ہیں تو انھیں اسی جگہ تلوار سے مارنا۔

میں تمھیں دس چیزوں کے بارے میں یہ وصیت کرتا ہوں کہ عورت کوقتل نہ کرنا ،بچوں کو قتل نہ کرنا ،زیادہ بوڑھے کو قتل نہ کرنا ، کسی پھل دار درخت کو نہ کاٹنا،کسی بستی کو نہ اجاڑنا، بکری اور اونٹ کو نہ مارنا، ہاں! اگر کھانا ہو تو کوئی بات نہیں ، شہد کی مکھیوں کو نہ اڑانا ،اورنہ اُسے جلانا ،خیانت نہ کرنا اور بزدلی نہ دکھانا۔

ان تمام احادیث کریمہ سے جہاد کا مفہوم،اس کی حقیقت اورمقصد پوری طرح واضح ہو گیا،اس لحاظ سے دیکھا جائے تو آج دنیا میں جوہر طرف جہاد کے نام پر فساد پرپاکیا جارہا ہے ، بستی کی بستی اجاڑدی جاتی ہیں ،عورتوں، بوڑھوں بلکہ بچوںکو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا جا تا ہے ،اس طرح کے نام نہاد جہاد کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔