أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اَؤُنَبِّئُكُمۡ بِخَيۡرٍ مِّنۡ ذٰ لِكُمۡ‌ؕ لِلَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا عِنۡدَ رَبِّهِمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا وَاَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّرِضۡوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ‌ؕ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ‌ۚ

ترجمہ:

جو یہ کہتے ہیں اے ہمارے رب بیشک ہم ایمان لائے سو ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کئے کہ میں تم کو ان (سب) سے بہتر چیزوں کی خبر (نہ) دوں ؟ اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے انکے رب کے پاس ایسے باغات ہیں جن کے نیچے دریا بہتے ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ بیویاں ہیں اور اللہ کی رضا ہے اور اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے۔ کہ اے ہمارے رب۔ ! بیشک ہم ایمان لائے سو ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔۔ (آل عمران : ١٦۔ ١٥)

اخروی نعمتوں کا دنیاوی نعمتوں سے افضل ہونا :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اور اللہ ہی کے پاس ٹھکانہ ہے اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس اچھے ٹھکانے کی تفصیل بیان فرمائی ہے کہ اس میں باغات ہیں جن میں مسلمان ہمیشہ رہیں گے اور حیض اور نفاص اور برائیوں سے پاک اور صاف بیویاں ہیں یہ انسان کے جسم کے لذتین ہیں اور روح کی لذت کے لئے اللہ کی رضا ہے اور یہ سب سے بڑی نعمت ہے۔

امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل اہل جنت سے فرمائے گا : اے اہل جنت ! وہ کہیں گے لبیک اے ہمارے رب ! ہم تیری اطاعت کے لئے حاضر ہیں اور تمام خیر ترے ہاتھوں میں ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم راضی ہوگئے ؟ وہ کہیں گے اے رب ! وہ کہیں گے اے رب ! ہم کیوں راضی نہیں ہوں گے ! تو نے ہمیں وہ نعمتیں دی ہیں جو تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیں ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے کیا میں تم کو اس سے زیادہ افضل چیز نہ دوں ؟ وہ کہیں گے اے رب ! اس سے زیادہ افضل چیز اور کیا ہوگی ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں تم پر اپنی رضا حلال کردیتا ہوں اس کے بعد میں کبھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا ! ( ج ٢ ص ‘ ٣٧٨ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اللہ تعالیٰ نے آخرت کی نعمتوں کو دنیا کی نعمتوں سے افضل فرمایا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی نعمتیں فانی ہیں اور آخرت کی نعمتیں باقی ہیں انسان کو جس وقت دنیا کی نعمتیں حاصل ہوں اس وقت بھی اس بھی اس کو یہ فکر دامن گیر رہتی ہے کہ نہ جانے کب یہ نعمتیں اس کے ہاتھ سے جاتی رہیں ‘ نیز دنیا میں انسان کو اگر کسی ایک وجہ سے راحت میسر ہوتی ہے تو کسی اور طرف سے مصیبت اور پریشانی کا سامنا ہوتا ہے اور میں دنیا کوئی شخص بھی رنج اور فکر سے خالی اور رنج کی آمیزش نہیں ہے۔

اس آیت میں فرمایا کہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے آخرت میں باغات ہیں پاکیزہ بیویاں ہیں اور اللہ کی رضا ہے اللہ سے ڈرنے والوں سے مراد متقی لوگ ہیں اور متقی وہ مومن ہے جو گناہ کبیرہ کے ارتکاب اور صغائر پر اصرار سے مجتنب ہو اور کامل متقی وہ ہے جو خلاف سنت ہے اور خلاف اولی سے بھی محترز ہو۔

کوئی شخص بھی توبہ اور استغفار سے مستغنی نہیں ہے :

دوسری آیت میں ہے وہ متقی یہ کہتے ہیں :

اے ہمارے رب بیشک ہم ایمان لائے سو ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا ! امام رازی نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ صرف ایمان کی وجہ سے بندہ اللہ کی رحمت اور مغفرت کا مستحق ہوتا ہے کیونکہ جو شخص تمام عبادات کا حامل ہو اور کامل متقی ہو اس کی مغفرت کا نہ ہونا عبث اور قبیح ہے لہذا اس کی دعا صرف درجات کی بلندی کے لئے ہوتی ہے اور جو صرف ایمان سے متصف ہو اور اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں وہ گناہوں کی معافی کے لئے دعا کرے گا ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صرف ان کے ایمان کے بعد ان کے استغفار کا ذکر کیا ہے ‘ امام رازی نے اپنے موقف پر اس آیت کو بھی پیش کیا ہے :

(آیت) ” ربنا اننا سمعنا منا دیاینادی للایمان ان امنوا بربکم فامنا ربنا فاغفرلنا ذنوبنا وکفر عنا سیاتنا وتوفنا مع الابرار “۔ (آل عمران : ١٩٣)

ترجمہ : اے ہمارے رب ! بیشک ہم نے ایک منادی سے یہ ندا سنی کہ (اے لوگو ! ) اپنے رب پر ایمان لے آؤ تو ہم ایمان لائے سو اے ہمارے رب ! تو ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہماری خطاؤں کو مٹا دے اور نیک لوگوں کے ساتھ ہمارا خاتمہ کر۔

امام رازی کا استدلال یہ ہے کہ اس آیت میں بھی یہ بھی ذکر ہے کہ ان لوگوں نے صرف اپنے ایمان لانے کا ذکر کر کے گناہوں سے استغفار کیا ہے یہ نہیں ہے کہ انہوں نے جمیع طاعات کرنے کے بعد استغفار کیا ہو۔ (تفسیر کبیر ج ٢ ص ٤١٣ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

ہمارے نزدیک یہ بات تو صحیح ہے کہ اگر انسان صرف ایمان لایا ہو اور اس کو عبادت کا موقع نہ ملا ہو یا موقع ملنے کے وعدہ فرما لیا ہے ‘ لیکن یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ جو کامل متقی ہو اسکی دعا صرف درجات کی بلندی کے لئے ہوگی گناہوں کی مغفرت کے لئے نہیں ہوگی ‘ کیونکہ انسان زندگی کا ہر سانس اطاعت الہی میں گزارنے کے باوجود اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کے شکر سے عہد بر آ نہیں ہوسکتا اور یہ عدل و انصاف سے ہرگز بعید نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص سے شکر میں کوتاہی کرنے پر گرفت کرے اور اس کو عذاب دے ‘ اس لئے بڑے سے بڑا عبادت گزار بھی استغفار کرنے اور تقصیر طاعت پر معافی مانگنے سے مستغنی نہیں ہے۔

امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل ہرگز نجات نہیں دے گا ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں ؟ آپ نے فرمایا نہیں مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے ‘ البتہ تم ہمیشہ نیک کام کرتے رہو۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٧٦‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

حضرت زید بن ثابت (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر اللہ تمام آسمان والوں اور تمام زمین کو عذاب دے تو وہ ان کو ضرور عذاب دے گا درآں حالیکہ وہ ظلم کرنے والا نہیں ہوگا اور اگر وہ ان پر رحم فرمائے تو اس کی رحمت ان کے اعمال سے بہتر ہے۔ (سنن ابن ماجہ ص ‘ ٩ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

نیز اس آیت کے بعد جو قرآن مجید کی آیت ہے اس میں صاف اور صریح طور پر نیک لوگوں کے استغفار کرنے کا ذکر ہے :

(آیت) ” الصبرین والصدقین والقنتین والمنفقین والمستغفرین بالاسحار “۔ (آل عمران : ١٧)

ترجمہ : جو صبر کرنے والے، سچ بولنے والے، اللہ کی اطاعت کرنے والے اور (اللہ کی راہ میں) خرچ کرنے والے اور رات کے آخری حصہ میں استغفار کرنے والے۔

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑھ کر کون اطاعت شعار اور عبادت گزار ہے اور آپ دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کرتے تھے ‘ امام محمد بن اسماعیل بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں ایک دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٩٣٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معصوم ہیں نبوت سے پہلے اور نبوت کے بعد کوئی صغیرہ ‘ کبیرہ گناہ سوا ‘ یا عمدا ‘ صورۃ ‘ یا حقیقتا ‘ آپ سے کبھی صادر نہیں ہوا ‘ پھر آپ کا استغفار کرنا اور توبہ کرنا اس لئے تھا کہ فی نفسہ توبہ اور استغفار عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

(آیت) ” فسبح بحمدربک واستغفرہ انہ کان توابا “۔ (النصر : ٣)

ترجمہ : آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کریں اور اس سے استغفار کریں بیشک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔

اور آپ کا توبہ اور استغفار کرنا اس لئے تھا کہ اللہ تعالیٰ توبہ اور استغفار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

(آیت) ” ان اللہ یحب التوابین “۔ (البقرۃ : ٢٢٢)

ترجمہ : بیشک اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

یا آپ نے بہ ظاہر خلاف اولی کاموں یا ترک اولی کی وجہ سے استغفار کیا ‘ یا بعض اوقات، آپ امت کی تبلیغ ‘ کھانے پینے اور سونے جاگنے کے معمولات ‘ ازواج مطہرات کے حقوق ‘ جہاد اور اس نوع کے دیگر کاموں میں مشغول ہوتے اور آپ کا جو خاص مقام تھا کہ اللہ کے حضور میں اس طرح متوجہ ہوتے کہ اور کسی کی طرف متوجہ نہ ہوتے ‘ ان امور میں اشتغال کی وجہ سے ہے ‘ یا آپ کا حال دائما ” ترقی پذیر تھا اور آپ اگلے حال کو دیکھ کر پچھلے حال پر استغفار کرتے یا آپ اس لیے استغفار کرتے کہ اللہ تعالیٰ کی کما حقہ عبادت نہیں ہوسکی اگرچہ آپ سب سے بڑے عبادت گزار تھے یا آپ اس لئے استغفار کرتے کہ اللہ کی تمام نعمتوں پر کما حقہ شکر ادا نہیں ہوسکا یا اس لئے کہ اللہ کی جیسی حمد وثناء ہونی چاہیے تھی نہیں ہوسکتی یا تواضعا “ استغفار کرتے یا تعلیم امت کے لئے استغفار کرتے۔ بہرحال یہ واضح ہوگیا کہ کوئی شخص بھی اللہ سے توبہ اور استغفار کرنے سے مستغنی نہیں ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 15