جذبات پر کنٹرول:

غور کیجئے تو یہ بات انتہائی واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ انسان جب اپنے جذبات کاغلط استعمال کرتا ہے تووہ طرح طرح کی اخلاقی خرابیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے جذبات کو اگر صحیح طور پر استعمال کیا جائے تویہی جذبات روح ایمان بن جاتے ہیں چونکہ شعر وادب انسان کے جذبات کے عکاس وترجمان ہوتے ہیں اسلام شعروادب پر بھی پابندی عائد فرماتا ہے ، قرآن پاک ارشاد فرماتا ہے :’’ الشعراء یتبعھم الغاوؤن‘‘ یعنی شعراء کی اتباع بے راہ رو لوگ کرتے ہیں ۔کیا آپ نہیں دیکھتے ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے رہتے ہیں ،اور ہر وہ بات کہتے ہیںجو خود وہ نہیں کرتے۔

ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہوتاہے ’’وما علمناہ الشعر وما ینبغی لہ‘‘ یعنی ہم نے رسول محترم کو شعر نہیں سکھایا اور نہ شان نبوت کو یہ زیب دیتا ہے۔ غور فرمائیں تو یہ واضح ہو گا کہ قرآن کریم کے ان حکیمانہ ارشادات میں کتنی ٹھوس اخلاقی تعلیم مضمر ہے زمانۂ جاہلیت کے اشعار اور عصر حاضر کا جذباتی ادب دونوں کی ایک ہی حیثیت ہے دونوں ہی مخرِّب ِاخلاق ہیں ۔عریاں نگاری آج کے ادب کا طرۂ امتیاز ہے ،حتیٰ کہ آج کل اگر کوئی شخص کسی سنجیدہ فکر کی دعوت دیتا ہے تو وہ بھی عصر حاضر کے شہوت انگیز روپ میں مثلاًجب کمپنیوں کو اپنا نظریۂ معاش پیش کرنا ہوا تو انہوں نے ایک ادبی تحریک چلائی جسے ترقی پسند ادب کہتے ہیں پھر اس طرح سے انہوں نے اس ادب کے روپ میں انتہائی حیا سوز ادب پیش کیا جو انسان کو اخلاقی پستی کے قعر مذلت میں ڈھکیل دینے والاہے اور جب ان سے سوال کیا گیا کہ تم نے فحش نگاری کو اپنی تحریک معاشی اور مارکسی نظریۂ اضداد کی اشاعت کا آلۂ کار بنایا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم معاشرتی ناموروں کو منظر عام پر لا کر معاشرے کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں ۔ غور فرما ئیے کہ اگر کسی قصیدے کی تشبیب ہی کو انسان بے خود و مرمت بنا دے اور اسے حال آنے لگیں تو وہ قصیدے کے دعائیہ پر کب غور کرے گا ،یوں ہی موجودہ ترقی پسند کی عریاں نگاری انسان کے نوازع شہوانیہ کو ہوا دے کر مشتعل کر دیتی ہے اور وہ پھر ترقی پسند ادب کی دعوت اصلاح معاشرہ سمجھنے کا اہل نہیں رہ جاتا ۔

اسلام مندرجہ بالا آیتوں میں ایسے ہی شعر وادب پر پابندی عائد فرما تا ہے لیکن وہ شعرو ادب جو جذبات کی صالح قدروں کوپیش کریں وہ بلبل سدرہ کے تائید کے مستحق ہیں جیسا کہ آقائے دو عالم ا نے جناب حسّان ص کے متعلق ارشاد فرمایا: ’’اللھمّ ایدہ بروح القدس‘‘ یوں ہی آقا ئے دو جہاں انے جناب کعب کو نوازا اور ان کے قصیدئہ نعتیہ کو پسند فرمایا اسلام اس صالح ادب کی ہمت افزائی کرتا ہے ۔ جو اصلاح معاشرہ کی صالح قدروں کاحامل ہو۔ ارشاد ہوتا ہے: ’’ان الشعر لحکمۃ وان البیان لسحر‘‘بیشک شعر حکمت اور بیان جادو ہے۔ غور کیا جائے تو یہ بات روشن ہوجائے گی کہ تعلیم یافتہ طبقہ کے۵۰فیصدافرادآجکے فحش شعروں، افسانوں، ڈراموں، ناولوں کے ہاتھوں اخلاقی پستی اور گراوٹ کا شکار ہو گئے ہیں ۔کاش ایک ایسی تحریک ادب منظر عام پر لائی جاتی جس میں حیا سوز مناظر نہ پیش کئے جاتے ،جو اسلام کی اخلاقی قدروں کی عکاسی کرتی اور جذبات انسانی کی صالح قدروں کو منظر عام پر لاکر اخلاقی اعتبار سے معاشرے کی اصلاح کرتی،دوسرے لفظوں میں وہ ادب اسلام کی اخلاقی قدروں کا آئینہ دار ہوتا ۔یوں ہی انسان مسرت اور خوشی کے موقعوں پر اپنے جذبات پر کنٹرول نہیں کر پاتا ،اسلام کے علاوہ دنیا کی دوسری قوموں کی عیدوں،خوشیوںکے دنوں،اور تہوارں کا جائزہ لیجئے تو ایسا محسوس ہوگا کہ گویا اس دن ان پر سے ساری اخلاقی پابندیاں ہٹالی گئی ہیں۔عیسائیوں کے تہواروں میں عیاشی اور شراب نوشی عام ہو جاتی ہے ،ہندوئوں کی ہولی اور دیوالی میں پانی اور رنگ کی ارزانی کے ساتھ ساتھ خون عصمت بھی انتہائی ارزاں ہو جاتا ہے ،زبان ہر قسم کی فحش باتوں کا مورد بن جاتی ہے ،مجوسیوں کے نو روز وغیرہ میں دنیا کی ہر برائیاں پائی جاتی ہیں مگر اسلام کی عیدیں سبھی پاکیزہ اور انسانی اخلاق کی آئینہ دار ہوتی ہیں ،دل سے دل ملتے ہیں،انسان ایک دوسرے کے دکھ درد میں برابر کا شریک ہوتا ہے ،دو رکعت نماز بھی ادا کرتا ہے کہ کہیں خوشی اور مسرت کے جذباتی بہائو میں وہ خدا کو نہ بھول جائے اور اخلاقی حدوں کو نہ پامال کر بیٹھے۔

قوت غیض و غضب پر پابندی:انسان کی بد اخلاقی کا عظیم محرک اس کا غصہ ہوتا ہے ۔انسان غصہ کی حالت میں ہر ممکن اخلاقی جرم کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے اور ہر اس فعل کا ارتکاب کرتا ہے جو ایک درندہ اور خونخوار جانور ہی سے ممکن ہے ۔غصہ ایک قسم کا جنون ہے اور غضبناک انسان عالم جنون میں عقل و خرد کو پرے ہٹا کر ہر قسم کی حیا سوز حرکت کا ارتکاب کر لیتا ہے حتی کہ بعض وقت اس کے غصے کا سہارا لے کر اس کے اندر کا سویا ہوا شیطان جاگ اٹھتا ہے۔کسی عقلمند کا قول ہے کہ اگر تم انسان کی فطرت اصلیہ کو بے نقاب دیکھنا چاہو اور اس کی شرافت اور شیطانیت کو آزمانا چاہو تو اس کو غصہ دلا دو ،زیادہ مال دیدوپھر وہ صورت اس کی فطرت اصلیہ اس کی فطرت اصلیہ کا آئینہ ہو جائیگی ۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ان دونوں مخرب اخلاق چیزوں پر پابندی عائد فرما دی ہے ۔آقائے دو جہاںانے ارشاد فراما یا :سب سے زیادہ طاقتور وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے اوپر قابو رکھے اور سب سے حلیم وہ جو قدرت پا کر چھوڑ دے ۔غصہ کے اس نفرت انگیز جذبہ پر پابندی عائد کرنے کے لئے اسلام الحب للّٰہ و البغض للّٰہ کا قانون پیش فرماتا ہے ۔سوچئے تو سہی اسلام نے ہمارے سامنے اخلاق کا معیار کتنا اونچا رکھا ہے ،دشمنوں کے ساتھ نیکی ،فریب کاروں کے ساتھ وفا داری،سختی کرنے والوں کے ساتھ نرمی کے ساتھ رحم و کرم کا برتائو۔یہ ہیںاسلام کی اخلاقی تعلیمات اور تخلقوا و اخلاق الم کی تفسیر۔

عفو و درگزر،صبر و شکر ،حلم و بردباری:

اسلام کی یہی وہ اخلاقی قدریں ہیں جو اشاعت اسلام کا سب سے بڑا سبب ہیں اور اسلام انہیں خوبیوں سے ساری دنیا پر چھا گیا ۔خود قرآن پاک نے آقائے دو جہاں کی نرم دلی کو اشاعت کا سبب اور لوگوں کو اپنے سے قریب تر کرنے کا ذریعہ قرار دیا ہے ۔ارشاد باری ہوتا ہے: ’’و لو کنت فظاََ غلیظ القلب لا نفضوا من حولک‘‘ اسلام کی یہی خوبیاں ہیں جو اس کے اور دوسرے مذاہب کے درمیان خط امتیاز کھینچتی ہیں ،کسی قوم کے عفو و درگزر،حلم و بردباری،اور صبر و شکر کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب اس کو اقتدار دے دیا جائے اور وہ اقتدار حاصل کر نے کے بعد اپنی مخالف قوموں کے ساتھ جو سلوک کرے اس سلسلے میں ہم جب دوسری قوموں کی تاریخوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ دوسری قوموں نے جب اپنے دشمنوں پر قابو پایا تو ایسی وحشیت و بربریت کا مظاہرہ کیا کہ جس سے ہٹلر و چنگیز کی روحیں کانپ جائیں۔

توریت میں مذکور ہے کہ اگر مخالف مذہب والے اختیار میں آجائیں تو ان کے بچوں اور عورتوں کو بھی قتل کر ڈالو ۔یہی وجہ ہے کہ جب ملک یمن کے حاکم زونورس نے یہودی مذہب اختیار کیا تو اس نے عیسائیوں کو جبراََ یہودی بنانا شروع کیا ۔بغیران کے عیسائیوں نے انکار کیا تو ان کو زبردستی آگ میں جھونک دیا گیا ۔عیسائیوں کی کتاب ’’سلاطین‘‘میں مذکور ہے کہ تم انہیں مارڈالو اور پیٹ والیوں کے پیٹ پھاڑ ڈالو ،یہی وجہ ہے کہ یونانیوں اور رومیوں اور صلیبی جنگ آزمائوں نے رچرڈ اور فلپ کی صورت میں جو قیامتیں ڈھائیں تاریخ ان المناک اور خونی واقعات سے بھری ہوئی ہے ۔

’’کائونٹ آف سیرین نے‘‘عورتوں اور بچوں سے بھری ہوئی مسجد

کو بارود سے اڑا دیا ،خسرو پرویز جو آتش پرست تھا اس نے عیسائیو ں کی مقدس زیارت گاہوں میں آگ لگوادی اور مرقد مسیح کلیسا بینا اور کلیسا فلسطین کو خاکستر کر دیا اور ۹۵ ہزار عیسائیو ں کو تہ ِتیغ کر دیا یجروید ( )کو جینیو ں نے بہت ستایا جو خود جینی تھا مگر اپنی بیوی کی ترغیب سے اس نے شیو مت اختیار کر لیا تھا پھر اس نے ۸ ہزار جینیوں کے بدن سے چمڑا اتار کر انتہائی تکلیف سے مارا ،ان تصریحات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دنیا کے دوسرے مذاہب کے ماننے والوں نے اپنے مخالفین پر قابو پا لینے کے بعد انتہائی وحشت وبربریت اور ظلم وستم کو جائز رکھا مگر تاریخ اسلام کا سب سے زریں دن وہ تھا جب آقا ئے دو جہاں ا ایک عظیم فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے دشمنان اسلام لرزہ بر اندام تھے کہ آ ج ہم سے ہماری سابقہ عداوتوں کا بدلہ لیا جائے گا ،غور فرمائیے اس وقت اہل مکہ میں وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے سرکار دو عالم اکے قتل کا پروگرام بنایا تھا شعب ابی طالب میں محصور رکھ کرمسلمانوں کو فاقہ کشی گھاس اور سوکھے چمڑے کھانے پر مجبور کیا تھا ۔

حضرت بلال حبشی ص کو تپتی ہوئی ریت پر گھسیٹا گیا ۔ وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے دندان مصطفی ا کو شہید کیا تھا ۔ وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے آپ کو دیوانہ، پاگل جادوگر کہا تھا ۔ العیاذ باللہ۔ وہ وحشی بھی تھا جس نے عم مصطفی ا جناب امیر حمزہ کو شہید کیا تھا۔ وہ ہندہ بھی تھی جس نے ان کا مقدس کلیجہ چبایا تھا ۔ وہ ہباہ بھی تھا جس نے آنحضرت کی صاحبزادی جناب زینب کو نیزہ مارا تھا ۔ جس کی تکلیف سے ان کا انتقال ہو گیا تھا ۔ وہ ابوسفیان بھی تھے جنہوںنے غزوئہ بدرواحد وحنین میں آقائے دوجہاں کو ان کے جدامجد کی تعمیر خانہ ٔ کعبہ میں دورکعت نماز نہیں پڑھنے دی تھی ۔اور کنجی دینے سے سخت انکار کیا تھا یہ سبھی لوگ تھے ان دشمنان اسلام کی موت ان کی آنکھوں کے سامنے پھر رہی تھی اور جب آقائے دوجہاںکے سامنے لوگ دستہ بستہ لائے گئے توآپ نے ایک عام اعلان ِعفو ودرگذر فرمایا ۔آپ نے ارشاد فرمایا جاؤ تم سب لوگ آزاد ہو ۔تم سے کوئی باز پرسی نہیں۔

’’الیوم یوم البر والوفا‘‘ سوچئے توآج رحمت عالم کے علاوہ کوئی اور فاتح ہوتا توجوش انتقام میں نہ جانے کس قدر وحشت انگیزی کا مظاہرہ کرتا ۔مگر آقائے دو جہا ں کے اس عفو ودرگذر اور خلق عظیم نے ان کے دل جیت لئے اور تھوڑی ہی دیر میں پورا مکہ ا ٓغوش اسلام میں آگیا جو لوگ ظالم تھے وہی لوگ مظلوموں کے حمایتی بن گئے جو لوگ اسلام کے دشمن تھے وہی لوگ اسلام کی قوت وشوکت ہوگئے ، خلق عظیم کی اس بے پناہ طاقت نے ساری دنیا سے اپنی عظمت کا لوہا منوایا ۔

رفتا روگفتار پر پابندی

انسان کے رفتار وگفتارانسان کے اخلاق اور اسکی حقیقت کی آئینہ دار ہوتی ہے ۔رفتار وگفتار سے خوب اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ کس معیا ر کا آدمی ہے اسی لئے قرآن پاک نے ارشاد فرمایا : ’’وعبادالرحمٰن الذین یمشون علی الارض ھونا‘‘یعنی اللہ کے نیک بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں۔ نرم رفتاری کا مفہوم یہ ہے کہ انتہائی با وقار انداز سے چلتے ہیں۔ گفتار کے متعلق ارشاد ہوتا ہے ۔’’اذا خاطبھم الجاہلون قالوا سلاما‘‘یعنی جب ان کو جاہل لوگ مخاطب کرتے ہیں تو ان کے لبوں پر سلامتی کے الفاظ ہوتے ہیں یعنی جہالت کا جواب جہالت سے نہیں دیتے ۔متکبرانہ چال کے متعلق ارشاد ہوا :’’ولا تمش فی الارض مرحاً‘‘یعنی زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلو، یہ پابندیاں محض اس لئے عائد کی گئی ہیں کہ ایک مومن جب دور سے آتا دکھائی دے تو دیکھنے والا پکار اٹھے یہ انسان بلند کردار اور با اخلاق ہے ۔

اسلامی سیاست کی اخلاقی قدریں:

دنیا کی دوسری قوموں سے اپنی سیاست وحکومت کی بنیاد طاقت کے وسیع کرنے اور سرمایہ کے پھیلائو کے اوپر رکھی ہے مگر اسلامی سیاست وحکومت کی تمام طاقتوں کا سر چشمہ اس کی وہ اخلاقی قدریں ہیں جس کے ذریعے سے اسلام قو ت اور سرمایہ کو صحیح راستہ پر لگا تا ہے اور ان کے غلط استعمال سے روکتا ہے اقتدار کا صحیح مفہوم پیش کرتا ہے ریاست کی حقیقی تصویر سے دنیا کوروشنا س کراتا ہے ،سیاست کا مقام واضح فرماتا ہے ،دنیا وی سیاست کا یہ دستور ہے کہ طاقت کے حاصل ہونے سے پہلے عوام الناس او رعایا سے ہر قسم کا اخلاقی وعدہ کرلیا جاتا ہے اور انہیں یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ ہم تہاری ہر خواہش کا احترام کریں گے اور جو کچھ تم چاہوگے وہ ہوگا مگر طاقت و قوت حاصل ہوجانے کے بعد انسان ہر وہ کام کرتا ہے جو وہ خود چاہتا ہے اور رعایا اس کے ہاتھ میں بے بس کھیلونا بن کر رہ

جاتی ہے مگر اسلام سیاست کا صحیح مفہوم پیش کرتا ہے ۔’’سیدُ القومِ خادمھم‘‘یعنی قوم کا سردار قوم کا خادم ہے یعنی قوم کی باگ ڈور جس کے ہاتھ میں ہے وہ قوم کا محافظ و پاسبان اور امین ہے نہ کہ مالک جو چاہے من مانی کرسکے ۔اللہ تعالیٰ نے اس کو اختیارات عطا فرمائے ہیں ۔ان کا استعمال وہ قوم کے مشورے کے بغیر نہیں کرسکتا۔ ’’وامرھم شوریٰ بینھم‘‘ اس طرح سے ہر انسان یعنی معاشرئہ اسلام کا ہر فرد یہ جرأت و اختیارات رکھتا ہے کہ وہ قوم کے سردار کی بد عنوانی پراس کو تنبیہ کرسکے۔ سرکار صدیق اکبر نے قوم سے بیعت لیتے وقت ارشاد فرمایا :اگر تم مجھے صراطِ مستقیم پر پائو تو میری اتباع کرو اگر میں کج ہوجائوں تو مجھے سیدھا کردو۔

یوں ہی طاقت کے استعمال پر بھی اسلام انتہائی محکم پابندیاں عاید فرماتا ہے ،جہاد کا حکم اس وقت دیتا ہے جب محارم شرعیہ کی بے حرمتی کی جانے لگے اخلاقی قدریں مٹ جائیں، ظلم کی حکمرانی ہو جائے ،مساجد و عبادت گاہوں کو ڈھایا جانے لگے، اسلام ظلم کے استیصال اور عدل و انصاف کو سر بلند کرنے کیلئے قوت کے استعمال کی اجازت دیتا ہے مگر وہ بھی ان اخلاقی ڈسپلن کے ساتھ ساتھ جن پر عمل کے بغیر چارہ نہیں، آقائے دوجہاں انے حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ کی ماتحتی میں ایک لشکر بصرہ کی مہم پر روانہ فرمایا تو ان کو مندرجہ ذیل ہدایات فرمائیں: تم لوگوں کو بہت سے لوگ ایسے ملیں گے جو گرجائوں اور معابد میں گوشہ نشیں ہوں گے۔خبردار ان کو نہ چھیڑ نا ،عورتوں بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کرنا ،جو تلوار ڈال دے اس پرہاتھ نہ اٹھا نا ،درختوں کو مت کا ٹنا، ان اخلاقی تعلیمات پر غور فرمائیںاور دیکھیں کہ آقائے دوجہاںانے ایک مجاہدکو اخلاقی اسلحوں سے کس طرح آراستہ فرمایا اس کے بر خلاف آج کل کی سیاست حصول سرمایہ ، وسیع سلطنت انسان کو طاقت کے استعمال پرآمادہ کرتی ہے جس کے نتیجہ میں ظلم کو فروغ اور عدل وانصاف کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔

غور فرمائیے کہ آج کا انسان طاقت کے استعمال میں کس قدر درندگی اور بہیمت کا مظاہرہ کرتا ہے ۔آج انسان ارادہ واختیار کی ساری قوتوں سے عاری ہو گیا ہے اس نے ساری طاقت ان ایٹمی ہتھیاروں کے سپرد کردی ہے جو مقاتل اور غیر مقاتل کی تمیز نہیں رکھتے اور جو مظلوم اور ظالم کا فرق نہیں سمجھتے ،جن کی زد میں آکر بوڑھے،بچے،سبھی پس جاتے ہیں بلکہ جدید نظریہ ٔ جنگ کے مطابق مخالف کی اصل طاقت میدان جنگ میں نہیں بلکہ اس کی آبادیاں اس کے شہر مراکز اسباب معیشت ہیں جن پر وہ بمباری کرکے غنیم کے لئے عرصۂ حیات تنگ کردیتا ہے اور وہ سپر ڈالنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔کہاں یہ طاقت کا اندھا استعمال اور کہاں آقائے دوجہاںا کے فرامینِ رحمت وقوانینِ اخلاق جن پر عمل کرنے کے بعدانسان حالت جنگ میں بھی جبکہ قوت غیض وغضب شباب پر ہوتی ہے پیکر رحمت اور مجسمۂ اخلاق میں رہتا ہے۔

معاشی اور تجارتی اخلاق

انسانی زندگی میں معاشی اہمیت کس قدر ہے اس کاا ندازہ آپ یوں کرسکتے ہیں کہ بعض سیاستدانوں نے تصور معاش کو اپنے کل کے سیاسی نظام کی اساس قرار دیا ہے ان کے نظرئے کا معاش، حیات انسانی کے تمام شعبوں پر حاوی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ معا شیات پر اپنی دسترس کو وسیع کرنے کے ہر ممکن طریقہ اختیار کرتے ہیں خواہ وہ جائز ہو یا ناجائز، اس کی بنیاد ظلم پر ہویا عدل و انصاف پر، خواہ اس کے لئے حق تلفی کرنی پڑے یا غضب کے ذریعہ حاصل کیا جائے ،بہر صورت وہ اسے حاصل کرنے کی ہر امکانی کوشش کرتے ہیں ۔دنیا میں پھیلی ہوئی طبقاتیت معاشی نابرابری سرمائے کی لوٹ کھسوٹ اور انسان کے مختلف طبقوں میں سرمائے کی تخریب کا ر کشمکش یہ سب اسی مخرب اخلاق نظریۂ معاش کا پیدا وار ہے مگر اسلام نے معاش کے اس غلط نظریہ کو بھی باطل فرمادیا اوراس کے معاشیات کے ہر موڑ پر انسانی ہمدردی اور اخلاقی قدروں کو دلیل راہ اور انسان کیلئے معاش کی ایک ایسی شاہراہ متعین فرمائی جس کے ہر چہار جانب اخلاقی قدریں پہرہ داری کررہی ہیں اور انسان کو بھٹکنے سے روکتی ہیں۔

اسلام نے انسان کو سرمائے کے غلط طریقۂ حصول سے روکا اور ان تمام طریقوں کو ناجائز قرار دیا جن سے سرمایا کسی ایک مقام پررک جاتا ہے اور دوسروں کی حق تلفی ہوتی ہے اس نے دولت کو بلا قید جمع کرنا ممنوع قراردیا اس نے سودوغیرہ سے منع کرکے انسان کو خلوص ومحبت پر ابھارا، اس نے نظام زکوٰۃ وصدقات پیش فرماکر معاشی نہ برابری اور طبقاتیت کا استیصال فرمایا،۔ ایک طرف اس نے سرمایہ کے غلط استعمال اور غلط طریقۂ حصول سے روکا اور دوسری طرف امور خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب دی، دنیا کے ان تمام طریقوں کی ممانعت فرمادی جو دولت کو ناجائز طریقہ سے کمانے کے محرک ہوتے ہیں اور جن سے بخل ،خود عرضی ،نفس پرستی سنگدلی ،تنگ نظری ،فریب دہی وغیرہ جیسی اخلاقی خرابیاں جنم لیتی ہیں۔

تجارت اسلام کا ایک پسندیدہ ذریعۂ معاش ہے لیکن اگر تجارت کے اسلامی اصول وضوابط پر غور فرمائیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس کی بنیاد بھی اسلامی قدروں پر رکھی گئی ہے ،گندم نما جو فروش ، غلط بیانی،تجارتی مال کی خرابیوں کو چھپانا اور غلہ کو مہنگائی کی مدت تک روکے رکھنا۔ گراں فروشی ناپ تول میں کمی وبیشی کرنا یہ وہ تمام خرابیاں ہیں جن سے انسان کی اخلاقی حس مردہ ہوجاتی ہے۔ اسلام نے ان تمام باتوں سے سختی سے روکا ،آقائے دوجہاں ا ایک مرتبہ ایک گندم کے ڈھیر سے گزرے آپ نے اس کے اندر اپنی انگلیاں ڈالیںتو وہ اندر سے بھیگے ہوئے تھے آپ نے بیچنے والے سے پوچھا یہ کیا ہے ؟اس نے عرض کیا یارسول اللہا بارش سے بھیگ گئے ہیں، آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس کو اوپر رکھو تاکہ لوگ دیکھیں ۔یاد رکھودھوکا دینے والا ہم میں سے نہیں ہے۔

ناظرین کرام نے مندرجہ بالا تمامی تصریحات سے اس بات کا بخوبی اندازہ کرلیا ہوگاکہ اسلامی نظام اخلاقی زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی ہے اس مقالے میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ اسلامی اخلاق کی تمام قدروں پر سیر حاصل گفتگو کی جائے اس کے لئے ایک دفتر چاہیئے۔ مندرجہ بالا تمام ذیلی سرخیا ں مشت نمونہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔اللہ تعالیٰ تمام مسلمانان عالم کو اخلاقی تعلیمات کے مطالعے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔