أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلصّٰــبِرِيۡنَ وَالصّٰدِقِــيۡنَ وَالۡقٰنِتِــيۡنَ وَالۡمُنۡفِقِيۡنَ وَالۡمُسۡتَغۡفِرِيۡنَ بِالۡاَسۡحَارِ

ترجمہ:

جو صبر کرنے والے ‘ سچ بولنے والے ‘ (اللہ کی) اطاعت کرنے والے ‘ (راہ خدا میں) خرچ کرنے والے ‘ رات کے پچھلے پہر اٹھ کر استغفار کرنے والے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو صبر کرنے والے ‘ سچ بولنے والے ‘ (اللہ کی) اطاعت کرنے والے ‘ (راہ خدا میں) خرچ کرنے والے ‘ رات کے پچھلے پہر اٹھ کر استغفار کرنے والے ہیں۔

رات کے پچھلے پہر استغفار کرنے کی خصوصیت اور استغفار کی فضیلت :

صبر کا معنی ہے ہر وہ ناگوار اور ناپسندیدہ چیز جس کو برداشت کرنا ‘ مشکل اور دشوار ہو اس کو برداشت کرنا ‘ اس آیت میں صبر کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت میں مشقت کو برداشت کرتے ہیں ‘ حرام کاموں کے ارتکاب سے اپنے آپ کو روکتے ہیں جن کی نیتوں میں صدق اور اخلاص ہے۔ جن کے دل ایمان پر ثابت قدم ہیں جو ہر وقت سچ بولتے ہیں ‘ خلوت اور جلوت میں اللہ کے فرمانبردار ہیں اور رات کے آخری پہر اٹھ کر اللہ تعالیٰ سے توبہ اور استغفار کرتے ہیں۔

” قانتین “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ہر وقت اللہ سے ڈرتے ہیں اس کی عبادت پر کمربستہ رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر پناہ مانگتے ہیں اور دعائیں کرتے ہیں ‘ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو فرض ‘ واجب اور مستحب ہر قسم کے صدقات ظاہر اور خفیہ ہر طریقہ سے ادا کرتے ہیں۔ اس آیت میں ” قانتین “ یعنی اطاعت گزاروں کی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ راتوں کو اٹھ کر استغفار کرتے ہیں ‘ اس میں یہ نکتہ ہے کہ بندے سے وہ استغفار مطلوب ہے جو ترک معصیت اور اعمال صالحہ کے ساتھ مقرون ہو اور اگر انسان اپنی معصیت پر برقرار رہے اور خالی زبان سے استغفار کرتا رہے تو اس کا یہ استغفار کافی نہیں ہے ‘ کیونکہ وہ شخص جو گناہوں پر اصرار کرتا ہے اور زبان سے استغفار کرتا رہے تو وہ گویا اپنے رب سے استہزاکر رہا ہے۔

استغفار کے لئے رات کے آخری حصہ کی تخصیص کی گئی ہے کیونکہ اس وقت سکون اور سناٹا ہوتا ہے اور بندہ خدا کے سامنے جو آہ وزاری اور نالہ و فریاد کرتا ہے اسے دیکھنے والا کوئی تیسرا نہیں ہوتا ‘ نیز یہ قبولیت کا وقت ہوتا ہے اور اس وقت اللہ تعالیٰ کی بندوں پر خصوصی توجہ ہوتی ہے ‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ سحر کے وقت رات کی ظلمت جارہی ہوتی ہے اور صبح کا نور آرہا ہوتا ہے اور ظلمت کے مقابلہ میں نور اس طرح ہے جس طرح موت کے مقابلہ میں حیات ہوتی ہے اور یہ عالم کبیر کی حیات ہے اور انسان عالم صغیر ہے جب وہ سحری کے وقت اٹھتا ہے تو نیند کے بعد اس کی بیداری بھی موت کے بعد بہ منزلہ حیات ہے اور یہ وقت ہے جب انسان کے دل میں اللہ کا نور ظاہر ہوتا ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ اس وقت انسان بہت میٹھی نیند آتی ہے اور اس کا انتہائی میٹھی نیند کو چھوڑ کر اللہ کی یاد کے لئے کھڑا ہوجانا اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ اللہ سے انتہائی محبت کرنے والا اور اس کا بہت اطاعت گزار ہے اس لئے اس وقت استغفار کرنے والوں پر اللہ بہت مہربان ہوتا ہے۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہمارا رب تبارک وتعالیٰ ہر رات کو جب تیسرا حصہ باقی رہتا ہے آسمان دنیا کی طرف نازل (متوجہ) ہوتا ہے اور فرماتا ہے : کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں ! کون ہے جو مجھ سے سوال کرے تو میں اس کو عطا کروں ‘ اور کون ہے جو مجھ سے استغفار کرے تو میں اس کی مغفرت کر دوں ! (صحیح بخاری ج ١ ص ١٥٣‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں :

جعفر بن محمد بیان کرتے ہیں کہ جس نے تہجد کی نماز پڑھی اور رات کے آخری حصہ میں استغفار کیا اس کا نام سحر کے وقت استغفار کرنے والوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔ (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ١٣٩ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) rnٖاستغفار بلکہ ہر دعا کی قبولیت کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان حضور قلب اور خشوع اور خضوع سے دعا کرے یہ نہ ہو کہ دل اور دماغ کہیں اور ہوں اور اللہ سے دعا کر رہا ہو۔

امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سے اس حال میں دعا کرو کہ تم کو قبولیت کا یقین ہو اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ لہو میں مشغول اور غافل قلب کی دعا قبول نہیں کرتا۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٥٠١ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

یوں تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنے کے لئے قرآن اور حدیث میں بہت سی دعائیں ہیں لیکن جس دعا کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سید الاستغفار فرمایا ہے وہ یہ ہے :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت شداد بن اوس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سید الاستغفار یہ ہے کہ بندہ دعا کرے : اے اللہ تو میرا رب ہے ! تیرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں اپنی استطاعت کے مطابق تیرے عہد اور وعدہ پر قائم ہوں ‘ میں اپنی بداعمالیوں کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ تیری مجھ پر جو نعمتیں ہیں میں ان کا اعتراف کرتا ہوں اور تیرے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں سو میری مغفرت فرما کیونکہ تیرے سوا کوئی اور گناہوں کی مغفرت کرنے والا نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا جس شخص نے صبح کہ وقت یقین کے ساتھ یہ دعا کی اور اس دن شام سے پہلے وہ فوت ہوگیا تو وہ اہل جنت سے ہوگا اور جس نے رات کو یقین کے ساتھ یہ دعا کی اور وہ اسی رات کو صبح ہونے سے پہلے فوت ہوگیا تو وہ اہل جنت سے ہوگا۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٩٣٣‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حافظ ابن عساکر روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے استغفار کو لازم کرلیا اللہ تعالیٰ اس کی ہر پریشانی کو حل کر دے گا ‘ ہر تنگی میں اس کے لئے فراخی کر دے گا اور جہاں اس کا گمان بھی نہ ہوگا اس کو وہاں سے رزق عطا فرمائے گا۔ (مختصر تاریخ دمشق ج ٣ ص ١٥٤‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ دمشق ‘ ١٤٠٤ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 17