Resultado de imagen de panjtan pak

اہل بیت ہر رجس سے پاک ہیں

امان اللہ محمدی

اہل بیت میں ازواجِ مطہرات،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عترت اورحضرت علی داخل ہیں

اللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے:

 اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًا(احزاب۳۳)

 ترجمہ:اے رسول کے گھر والو!اللہ صرف یہ چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی نجاست دور کردے اور تم کوخوب ستھرا و پاکیزہ کردے ۔

 اس آیت کریمہ میں اہل بیت سے کیامرادہے اس تعلق سے تین اقوال ہیں:

۱۔اس سے مراد حضرت علی،حضرت فاطمہ،حضرت حسن اورحضرت حسین رضی اللہ عنہم ہیں۔

 ۲۔اس سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہیں۔

۳۔اس سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل (خاندان) اور ازواج مطہرات ہیں ۔

ہمارے نزدیک اہل بیت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان داخل ہیں۔

 بیت سے مراد عام ہے،خواہ بیت سکنی ہو یا بیت نسبی، بیت سکنی میں ازواج مطہرات داخل ہیں اور بیت نسبی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد اورخاندان داخل ہیں۔ ٰٰٓ

علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں:

لغت میں کسی شخص کے اہل وہ لوگ ہوتے ہیں جو اُس کے گھرمیں رہتے ہوں،ٖ پھرمجازاًجو لوگ اس کے نسب میں شریک ہوں اُن کو بھی اس کا اہل کہا جاتا ہےاورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے لوگوں کو بھی مطلق اہل بیت کہا جاتاہے،جیساکہ قرآن مجید کی اس آیت کریمہ میں ہے:

اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًا(احزاب۳۳)۔(المفردات ، ص:۳۹)

 قرآن مجید کے نصوص سے بھی یہ سمجھ میں آتاہے کہ اہل بیت،ازواج مطہرات، اوراولاد سب کو شامل ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ حضرت سارہ رضی اللہ عنہاکے متعلق قرآن مجید میں ارشاد ہے :

 قَالُوْا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ (ہود۷۳)

ترجمہ :فرشتوں نے(سارہ سے)کہا کہ کیا تم اللہ کے کاموںسے تعجب کرتی ہو؟اے اہل بیت !تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔

بیوی اور بچوں کے متعلق ارشادفرمایاگیا ہے:

فَاسْتَجَبْنَالَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ(انبیا۸۴)

ترجمہ:ہم نے ایوب کی دعا سن لی اور اُن کوجو تکلیف تھی وہ دور کر دی اور ہم نے ان کو اہل و عیال عطا فرمائے اور ان کے ساتھ ان کی مثل بھی۔

 نیزاللہ تعالیٰ کایہ بھی ارشاد ہے:

 وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ (مریم۵۵)

ترجمہ:اسمٰعیل اپنے بیوی بچوں کو نماز اداکرنے کا حکم دیتے تھے ۔

ان آیات کریمہ میں لفظ’’ اہل‘‘ـ بیوی،بچوں اور اہل و عیال کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے ۔

 اسی طرح احادیث صحیحہ کے اطلاقات سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ’’ اہل‘‘ـ ازواج مطہرات اور اولاد وغیرہ کو شامل ہے،کیوں کہ جب منافقین نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر غزوہ بنو مصطلق میں بدکاری کی تہمت لگائی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اس تہمت سے برأت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

يَا مَعْشَرَ المُسْلِمِينَ! مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ بَلَغَنِي أَذَاهُ فِي أَهْلِي، وَاللهِ مَا عَلِمْتُ عَلٰى أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا۔ (بخاری ،باب قول اللہ:وامربینہم شوریٰ،حدیث:۷۳۶۹)

ترجمہ:اےمسلمانوکی جماعت!اُس شخص کی طرف سے مجھے کون جواب دے گاجس کی طرف سے مجھے اہل خانہ کے معاملے میں تکلیف پہنچی ہے،واللہ!مجھے اپنی اہلیہ کے متعلق پاکیزگی کے سواکسی بھی چیز کا علم نہیں۔

اس حدیث پاک میں لفظ’’اہل‘‘ سے بیوی مراد ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةً وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ، مِنْ شَعْرٍأَسْوَدَ، فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَأَدْخَلَهٗ، ثُمَّ جَاءَ الْحُسَيْنُ فَدَخَلَ مَعَهٗ، ثُمَّ جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَدْخَلَهَا، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَأَدْخَلَهٗ، ثُمَّ قَالَ:اِنَّمَا يُرِيْدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا(احزاب۳۳ )( مسلم ،باب فضائل اہل بیت النبی ﷺ، حدیث:۲۴۲۴)

 ترجمہ:حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت ایک اُونی منقش چادر اوڑھے ہوئے باہر تشریف لائے،اتنے میں حسن بن علی رضی اللہ عنہماآگئے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں اپنی چادر میں داخل کر لیا ، پھرحسین رضی اللہ عنہ آئے ، وہ بھی حسن کے ہمراہ چادر میں داخل ہو گئے، پھر فاطمہ رضی اللہ عنہاآئیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں بھی اپنی چادر میں داخل کر لیا،اس کے بعد حضرت علی آئےتو اُنھیں بھی اپنی چادر میں داخل کرلیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی :اِنَّمَا يُرِيْدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا(اے اہل بیت! اللہ تعالیٰ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہرطرح کی آلودگی دور کر دے اور تم کوہر طرح کےگناہوں سےخوب پاک و صاف کر دے ۔)

اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ ازواج مطہرات بھی ’’اہل بیت‘‘ میں داخل ہیں، کیوں کہ اس آیت کریمہ سے قبل بھی ازواج مطہرات سے خطاب ہے :

 یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ (احزاب۳۲)

 ترجمہ:اے نبی کی بیویو!تم عورتوں میںسے کسی بھی عورت کی طرح نہیں ہو۔

 اور اس آیت کریمہ کے بعد بھی ازواج مطہرات سے خطاب ہے:

وَاذْكُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ(احزاب۳۴)

 ترجمہ:اُس کابیان کروجو آیتیں اورحکمت کی باتیں تمہارے گھروں میں نازل ہوئیں۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردہ حضرت عمربن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما حدیث حسن بیان کرتے ہیں:

 لَمَّا نَزَلَتْ هٰذِهِ الآيَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ(اِنَّمَا يُرِيْدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ البَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا(احزاب۳۳) فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَدَعَا فَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَجَلَّلَهُمْ بِكِسَاءٍ، وَعَلِيٌّ خَلْفَ ظَهْرِهٖ فَجَلَّلَهٗ بِكِسَاءٍ، ثُمَّ قَالَ:اللّٰهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي، فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ:وَأَنَا مَعَهُمْ يَا نَبِيَّ اللهِ؟قَالَ: أَنْتِ عَلٰى مَكَانِكِ وَأَنْتِ عَلٰى خَيْرٍ۔ (سنن ترمذی،باب:و من سورۃ الاحزاب،حدیث:۳۲۰۵)

 ترجمہ:جب ام المومنین ام سلمہ کے گھر حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت کریمہ : اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًا(اے اہل بیت!اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر طرح کی آلودگی دور کر دے اور تمھیں خوب پاک و صاف کر دے)نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ اور حسنین کریمین رضوان اللہ علیہم کو بلایا اوراُنھیں اپنی چادر میں ڈھانپ لیا،پھر حضرت علی آئےاُنھیں بھی چادرمیں ڈھانپ لیا،پھر فرمایاکہ یا اللہ! یہ میرے ’’اہل بیت‘‘ ہیں،ان سے ہر قسم کی آلودگی کودور فرما اور اُنھیں خوب خوب پاک و صاف فرما۔

سیدہ اُم سلمہ نے عرض کیاکہ یانبی اللہ!(صلی اللہ علیہ وسلم) میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟فرمایاکہ تم اپنی جگہ رہو اور تم تو بہتر مقام پر فائز ہو۔

اس تعلق سے ایک دوسری حدیث پاک بھی ہےکہ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہانے عرض کیا:

 یَارَسُوْلَ اللہِ! أَمَا أَنَا مِنْ أَھْلِ الْبَیْتِ، قَالَ:بَلٰی اِنْ شَاءَ اللہُ، رَوَاہُ الْبَغْوِیْ وَغَیْرُہٗ ھٰذَاالْحَدِیْثُ یَدُلُّ عَلٰی أنَّ أَھْلَ الْبَیْتِ یَعُمُّ کُلَّھُمْ وَ کَلِمُۃُ اِنْ شَاءَ اللہُ لِلتَّبَرُّکِ۔ (تفسیر مظہری،جلد:۷،ص:۳۴۰-۳۴۱)

 ترجمہ : یا رسول اللہ!کیامیں بھی’’ اہل بیت‘‘ سے ہوں؟ اس پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ کیوں نہیں؟ ان شاء اللہ! اس روایت کو امام بغوی وغیرہ نے بیان کیا ہے۔

اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد صاحب تفسیر مظہری فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پربھی دلالت کر رہی ہے کہ ’’اہل بیت‘‘ سکنی والے ہوں یا نسب والےسبھی کو عام ہے اور یہاں پر ’’ان شاء اللہ‘‘ تبرک کے طورپر ذکر کیا گیا ہے۔

فقہائے اسلام کی تفسیروں سے بھی یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ’’اہل بیت‘‘ میں ازواج مطہرات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عترت داخل ہیں۔

چنانچہ امام فخرالدین رازی لکھتے ہیں:

وَاخْتَلَفَ الْاَقْوَالُ فِی أَھْلِ الْبَیْتِ، اَلْاَوْلٰی أن یُّقَالَ ھُمْ أَوْلَادُہٗ وَأَزْوَاجُہٗ وَالْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ مِنْھُمْ وَ عَلِیْ مِنْہُمْ لِأَنَّہٗ کَانَ مِنْ أھْلِ بَیْتِہٖ بِسَبَبِ مَعَاشِرَتِہٖ بِنْتَ النَّبِیِّ وَ مَلَازَمَتِہٖ لِلنَّبِیِّ۔(تفسیر کبیر،جلد:۲۵-۲۶،ص:۱۸۱)

ترجمہ:ا ہل بیت کی تعیین میں مختلف اقوال ہیں :بہتریہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت ،آپ کی اولاد اور آپ کی ازواج ہیں اور حضرت حسن،حضرت حسین اور حضرت علی رضی اللہ عنہم بھی ان ہی میں سے ہیں، کیوں کہ آپ کی بیٹی کے واسطے سے وہ بھی آپ کے اہل بیت سے ہیں۔

 علامہ ابو حیان محمد بن یوسف اندلسی لکھتے ہیں:

ازواج مطہرات،اہل بیت سے خارج نہیں ہیں بلکہ زیادہ ظاہر یہ ہے کہ وہ اہل بیت کے عنوان کی زیادہ مستحق ہیں، کیوں کہ وہ رسول اللہ کے گھرمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتی تھیں۔ (بحر محیط،جلد:۸،ص:۴۷۹)

حاصل کلام یہ کہ قرآن مجید کی آیات،احادیث کریمہ اور فقہائے اسلام کی باتوںسے یہ واضح ہو گیا کہ اہل بیت میں ازواج مطہرات،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عترت اور آپ کے چچازاد بھائی حضرت علی داخل ہیں،اس لیے اب شیعہ علما کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ ’’اہل‘‘ کا لفظ ان پانچ نفوس قدسیہ (حضور،علی،فاطمہ،حسن اورحسین)کے ساتھ خاص ہے۔

 اب ہمیں ان قدسی صفات ’’اہل بیت‘‘ سے کیسی محبت و عقیدت رکھنی چاہیےاوراُن سے ہمارا تعلق ورشتہ کیسا ہونا چاہیے؟تواِس سلسلے میں یہ حدیث پاک ذہن میں رکھنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہےجس میںحضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي تَارِكٌ فِيْكُمْ مَاإِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهٖ لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدِي أَحَدُهُمَا أَعْظَمُ مِنَ الْآخَرِ:كِتَابُ اللهِ حَبْلٌ مَمْدُوْدٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، وَلَنْ يَتَفَرَّقَا حَتّٰى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ فَانْظُرُوْاكَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيْهِمَا۔ ( ترمذی،باب مناقب اہل بیت النبی ﷺ،حدیث:۳۷۸۸)

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ میں تم میں ایسی دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر میرے بعد تم نے اُنھیں مضبوطی سے تھامے رکھاتو ہرگز گمراہ نہ ہوگے ،ان میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے،وہ ہےاللہ تعالیٰ کی کتاب جوآسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی رسی ہے اور میری عترت یعنی اہل بیت اوریہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ دونوں میرے پاس حوض کوثر پر آئیں گے،چنانچہ یہ دیکھو کہ تم میرے بعد اُن سے کیا سلوک کرتے ہو ؟

 اس حدیث پاک کا صاف اورسیدھاسا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم ہدایت چاہتے ہیں تو قرآنی احکام کو مضبوطی سے تھام لیں اوراہل بیت کے نقش قدم پرچلیں،ورنہ ہلاکت و گمراہی ہمارا مقدربن جائیں گی۔(العیاذباللہ)