زبان کی حفاظت کا بیان

بات چیت میں ہمیشہ اس کا دھیان رکھو کہ تمہاری زبان سے کوئی گناہ کی بات نہ نکل جائے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ بہت سے لوگوں کو ان کی زبان سے نکلی ہوئی باتیں جہنم میں لے جائیںگی اس لئے خاص طور پر بات چیت کرنے میں ان باتوں کا خیال رکھو۔

۱) بے سوچے سمجھے ہرگزکوئی بات نہ کہو۔جب سوچ کر تمہیں یقین ہوجائے کہ یہ بات کسی طرح بری نہیں ہے ۔تب بولو۔ورنہ بول نے سے چپ رہنا بہتر ہے !

۲) کسی کو بے ایمان کہنا یا کہنا کہ فلاں پر خدا کی مار ،خدا کی پھٹکار،خدا کی لعنت ،خدا کا غضب پڑے ،فلاں کو دوزخ نصیب ہو ۔اس طرح سے بولنا گناہ کی بات ہے جس کو ایسا کہا ہے اگر واقعی وہ ایسا نہ ہوا ۔تو یہ ساری لعنت اور پھٹکار لوٹ کرکے کہنے والے پر پڑے گی۔

۳) اگر کسی نے تم کو کسی نے دکھ دینے والی بات کہہ دی ہے تو تم صبر کرو اور معاف کردو تمہیں بہت بڑا اجر وثواب ملے گا ۔اور اگر تم اس کا جواب دینا چاہو تو تم بس اتنا ہی کہہ سکتے ہو جتنا اس نے تم کوکہا ہے ۔ اگر اس سے زیادہ کہو گے تو گنہگار ہوجائو گے !

۴) دوغلی بات کبھی ہرگز ہرگز مت کرو کہ اس کے منھ پراس کی سی کی بات کرو ۔ اور دوسرے کے منھ پر اس کی سی بات کرو ۔یہ دونوں جہاں میں رسوائی کا سامان ہے !

۵) نہ کسی کی چغلی کرو نہ کسی کی چغلی سنو۔کہ یہ بڑے بڑے فسادوں کی جڑاور گناہ کبیرہ ہے !

۶) جھوٹ کبھی ہرگز نہ بولو ۔کہ یہ بہت ہی سخت گناہ کبیرہ ہے ۔

۷) خوشامد کے طور پر نہ کسی کے منھ پر اس کی تعریف کرو ۔نہ پیٹھ کے پیچھے بھی کسی کی حد سے زیادہ تعریف کرو ۔

۸) نہ کسی کی غیبت کرو ۔نہ کسی کی غیبت سنو ۔غیبت گناہ کبیرہ ہے اور غیبت یہ ہے کہ کسی کی پیٹھ کے پیچھے اس کی ایسی کوئی بات کہنا کہ اگر وہ سنے تو اس کو رنج ہو ۔اگر چہ وہ بات سچی ہی ہو اور اگر وہ بات ہی غلط ہوتو اس کو کہنا یہ بہتان ہے اس میں غیبت سے بھی زیادہ گناہ ہے۔

۹) جس شخص کی غیبت کی ہے اگر اس سے معاف نہ کراسکو تو اس کے لئے مغفرت کی دعائیں کیا کرو ۔امید ہے کہ قیامت میں وہ معاف کردے۔

۱۰) کبھی ہرگز کسی سے جھوٹا وعدہ نہ کرو۔

۱۱) محض اپنی بات کو اونچی رکھنے کے لئے کسی سے بحث نہ کرو ۔

۱۲) کبھی ایسی ہنسی مت کرو جس سے دوسرا ذلیل ہوجائے ۔

۱۳) سنی سنائی باتوں کو بلا تحقیق کئے ہوئے مت کہا کرو ۔کیوں کہ اکثر ایسی باتیں جھوٹی ہوتی ہیں۔

۱۴) کسی کی بری صورت یا بری بات کی نقل مت کرو۔

۱۵) ہمیشہ اچھی باتیں لوگوں کو بتاتے رہو ۔اور بری باتوں سے لوگوں کو منع کرتے رہو ۔