چلنے کے آداب

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ:

’’ولا تمش فی الارض مرحا ان اللہ لایحب کل مختال فخورo واقصد فی مشیک واغضض من صوتک ان انکرالاصوات لصوت الحمیرo

( پارہ ۲۱؍ رکوع ۱۱)

اور زمین پر اترا کر مت چلو ،کوئی اترا کر چلنے والا فخر کرنے والا اللہ کو پسند نہیں ہے اور درمیانی چال چلو (نہ بہت ہی آہستہ اور نہ بلا ضرورت دوڑ کر)اور بات چیت میں اپنی آواز پست رکھو ،بے شک سب آوازوں میں بری آواز گدھے کی آواز ہے۔

دوسری آیت میں ارشاد فرمایا:

ولا تمش فی الارض مرحا انک لن تخرق الارض ولن تبلغ الجبال طولاo (پارہ ۱۵؍رکوع ۴)

ترجمہ:۔یعنی تو زمین پر اترا کر مت چل ،بے شک تو ہرگز نہ تو زمین کو چیر ڈالے گا اور نہ تو بلندی میں پہاڑوں کو پہنچے گا۔

تیسری آیت میں فرمایا۔ ’’وعباد الرحمٰن الذین یمشون علی الارض ھونا‘‘ (پارہ ۱۹؍رکوع ۴)

ترجمہ:۔یعنی رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں۔

مسئلہ:۔ چلنے میں اِترا اِترا کر چلنا ،یا اکڑ کر چلنا،یا دائیں یا بائیں ہلتے اور جھومتے چلنا ،یا زمین پر پائوں پٹک پٹک کر چلنا یا بلا ضرورت دوڑتے ہوئے چلنا یا بلا ضرورت اِدھر ُادھر دیکھتے ہوئے چلنا یا لوگوں کو دھکا دیتے ہوئے چلنا یہ سب اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے اوررسول اللہ ا کی سنت کے خلاف ہے اس لئے شریعت میں اس قسم کی چال چلنا منع اور ناجائز ہے ۔ حدیث شریف میں ہے ایک شخص دوچادریں اوڑھے ہوئے اِترا کر چل رہا تھا اور بہت گھمنڈ میں تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی جائے گا ۔ (بخاری ومسلم ومشکوۃ ج ۲؍ص۴۴)

ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ چلنے میں جب تمہارے سامنے عورتیں آجائیں تو تم ان کے درمیان میں سے نہ گزرو داہنے یا بائیں کا راستہ لے لو۔ (شعب الایمان بہیقی)

مسئلہ:۔راستہ چھوڑ کر کسی کی زمین میں چلنے کا حق نہیں ۔ہاں اگر وہاں راستہ نہیں ہے تو چل سکتا ہے ،مگر جب کہ زمین کا مالک منع کرے تو اب نہیں چل سکتا ۔یہ حکم ایک شخص کے متعلق ہے اور جو بہت سے لوگ ہوں تو جب زمین کا مالک راضی نہ ہو نہیں چلنا چاہیئے لیکن اگر راستہ پانی میں ہے اور اس کے کنارے کسی کی زمین ہے ایسی صورت میں اس زمین پر چل سکتا ہے ۔ (بہار شریعت ج۱۶؍ص ۷۱ )

بعض مرتبہ کھیت بویا ہوتا ہے ظاہر ہے کہ اس میں چلنا کاشتکار کے نقصان کا سبب ہے ایسی صورت میں ہر گز اس میں چلنا نہ چاہئے ۔بلکہ بعض مرتبہ کاشتکار کھیت کے کنارے کانٹے رکھ دیتے ہیں ۔ یہ صاف اس کی دلیل ہے کہ اس کی جانب سے چلنے کی ممانعت ہے اس پر بھی بعض لوگ توجہ نہیں کرتے ۔ان لوگوں کو جان لینا چاہیٔے کہ اس صورت میں چلنا منع ہے۔ (بہار شریعت ج ۱۶ ؍ص۷۱)