خاشعین کی پہچان

آفتاب رشک مصباجی

جس کے دل پر خباثت کی گرد جمی ہوتی ہے اُس پر خشیت ربانی کا نزول نہیں ہوسکتا، ظاہراًچاہے وہ جتنابھی آراستہ ہولے

اللہ تعالیٰ ارشادفرماتاہے:

فَاَمَّا مَنْ طَغٰی(۳۷)وَ اٰثَرَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا(۳۸) فَاِنَّ الْجَحِیْمَ هِیَ الْمَاْوٰی(۳۹) وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَی النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰی(۴۰) فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰی(۴۱) (شوریٰ)

 ترجمہ:جس شخص نے نافرمانی کی اور دنیا کی زندگی کو سب کچھ جانااُس کا ٹھکانہ جہنم ہے،اور جس شخص نےاپنے رب کے جلال وقدرت سے خوف کھایا اور اپنے نفس کو خواہشات سے روک دیا تو اُس کا ٹھکانہ جنت ہے۔

اس آیت کریمہ میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے جس اہم اور خاص بات کی طرف ہماری توجہ مبذول کرائی ہے،وہ ہے خشیت ربانی۔

 اس آیت کریمہ کے علاوہ بھی دوسری آیتوں میں خشیت ربانی کا حکم دیاگیا ہے۔ ارشادباری تعالیٰ ہے:

 فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ(۴۴)(مائدہ)

 ترجمہ: تم لوگوں سے نہ ڈرو لیکن مجھ سے خوف کھاؤ۔

ایک دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے:

فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱۷۵)(آل عمران)

ترجمہ:اگر تم سب مومن ہوتو لوگوں سے نہیں بلکہ مجھ سے خوف کھاؤ۔

آج کے اس گھٹاٹوپ فتنوں اور لادینیت کے دورمیں جہاں چندظاہری اعمال کرلینے ہی کو خشیت ربانی کے لیے کافی سمجھ لیاجاتا ہے اور بزعم خویش خاشعین ربانی میں سےہونے کا دعویٰ کیاجاتا ہے وہاں ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کون سی صفات ہیں جن کی بنیادپر ایک شخص کو خاشعین ربانی کے زمرے میں شامل کیا جاسکتاہے۔

ذیل میں خشیت ربانی پائے جانے کی چند علامتیں پیش کی جارہی ہیں:

 سب سے پہلی بات یہ ہے کہ بندہ ظاہر شریعت کا سختی کے ساتھ پابند ہو۔خلوت،جلوت،اندھیرےاجالے ہر لمحہ اور ہر حال میں آداب شریعت کوملحوظ رکھتاہو۔

 دوسری بات یہ ہے کہ اس کی زبان جھوٹ،غلط بیانی، غیبت،چغلی،بہتان تراشی،تہمت اور جملہ فضول ولغو باتوں سے پاک ہو،علوم اسلامیہ کی تحصیل میں مشغول ہو، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ذکراورتلاوت قرآن میں رطب اللسان ہو۔

 تیسری بات یہ ہے کہ حرام کھانے سے مکمل پرہیز کرے،کیوں کہ حرام کھانے والوں پر فرشتے لعنت بھیجتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں:

إِذَا وَقَعَتْ لُقْمَۃً مِّنَ الْحَرَامِ فِی بَطْنِ ابْنِ آدَمَ لَعَنَہٗ کُلُّ مَلَکٍ فِی الْاَرْضِ وَالسَّمَاءِ مَادَامَتْ تِلْکَ اللُّقْمَۃُفِی بَطْنِہٖ وَإِنْ مَاتَ عَلٰی تِلْکَ الْحَالَۃِفَمَأوَاہُمْ جَہَنَّمٌ۔(مکاشفۃ القلوب،فی بیان الخوف)

 ترجمہ:بنی آدم کے پیٹ میں جب حرام لقمہ پہنچتا ہے تو زمین وآسمان کے تمام فرشتے اس پر اُس وقت تک لعنت بھیجتے رہتےہیں جب تک وہ لقمہ اس کے پیٹ میں رہتا ہے،اور اگر وہ اسی حال میں مرگیاکہ حرام لقمہ اُس کے پیٹ میں رہاتو اُس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔

چوتھی بات یہ ہے کہ ممنوعات شرعیہ سے خود کو دور کرلے بلکہ کبھی ایسی بھی نوبت آجائے کہ ماحول سازگار ہو، برائی کی کھلی آزادی ہواور بظاہر کسی دنیوی پکڑ کا اندیشہ بھی نہ ہو، تب بھی منع کردہ باتوں سے خود کو بچالےاور اپنا دامن داغدار نہ ہونے دے۔

 مجمع اللطائف کے حوالے سے امام محمدغزالی قدس سرہٗ لکھتے ہیں:

بنی اسرائیل میں ایک کثیرالعیال عابدتھا،اُسے تنگ دستی نے گھیرلیا،جب وہ بہت پریشان ہواتو اپنی عورت سے کہاکہ جاؤ کسی سے کچھ مانگ لاؤ۔عورت نے ایک تاجر کے یہاں جاکر کھانے کا سوال کیا،تاجرنے کہاکہ اگر تم میری آرزوپوری کردو توجوچاہو لے سکتی ہو۔

مجبورعورت چپ چاپ خالی ہاتھ گھر لوٹ آئی۔ بچوں نے جب ماں کو خالی ہاتھ آتے دیکھا تو وہ بھوک سے چلانے لگے اور کہنے لگےکہ اَمی!ہم بھوک سے مررہے ہیں، ہمیں کھانے کو دو۔

 عورت دوبارہ اُسی تاجر کے یہاں گئی اور پھرکھانے کا سوال کیا،تاجر نے پھر وہی بات کہی جو پہلے کہہ چکاتھا۔

عورت رضا مندہوگئی،مگر یہ دونوں تخلیہ میں پہنچے تو عورت خوف سے کانپنے لگی،تاجر نے پوچھاکہ کس سے ڈرتی ہو؟

عورت نے کہا کہ میں اس رب لم یزل کے خوف سے کانپ رہی ہوں جس نے ہمیں پیداکیاہے۔اس پرتاجر بولاکہ جب تم اتنی تنگ دستی کی حالت میں بھی خوف الٰہی رکھتی ہوتو مجھے اللہ کے عذاب سے زیادہ ڈرنا چاہیے،یہ کہا اور عورت کو بہت ساراسازوسامان دے کر باعزت رخصت کردیا۔

ادھر اللہ رب العزت نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی کہ فلاں ابن فلاں کےپاس جاؤ اور اُسےمیرا سلام کہہ دو،اور اُس شخص سےیہ بھی کہہ دیناکہ میں نے اُس کے تمام گناہ معاف کردیے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام حکم الٰہی کے مطابق اس تاجر کے پاس آئے اور اللہ رب العزت کا سلام پیش کیا،پھر پوچھاکہ اے تاجر!کیا تم نے کوئی بہت بڑی نیکی کی ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہارے سارے گناہ معاف کردیے۔ تاجرنے جواب میں مذکورہ تمام واقعہ سنادیا۔ (مکاشفۃ القلوب،فی بیان الخوف)ص:۴۵-۴۶)

خلاصۂ کلام یہ کہ ہر وقت بندہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی عظمت وجلال کو سامنے رکھے اور خود کو شرعی ممنوعات ومحرمات سے ہمیشہ دوررکھے۔

آخری اور سب سے اہم بات یہ کہ بندہ اپنےظاہرکے ساتھ ساتھ اپنےباطن کوبھی تمام برائیوںسے پاک وصاف رکھے،کیوںکہ جس کے دل پر خباثت باطنی کی گرد جمی ہوتی ہے اُس پر کبھی بھی خشیت ربانی کا نزول نہیں ہوسکتا،خواہ وہ ظاہرمیں کتنابھی آراستہ کیوں نہ ہو،مثلاً:ریا،حسد،کینہ، تکبر، حب جاہ، دنیاکی محبت،حب شہرت،حرص،بخل،سوئےظن، نفاق،توہین انسانیت وغیرہ سے جب تک انسان پاک نہیں ہوتا اس وقت تک خاشعین ربانی میں اس کا شمارنہیں ہوسکتا، بلکہ ایسا شخص تمام تر ظاہر داری کے باوجود اُلٹا ہلاکت کی نذر ہونے والا ہوتاہے۔

 فاضل بریلوی قدس اللہ سرہٗ تمام خباثت باطنہ کو شمار کرانے کے بعد لکھتےہیں:

پھر کیا یہ باطنی خباثتیں ظاہری صلاح پر قائم رہنے دیںگی۔ حاشا!معاملہ پڑنے دیجئے کون سی ناگفتنی ہے کہ نہ کہیں گے،کون سی ناکردنی ہے کہ اُٹھارکھیں گے اور پھر بدستور صالح عوام کی کیا گفتنی آج کل بہت علمائے ظاہر اگر متقی ہیں بھی تو اُسی قسم کے الاماشاءاللہ وقلیل ماہم۔ (فتاویٰ رضویہ،جلد:۲۱،ص:۵۰۲-۵۰۳،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،پاکستان)