خواتین اور ہمارا معاشرہ

Firozah tasbi

صالح معاشرے کی تعمیرکے لیے لازم ہے کہ خواتین کے ساتھ ناانصافی اور اُن کے حقوق کی پامالی نہ کی جائے

یہ بات عام سی ہے کہ زیادہ ترمرد ایک بیوی کے ہوتے ہوئے اپنی بیوی پر رُعب جمانے کے لیے یا یوں ہی غصے میں آکر بیو ی سے کہتے رہتے ہیں کہ اسلام نے ہمیں چار نکاح کی اجازت دی ہے،ہم مرد ہیں اور چار نکاح کر سکتے ہیں۔مگر قرآن کریم نے عورت کے ساتھ عدل وانصاف کو مد نظر رکھ کر ہی مرد کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں چار بیویاں رکھ سکتا ہے۔یہ اجازت جو قرآن کریم نے مردوں کو دی ہے اس کے لیے بھی قانون قدرت نے کئی اصول بنائے ہیں،مثلاً قرآن کریم میں فرماگیاہے:

 فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً(نسا۳)

 یعنی اگر تم کو اس کا خوف ہوکہ سبھی بیویوں کے ساتھ عدل وانصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی بیوی پر اکتفا کر لو۔

 اس سے معلوم ہو تا ہے کہ مرد کے لیے ایک سے زیادہ نکاح کرنا اسی صورت میں جائزاور مناسب ہے جب کہ شریعت کے مطابق مرد میں سبھی بیویوں کےدرمیان انصاف کرنے کی طاقت وقدرت موجود ہو،اور سبھی بیویوں کو برابر حقوق دے سکے،اس لیے مرد اگر ایک سےزائد نکاح کا ارادہ کرے تو وہ پہلے اپنے حالات کا جائزہ لے کہ اُس کے اندر سب کے ساتھ عدل وانصاف کرنے کی قدرت ہے بھی یا نہیں، اگر سب کے ساتھ عدل وانصاف کرنے کی صلاحیت واہلیت موجود نہ ہوتو ایک سے زائد نکاح کرنا گویا اپنے آپ کو ہلاکت اورفتنے میں مبتلا کرناہے،بلکہ اپنے آپ کو مجرم بنانا ہے،اس لیے اپنے آپ کو مجرم بنانے سے باز رہنا چاہیے اور قدرت وصلاحیت نہ ہونے کی حالت میں صرف ایک ہی بیوی پر اکتفا کرنا چاہیے ۔

خواہش اور محبت ایک غیر اختیاری معاملہ ہے، اس لیے اگر ایک سے زیادہ بیوی ہونے پر عدل وانصاف پوری طرح کربھی لیاجائے تو بھی فطری طورپر دل کا جھکاؤ کسی ایک بیوی کی طرف زیادہ ہوتا ہے،جس پر قابو رکھنا ایک دشوار گزار عمل ہے،کیوں کہ یہ انسان کے بس سے باہر کی چیز ہے اور اس میں انسان کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔

اسی لیے قرآن کریم میں فرمایاگیا ہے اگر کسی ایک بیوی سے زیادہ محبت ہوتو تم معذور ہو۔ ارشادباری تعالیٰ ہے:

وَ لَنْ تَسْتَطِیْعُوْا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِیْلُوْا كُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْهَا كَالْمُعَلَّقَةِوَ اِنْ تُصْلِحُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (نسا۱۲۹)

 ترجمہ:یہ ہرگز نہ ہوسکے گا کہ تم بیویوں کے درمیان انصاف کرسکو،چاہےاس کے لیے تم جتنابھی حریص بنو،اس لیے کسی ایک کی طرف بالکل نہ جھکواور دوسری کو بیچ میں لٹکتی ہوئی چھوڑدو، بلکہ تم اگرنیکی اورپرہیزگاری اختیارکروتوبہتر ہے ،بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

 لیکن ان حالتوں میں بھی دوسری بیوی کے ساتھ نا انصافی اور اُس سےبے توجّہی ہرگزجائز نہیں۔

 اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بنا ئے ہر قانو ن میں مہر بھی ایک ایسا قا نو نِ ہے جس کا حق مرد کو پہلے ہی ا دا کرنا ہے، اور یہ کسی بھی صورت میں معاف نہیں ہو سکتا ۔ہر وہ شخص جو کسی عورت سے نکاح کرتا ہےاُس کے لیے یہ لازم و ضروری ہے کہ وہ اپنی بیو ی کا مہر خوش دلی سے ا دا کرے ۔ہا ں !اگر عورت خود اپنا سارا،یا تھو ڑا بہت مہر اپنی خوشی اور مر ضی سے معاف کرد ے تو اُسے اختیار ہے۔ اس صورت میں بے شک مرد کو اس کا اپنے استعما ل میں لانا حلال ہے۔ لیکن یہ کسی بھی مرد کو جائز نہیں کہ بغیر مہر واجب کے نکاح کرے، اسی طرح اگر کسی عورت کو مجبور کرکے اس سے اپنا دیا ہوا مہر واپس لے لیا،یا واجب الادا مہر کو زبر دستی معاف کرا لیا تو یہ جبری واپسی یا معافی شر عََا معتبر نہیں ،ا ورنہ ہی ا س سے لیا ہوا مال مرد کے لیے حلا ل ہےاورنہ کوئی حق واجب ۔

یہا ں یہ بات جاننالازم و ضر وری ہے کہ اگر کسی عورت کی طرف سے کوئی کھلی ہوئی غیراخلاقی حرکت سرزد ہوجائے جس کی وجہ سے طلاق دینے کے لیے آدمی مجبور ہو جائے توایسی صورت میں مہر نہ دینے کے شرط کے ساتھ طلاق دینے میں کوئی مضائقہ اورحرج نہیں۔

 اسلام نے جہاں عورت کو اس کی زندگی کے ہر شعبے میں سہو لتیں عطا کی ہے وہیں اُس کو اللہ تعالیٰ نے اچھے عمل کے لیے بھی بہت سا ری ہدا یتیں کی ہے ا ور ہر مو منہ کا یہ فر ض بنتا ہے کہ وہ اپنے اعمال کو پا ک و صاف بنا ئے ر کھے ۔ اس کے لیے ضرو ری ہے کہ وہ اللہ عز ّو جل کی جانب سے دی گئی ہدایتوں پر عمل کر ے اور اُس کے بتا ئے گئے نیک را ستو ں پر چلے۔

 اللہ رب العزت کی ہدا یتوںمیں ایک ہدایت شوہر کی فرما ںبرداری بھی ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شو ہر کی فر ماںبرداری کی اہمیت کو اِن لفظو ں میں واضح کیا ہے کہ سجدہ اللہ کے سوا کسی کے لیے درست نہیں،سجدہ صرف اور صرف اللہ عزّ و جل کے لیےہی سزا وار ہے ۔ شو ہر کا حق بہت زیا دہ ہے مگر اُسے بھی سجدہ کرنا جا ئز نہیں ،ا لبتہ! اس کے بلند مرتبےکا یہ حق ہے کہ مشکل ترین کام میں بھی اس کی با ت مانی جا ئے اور ایسی عورت کو جنت کی بشا رت دی گئی ہے۔ مرد کو بھی چا ہیے کہ وہ اپنی بیوی سے نرمی ا ور خوش کلا می سے پیش آئے۔ اللہ تعالیٰ ارشادفرماتاہے:

وَعَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ(نسا۱۹)

 ترجمہ: عورتوں کے ساتھ حسنِ سلو ک سے پیش آؤ۔

گویا اپنی حالت بھی اپنی طاقت کے مطابق اچھی رکھو ، جیسے تم چاہتے ہو کہ تمہاری بیوی تمہارے لیے بنی سنور ی اچھی حالت میں رہے توتم خود بھی اپنی حالت اچھی رکھواور تم بھی اُس کے لیے یہی سب کچھ کرو،یعنی جیسے تمہا رے حقو ق اُ ن پر ہیںویسے ہی اُ ن کے حقوق بھی تم پر ہیں۔

 در اصل از د و اجی زندگی کا حقیقی سکھ اور کا میا بی اسی میں ہے کہ اگر بیوی سے غلطی ہو جا ے تو وہ اپنے شو ہر سے معا فی مانگ لے ا ور اگر خا وند سے ہو جا ے تو وہ اپنی بیوی سے معذرت کر لے۔اپنی غلطیوں پر معافی ما نگنا یا معذ رت چا ہنا ندامت وشرمندگی نہیں بلکہ یہ عظمت کی بات ہے۔

 اللہ رب العزت نے عورتوں کے لیےقرآن کریم کی روشنی میں بہت ساری سہو لتیںاور رعا یتیں عطا کی ہیں۔ مثال کے طو رپرہر فریضے کی طرح تقسیم میراث کا فریضہ بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لیاتا کہ میراث کی تقسیم میںعدل وانصاف کی پوری پوری رعا یت ہو ۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد مبارک ہے:

 یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْ اَوْلَادِكُم(نسا۱۱)

ترجمہ:اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو اپنی اولاد کے بارے میں (تقسیم میرات کی)وصیت کرتاہے۔

اس کا شانِ نزول اِس حدیث سے واضح ہوتا ہے جس میں حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

جَاءَتْ إمْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيْعِ بِإبْنَتَيْهَا مِنْ سَعْدٍ، فَقَالَتْ: يَا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ!هَاتَانِ إبْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيْعِ قُتِلَ أَبُوْهُمَامَعَكَ شَهِيْدًا يَوْمَ أُحَدٍ،وَأَنَّ عَمَّهُمَاأَخَذَ مَالَهُمَااسْتَفَاءَ وَلَمْ يَتْرُكْ لَهُمَامَالًا وَلَاتَنْكِحَانِ إِلَّاوَلَهُمَامَالٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقْضِي اللهُ فِي ذٰلِكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ الْمِيْرَاثَ، فَأَرْسَلَ إِلٰى عَمِّهِمَا فَدَعَاهُ، فَقَالَ أَعْطِ ابْنَتِي سَعْدٍ الثُّلَثَيْنِ وَأَعْطِ أُمَّهُمَا الثُّمُنَ وَلَكَ مَا بَقِيَ۔ (سنن کبریٰ،باب من قال بتوریث ذوی الارحام،حدیث:۱۱۹۹۹)

 ترجمہ:حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی دو لڑکیوں کو لے کرآئی اورعرض کیاکہیا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ سعد کی لڑکیاں ہیں،ان کے وا لد آپ کے ساتھ جنگِ اُحد میں شریک تھے، جس میں وہ شہید ہو گئے ،لیکن ان کے چچا نے ان کا کل مال ضبط کر لیا ہےاور ان کے لیےکچھ مال نہیں چھو ڑاہے ،اب ا ن کانکا ح مال کے بغیرکیسے ہوسکتاہے۔

 یہ سن کرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ خود کرے گا،چنانچہ آیت میراث نازل ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چچا کے پاس بلاوا بھیجااور اُسےبلاکریہ حکم دیا کہ دو تہا ئی حصہ سعد کی دو نوں لڑکیوں کو اور آٹھواں حصہ ان لڑکیوں کی ماں کو دو ،پھربقیہ مال تمہارا ہے۔

اس طرح آیت میراث کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو بھی اپنے والدین کی جا ئدا د میں حصہ اورحق دیا ۔

 مشر کین عرب کا یہ دستور تھا کہ جب کو ئی مر جاتا تھاتو اُس کی بڑی ا ولاد کواُس کاتمام مال مل جاتا تھا،چھو ٹی اولاد اورعورتیں مال کے حصے سے محروم رہ جاتی تھیں،لیکن اسلام نے آیت میراث نازل ہونے کےبعد سب کی حیثیت واضح کردی اورسب کا حصہ متعین کردیا،جس کی وجہ سے سب وارث ہو گئے ا ور سب کوحصہ ملنے لگا۔

 آیتِ میراث کاوا ضح مطلب یہ ہے کہ اللہ تعا لیٰ اولاد کے با رے میں انصاف سکھا تا ہےاور حکم دیتا ہے کہ ایک لڑکے کاحصہ دو لڑکیوں کے برا بر ہے اور اگر صرف لڑ کیاں ہیں ا ور دو سے زیادہ ہیں تو اُنھیں مالِ متروک کادو تہا ئی حصہ ملےگااوراگر ایک لڑکی ہے تو اس کے لیےمالِ متروک سے آدھاحصہ ہے ۔اس طر ح مذ ہب اسلام میں لڑ کیوں اور عورتوں کو وراثت میں خاطر خواہ حصہ دیاگیاہے۔اس کے باوجود آج کئی جگہ یہ دستور ہے کہ والدین کی جا ئدا دپر صرف لڑکو ں کا حق مانا جاتا ہے اور لڑکیوں کواُن کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے،یہ سرا سر غلط ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی نا فر مانی ہے ، نیزلڑکیو ں کا حصہ حلال نہیں بلکہ یہ گناہ میں شامل ہے اور قیامت میں اس پر سخت مواخذہ ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ ارشادفرماتاہے:

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهٗ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۳) وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا(نسا۱۴)

 ترجمہ:یہ اللہ تعالیٰ کے حدودہیں ،پس جو اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیےایسی جنت میں داخل ہوگا جس کے نیچے نہریں جاری ہیں،اور یہ بڑی کامیابی ہے،اور جو اللہ تعالیٰ اوراُس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اللہ تعالیٰ کے حدودسے آگے بڑھے گا وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں داخل کیاجائے گا ۔

 غرض کہ عورت چاہے بیوی،بہن،بیٹی،ماں وغیرہ کسی بھی صورت میں ہو،بہرحال اُس کے ساتھ عدل وانصاف کرنا اور میراث سے اُس کاشرعی حق دیناہر انسان پر واجب ہے اور اگر ہم میں سے کوئی انسان ایسا نہیں کرتا،یعنی نہ تو وہ مختلف بیویاں رکھنے کی صورت میں اُن سے عدل وانصاف کرتا ہے اور نہ ہی اپنی بیٹی،بہن،ماں وغیرہ کومیراث سے اُن کا حق دیتا ہے تو ایسے لوگ قیامت میں عذاب کے مستحق ہوں گے۔