شہادت کا معنی ومفہوم

اشتیاق عالم مصباحی

جو شریعت کی تلوارسے ماراجائے وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زندہ ہے اوررزق پاتاہے

اللہ رب العزت فرماتاہے:

 وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَ(۱۶۹) فَرِحِیْنَ بِمَااٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۱۷۰) (آل عمران)

 ترجمہ:جواللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں اُنھیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیںرزق پاتے ہیں،اللہ نے جوکچھ اُنھیں اپنے فضل سے عطاکیاہے اُس پر خوش ہیں اور جواَبھی اُن سے نہیں ملے اُن کے متعلق اس بشارت سے خوش ہوتے ہیں کہ نہ ان پر کوئی خوف ہے اورنہ کوئی غم ۔

جب بھی کبھی شہادت کاذکرآتا ہے توعام طورسے ذہن شہیداعظم حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی طرف مائل ہوجاتا ہے، جنھوںنے دین کی حفاظت اور سربلندی کے لیے خود کو اور اپنے اہل وعیال کوقربان کردیا۔لیکن یادرہے کہ لفظ شہید صرف ان ہی بہترّ (۷۲) نفوس قدسیہ کوشامل نہیں ہے جوکربلا میں شہید ہوئے،بلکہ شریعت میں ہراُس شخص کو شہید کہاجاتا ہے جواللہ تعالیٰ کے کلمے کی سربلندی کے لیے مسلسل کوشش کرے یہاں تک کہ اسی کوشش میں وہ قربان ہوجائے۔ 

لغت میں شہید کامعنی ہے گواہ اورحاضر۔ اللہ کی راہ میں قتل کیے جانے والوں کوشہیداِس لیے بھی کہاجاتا ہے کہ اُن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے جنت کی شہادت دی ہے، یاپھر عام لوگوں کے برخلاف شہداکی روح جنت میں فوراًحاضر کردی جاتی ہے۔ 

ایک قول یہ ہے کہ شہید اللہ کی راہ میں جان دے کر اِس بات کی گواہی دیتاہے کہ اُس نے اللہ تعالیٰ سے کیاہوا وعدہ پورا کردیا،وہ وعدہ کیا ہے ؟قرآن کریم کی زبانی ملاحظہ کریں: 

 اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ(توبہ۱۱۱)

 ترجمہ:بےشک اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی جا ن ومال کو جنت کے بدلے خرید لیاہے۔

 اللہ تعالیٰ نے پچھلی آیت کریمہ میں فرمایاکہ جواللہ کی راہ میں کلمۂ حق کی بلندی اوردین کی حفاظت ومدد کے لیے شہید کیے جائیں تم اُنھیں مردہ نہ کہوبلکہ مردہ گمان بھی نہ کروکہ اب وہ کسی چیزکا احساس نہیں کرتےاورنہ کوئی لذت پاتے ہیں، بلکہ وہ زندہ ہیں اوراُن کی زندگی تم سے کہیں بہترہے،کیوں کہ وہ اپنے رب کے قرب خاص میں ہیں،اُن کی زندگی کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ اللہ کی جانب سے رزق پاتے ہیں ۔ 

اللہ تعالیٰ کی راہ میں مسلسل کوشش،اخلاص اوراپنی زندگی قربان کردینے کی وجہ سے خالق کائنات نےاُن پرجو انعامات کیے ہیں،اُس سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیںاور اپنے بھائیوں کو اُس نعمت کی ترغیب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اُن پرنہ کوئی خوف ہے اورنہ کوئی غم ۔

 مذکورہ آیات میں چارجزوہیں اورہرجزوچارچیزوں کی نشاندہی کرتاہے:

 ۱۔شہادت بقاہے فنانہیں 

۲۔شہداکی فضیلت وکرامت 

۳۔شہدا پراللہ کافضل واحسان

 ۴۔مومنین کوشہادت کی ترغیب 

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 لَمَّاأُصِیْبَ إِخْوَانُکُمْ بِأُحُدٍ، جَعَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ أَرْوَاحَہُمْ فِی أَجْوَافِ طَیْرٍ خُضْرٍ تَرِدُ أَنْہَارَ الْجَنَّۃِ، تَأْکُلُ مِنْ ثِمَارِہَا، وَتَأْوِی إِلٰی قَنَادِیْلَ مِنْ ذَہَبٍ فِی ظِلِّ الْعَرْشِ، فَلَمَّا وَجَدُوْا طِیْبَ مَشْرَبِہِمْ وَمَأْکَلِہِمْ،وَحُسْنَ مَقِیْلِہِمْ قَالُوا: یَا لَیْتَ إِخْوَانَنَا یَعْلَمُوْنَ بِمَاصَنَعَ اللّٰہُ لَنَا، لِئَلا یَزْہَدُوْا فِیْ الْجِہَادِ،وَلا یَنْکُلُوْاعَنِ الْحَرْبِ، فَقَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ:أَنَا أُبَلِّغُہُمْ عَنْکُمْ،فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ہَؤُلائِ الْآیَاتِ عَلٰی رَسُوْلِہٖ۔(مسنداحمد،مسندعبداللہ ابن عباس،حدیث:۲۳۸۸)

ترجمہ:جب تمہارے بھائی غزوۂ اُحدمیں شہیدہوئے تو اللہ نے اُن کی روح کوسبزپرندوں میں رکھ دیاجو پرندے جنت کی نہروںپراُترتے ہیںاورجنت کے پھل کھاکرعرش کے سایے میں سونے کے پنجرے میں چلے جاتے ہیں ۔شہدا اچھاکھانا،عمدہ مشروبات اورحسین خواب گاہ کودیکھ کرکہتے ہیں کاش!ہمارے بھائی کواِن انعامات کاعلم ہوتاجواللہ تعالیٰ نے ہم پر کیےہیں تاکہ وہ کبھی بھی جہادنہ چھوڑیں اوردین کے دشمنوں سے جنگ کرنے سے باز نہ آئیں،چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ تمہاری طرف سے میں اُن تک یہ بات پہنچاؤں گا، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پریہ آیتیں نازل فرمائیں۔

حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں اونٹ کی تلاش میں جنگل پہنچا،رات زیادہ ہوگئی توحضرت عبداللہ ابن عمروکی قبرکے قریب ٹھہرگیا۔جب میں سونے کے لیے زمین پراپناسررکھاتوایک قبرسے تلاوت قرآن کی ایسی آواز آئی کہ اس سے اچھی آوازمیں نے کبھی نہ سنی تھی، سوچاکہ جنگل میں کہیں سے کوئی آواز آرہی ہوگی،لیکن کچھ دیرکے بعد جب سررکھاتوپھرتلاوت قرآن کی وہی آواز آئی، یہی حال صبح تک رہامیں نے ارادہ کرلیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ضروراس حال سے باخبرکروں گا۔ 

صبح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچا تورات کاواقعہ عرض کیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ وہ عبداللہ ابن عمروتھے،پھرحضرت طلحہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

 أَلَمْ تَعْلَمْ یَا طَلْحَۃَ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَبَضَ أَرْوَاحَہُمْ فَجَعَلَہَا فِیْ قَنَادِیْلَ مِّنْ زَبَرْجَدٍ وَیَاقُوْتٍ عَلَّقَہَاوَسَطَ الْجَنَّۃَ فَإِذاَکَانَ اللَّیْلُ رُدَّتْ عَلَیْہِمْ أَرْوَاحُہُمْ فَلاَ تَزَالُ کَذٰلِکَ حَتّٰی إِذَاطَلَعَ الْفَجْرُرُدَّتْ أَرْوَاحُہُمْ إِلٰی مَکَانِہِمُ الَّذِیْ کَانَتْ فِیْہِ۔ (کنزالعمال،جلد:۱۳،ص:۴۸۱،حدیث:۳۷۲۶۱)

ترجمہ:اے طلحہ!کیاتمھیں معلوم نہیں کہ اللہ عزوجل نے ان کی روح زبرجداوریاقوت کے پنجروں میں رکھ دیاہے اور اس پنجرے کوجنت کے بیچ لٹکادیاہے،جب رات ہوتی ہے تواُن کی روح لوٹادی جاتی ہے اوریہی معاملہ صبح تک رہتا ہے۔جب صبح ہوتی ہے تواُن کی روح اپنے اس مکان میں لوٹادی جاتی ہے جس میں وہ تھی۔

علامہ غلام رسول سعیدی ’’تبیان القرآن ‘‘میں لکھتے ہیں کہ جس کی زندگی اللہ کی راہ میں بسرہووہ زمین کے اوپربھی زندہ ہے اور زمین کے نیچے بھی، اورجس کی زندگی لہوولعب اور کفرمیں بسرہووہ زمین کے اوپربھی مردہ ہے اورزمین کے نیچے بھی۔اللہ رب العزت کاارشادہے:

 إِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَی(نمل۸۰)

 یعنی آپ مردوں کونہیں سناسکتے۔

 مشہورتابعی فقیہ حضرت مجاہدرحمۃ اللہ علیہ کاقول ہے کہ ہرمومن کامل شہیدہوتاہے۔ اللہ تعالیٰ ارشادفرماتاہے:

 وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ لَهُمْ اَجْرُهُمْ(حدید۱۹) 

ترجمہ:جواللہ ورسول پرکامل ایمان رکھتے ہیں وہی صدیق اورشہیدہیں،اُن کے رب کے پاس اُن کااجر اورحصہ ہے۔ 

عارفین باللہ اسی وجہ سے اللہ کی راہ میں شہیدہونے والوں کی دوقسمیں بتاتے ہیں: 

۱۔ایک وہ ہے جوجہاد اصغرکی وجہ سے مقتول ہو،اوراللہ کی رضاکی خاطراپنی جان قربان کردے۔ 

۲۔ایک وہ ہے جوجہاداکبرمیں مقتول ہو،اورمحبت الٰہی کی خاطرخواہشات نفس کوجلاکرخاکسترکردے۔ 

ان دونوں اقسام کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: 

رَجعْنَا من الْجِہَاد الْأَصْغَر إِلَی الْجِہَاد الْأَکْبَر۔ (سنن بیہقی)

 جس طرح جہاداصغرمیں قربان ہونےوالاشہیداور قرب کے اعلیٰ مقام میں ہوتاہے اسی طرح جہاداکبرکے ذریعے اپنی نفسانی خواہشات کوکچلنے والا اور اللہ کی محبت میں باقی رہنے والا قرب کے اعلی ترین مقام پر فائز ہوتاہے، ہرآن اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کاملین پر معرفت اورمشاہدہ ٔالٰہی کی صورت میں جو نعمتیں ہوتی ہیں وہ اس سے خوش ہوتے ہیں اور قوم کوبھی اس نعمت کی بشارت دیتے ہیں۔ 

صاحب عرائس البیان اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں: ’’جوشوق کی تلوارسے عشق الٰہی کی راہ میں قتل کیاجائے انھیں مردہ مت کہو،بلکہ وہ حیات انسانیہ کوفناکرکے حیات ربانیہ سے زندہ ہیں اوراللہ کی معرفت اور اس کے مشاہدے سے خوش ہوکر قوم کو اللہ جل جلالہ کادیداراوراس کی بقاکی بشارت دیتے ہیں۔‘‘

 حضرت جنید بغدادی قدس اللہ سرہٗ فرماتے ہیں کہ جو شریعت کی تلوارسے ماراجائے وہ اللہ کے نزدیک زندہ ہے اوررزق پاتاہے تواُس شخص کاحال کیاہوگاجوصدق وحقیقت کی تلوار سے قتل کیاجائے۔