حدیث نمبر :173

روایت ہے حضرت انس فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے میرے بچے اگر تم یہ کرسکو کہ صبح اور شام ایسے گزارو کہ تمہارے دل میں کسی کی طرف سے کھوٹ(کینہ)نہ ہو تو کرو ۱؎ پھر فرمایا کہ اے میرے بچے یہ میری سنت ہے اور جو میری سنت سے محبت کرے اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۲؎(ترمذی)

شرح

۱؎یعنی مسلمان بھائی کی طرف سے دنیوی امور میں صاف دل ہو،سینہ کینہ سے پاک ہو،تب اس میں انوار مدینہ آئیں گے۔دھندلا آئینہ اور میلا دل قابل عزت نہیں مگر کفار سے عداوت اصل ایمان ہے۔رب فرماتا ہے:”لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوۡنَ مَنْ حَآدَّ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ” ایسے ہی فاسق مسلمانوں کی بدکاری سے ناراض ہونا عبادت ہے۔لہذا حدیث صاف ہے۔

۲؎ یعنی جیسے اعمال میں سنتوں کی پابندی باعث ثواب ہے،ایسے ہی دل صاف رکھنا،اچھے اخلاق ہونا بھی سنت ہے۔جس سے قرب رسول اﷲ حاصل ہوگا۔افسوس کہ اکثر لوگ یہاں پھسل جاتے ہیں۔اتباع سنت کا دعویٰ ہوتا ہے مگر سینے کینوں سے بھرے ہوتے ہیں۔اﷲ اس سنت پر عمل کرنے کی توفیق دے۔