أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاِنۡ حَآجُّوۡكَ فَقُلۡ اَسۡلَمۡتُ وَجۡهِىَ لِلّٰهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ‌ؕ وَقُل لِّلَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡاُمِّيّٖنَ ءَاَسۡلَمۡتُمۡ‌ؕ فَاِنۡ اَسۡلَمُوۡا فَقَدِ اهۡتَدَوْا ‌ۚ وَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَيۡكَ الۡبَلٰغُ ‌ ؕ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ

ترجمہ:

اور (اے محبوب) اگر پھر بھی یہ آپ سے جھگڑا کریں تو آپ کہیے کہ میں نے اور جس نے بھی میری پیروی کی ہے اس نے اللہ کے لیے اسلام قبول کرلیا ہے اور آپ اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہیے کیا تم نے اسلام قبول کرلیا ؟ پھر اگر انہوں نے اسلام قبول کرلیا ہے تو وہ ہدایت پاگئے ہیں اور اگر انہوں نے روگردانی کی تو آپ کے ذمہ تو صرف دین کو پہنچانا ہے اور اللہ ہی بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (اے محبوب) اگر پھر بھی یہ آپ سے جھگڑا کریں تو آپ کہئے کہ میں نے اور جس نے بھی میری پیروی کی ہے اس نے اللہ کے لئے اسلام قبول کرلیا ہے۔

یہ آیت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین کے تمام مخالفین کو عام ہے عام ازیں کہ وہ یہود و نصاری ہوں۔ مجوس ہوں یا بت پرست ہوں اس سے پہلے یہ فرمایا تھا کہ اہل کتاب نے علم آنے کے باوجود سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت میں اختلاف کیا اور اپنے کفر پر اصرار کیا ‘ اب اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کے جواب میں یہ کہیں کہ میں نے تو اللہ کے حضور میں اپنا سرنیاز خم کردیا ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی نبوت کے صدق پر معجزات کو ظاہر کرچکے تھے ‘ درخت آپ کے بلانے پر چلے آئے۔ ہرنی نے آپ سے کلام کیا۔ گوہ نے کلمہ شہادت پڑھا، پتھر آپ کو سلام عرض کرتے تھے چاند اور سورج آپ کے زیر تصرف تھے، نیز اس سے پہلے جن آیات کا ذکر کیا گیا ہے ان میں بھی آپ کے دین کے صدق کا بیان تھا جب الحی القیوم فرمایا تو عیسائیوں کا یہ دعوی باطل ہوگیا کہ حضرت عیسیٰ خدا ہیں یا خدا کے بیٹے ہیں کیونکہ خدا وہ ہے جو ہمیشہ ہمیشہ زندہ ہو، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پہلے نہ تھے پھر پیدا ہوئے اور مسیحی عقیدہ کے مطابق ان کو سولی دی گئی اور وہ فوت ہوگئے اور بہرحال قیامت سے پہلے ایک دن انہوں نے فوت ہونا ہے، اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے بدر کے اس معجزہ کا ذکر فرمایا ہے کہ مسلمانوں کی جماعت قلیل تھی لیکن کافروں کو دوچند نظر آتی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر اپنی شہادت کا ذکر کیا۔ غرض یہ کہ اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاری کی بدعقیدگیوں اور ان کے تمام شبہات کا رد فرمایا اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور دین اسلام کے حق ہونے پر دلائل قائم کئے اگر اس سب کے باوجود یہ لوگ اپنے کفر پر اصرار کرتے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ میں نے اور میرے پیروکاروں نے تو بہرحال اپنا سرنیاز اللہ کے سامنے خم کردیا ہے۔

اللہ کا ارشاد ہے : اور آپ اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہئے کیا تم نے اسلام قبول کرلیا ؟ پھر اگر انہوں نے اسلام قبول کرلیا تو وہ ہدایت پاگئے ہیں اور اگر انہوں نے روگردانی کی تو آپ کے ذمہ تو صرف دین کو پہنچا دینا ہے اور اللہ ہی بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے۔

چونکہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس آیت میں ان پڑھ لوگوں کو بھی مخاطب کرنے کا حکم دیا ہے اس لئے ہم نے لکھا تھا کہ اس آیت میں تمام کفار سے خطاب ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : کیا تم نے اسلام قبول کرلیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے یوں نہیں فرمایا کہ آپ ان سے کہئے کہ تم اسلام قبول کرلو۔ امر کے بجائے استفہام سے خطاب فرمایا اور اس میں یہ اشارہ ہے کہ آپ کا مخاطب بہت ضدی اور ہٹ دھرم ہے اور وہ انصاف پسند نہیں ہے، کیونکہ منصف مزاج شخص کے سامنے جب کوئی چیز دلیل سے ثابت ہوجائے تو پھر وہ حیل وحجت نہیں کرتا اور فورا قبول کرلیتا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 20