أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِيۡبًا مِّنَ الۡكِتٰبِ يُدۡعَوۡنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَهُمۡ ثُمَّ يَتَوَلّٰى فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡ وَهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ

ترجمہ:

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھیں کتاب کا علم دیا گیا، انھیں کتاب اللہ کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ (کتاب) ان کے باہمی اختلاف میں فیصلہ کرے پھر ان میں سے ایک فریق روگردانی کرتا ہے اور وہی ہی روگردانی کرنے والے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا علم دیا گیا ‘ انہیں کتاب اللہ کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ (کتاب) ان کے باہمی اختلاف میں فیصلہ کرے ‘ پھر ان میں سے ایک فریق روگردانی کرتا ہے اور وہ ہیں ہی روگردانی کرنے والے۔

اس سے پہلی آیات میں یہ فرمایا تھا : اگر وہ آپ سے جھگڑا کریں تو آپ کہئے کہ میں نے اور جس نے بھی میری پیروی کی ہے اس نے اللہ کے لئے اسلام قبول کرلیا ہے ‘ اور یہ بتایا تھا کہ انہوں نے عنادا اعراض کیا اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ انکے عناد کی انتہایہ ہے کہ انہیں ان کی آسمانی کتابوں کی طرف عمل کی دعوت دی جائے تو وہ اس سے بھی اعراض کرتے ہی۔

امام جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اس آیت کے شان نزول میں اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہودیوں کے مدرسہ میں گئے اور انہیں اللہ کی طرف دعوت دی تو ان یہودیوں میں سے نعیم بن عمرو اور حارث بن زید نے آپ سے پوچھا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کس دین پر ہیں ؟ آپ نے فرمایا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین اور ان کی ملت پر۔ انہوں نے کہا ابراہیم تو یہودی تھے آپ نے فرمایا تورات لاؤ اس مسئلہ میں وہ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصل ہے۔ انہوں نے اس سے انکار کیا تب یہ آیت نازل ہوئی : کیا باہمی اختلاف میں فیصلہ کرے تو پھر ان میں سے ایک فریق روگردانی کرتا ہے۔ (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ١٤٥ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 23