أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُولٰٓٮِٕكَ الَّذِيۡنَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَمَا لَهُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ

ترجمہ:

یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ ان کو درد ناک عذاب کی خوشخبری دے دیجئے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہے۔۔ (آل عمران : ٢٢۔ ٢١)

یہود کے جرائم پر سزاؤں کا ترتب :

ان یہودیوں کے تین جرائم بیان کیے گئے تھے ‘ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرنا ‘ نبیوں کو ناحق قتل کرنا اور علماء ناصحین کو قتل کرنا ‘ اب اس کے مقابلہ میں ان کے لئے تین سزاؤں کا ذکر فرمایا ہے۔ ان کے اعمال کا دنیا میں ضائع ہونا۔ آخرت میں ضائع ہونا اور انکے لئے کسی مددگار کا نہ ہونا۔ دنیا میں انکے اعمال کے ضائع ہونے کی تفصیل یہ ہے کہ ان کے کئے ہوئے اچھے کاموں کی دنیا میں تحسین نہیں ہوگی ‘ جہاد میں ان کو قتل کردیا جائے گا اور میدان جہاد میں ان کا جو مال ہاتھ آئے گا وہ بطور مال غنیمت ضبط کرلیا جائے گا اور جو لوگ میدان جنگ میں گرفتار ہوں گے ان کو غلام بنانا جائز ہوگا اور آخرت میں اعمال ضائع ہونے کی تفصیل یہ ہے کہ آخرت میں ان کی نیکیوں پر ان کو اجر وثواب کے بدلے عذاب ہوگا ‘ اور تیسری سزا یہ ہے کہ یہ ہر قسم کی شفاعت سے محروم ہوں گے ‘ انہیں جو عذاب کی خبر دی گئی ہے اس کو خوش خبری سے تعبیر فرمایا ہے کیونکہ جن کاموں پر انہیں عذاب ہوگا یہ ان کاموں کو اچھا سمجھ کر کرتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر یہ اچھے کام ہیں تو پھر ان کے لئے خوشخبری ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 22