أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ يَكۡفُرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَيَقۡتُلُوۡنَ النَّبِيّٖنَ بِغَيۡرِ حَقٍّۙ وَّيَقۡتُلُوۡنَ الَّذِيۡنَ يَاۡمُرُوۡنَ بِالۡقِسۡطِ مِنَ النَّاسِۙ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَ لِيۡمٍ

ترجمہ:

بیشک جو لوگ اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور انبیاء کو ناحق شہید کرتے ہیں اور عدل و انصاف کا حکم دینے والے لوگوں کو قتل کرتے ہیں آپ ان کو دردناک عذاب کی خوشخبری دے دیجئے

تفسیر:

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اور اگر انہوں نے روگردانی کی تو آپ کے ذمہ تو صرف دین کی پہنچانا ہے اس آیت میں یہ بتلایا ہے کہ وہ اعراض کرنے والے کون لوگ ہیں آل عمران کی اس آیت : ٢١ میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی تین صفات بیان کی ہیں :

(١) یہ لوگ اللہ کی آیتوں کا کفر کرتے ہیں۔

(٢) نبیوں کا ناحق قتل کرتے ہیں۔

(٣) عدل و انصاف کا حکم دینے والے علماء وناصحین کو قتل کرتے ہیں۔ امام جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوعبیدہ بن جراح (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ قیامت کے دن کن لوگوں کو سب سے زیادہ عذاب ہوگا ؟ آپ نے فرمایا جس شخص نے نبی کو قتل کیا یا نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے کو قتل کیا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تلاوت فرمائی : بیشک جو لوگ اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے ہیں اور عدل و انصاف کا حکم دینے والوں کو قتل کرتے ہیں (الآیہ) پھر آپ نے فرمایا اے ابوعبیدہ ! بنواسرائیل نے صبح کے اول وقت میں تینتالیس نبیوں کو قتل کردیا تو بنواسرائیل کے ایک سو بارہ عبادت گزار علماء کھڑے ہوئے انہوں نے ان کو نیکی کا حکم دیا اور برائی سے روکا تو بنواسرائیل نے اس دن کے آخری حصہ میں ان سب کو قتل کردیا۔ (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ١٤٥۔ ١٤٤ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انکار اللہ تعالیٰ کی تمام آیتوں کا انکار ہے۔

اس آیت پر ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ آیت میں یہود کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ اللہ کی آیتوں کا کفر کرتے ہیں حالانکہ یہود اللہ تعالیٰ کو ‘ فرشتوں کو ‘ آسمانی کتابوں کو ’ انبیاء سابقین کو ‘ قیامت ‘ حشرونشر ‘ حساب و کتاب اور عذاب وثواب کو ماننے والے تھے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کیا اور تورات اور قرآن مجید میں آپ کی نبوت کے متعلق جو آیات ہیں ان کا انکار کیا اور کتاب اللہ کی ایک آیت کا انکار اس کی تمام آیتوں کے انکار کو مستلزم ہے کیونکہ جس خدا نے باقی آیات نازل کی ہیں اس لئے آپ کی نبوت کا انکار کرنا تمام آیات الہیہ کا انکار کرنا ہے اس وجہ سے فرمایا یہ لوگ اللہ کی آیتوں کا کفر کرتے ہیں۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سری شہادت :

اس آیت پر دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس آیت میں یہود کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ نبیوں کو قتل کرتے ہیں اور عدل و انصاف کا حکم دینے والے علماء ناصحین کو قتل کرتے ہیں ‘ حالانکہ یہ قتل تو ان مخاطبین یہود کے آباؤ اجدادنے کیا تھا تو اس فعل پر ان کی مذمت کیوں کی جارہی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں جو یہودی تھے وہ اپنے آباؤ اجداد کی سیرت کو لائق تحسین اور قابل تقلید گردانتے تھے اور اس پر فخر کرتے تھے ‘ اس لئے ان افعال پر ان یہودیوں کی بھی مذمت کی گئی دوسرا جواب یہ ہے کہ اپنے آباؤاجداد کی روش پر چلتے ہوئے ان لوگوں نے بھی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کی سازشیں کیں اور مشرکین کے سازباز کرکے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے اور خیبر میں ایک یہودی عورت نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زہر آلود گوشت کالقمہ کھلایا اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے اس زہر کے اثر کوفی الفور روک لیا لیکن تین سال بعد اسی زہر کے اثر سے آپ کی وفات ہوئی اور آپ نے بھی سری شہادت پائی۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس مرض سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی اس میں آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! میں ہمیشہ اس طعام کے درد کو محسوس کرتا رہا ہوں جو میں خیبر میں کھایا تھا اور اب اس زہر کے اثر سے میرے قلب کی رگ کے منقطع ہونے کا وقت آگیا ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٦٣٧‘ مطبوعہ کراچی)

ظالم حکام کے سامنے حق بیان کرنا افضل جہاد ہے :

اس آیت میں یہ بھی فرمایا ہے کہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی وجہ سے بنواسرائیل نے ایک سو بارہ علماء کو قتل کردیا ‘ اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ عزیمت اور شریعت میں اصل یہ ہے کہ مسلمان جان کی پرواہ کئے بغیر حق کا اظہار کرے اور نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے راستہ میں کسی چیز کو خاطر میں نہ لائے۔ امام ابوعبدالرحمان احمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ روایت کرتے ہیں :

طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا اس وقت آپ نے رکاب میں پیر رکھا ہوا تھا : کون ساجہاد سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا۔ (سنن نسائی ج ٢ ص ١٨٦ مطبوعہ کراچی)

اس حدیث کو امام ابوداؤد (ج ٢ ص ٤١) امام ترمذی (ص ٣١٦) ابن ماجہ (ص ٢٨٩) امام حمیدی (ج ٢ ص ٣٣٢۔ ٣٣١) امام بیہقی (شعب الایمان ج ٦ ص ٩٣) اور امام احمد (ج ٣ ص ٦١) نے بھی روایت کیا ہے ‘ اور یہ حدیث صحیح ہے۔

حافظ نور الدین علی بن ابی بکر الہیثمی متوفی ٨٠٧ ھ بیان کرتے ہیں :

حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ کے نزدیک کون سے شہداء سب سے زیادہ مکرم ہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ شخص جس نے کسی ظالم حاکم کے سامنے کھڑے ہو کر اس کو نیکی کا حکم دیا اور برائی سے روکا اور حاکم نے اس شخص کو شہید کردیا۔ (مسند بزار)

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ تم میں سے کوئی شخص لوگوں کے دباؤ کی وجہ سے حق ظاہر ہونے کے بعد اس کو بیان کرنے سے اور کسی بڑی بات کا ذکر کرنے سے باز نہ رہے کیونکہ لوگوں کا دباؤ موت کو قریب کرتا ہے نہ رزق کو دور کرتا ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٧ ص ٢٧٢) (مسند احمد ج ٣ ص ٩٢۔ ٨٧۔ ٤٧۔ ٤٤۔ مسند ابو یعلی ج ٢ ص ٧٢)

حافظ نور الدین علی بن ابی بکر الہیثمی متوفی ٨٠٧ ھ بیان کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سید الشہداء حمزہ بن عبدالمطلب ہیں اور وہ شخص ہے جو کسی ظالم حاکم کے سامنے کھڑا ہوا اور اس کو (نیکی کا) حکم دیا اور (برائی سے) منع کیا تو اس حاکم نے اس کو شہید کردیا۔ (المعجم الاوسط)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم ضرور نیکی کا حکم دو اور ضرور برائی سے منع کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے برے لوگوں کو تم پر مسلط کر دے گا پھر تمہارے نیک لوگ (بھی) دعا کریں گے تو انکی دعا قبول نہیں ہوگی۔ (مجمع ج ٧ ص ٢٦٦)

مصیبت سے بچنے کے لئے کلمہ حق نہ کہنے کا جواز :

اصل ‘ عزیمت اور افضل تو یہی ہے کہ مسلمان کو اپنی جان کا خطرہ ہو پھر بھی وہ اظہار حق سے باز نہ رہے لیکن شریعت میں یہ رخصت بھی دی گئی ہے کہ جب حق بات کہنے سے اس کی اپنی یا کسی اور کی جان کا خطرہ ہو تو وہ اپنے آپ کو خطرہ میں نہ ڈالے۔

حافظ نور الدین علی بن ابی بکر الہیثمی متوفی ٨٠٧ ھ بیان کرتے ہیں :

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسی مسلمان کے لئے خود کو ذلت میں ڈالنا جائز نہیں ہے آپ سے پوچھا گیا کہ ذلت میں ڈالنے سے کیا مطلب ہے ؟ فرمایا وہ اپنے آپ کو کسی ایسی مصیبت میں ڈالے جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو۔ اس حدیث کو امام ابو یعلی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٧ ص ‘ ٢٧٤۔ ٢٧٢‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے حجاج سے خطبہ میں ایسی چیزیں سنیں جن کا میں انکار کرتا تھا میں نے اس کا رد کرنے کا ارادہ کیا پھر مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث یاد آئی کہ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کو ذلیل نہ کرے ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ اپنے نفس کو کیسے ذلیل کرے گا ؟ آپ نے فرمایا وہ اپنے آپ کو ایسی مصیبت میں ڈالے جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو۔ اس حدیث کو امام بزار نے اور امام طبرانی نے المعجم الاوسط اور المعجم الکبیر میں روایت کیا ہے کہ المعجم الکبیر کی سند جید ہے اور اس کے روای صحیح ہیں۔

امام طبرانی نے اس حدیث کو المعجم الاوسط میں حضرت علی (رض) سے بھی روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد ج ٧ ص ‘ ٢٧٥۔ ٢٧٤ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں :

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا آیا میں اپنے امام کو نیکی کا حکم دوں ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اگر تم کو یہ خوف ہو کہ وہ تم کو قتل کر دے گا تو پھر نہ دو ۔ (شعب الایمان ج ٦ ص ٩٦ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 21