اچھااخلاق

رکن دین سعیدی

اخلاق ،خلق کی جمع ہے جس کا معنی ہے عادت وخصلت۔عرف عام میں بھی اخلاق ،خصلت،عادت اور چال چلن کوکہتے ہیں۔اسلام نے اچھے اخلاق پر کافی زور دیاہے،نیزقرآن کریم میں بھی اچھی عادتوں اور خصلتوں کے بارے میں بہت سی آیتیں نازل ہوئی ہیں۔ اچھا اخلاق ایک طرف ہماری زندگی کو قابل رشک بناتاہے تو دوسری طرف اللہ ورسول کے نزدیک سرخرو بھی کرتا ہے۔ یہ اچھے اخلاق ہی کااثر تھا کہ کفارومشرکین جوپیارے نبی جناب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت ترین جانی دشمن تھے اس کے باوجود آپ کو نہ صرف ’’صادق وامین‘‘کہتے تھےبلکہ اپنی اپنی قیمتی چیزیں بھی آپ صلی للہ علیہ وسلم کے پاس ہی رکھتے تھے۔اچھےاخلاق کی تعلیم دیتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم میں سب سے بہتر اور افضل وہ شخص ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں۔اور ایسااس لیےکہاگیاہے کہ جس شخص کوتیروتلوار اور اسلحہ وہتھیار سے جیتانہیں جاسکتا اس کواچھےاخلاق سے جیتا جاسکتا ہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےجو دشمنوں پر اپنی جیت درج فرمائی ہے اس میںاچھے اخلاق کا بڑا عمل دخل رہا ہے۔مثال کے طورپرایک بارجب مکہ شریف سے کچھ دوردین کی دعوت کے لیےطائف پہنچے تو وہاں کے لوگوں نے نہ صرف آپ کا مذاق اڑایا بلکہ پتھروں سےمارمارکر لہولہان بھی کردیا،پھربھی آپ نےطائف والوں کے لیے ہدایت وخیر کی دعائیں کی،جنگ بدرمیں گرفتار کیے گئے قیدیوں سے بدلہ لینے کے بجائےمعمولی فدیہ لےکر آزاد کردیا،یہاں تک کہ فتح مکہ کے دن اُن لوگوں کو بھی معاف فرمادیاجو ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کےدشمن رہے، بلکہ کئی بارجان سے مارنے کی کوششیں بھی کیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اچھے اخلاق ہی کانتیجہ تھا کہ جو لوگ کبھی آپ کی جان کے دشمن بنے ہوئے تھے وہی لوگ آپ پر جان دینے کے لیے تیار ہوگئے ،اور جولوگ اسلام کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے تھے وہی لوگ اسلام کی ترقی کے لیے راہیں ہموار کرنے لگے۔

 بچو! اس سے تین باتیں معلوم ہوتی ہیں:ایک یہ کہ اچھا اخلاق انسان کو زندگی میں ہمیشہ محترم اورمقبول بناتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اچھے اخلاق سےاللہ ورسول کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے اورتیسرے یہ کہ اچھے اخلاق میں بڑی طاقت ہوتی ہےجسے اختیار کرکے ایک انسان بڑے سے بڑے دشمن پر بھی فتح حاصل کرسکتا ہے،اس لیے ہم سب کے اوپر لازم ہے کہ دوست ودشمن سب کےساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئیں اور اپنے کرداروگفتارسے اچھےاخلاق کی تعلیم عام کریں ۔