حدیث نمبر :175

روایت ہے حضرت جابرسے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی جب حضور کی خدمت میں حضرت عمر آئے فرمایا کہ ہم یہود کی کچھ باتیں سنتے ہیں جو ہمیں بھلی لگتی ہیں کیاحضور اجازت دیتے ہیں کہ کچھ لکھ بھی لیا کریں فرمایا کیا تم یہود اور عیسائی کی طرح حیران ہو ۱؎ میں تمہارے پاس روشن و صاف شریعت لایا ۲؎ اور اگر حضرت موسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں میری اتباع کے بغیر چارہ نہ ہوتا۳؎ اسے احمداوربیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا۔

شرح

۱؎ کہ قرآن و سنت کو اپنے لیئے کافی نہیں سمجھتے اس لیئے دوسروں کے پاس علم وہدایت لینے جاتے ہوجیسے

یہودونصاریٰ نے اپنی کتابیں چھوڑکر پادریوں اور جوگیوں کی پیروی شروع کردی۔یہ حدیث دین و ہدایت کے متعلق ہے جو کوئی اسلام کو کافی نہ سمجھے وہ بے ایمان ہے۔دنیاوی چیزیں ہر جگہ سیکھی جاسکتی ہیں۔اس کے لیئے وہ حدیث ہے کہ کلمۂ حکمت مسلمانوں کی گمی دولت ہے جہاں سے ملے لے لو۔لہذا حدیث متعارض نہیں۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو بے دینوں کے رسالے پڑھتے اور بدمذہبوں کے جلسوں میں جانے سے احتیاط نہیں کرتے۔فاروق اعظم جیسے مؤمن کو اہل کتاب کے علماء کی صحبت سے منع فرمایا دیا۔

۲؎ جس میں نہ کوئی کمی ہے نہ کوئی پوشیدگی پھر اور طرف کیوں جاتے ہو۔

۳؎ کیونکہ اﷲ تعالٰی نے سارے نبیوں سے حضور کی اتباع کا عہد لے لیا تھا:”لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنۡصُرُنَّہٗ “پھرتم ان کی امت سے میرے ہوتے ہوئے ہدایت لینے کیوں جاتے ہو۔آفتاب کے ہوتے چراغوں سے روشنی نہیں لی جاتی۔آج مسلمان اپنے کو بھول گئے اسی لئے دوسری قوموں کے اخلاق اور امانت داری کی تعریفیں کرتے ہیں۔یہ ہماری جیب کے گرے ہوئے موتی ہیں جو اوروں نے اٹھالئے۔