أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمۡ قَالُوۡا لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَيَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍ‌ ۖ وَغَرَّهُمۡ فِىۡ دِيۡنِهِمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ

ترجمہ:

اس (سرکشی کی جرأت) کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے کہا کہ گنتی کے چند دنوں میں سوا دوزخ کی آگ ہمیں ہرگز نہیں چھوئے گی، اور انہوں ان کے دین کے متعلق اس بہتان نے دھوکے میں رکھا جو وہ اللہ پر باندھتے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اس (سرکشی کی جرأت) کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ گنتی کے چند دنوں کے سوا دوزخ کی آگ ہمیں ہرگز نہیں چھوئے گی اور انہیں ان کے دین کے متعلق اس بہتان کے دھوکے میں رکھا جو وہ اللہ پر باندھتے تھے۔ (آل عمران : ٢٤)

یہود جو اللہ پر افتراء باندھتے تھے اس کے متعلق کئی اقوال ہیں ایک یہ ہے کہ وہ کہتے تھے ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں ‘ دوسرا قول یہ ہے کہ ہمیں صرف گنتی کے چند دل آگ جلائے گی وہ کہتے تھے کہ انہوں نے چالیس دن بچھڑے کی عبادت کی تھی سو ان کو چالیس دن کا عذاب ہوگا نیز وہ کہتے تھے کہ وہ انبیاء کی اولاد ہیں اس لئے سے گناہوں پر مواخذہ نہیں ہوگا اور وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہتے تھے کہ ہم حق پر ہیں اور آپ باطل پر ہیں۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 24