وہم پرستی اورتکبر

امام الدین سعیدی

اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

 وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔوْلًا(۳۶) وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًااِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا(۳۸) ذٰلِكَ مِمَّا اَوْحٰی اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰی فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا( بنی اسرائیل ۳۹ )

 ترجمہ : اس چیز کے پیچھے مت پڑ و جس کا تمھیں علم نہیں ، یقینی طور پر آنکھ ،کان ،دل ان میں سے ہر ایک کے تعلق سے بازپُرس ہو نی ہے ، اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو ،اس لیے کہ نہ تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑ کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو، یہ سب تیرے رب کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے ۔یہ وہ حکمت ہے جو آپ کے رب نے آپ کی طرف وحی کی ہے ،اللہ کے سوا کسی اور کو معبود نہ بنا ؤ،ورنہ ملامت و ذلت کے ساتھ جہنم میں ڈال دیے جا ؤ گے ۔

۱۔ وہم وگمان کی پیروی
قرآن مجید نے متنبہ کردیا کہ جس معاملے میں تمہارے پا س کو ئی علم اور تحقیق نہ ہواُس کے پیچھے نہ پڑو، اس میں بحث اور کُرید نہ کرو۔
مطلب یہ ہے کہ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیںکہ وہ کسی پربے بنیاد الزام یا تہمت لگائے ، کسی سے بدگمان ہوجائے یا بلا تحقیق کسی کے بارے کوئی موقف قائم کرلے یا کوئی قدم اٹھا ئے۔
اسی طرح محض شکوک و شبہات کی بنا پر کسی کے بارے میں افواہ بھی نہ اڑائے ۔
اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے :

 یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ( حجرات۶)

 ترجمہ : اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبرلےکر آئے تو اُس کی خوب تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو اور پھرتمھیں اپنے کیے پر شرمندگی اٹھانی پڑی ۔

 دوسری جگہ ارشاد ہے:

 یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا( حجرات۱۲)

ترجمہ : اے ایمان والو!بہت زیا دہ گمان کرنے سے بچو ، کیوں کہ بعض گمان گناہ ہو تے ہیں اور کسی کی ٹوہ میں نہ رہو ۔

وہم پرستی سے پیدا ہونے والے امراض 
بلا تحقیق راے قائم کرنا اِن آیات کریمہ میں اللہ رب العزت نے اس اہم بات کی طرف اشارہ فرما یاہے کہ اگر کو ئی فاسق کسی بات کی خبر دے تواُس بات کی تحقیق اور چھان بین کیے بغیر کو ئی رائے قائم نہ کرو اور نہ کوئی قدم اٹھاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ جلد بازی میں کو ئی قدم اٹھا لو اور بعد میں تمھیں اس پر کف افسوس ملنا پڑے ۔ایسے معاملات میں یہ دیکھو کہ خبر دینے والا کیسا ہے یہ نہ دیکھو خبر کیسی ہے؟ جس طرح محدثین کا احادیث کریمہ کی روایت کےسلسلے میں اس اصول پر عمل ہے کہ جب تک راوی کے ثقہ ہوجانے کی تحقیق نہ ہو جائےاس وقت تک اُن کی روایت کو نہیں لیتے ہیں،یہاں بھی یہی اصول اپناناچاہیے۔
 بدگمانی
اِس آیت کریمہ میں دوسری بات زیادہ گمان سے بچنے کا حکم ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض گمان سے صریح گناہ کا ارتکاب ممکن ہے ۔ انسا ن اس دنیا میں جس شخص سےبھی ملتا ہے اُس کے بارے میں اچھا یا بُرا گمان فطری طور پر اُس کےدل میں پیدا ہو ہی جاتا ہے، پھر اسی گمان پر اس سے قربت یادوری پیدا ہو تی ہے۔ گو یا یہ معاشرتی زندگی میں ایک دوسرے کے لیے محبت و نفرت اوراتحاد و اختلاف کی بنیاد ہے۔
اس لحاظ سے انسان کو اِس معاملےمیں بہت حساس اور بیدار رہنے کی ضرورت ہے ۔
اِس آیت کریمہ میں یہ واضح ہدایت ہے کہ ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے بارے میں ہمیشہ اچھا گمان رکھنا چاہیے،کیوں کہ اچھاگمان رکھنااس اخوت ایمانی کا لا زمی تقاضا ہے جس پر اسلامی معاشرہ کا قیام ہے۔ اس کے برعکس جس شخص کا حال یہ ہو جائے کہ جو بھی الٹاسیدھا گمان اس کے دل میں آئے وہ اسی کی پیروی کرنے لگے تو اس کا نقصان خود اسی کو اٹھا نا پڑےگا،اس لیےکہ بعض گمان صریحی طور پر گناہ ہو تے ہیں جو ہلاکت کی طرف لے جاتے ہیں ۔
اس کی مثال اس پاگل شکاری کی طرح ہے جو ہرنی کی تلاش میں ہر جنگل میں بلاسوچے سمجھے داخل ہو تا چلا جائے اور وہاں موجود درندوںسے بے پرواہ ہوجائے تو عین ممکن ہے کہ ہرنی کے بجائے کبھی شیر ہی مل جائے اوروہ اُس کی ہلاکت کی وجہ بن جائے ۔
 تجسس 
وہم پرستی کے ضمن میں اس آیت کریمہ میں تیسری بات یہ ہے کہ کسی کے ٹوہ میں نہ پڑے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کےعیوب و نقائص تلاش کرنا،یاکسی کی ذاتی زندگی کےتعلق سےکوئی سراغ حاصل کرنے کی کو شش میں رہنا،تا کہ اس کو ذلیل کیا جائے،یہ مذموم ہے ۔
ظاہر ہے کہ اس طرح کا تجسس انسان کی نجی زندگی اور معاشرتی زندگی دونوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو تا ہے، کیوں کہ یہ آپسی جذبۂ احترام اور انسانی ہمدردی کے سراسر منافی ہے ۔

۲۔ فخراورتکبر
اول الذکر آیتوں میں جو دوسرا حکم ہے وہ یہ کہ زمین پر اکڑ کر نہ چلو،کیوں کہ اس طرح کی چال تکبر کو ظاہر کرتی ہے۔ علم و دولت ، حسن وطاقت ،یا اس طرح کی دوسری چیزیں عمومی طورسے آدمی کے اندر غرور پیدا کرتی ہیں ،جس کااثراُس کی مخصوص چال ڈھال میں نمایا ں ہو تاہے جو اِس بات پر دلیل بن جاتی ہے کہ یہ آدمی متکبر ہے اورعجزو انکساری کی دولت سے محروم ہے۔ اس کے بر عکس جن کے پا س تواضع ہو تا ہے وہ اکڑ نے کے بجائے سر جھکا ئے نرم چال چلتے ہیں ۔
تکبر ایک بد ترین صفت ہے ،اس پر حدیث میں سخت وعید آئی ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

الْعِزُّ إِزَارُهٗ، وَالْكِبْرِيَاءُ رِدَاؤُهٗ، فَمَنْ يُنَازِعُنِي عَذَّبْتُهٗ۔ ( مسلم ،باب تحریم الکبر،حدیث :۲۶۲۰)

ترجمہ:عزت، رب تعالیٰ کی اِزار ہے، کبریائی اُس کی رِدا ہے۔ جو بھی اس سے مقابلہ کرےگا اُسے عذاب دیا جائےگا ۔

ایک دوسری حدیث میں ہے :

لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ۔( ابو داؤ د ،باب ماجاء فی الکبر،حدیث:۴۰۹۱)

ترجمہ:وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو سکتا جس کے دل میں رائی کے برابر بھی کبر ہو ۔

 کیوںکہ یہ اُم الخبائث ہے، یہ ایسی بُرائی ہے جو بڑے بڑے گناہو ں کی وجہ بنتی ہے، جیسے کسی بات کو حق جانتے ہوئے اُس کا انکار کرنا ، رنگ و نسل اور حسب ونسب کے اعتبار سے اپنے آپ کو اعلیٰ سمجھنا ، دوسروں کو حقارت سے دیکھنا ،اُن کا مذاق اڑانا ،دل آزاری کرنا وغیرہ ۔
ذیل میں ان کی قدرے تفصیل بیان کی جاتی ہے:
حق سے روگردانی 
تکبر کی وجہ سے حق کا انکار کرنے والوں کے لیے اللہ رب العزت کی سخت تنبیہ آئی ہے۔ قرآن کریم میں ارشادہے :

 اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ(۴۰) لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ ( اعراف ۴۱)

 ترجمہ:وہ لوگ جنھوںنے ہماری آیتو ں کو جھٹلایااور (کبر کی وجہ سے) اُن سے منھ موڑ لیااُن کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جا ئیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوسکیں گے ۔ہا ں!اس صورت میں کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سماجائے ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں، ان کے لیے دوزخ کا بچھونا اوردوزخ ہی کا اوڑھنا ہو گا،کیوں کہ ظالموں کوہم ایسے ہی بدلہ دیتے ہیں ۔

حسب ونسب پر غرور
اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرف و عزت والا ہو نے کے لیے کسی نسل یا کسی خاندان میں ہو نا شرط نہیں، بلکہ متقی ہو نا شرط ہے۔ اس کی بارگا ہ میں وہی سرخرو اور کامیا ب ہو گا جو سب سے زیادہ اللہ سےڈرنے والا ہو، اُس کے احکام کی پابندی کرنے والا ہو ،اگر چہ وہ معمولی حسب ونسب والاہی کیو ں نہ ہو، اور جو سرکش و متکبر ہو گا وہ اسی قدر ذلیل و رسوا ہو گا اگر چہ وہ عالی نسب ہی کیوںنہ ہو ۔اس لیے کہ نسل اور خاندا ن کی تقسیم صرف تعارف وپہچان کے لیے ہے نہ کہ فخروبرتری ظاہر کرنے کے لیے ۔ ا
للہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

 یٰاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰی وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ( حجرات ۱۳)

 ترجمہ : اےلو گو! ہم نے تمھیں ایک مردو عورت سے پیدا کیا، پھر قبیلوںاور طبقوں میں تقسیم کردیا،تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہی ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقوی رکھتا ہو ، بے شک اللہ علیم و خبیر ہے ۔

مذاق اڑانا 
واضح رہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی کے معززیا حقیر ہونے کا معیار اُس کا ایمان و عمل ہے، دنیا والوں کے بنائے ہوئے پیمانے پر اُس کو منطبق کرنا حماقت اور نادانی ہے۔
جو لوگ خو د کو اِس دنیا میں عزت و شوکت والے سمجھ رہے ہیں ممکن ہے کہ قیامت میں ذلت و رسوائی ان کے حصے میں آئےاور جنھیں اِس دنیا میں ذلیل و کمتر گردانا جا تا ہے،عین ممکن ہے کہ اُنھیں عزت و تکریم کے مقام پر فائز کردیا جائے ۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

 یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰی اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰی اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ (حجرات ۱۱)

 ترجمہ:اے ایمان والو! ایک قوم دوسری قوم کامذاق نہ اڑائے،ہو سکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ثابت ہو ں اورنہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہو ں ۔

 غرض کہ اس طرح بہت ساری برائیوں کی جڑ تکبر اور غرور ہی ہے۔اس لیے لو گ اس مہلک خصلت کوبھی معمولی نہ سمجھیں بلکہ جہاں بھی اس کا شائبہ ہو اُسے غیرمعمولی سمجھ کر خود کو اُس سے بچائیں اور اپنے فکرو نظر اورقلب و شعور کواُس سے پاک رکھیں ۔