رشتے دار:سیرت مصطفیٰ کے آئینے میں

محمد ابرار عالم مصباحی

اچھا رشتے دار وہی ہے جو سیرت نبوی کے مطابق اپنے رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک اور صلہ رحمی کرتاہے

آج کے اس پُر آشوب دور میں ایک رشتے دار دولت و ثروت کی کثرت کی وجہ سے فلک بوس عمارتوں میں عیش و عشرت کی زندگی بسرکررہاہے، ان کے بچے اعلی ترین ملبوسات زیب تن کر رہے ہیں ، لذیذ کھانوں اور میوہ جات کا مزہ لے رہے ہیں اور دنیا کی ہر نئی چیزوں سے صبح و شام لطف اندوز ہورہے ہیں ۔مگر اُن کے رشتے داراُن کی نظروں کے سامنے بھوک سے بلک رہے ہیں، ان کے بچے فاقہ پرفاقہ کررہے ہیں، اُن کے پاس ضروری لباس بھی نہیں ہے،اس کے باوجود اِن دولت مندوں کے دلوں میں اپنے رشتے دار کے دکھ درد بانٹنے کا کوئی جذبہ نظر نہیں آتا،بلکہ بسا اوقات اپنے رشتے دار کی غریبی اور مفلسی کی وجہ سے اُن سے بھی رشتہ توڑلیتے ہیں اور قریبی رشتہ دار ہونے کے باوجوداُنھیں پہچاننے سے انکا ر کردیتے ہیں،جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے کا ایک بڑا طبقہ سخت تکلیف دہ زندگی بسرکرنے پرمجبورہے ۔

 ایسی صورت میں معاشرے کو درد وغم ، مصیبتوں اور تکلیفوں سے کوئی نکال سکتا ہےتو وہ ہےمصطفی جان رحمت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ سیرت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلیٰ تعلیمات۔

 رشتے داروں کے ساتھ ہمدردیاں

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچاجناب ابوطالب اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح خوشحال نہ تھے،اُنھیں اکثر تنگی کا سامنارہتا تھا ،مکے میں جب قحط پڑا تو اُس کی وجہ سے اُن کی مالی حالت اور بھی کمزور ہوگئی، رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی یہ تکلیف نہ دیکھی گئی۔

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا حضرت عباس کے پاس گئے اور اُنھیں اِس بات کی ترغیب دی کہ ہمیں مل کرچچا ابو طالب کا بوجھ بانٹ لینا چا ہیے ،ان کا ایک بیٹا میں لے لیتا ہوں،اس کی پرورش میں کروں گا ۔ایک لڑ کا آپ لے لیں ، اور اُس کی پرورش کی ذمے داری آپ اپنے ذمے لے لیں، اس طر ح اُن کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا ۔

اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عباس، جناب ابوطالب کے پاس گئے اور اپنے آنے کا مقصد بتایا۔ جناب ابو طالب کے چار بیٹے تھے، طالب،عقیل، جعفر اور حضرت علی۔انھوں نے کہا کہ طالب اور عقیل کو آپ میرے پاس رہنے دیں اور باقی بچوں کے بارے میں آپ لوگوں کی جومرضی ہو کرلیں ۔چنانچہ حضرت علی جو سب سے کم عمر تھے ، رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ذمے داری اپنے سر لے لی اور جعفر کو حضرت عباس لے گئے۔ (ضیاء النبی،جلد :۲،ص:۲۲۹-۲۳۰)

ان کے علاوہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےرشتے دار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندگی بھر اُن سب کی خیر خواہی کرتے رہے،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دودھ شریک رشتے داروں کو بھی کبھی فراموش نہ کیا ۔

چنانچہ قحط سالی کے زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنےرضاعی والدین کی مصیبتوں کو دیکھتے ہوئے اُنھیں بھی چالیس بکریاں اور ایک اونٹ عطا فر مایاتھا۔

اس طرح سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اپنے رشتے داروں کی تکلیف کو بانٹا اور دوسرے کو بھی اس نیک کام پر اُبھارا۔

 ذیل میں رشتے داروں کے ساتھ خیرخواہی کرنے سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ تعلیمات نہایت اختصار کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں:

۱۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:

إِنَّ الرَّحِمَ شَجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمٰنِ، فَقَالَ اللهُ: مَنْ وَصَلَكِ وَصَلْتُهٗ، وَمَنْ قَطَعَكِ قَطَعْتُهٗ۔ (بخاری،باب من وصل وصلہ اللہ،حدیث:۵۹۸۸ )

ترجمہ:رحم(رشتہ)رحمٰن سے مشتق ہے اور اللہ تعالیٰ نے رشتےکے بارے میں فر مایا ہے کہ جو تجھے ملائے گا میں اُسے ملائوں گا اور جو تجھے کاٹے گا میں اُسے کاٹوں گا۔

۲۔حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فر مایا:

 أَنَا اللهُ وَأَنَا الرَّحْمَنُ خَلَقْتُ الرَّحِمَ وَشَقَقْتُ لَهَا مِنِ اسْمِي فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهٗ وَمَنْ قَطَعَهَا قَطَعْتُهٗ۔ (مستدرک ازحاکم،حدیث:۷۲۶۹-۷۲۷۰)

ترجمہ:میں اللہ ہوں ،میں رحمن ہوں ،رحم (رشتہ) کو میں نے پیدا کیا اور اس کانام میں نے اپنے نام سے مشتق کیا لہٰذا جو اُسے ملائے گا میں اُسے ملائوں گا اور جو اُسے کاٹے گا میں اُسے کاٹوں گا۔

 ۳۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : یارسول اللہ!(صلی اللہ علیہ وسلم) مجھےکوئی ایسا کام بتائیں جس کومیں کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں۔ اس پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:

 أَفْشِ السَّلَامَ وَأَطْعِمِ الطَّعَامَ وَصِلِ الْأَرْحَامَ وَقُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ثُمَّ ادْخُلِ الْجَنَّةَ بِسَلَام۔ (مستدرک ازحاکم،حدیث:۷۲۷۸)

ترجمہ:سلام کو پھیلائو،کھانا کھلائو،اور رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرواور رات کو جب سب لوگ سو جائیں تو اُٹھ کر نمازاداکیاکرو سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جائو۔

۴۔حضرت عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا:

مَنْ سَرَّهٗ أَنْ يَّمُدَّ اللهُ فِي عُمْرِهٖ وَيُوَسِّعَ لَهٗ فِي رِزْقِهٖ وَيَدْفَعَ عَنْهُ مَيْتَةَ السُّوءِ فَلْيَتَّقِ اللهَ وَلْيَصِلْ رَحِمَهٗ۔ (مستدرک ازحاکم،حدیث :۷۲۸۰) ترجمہ:جس کو یہ بات پسند ہو کہ اس کی عمر میں برکت ہو، رزق میں کشادگی ہواوربُری موت سے محفوظ رہے،وہ اللہ رب العزت سے ڈرتا رہے اور رشتےداروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔

 ۵۔حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:

 لاَ يَدْخُلُ الجَنَّةَ قَاطِعٌ۔

 ترجمہ:رشتےکاٹنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ (بخاری ،باب:اثم القاطع ،حدیث:۵۹۸۴)

 ۶۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 اعْرِفُوْا أَنْسَابَكُمْ تَصِلُوْا أَرْحَامَكُمْ، فَإِنَّهٗ لَا قُرْبَ لِرَحِمٍ إِذَاقُطِعَتْ، وَإِنْ كَانَتْ قَرِيْبَةً، وَلَا بُعْدَ لَهَا إِذَا وُصِلَتْ وَإِنْ كَانَتْ بَعِيْدَةً۔(مستدرک ازحاکم، حدیث:۷۲۸۳)

ترجمہ:اپنے نسب کو پہچانو،رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرو،کیوں کہ اگر رشتہ کاٹا جائے تو وہ قریبی رشتہ نہیں، اگرچہ وہ قریبی رشتہ ہو، اور اگر رشتہ جوڑا جائے تو وہ رشتہ دورکا نہیں، اگرچہ وہ رشتہ دورکا ہو۔

 ۷۔حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ملاقات کی غرض سے گیاتومیں نے جلدی سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ لیا،حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے بھی میرے ہاتھ کو پکڑ لیا اور فر مایا:

يَا عُقْبَةُ! أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ أَخْلَاقِ أَهْلِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، تَصِلُ مَنْ قَطَعَكَ وَتُعْطِي مَنْ حَرَمَكَ وَتَعْفُوْ عَمَّنْ ظَلَمَكَ، أَلَاوَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُّمَدَّ فِي عُمْرِهٖ وَيُبْسَطَ فِي رِزْقِهٖ فَلْيَصِلْ ذَا رَحِمِهٖ۔(مستدرک ازحاکم،حدیث:۷۲۸۵)

ترجمہ:اے عقبہ! دنیا اور آخرت کے بہترین اخلاق یہ ہیں کہ اس سے بھی تعلق بنائو جو تم سے تعلق توڑے ،اُسے بھی دو جو تم کو محروم رکھے،اس کوبھی معاف کردوجو تم پر ظلم کرے ،اور ہاں!جو یہ چاہے کہ اُس کی عمر میں برکت ہو اور رزق میں اضافہ ہوتووہ اپنے رشتے والوں کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔

۸۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:

 لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنِ الْوَاصِلُ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهٗ وَصَلَهَا۔ (بخاری،باب :لیس الواصل بالمکافی،حدیث:۵۹۹۱)

ترجمہ:صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جوبدلے میں کچھ دے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ اُس سے تعلق توڑا جائے پھر بھی وہ تعلق توڑنے والے کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔

 خلاصۂ کلام یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پاکیزہ تعلیمات پر عمل کر کے ہی معاشرے کو جنت نشاں بنایا جا سکتا ہے،جب کہ ان تعلیمات سے منھ موڑنے اورنفس کی غلامی کرنے سےدنیاوآخرت میںجونقصانات ہوتے ہیں وہ جگ ظاہر ہیں،اس لیے ایک اچھا رشتے دار وہی ہے جو مصطفی جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت وتعلیمات کے مطابق اپنے رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک اورصلہ رحمی کرتاہے، یعنی اُس کا رشتے دار اُس کے ساتھ صلہ رحمی کرے یا نہ کرے، پھر بھی وہ اپنے رشتے دارکے ساتھ حسن سلوک کرتا رہے۔