أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَكَيۡفَ اِذَا جَمَعۡنٰهُمۡ لِيَوۡمٍ لَّا رَيۡبَ فِيۡهِ وَوُفِّيَتۡ كُلُّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ

ترجمہ:
اور کیا حال ہو جب ہم ان کو اس دن جمع کریں گے جس کے وقوع میں کوئی شک نہیں ہے اور ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے کاموں کی پوری پوری جزا دی جائے گی اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا

تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کیا حال ہوگا جب ہم ان کو اس دن جمع کریں گے جس کے وقوع میں کوئی نہیں ہے اور ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے کاموں کی پوری پوری جزا دی جائے گی اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا (آل عمران : ٢٥)
اس آیت میں یہود کے افعال پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے یعنی قرآن مجید کے مخاطبین کو اس پر تعجب کرنا چاہیے کہ جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن یہود کو جمع فرمائے گا جس دن نسب منقطع ہوجائیں گے اور کسی شخص کے کام نہ اس کا مال آئے گا نہ اس کی اولاد کام آئے گی اور ہر شخص کو اس کے اعمال کی پوری پوری جزا دی جائے گی اور کسی شخص کو اس کے جرم سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی ‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” ونضع الموازین القسط لیوم القیامۃ فلاتظلم نفس شیئا وان کان مثال حبۃ من خردل اتینا بھا وکفی بنا حاسبین “۔ (الانبیاء : ٤٧)
ترجمہ : قیامت کے دن ہم انصاف کی میزانیں رکھیں گے سو کسی شخص پر بالکل ظلم نہیں کیا جائے گا اور اگر (کسی کا عمل) رائی کے دانہ کے برابر ہو تو ہم اسے (بھی) لے آئیں گے اور ہم کافی ہیں حساب لینے والے۔
بلاتوبہ مرتکب کبیرہ مرنے والے مومن کی مغفرت میں مذاہب :
معتزلہ اور خوارج نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ جو مومن گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو اور وہ توبہ کئے بغیر مرجائے وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا ‘ میں رہے گا ‘ ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس مومن کو اس کو اس کے ایمان کی جزا بھی تو دینی ہے اب یا تو وہ ایمان کی جزا پانے کے بعد جنت سے نکال کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا یا گناہ کبیرہ کی سزا بھگتنے کے بعد اس کو جنت میں داخل کیا جائے ‘ دوسری صورت میں ہمارا مدعا ثابت ہے اور پہلی صورت اجماعا باطل ہے ‘ نیز قرآن مجید میں ہے کسی شخص کو جنت میں داخل کرنے کے بعد اس کو جنت سے نکالا نہیں جائے گا۔
(آیت) ” لا یمسھم فیھا نصب وما ھم منھا بمخرجین “۔ (الحجر : ٤٨)
ترجمہ : انہیں جنت میں نہ کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔
اس لئے یہ نہیں ہوسکتا کہ مرتکب کبیرہ مومن کو جنت سے نکال کر دوزخ میں ڈال دیا جائے اس لئے یا تو اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم یانبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت سے اس مومن کو بخش دے گا جو گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو اور بغیر توبہ کے مرگیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
(آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذالک لمن یشآء “۔ (النساء : ٤٨)
ترجمہ : بیشک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور جو اس سے کم (گناہ) ہو اسے جس کے لئے چاہے گا بخش دے گا۔
اور یا پھر اللہ تعالیٰ اس کو گناہوں کی سزا کے لئے دوزخ میں ڈالے گا اور پھر اس شخص کو اس کے ایمان کی جزا دینے کے لئے جنت میں داخل کر دے گا۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ اس کے گناہ کی وجہ سے اس کا ایمان ضائع کردیا جائے تو ہم کہیں گے کہ یہ بداھۃ باطل ہے۔ یحی بن معاذ (رح) کہتے تھے کہ ایک لحظہ کا ایمان ستر سال کے کفر کو ساقط کردیتا ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ستر سال کا ایمان ایک لحظہ کے گناہ سے ساقط ہوجائے ‘ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
(آیت) ” فمن یعمل مثال ذرۃ خیرا یرہ “۔ (الزلزال : ٧)
سوجس نے ذرہ برابر (بھی) نیکی کی وہ اس کی جزا پائے گا۔
اگر کسی مومن کو اس کے ایمان کی جزا نہ دی جائے تو اس آیت کے خلاف ہوگا۔