حدیث نمبر :180

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قرآن پانچ قسموں پر اترا ۱؎ حلال حرام محکم اور متشابہ ۲؎ اور مثالیں لہذا حلال کو حلال جانو اور حرام کو حرام مانو محکم پر عمل کرو اور متشابہ پر ایمان لاؤ۳؎ مثالوں سے عبرت پکڑو۴؎ یہ مصابیح کے الفاظ ہیں اور بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا جس کی عبارت یوں ہے کہ حلال پر عمل کرو اور حرام سے بچو اور محکم کی اتباع کرو۔

شرح

۱؎ بطریق اجمال ان کا ذکر فرمایا گیا ہے۔جیسے” اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ”یا”وَیُحَرِّمُ عَلَیۡہِمُ الْخَبٰٓئِثَ”ان دو آیتوں میں اجمالی طور پر سارے حلال و حرام کا ذکر آگیا ہے۔

۲؎ محکم کے اصطلاحی معنے ہیں ناقابل نسخ آیات مگر یہاں کھلی اور واضح آیتیں مراد ہیں کہ اس کے مقابل متشابہ فرمایا گیا۔متشابہ:وہ آیات ہیں جن کے معنی یا مراد سمجھ میں نہ آسکیں۔امثال سے گزشتہ امتوں کے قصے یا مثالیں مراد ہیں۔

۳؎ کہ جو کچھ متشابہ کی مراد ہے حق ہے ہمیں اگرچہ اس پر اطلاع نہیں۔

۴؎ کہ گزشتہ قوموں پر جن وجوہ سے عذاب آئے وہ تم چھوڑو دو۔اس سے قیاس شرعی کا ثبوت ہوا۔