أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الۡمُلۡكِ تُؤۡتِى الۡمُلۡكَ مَنۡ تَشَآءُ وَتَنۡزِعُ الۡمُلۡكَ مِمَّنۡ تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُ‌ ؕ بِيَدِكَ الۡخَيۡرُ‌ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ

ترجمہ:

آپ یوں عرض کیجئے اے اللہ ملک کے مالک تو جس کو چاہتا ہے ملک دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ملک چھین لیتا ہے اور تو جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلت میں مبتلا کرتا ہے، سب بھلائی تیرے ہی دست قدرت میں ہے بیشک تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ،

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ یوں عرض کیجئے اے اللہ ! ملک کے مالک ! تو جس کو چاہتا ہے ملک دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ملک چھین لیتا ہے۔ (آل عمران : ٢٦)

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ عنقریب کفار مغلوب ہوں گے اور بہ ظاہر ایسا ہونا معلوم نہیں ہوتا تھا کیونکہ کفار کی تعداد بہت زیادہ تھی اور دنیا کے اکثر وبیشتر ملکوں میں کافروں کی حکومت تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا کہ آپ یہ دعا کریں : اے اللہ ملک کے مالک ! تو جس کو چاہتا ہے ملک دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ملک چھین لیتا ہے یعنی مالک اور بادشاہی اللہ کے اختیار میں ہے اس پر بندوں کا اقتدار نہیں ہے۔

روم اور فارس کی فتح کی پیش گوئی۔

امام فخر الدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی ٦٠٦ اس آیت کے شان نزول میں لکھتے ہیں :

روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ فتح کیا اور آپ نے اپنی امت سے روم اور فارس کی سلطنتوں کا وعدہ کیا تو یہودیوں اور منافقوں نے کہا روم اور فارس کے ملک اور کہاں محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ بہت بعید بات ہے ‘ اور ایک روایت یہ ہے کہ جب غزوہ احزاب میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خندق کے نشان لگائے اور ہر دس آدمیوں کی جماعت کو چالیس ہاتھ خندق کھودنے کا حکم دیا تو خندق کھودے ہوئے ایک چٹان آگئی جو کسی کدال اور پھاوڑے سے نہ ٹوٹتی تھی تب صحابہ کرام (رض) نے حضرت سلمان فارسی (رض) کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجا اور انہوں نے آکر آپ کو بتایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سلمان کے ہاتھ سے کدال لے کر چٹان پر ایک ضرب لگائی تو آپ کی ضرب سے چنگاریاں اڑیں اور اندھیری رات میں بجلی کی طرح روشنی پیدا ہوئی آپ نے نعرہ تکبیر بلند کیا مسلمانوں نے بھی بلند آواز سے اللہ اکبر کہا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس روشنی میں مجھے حیرہ کے محلات نظر آئے ‘ پھر آپ نے دوسری ضرب لگائی تو فرمایا کہ اس کی روشنی میں مجھے روم کے محلات نظر آئے ‘ پھر تیسری ضرب لگائی تو فرمایا اس روشنی میں مجھے صنعاء کے محلات نظر آئے اور مجھے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آکر خبر دی کہ میری امت ان تمام ملکوں پر قابض اور غالب ہوگی سو تمہیں خوش خبری ہو۔ یہ سن کر منافقوں نے کہا تم کو اپنے نبی پر تعجب نہیں ہوتا وہ تم سے جھوٹے وعدے کرتا ہے اور وہ تمہیں خبر دیتا ہے کہ وہ یثرب سے حیرہ اور مدائن کسری کے محلات کو دیکھ رہا ہے اور وہ ملک تمہارے لئے فتح ہوں گے حالانکہ تم مارے خوف کے خندقیں کھود رہے ہو ‘ اور تم میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ ان خندقوں سے باہر نکل کر اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرسکو ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی : آپ دعا کیجئے اے اللہ ملک کے مالک ! تو جس کو چاہے ملک دیتا ہے اور جس سے چاہے ملک چھین لیتا ہے۔ حسن بصری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا کہ آپ یہ دعا کریں کہ اللہ آپ کو فارس اور روم کے ملکوں پر غلبہ عطا فرمائے ‘ اور اللہ تعالیٰ کا یہ حکم دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی یہ دعا قبول فرمائے گا اور انبیاء (علیہم السلام) کے مقامات اسی طرح ہیں انہیں جب کسی دعا کا حکم دیا جاتا ہے تو وہ دعا قبول کی جاتی ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٢ ص ٤٢٤ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

اس حدیث میں آپ کے کئی معجزات کا بیان ہے جو چٹان کسی سے نہ ٹوٹتی تھی وہ آپ کی ایک ضرب سے ٹوٹ کر بکھر گئی آپ نے اپنی ضرب سے پیدا ہونے والی چمک میں دور دراز ملکوں کے محلات دیکھے آپ نے اپنی امت کو روم اور فارس پر فتح کی جو بشارت دی تھی وہ پوری ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا مستجاب فرمائی۔

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نبی ہونے پر مخالفین کے اعتراض کا جواب۔

” مالک الملک “ میں ملک سے مرادسلطنت اور غلبہ ہے ایک قول ہے اس سے مراد مال اور غلام ہیں اور مجاہد نے کہا اس سے مراد نبوت ہے ‘ مالک سے نبوت مراد ہونے کی تفصیل یہ ہے کہ علماء ربانیین کی مخلوق کے باطن پر حکومت ہوتی ہے اور بادشاہوں کی مخلوق کے ظاہر پر حکومت ہوتی ہے اور انبیاء (علیہم السلام) کا حکم مخلوق کے ظاہر اور باطن دونوں پر نافذ ہوتا ہے اور علماء ہوں یا حکام دونوں نبی (علیہ السلام) کے حکم کے تابع ہوتے ہیں ‘ اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کا ملک بادشاہوں کے ملک سے زیادہ عظیم اور وقیع ہے۔ ادھر مشرکین نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا اس لئے انکار کرتے تھے کہ وہ بشریت کو نبوت کے منافی سمجھتے تھے وہ تعجب سے کہتے تھے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے بشر کو رسول بنا کر بھیج دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے رد میں فرمایا اگر اللہ تعالیٰ فرشتہ کو رسول بناتا تب بھی اس کو کسی پیکرانسانی میں بھیجتا اور وہ پھر اسی شبہ میں مبتلا ہوتے اور بعض مشرک یہ کہتے تھے کہ اگر کسی بشر نے ہی رسول ہونا تھا تو اللہ تعالیٰ کسی بہت بڑے دولتمند یا کسی بہت بڑے سردار کو رسول بناتا ایک خاک نشیں یتیم کو اللہ نے رسول کیسے بنادیا ؟ یہود کہتے تھے کہ نبوت تو ہمارے آباء اور اسلاف میں تھی قریش ان پڑھ لوگ ہیں ان میں نبی کیسے مبعوث ہوگیا ؟ اللہ تعالیٰ نے ان تمام منکروں کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ سبحانہ مالک الملک ہے ‘ نبوت کا مالک ہے وہ جس کو چاہے نبوت عطا فرمائے ‘ اس تقریر پر یہ اعتراض ہے کہ پھر ملک چھیننے کا معنی ہوگا کہ وہ جس سے چاہے نبوت چھین لیتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کسی نبی سے نبوت سلب نہیں فرماتا ! اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کی نسل میں نبوت رکھے اور اس میں نسل در نسل نبی آتے رہیں پھر اللہ تعالیٰ کسی اور شخص کی نسل میں نبوت رکھ دے تو یہ بات صادق آئے گی کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی نسل سے نبوت کو سلب کرلیا اور دوسرے شخص کو نبوت عطا کردی اور یہاں ایسا ہی ہوا ہے اللہ تعالیٰ نے پہلے بنو اسرائیل کی نسل میں نبوت رکھی اور پھر یہ نبوت نبواسماعیل کی نسل میں سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا کردی۔

اللہ تعالیٰ خیر اور شر دونوں کا خالق ہے لیکن یہاں فرمایا ہے ہے کہ سب خیر تیرے ہی دست قدرت میں ہے اور شرکا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ ادب کا تقاضا ہے اللہ کی طرف شر کی نسبت نہ کی جائے بلکہ شر کی نسبت اس کے کا سب کی طرف کی جائے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 26