حدیث نمبر :178

روایت ہے حضرت ابوامامہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کوئی قوم ہدایت پر رہنے کے بعد گمراہ نہیں ہوئی مگر اس میں جھگڑے پیدا ہوگئے پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی کہ وہ لوگ آپ کے لیے مثال نہیں بیان کرتے مگر جھگڑنے کے لئے بلکہ وہ قوم جھگڑالو ہے ۱؎

شرح

۱؎ یعنی جو لوگ سچے دین سے بھٹک جاتے ہیں وہ اپنے باطل دین کو پھیلانے کے لیئے تعصب،عناد اور جھگڑوں سے کام لیتے ہیں کیونکہ رب کی طرف سے ان کی مدد نہیں ہوتی جیسا کہ آج بھی بے دینوں کے طرز عمل سے ظاہر ہے کہ وہ قرآن و حدیث کو زبردستی اپنے موافق کرنا چاہتے ہیں خود اس کے موافق نہیں ہوتے جو آیت پیش فرمائی گئی ہے اس کا شان نزول یہ ہے کہ جب آیت کریمہ:”اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ”نازل ہوئی یعنی اے کافر! تم اور تمہارے سارے معبود دوزخ کا ایندھن ہیں تو کفار نے حضور سے عرض کیا کہ پھر تو حضرت عیسیٰ اور عزیر علیہما السلام بھی دوزخی ہوئے کہ ان کی بھی اہل کتاب نے پوجا کی تھی۔تب یہ آیت اتری اور تب ہی حضور نے یہ ارشاد فرمایا یعنی یہ کفار جانتے ہیں کہ مَابے عقل چیزوں کے لیئے آتا ہے پھر وہ انبیاء کرام اس میں کیسے داخل ہوں گے مگر پھر بھی کج بحثی کرتے ہوئے اپنی ہانکے جاتے ہیں۔آج اس کی مثالیں بہت دیکھنے میں آرہی ہیں۔