دُکان داری اور ایمان داری

مبشر حسین مصباحی

آپس میں ایک دوسرے کے مال نہ کھاؤ،البتہ! آپسی رضا مندی سے تجارت ہو تو کوئی حرج نہیں

کسب معاش، ضرورت و حاجت، عیش و آرام اور زندگی کے دیگر سارے لوازمات کے لیے اس عالم رنگ و بو میں ہزاروں قسم کی تجارتیں اور دکانیں ہیں، مثلاً جنرل اسٹور، میڈیکل اسٹور، کلاتھ شوپ، جیولریز، کتب خانہ، اسٹیشنریز، ہارڈ ویر کی دکان، ہوٹل، کمپنی، فیکٹری، اسپتال ،غرض کہ زندگی سے متعلق ہر ساز و سامان کی تجارت وغیرہ۔

 یاد رہے یہاں ہم اس تجارت اوردکان داری کی باتیں کر رہے ہیں جو از روئے شرع جائز ہے۔ اس کی پائیداری ، بقا اور ترقی کے لیے کچھ بنیادی اصول اورطریقے ہیں جن کی پابندی کرنا ہر صاحب کاروبار اور دکان دار کا فریضہ ہے۔

 صالح نیت

 سب سے پہلی چیز نیت ہے کہ دکان داراور بزنس مین اپنے کسٹمر کے ساتھ اچھی نیت رکھے ، کیوںکہ نیت پرتمام عمل کا دار ومدار ہوتا ہے اور یہی کامیابی اور منزل مقصود تک پہنچنے کی پہلی کڑی ہے۔

 اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں:

 إنَّمَا الْأعْمَالُ بِالنِّیَاتِ۔(صحیح بخاری)

ترجمہ: اعمال کا دارومدارنیتوں پرہے۔

اب نیت یہ ہو کہ میں جو چیز فروخت کر رہا ہوں، کسٹمر اُس سے خوب خوب فائدہ اٹھائے اور دوبارہ آنے پر مجبور ہو ، یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم اُسے اچھی نیت کے ساتھ اچھا سامان دیں گے اورقیمت بھی مناسب لیں گے۔ اس میں کسی قسم کا نقص نہ پایا جائے گا اور اگرکوئی نقص ہو تو اُسے اگرہک کے سامنے واضح کر دینالازم وضروری ہے۔

ایمانداری 

ایمان داری اور دیانت داری توہر مومن کی پہچان ہے، خاص کرکاروبارکرنے والوں اور دکان دار وںکے لیے اس خوبی کا حامل ہونااس لیے بھی ضروری ہے کہ اس سے اللہ و رسول کی خوشنودی کے ساتھ کاروبار کو بھی ترقی ملتی ہے۔

 متعدد مقامات پرقرآن کریم و احادیث کریمہ میں اس کی تاکید آئی ہے۔

 اللہ رب العزت ارشادفرماتاہے:

 وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا (بنی اسرائیل۳۵)

 ترجمہ:ناپ پورا رکھا کرو جب بھی تم کوئی چیز ناپو،جب تولنے لگو توصحیح ترازو سے وزن کیاکرو۔ یہ بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی خوب تر ہے۔

عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ بزنس مین اور کسٹمر کے درمیان حساب وکتاب کے معاملے میں اکثرجھگڑا ہوتا رہتاہے، اس کی اصل وجہ بے اصولی ہے۔اس کے لیے قرآن کریم نے ایک واضح اصول دیا ہےجسے عام طور پرہرکاروباری اپناتے بھی ہیں،لیکن خدائی اصول سمجھ کرنہیں،اس لیےہمیں چاہیے کہ اُسے خدائی اصول سمجھ کر لازمی طور پرہم اپنائیں تاکہ تجارتی لین دین اور خریدوفروخت کےمعاملات کے بگڑنے کی تمام راہیں بند ہو جائیں۔

دوسری جگہ ارشادباری تعالیٰ ہے:

 یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْااِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاكْتُبُوْهُ وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ (بقرہ۲۸۲)

 ترجمہ:اےایمان والو! جب تم کسی مقررہ وقت تک کے لیے آپس میں قرض کامعاملہ کرو تو اُسے لکھ لیا کرو اور تمہارے درمیان جو لکھنے والا ہو،اُسے چاہیے کہ انصاف کے ساتھ لکھے۔

 اسی آیت کے اندر مزیدیہ تاکید بھی کی گئی ہے:

وَلاَ یَبْخَسْ مِنْہُ شَیْئًا  (بقرہ۲۸۲)

ترجمہ:لکھواتے وقت کوئی کمی نہ کرے۔

 کاروبار اور دکان کی صفائی وستھرائی، زیب و زینت اور نمائش، کسٹمر کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔ ہر عقل مند شخص واضح طور پریہ فرق محسوس کرتا ہے کہ ایک آدمی روڈ کے کنارے ٹھیلے پر کسی سامان کی تجارت کرتا ہے، دوسرا شخص اسی سامان کی تجارت شو روم میں کرتا ہے، دونوں کے نفع میں زمین و آسمان کا فرق ہوتاہے ۔

چوں کہ ٹھیلے والے کے پاس نہ زیادہ صفائی و ستھرائی ہوتی ہے،نہ ہی زیب وزینت اور نہ آرائش و نمائش کا کوئی انتظام ، اسی لیے کسٹمر کی توجہ ٹھیلے کی جانب نہیں ہو پاتی اور اُنھیں شو روم کا حسن اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ لیکن کئی مرتبہ شوروم والے کسٹمر کے ساتھ دھوکہ بازی سے کام لیتے ہیں اور کم قیمت والے سامانوں کے ذریعے ہی ہزاروں روپیے کمانے کی غلط آرزو رکھتے ہیں۔

 خاص کر ٹھیکہ دار،ایجنٹ اور ڈیلروغیرہ کالے کاروبار کے ذریعے کسٹمر کے خون پسینے کی کمائی کو آنِ و احد میں اپنی پاکٹ میں بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی تجارت اور اس طورپرحصول رزق کی بڑی مذمت اور وعید آئی ہے۔

 ارشاد باری تعالیٰ ہے:

 یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْااَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّا اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ  (نسا۲۹)

 ترجمہ:اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال نہ کھاؤ۔البتہ! آپسی رضا مندی سے تجارت ہو تواِس میں کوئی حرج نہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں:

 الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ،لاَ يَخُونُهٗ وَلاَيَكْذِبُهٗ وَلاَيَخْذُلُهٗ۔(ترمذی،باب:شفقۃ علی المسلم)

ترجمہ:مسلمان،مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اُس سے خیانت کرتاہے نہ اُس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی اُسے ذلیل کرتا ہے۔

مزیدرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

لَاتَحَاسَدُوْا،وَلَا تَبَاغَضُوْا،وَلَا تَدَابَرُوْا،وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَيْعِ بَعْضٍ، وَكُونُوْا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا۔ (مسلم،باب:تحریم الظن)

 ترجمہ:ایک دوسرے سے حسد نہ کرو،ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو،ایک دوسرے سے منھ نہ پھیرو،ایک دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرو،بلکہ اللہ تعالیٰ کے بندو!آپس میں بھائی بھائی ہو جاؤ۔

اِس کرۂ ارض پر موجودہربزنس مین اور دکان داروں کوچاہیے کہ وہ سب اپنے کاروبار کی ترقی کے لیے اسلامی اصول تجارت اپنائیں، خرید و فروخت میں ذرا بھی جھوٹ اور دھوکہ سے کام نہ لیں،اپنے کسٹمر کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آئیں اور اُن سے نہایت نرم لہجے میں گفتگو کریں۔

 اگر اُنھیں سامان یاقیمت پسند نہ ہو تو مصالحت کی کوشش کریں، لیکن خدا را مسخرہ پن یا تیور بدلنے کی کوشش نہ کریں، بلکہ ہمیشہ حسن سلوک، اچھی گفتگو اور نرم لہجے سے کام لیں اور کسٹمر کے دلوں کو جیت کر کاروبار کو ترقی دیں تاکہ دنیا بھی خوبصورت ہو جائے اور آخرت بھی سنور جائے۔