حدیث نمبر :182

روایت ہے حضرت معاذ بن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ شیطان آدمی کا بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کا بھیڑیا الگ اور دور اور کنارے والی کو پکڑتا ہے ۱؎ تم گھاٹیوں سے بچو ۲؎جماعت مسلمین اور عوام کو لازم پکڑو۳؎(احمد)

شرح

۱؎ شاذّہ:وہ بکری ہے جو اپنی ہم جنسوں سے متنفر ہو اور گلے سے دور رہے۔قاصیہ:وہ جو متنفر تو نہ ہو چرنے کے لیئے ریوڑ سے الگ ہوجائے۔ناحیہ:وہ جو ریوڑ سے الگ تو نہ ہو مگر کنارے کنارے چلے۔خلاصۂ تشبیہ یہ ہے کہ دنیا ایک جنگل ہے جس میں ہم لوگ مثل بکریوں کے ہیں،شیطان بھیڑیا ہے جو ہر وقت ہماری تاک میں ہے،جو جماعت مسلمین سے الگ رہا شیطان کے شکار میں آگیا۔

۲؎ شِعَاب شُعْبَۃٌ کی جمع ہے ،دو پہاڑیوں کے درمیان تنگ راستہ کو شعبہ کہتے ہیں،جہاں کیڑوں،مکوڑوں،ڈاکوؤں چوروں بلکہ جنات کا بھی خطرہ رہتا ہے،یہاں مسلمانوں کے وہ فرقے مراد ہیں جو اہل سنت والجماعت کے خلاف ہیں۔

۳؎ یعنی وہ عقائد اختیار کرلو جو عامۃ المسلمین کے ہوں کہ اسی جماعت میں اولیاءاﷲبھی ہیں،جھوٹی جماعتوں اور فرقوں سے الگ رہو۔اس کی تفسیر گزشتہ حدیث ہے کہ بڑے گروہ کی پیروی کرو اور وہ حدیث کہ جسے مسلمان اچھا سمجھیں وہ اﷲ کے نزدیک بھی اچھا ہے۔الحمدﷲ! ہمیشہ سے اہلِ سنت کی اکثریت رہی ہے اور ہے،عام مسلمان مقلد ہیں،بزرگوں کے معقدم ہیں،میلاد شریف فاتحہ کو اچھا جانتے ہیں،ان کے علاوہ ساری جماعتیں مل کربھی اہلِ سنت سے آدھی بھی نہیں لہذا اہل سنت ہی برحق ہیں جو ان سے ہٹے گا شیطان کا شکار ہوگا۔اس کی تفسیر پہلےبھی گزرگئی۔