أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا يَتَّخِذِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡكٰفِرِيۡنَ اَوۡلِيَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ۚ وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰ لِكَ فَلَيۡسَ مِنَ اللّٰهِ فِىۡ شَىۡءٍ اِلَّاۤ اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنۡهُمۡ تُقٰٮةً  ؕ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفۡسَهٗ‌ ؕوَاِلَى اللّٰهِ الۡمَصِيۡرُ

ترجمہ:

ایمان والے ‘ مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں ‘ اور جس نے ایسا کیا وہ اللہ کی حمایت میں بالکل نہیں ہے ماسوا اس (صورت) کے کہ تم ان سے بچاؤ کرنا چاہو ‘ اور اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات (کے غضب) سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

تفسیر:

کفار سے دوستی کی ممانعت کا آیات سابقہ سے ارتباط اور شان نزول :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور حمد وثناء اور اس سے دعا کس طرح کرنی چاہیے ‘ سو وہ اللہ کے ساتھ معاملہ کا بیان تھا اور اس آیت میں بندوں کے ساتھ معاملہ کا بیان ہے کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ دوستی اور محبت رکھیں اور کفار کے ساتھ دوستی اور محبت نہ رکھیں ‘ نیز اس سے پہلی آیت میں کفار کا بیان تھا اور اس آیت میں کفار کے ساتھ محبت اور ان سے رغبت رکھنے سے منع فرمایا ہے ‘ مسلمانوں کو چاہیے کہ اللہ کے دشمنوں سے محبت نہ رکھیں اللہ سے اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء سے محبت رکھیں کیونکہ وہی مالک الملک ہے وہ جس کو چاہتا ہے ملک دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ملک چھین لیتا ہے وہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا اور جسے چاہے ذلت میں مبتلا کردیتا ہے۔

اس آیت کے شان میں نزول میں امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ یہودیوں میں سے کعب بن اشرف ‘ ابن ابی الحقیق اور قیس بن زید کی بعض انصار صحابہ سے باطنی دوستی تھی تاکہ وہ ان مسلمانوں کو ان کے دین سے برگشتہ کریں ‘ حضرت رفاعہ بن منذر ‘ حضرت عبداللہ بن جبیر اور حضرت سعد بن خثیمہ نے ان انصار سے کہا کہ وہ ان یہودیوں کے ساتھ باطنی دوستی رکھنے سے اجتناب کریں لیکن یہ مسلمان نہیں مانے اور ان یہودیوں کے ساتھ باطنی دوستی رکھنے پر مصر رہے تب یہ آیت نازل ہوئی کہ ایمان والے مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جس نے ایسا کیا وہ اللہ کی حمایت میں (یا اللہ کی عبادت میں یا اللہ والوں کی جماعت اور اللہ کے مقربین میں) بالکل نہیں ہے۔ (جامع البیان ج ٢ ص ‘ ١٥٢ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ آیت حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ امام بخاری نے بھی اس آیت کو اس حدیث کا عنوان بنایا ہے ‘ وہ حدیث یہ ہے :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ‘ حضرت زبیر (رض) کو اور حضرت مقداد بن اسود (رض) کو بھیجا اور فرمایا روضہ خاخ (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام) میں جاؤ وہاں ایک عورت سفر کررہی ہوگی اس کے پاس ایک خط ہوگا وہ اس سے لے لو، ہم اپنے گھوڑے دوڑاتے ہوئے روانہ ہوئے حتی کہ ہم روضہ میں پہنچ گئے تو وہاں وہ مسافرہ تھی ہم نے اس سے کہا وہ خط نکالو اس نے کہا میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔ ہم نے کہا وہ خط نکالو ورنہ تمہارے کپڑے اتار دیئے جائیں ‘ تب اس نے اپنے بالوں کے گچھے سے وہ خط نکالا ہم وہ خط لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اس خط میں لکھا ہوا تھا کہ یہ خط حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مشرکین مکہ کی طرف ہے اس خط میں حضرت حاطب نے مکہ کے مشرکوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعض اقدامات کی خبر دی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے حاطب ! یہ کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے کہا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے متعلق فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کریں میں قریش کے قرابت داروں میں سے نہیں ہوں ‘ میں ان سے مل جل کر رہنے والا ہوں ‘ آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں ان کی مکہ والوں کے ساتھ رشتہ داریاں ہیں جس کی وجہ سے وہ مکہ میں اپنے رشتہ داروں اور اپنے اموال کی حفاظت کرلیں گے تو میں نے یہ چاہا کہ جب مکہ والوں کے ساتھ میری کوئی رشتہ داری نہیں ہے تو میں ان پر کوئی احسان کر دوں اور اس احسان کی وجہ سے وہ میرے رشتہ داروں کی حفاظت کریں میں نے یہ فعل کسی کفر یا ارتداد یا اسلام کے بعد کفر کو پسند کرنے کی وجہ سے نہیں کیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس نے تم سے سچ کہا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیجئے تاکہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ آپ نے فرمایا یہ شخص بدر میں حاضر ہوچکا ہے تمہیں کیا پتا ہے کہ بیشک اللہ اہل بدر کی طرف متوجہ ہوا اور فرمایا تم جو چاہو کرو میں نے تم کو بخش دیا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٤٢٢ ج ٢ ص ٥٦٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

کفار سے موالات (دوستی) کی ممانعت کا معنی اور محمل :

اس آیت میں کفار کے ساتھ موالات سے منع فرمایا ہے۔ موالات کا معنی ہے محبت اور قلبی لگاؤ یہ محبت رشتہ داری کی سے ہوتی ہے یا پرانی دوستی کی وجہ سے ہوتی ہے یا نئی شناسائی کی وجہ سے ہوتی ہے جو غیر اختیاری ہوتی ہے اور جو چیز غیر اختیاری ہو وہ شرعا معاف ہے اور درجہ اعتبار سے ساقط ہے اس لئے یہاں نفس محبت سے ممانعت مراد نہیں ہے بلکہ انسان محبت کی بناء پر جو معاملہ اپنے محبوب کے ساتھ کرتا ہے اور محبت کے جن تقاضوں پر عمل کرتا ہے ان معاملات اور تقاضوں پر عمل کرنے سے ممانعت مراد ہے۔ مثلا محبوب کی تعظیم اور تکریم کرنا ‘ محبوب کے حکم کو باقی احکام پر ترجیح دینا اور اس کی تعریف و توصیف کرنا ‘ اس کا بہ کثرت ذکر کرنا اور اس کی رضاجوئی کی کوشش کرنا۔ سو کفار کی تعظیم و تکریم کرنا ان کی تعریف و توصیف کرنا ‘ ان کا بہ کثرت ذکر کرنا ‘ اور ان کے احکام کو باقی احکام پر ترجیح دینا ‘ ان کی رضاجوئی کی کوشش کرنا اپنے دین اور عبادت کے معاملات میں ان سے مدد حاصل کرنا اور ان کو ہم راز بنانا ‘ ان کے ساتھ شادی بیاہ کے تعلق استوار کرنا یہ تمام امور ان کے ساتھ جائز نہیں ہیں۔ البتہ کفار کو اپنا نوکر اور غلام بنانا اور ان سے اس طرح مدد لینا جس طرح مالک نوکروں سے مدد لیتا ہے اور تفوق اور برتری کے ساتھ ان سے تعلق رکھنا جائز ہے اسی وجہ سے اہل کتاب کی عورتوں کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے اور ان کے مردوں کے ساتھ مسلمان عورتوں کا نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح بغیر کسی معاشی مجبوری اور اضطرار کے ان کی نوکری اور ملازمت کرنا جائز نہیں ہے امام مسلم حضرت عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کی طرف جارہے تھے جب آپ بحرۃ الوبرہ (مدینہ سے چار میل دور ایک مقام) پر پہنچے تو ایک شخص ملا جس کی جرات اور طاقت کا بہت چرچا تھا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اس نے کہا میں آپ کا ساتھ دینے آیا ہوں تاکہ مال غنیمت میں سے مجھے بھی حصہ ملے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہو ؟ اس نے کہا نہیں ! آپ نے فرمایا : واپس چلے جاؤ میں کسی مشرک کی مدد ہرگز طلب نہیں کروں گا وہ دوبارہ پھر آیا اور مدد کی پیش کش کی آپ نے پھر یہی فرمایا میں کسی مشرک سے مدد ہرگز طلب نہیں کروں گا بالآخر وہ مسلمان ہوگیا اور آپ نے اس کو ساتھ لے لیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ عزت ‘ وقار اور غلبہ کے ساتھ مشرکین کے ساتھ معاملہ کرنا جائز ہے اور ذلت اور خواری کے ساتھ مشرکوں کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی معاملہ کرنا جائز نہیں ہے۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ١١٨ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

اس تفصیل کے ساتھ کافروں اور مشرکوں کے ساتھ موالات جائز نہیں ہے البتہ ان کے ساتھ مواسات (انسانی ہمدردی کا معاملہ کرنا) مدارات (گفتگو اور برتاؤ میں نرمی کرنا) اور مجرد معاملہ (معاشرتی برتاؤ) کرنا جائز ہے اور مداہنت (دنیا داری کے لئے حق کو چھپانا) جائز نہیں ہے۔ ہم ان تمام امور پر قرآن مجید اور مستند احادیث سے استدلال کریں گے ‘ پہلے موالات کی ممانعت پر قرآن مجید کی مزید چند آیات پیش کرتے ہیں۔ فنقول وباللہ التوفیق وبہ الاستعانۃ یلیق۔

کفار اور بدعقیدہ لوگوں سے موالات کی ممانعت کے متعلق قرآن مجید کی آیات :

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیآء تلقون الیھم بالمودۃ وقد کفروا بما جآء کم من الحق “۔ (الممتحنہ : ١)

ترجمہ : اے ایمان والو ! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ‘ تم ان کو دوستی کا پیغام بھیجتے ہو حالانکہ انہوں نے اس حق کا انکار کیا ہے جو تمہارے پاس آیا ہے۔

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تتولوا قوما غضب اللہ علیہم قد یئسوا من الاخرۃ کما یئس الکفار من اصحاب القبور “۔ (الممتحنہ ١٣)

ترجمہ : اے ایمان والو ! ایسے لوگوں سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ نے غضب فرمایا ‘ بیشک وہ آخرت سے مایوس ہوچکے ‘ جیسے کفار قبر والوں سے مایوس ہوچکے ہیں۔

(آیت) ” لا تجد قوما یؤمنون باللہ والیوم الاخر یوآدون من حآد اللہ ورسولہ ولو کانوا ابآئھم وابنآء ھم او اخوانھم اوعشیرتھم “۔ (المجادلۃ : ٢٢)

(اے محبوب ! ) جو لوگ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں آپ انہیں اس حال پر نہ پائیں گے کہ وہ ان لوگوں سے محبت کریں جو اللہ اور اس کے رسول سے عداوت رکھتے ہوں خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے قریبی رشتہ دار !

(آیت) ” لا یتخذ المؤمنون الکفرین اولیآء من دون المؤمنین ومن یفعل ذلک فلیس من اللہ فی شیء الا ان تتقوا منھم تقۃ ویحذرکم اللہ نفسہ والی اللہ المصیر۔ (ال عمران : ٢٨)

ترجمہ : ایمان والے مومنوں کے سوا کافروں جو دوست نہ بنائیں ‘ اور جو ایسا کرے اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ‘ البتہ اگر تم ان جان بچانا چاہو (تودوستی کے اظہار میں حرج نہیں) اور اللہ تمہیں اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹ کرجانا ہے۔

(آیت) ” ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار “۔ (ھود : ١١٣)

ترجمہ : اور جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کی طرف مائل نہ ہو ورنہ تمہیں دوزخ کی آگ پہنچے گی۔

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم لا یالونکم خبالا “۔ (آل عمران : ١١٨)

ترجمہ : اے ایمان والو ! غیروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ وہ تمہاری تباہی میں کمی نہیں کریں گے۔

(آیت) ” واذا رایت الذین یخوضون فی ایاتنا فاعرض عنھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ واما ینسینک الشیطان فلا تقد بعد الذکری مع القوم الظلمین (الانعام : ٦٨)

ترجمہ : اور (اے مخاطب) جب تو ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیتوں میں بحثی کرتے ہیں تو ان سے منہ پھیر لے حتی کہ وہ کسی اور بات میں بحث کرنے لگیں اور اگر تجھے شیطان بھلا دے یا یاد آنے کے بعد ظلم کرنے والی قوم کے ساتھ نہ بیٹھ۔

(آیت) ” اذا سمعتم ایت اللہ یکفربھا ویستھزا بھا فلا تقعدوا معھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ انکم اذا مثلھم “۔ (النساء : ١٤)

ترجمہ : جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیا جارہا ہے اور ان کا استہزاء کیا جارہا ہے تو انکے ساتھ نہ بیٹھو حتی کہ وہ کسی دوسری بات میں مشغول ہوجائیں (ورنہ) بلاشبہ اس وقت تم (بھی) انہی کی مثل ہوجاؤ گے۔

آخر الذکر دو آیتوں سے معلوم ہوا کہ کفار اور بدعقیدہ لوگوں کے پاس اس وقت بیٹھنا منع ہے جب وہ اسلام کے خلاف باتیں کر رہے ہوں ان کی مجلس میں مطلقا بیٹھنا منع نہیں ہے۔ البتہ کفار اور بدعقیدہ لوگوں سے محبت اور دوستی رکھنا مطلقا حرام اور ممنوع ہے ‘ جیسا کہ باقی ذکر کردہ آیات سے واضح ہوگیا۔

بدعقیدہ لوگوں سے معاملات کی ممانعت کے متعلق احادیث اور آثار :

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری امت کے آخر میں کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو تمہارے سامنے ایسی حدیثیں بیان کریں گے جن کو تم نے سنا ہوگا نہ تمہارے باپ دادا نے ‘ تم ان سے دور رہنا وہ تم سے دور رہیں۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آخر زمانہ میں دجال اور کذاب ہوں گے جو تمہارے پاس ایسی احادیث لائیں گے جن کو تم نے سنا ہوگا نہ تمہارے باپ دادا نے تم ان سے دور رہنا وہ تم سے دور رہیں کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کردیں اور تم کو فتنہ میں نہ ڈال دیں (مقدمہ صحیح مسلم ج ١ ص ١٠‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو آیات متشابہات کی تاویل کرتے ہیں تو یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کے دلوں میں کجی ہے ان سے اجتناب کرو۔

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قدریہ اس امت کے مجوس ہیں وہ اگر بیمار ہوں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مرجائیں تو ان کے جنازہ پر نہ جاؤ۔

حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر امت کے مجوس ہیں اور اس امت کے مجوس وہ لوگ ہیں جو منکر تقدیر ہیں وہ اگر مرجائیں تو ان کے جنازہ پر نہ جاؤ اور اگر وہ بیمار ہوں تو ان کی عیادت نہ کرو۔

حضرت عمربن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : منکرین تقدیر کے ساتھ بیٹھو اور نہ ان سے بحث کرو۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ‘ ٢٩٣۔ ٢٧٥ ملتقطا “ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

حافظ نور الدین علی بن ابی بکر الہیثمی متوفی ٨٠٧ ھ امام طبرانی کے حوالے سے بیان کرتے ہیں :

حضرت عمر بن الخطاب (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ (رض) سے فرمایا جن لوگوں نے دین میں تفریق کی وہ ایک گروہ تھا اس سے مراد بدعتی اور گمراہ لوگ ہیں ‘ ان کی توبہ نہیں ہے میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں۔ (معجم صغیر) (مجمع الزوائد ج ١ ص ١٨٨‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

علامہ احمد بن حجر ہیتمی مکی متوفی ٩٧٤ ھ لکھتے ہیں :

امام عقیلی نے کتاب الضعفاء میں حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھ منتخب فرمالیا اور میرے لئے اصحاب اور سسرال کو منتخب فرمایا ٗ عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو اصحاب اور سسرال والوں کو برا کہیں گے اور ان کے عیب نکالیں گے تو ان کے ساتھ مت بیٹھنا ان کے ساتھ پینا نہ کھانا اور نہ ان کے ساتھ نکاح کرنا۔ (کتاب الضعفاء ج ١ ص ١٢٦ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ)

امام عبداللہ بن عبد الرحمان دارمی متوفی ٢٥٥ ھ روایت کرتے ہیں :

ایوب بیان کرتے ہیں کہ ابو قلابہ نے کہا گمراہ فرقوں کے پاس نہ بیٹھو ‘ نہ ان سے بحث کرو ‘ کیونکہ مجھے یہ خدشہ ہے کہ وہ اپنی گمراہی میں تم کو مبتلا کردیں گے یا تمہارے عقائد کو تم پر مشتبہ کردیں گے۔ (سنن دارمی ج ١ ص ٩٠‘ مطبوعہ نشرالسنہ ملتان ‘ شعب الایمان ج ٧ ص ٦٠‘ مطبوعہ بیروت)

نیز امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں :

ابو جعفر کہتے ہیں کہ گمراہ فرقوں کے ساتھ نہ بیٹھو کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات میں کج بحثی کرتے ہیں۔

(شعب الایمان ج ٧ ص ٦٠ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ١٤١٠)

وضین بن عطاء بیان کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے حضرت یوشع بن نون کی طرف وحی کی کہ میں تمہاری قوم میں میرے رب ! تو بدکاروں کو تو ہلاک فرمائے گا ‘ نیکوکاروں کو کیوں ہلاک فرمائے گا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ بدکاروں کے پاس جاتے تھے ان کے ساتھ کھاتے اور پیتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے غضب کی وجہ سے ان پر غضب ناک نہیں ہوتے تھے۔ (شعب الایمان ج ٧ ص ٥٣ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ١٤١٠)

کفار اور بدعقیدہ لوگوں کے ساتھ مواسات (انسانی ہمدری) کے متعلق آیات اور احادیث۔

کفار اور بدعقیدہ لوگوں کے ساتھ محبت اور دوستی کے تعلقات قائم کرنا اور ان کے تعظیم اور تکریم کرنا تو مطلقا اور ممنوع ہے البتہ غیر حربی کافروں اور بدعقیدہ لوگوں کے ساتھ انسانی ہمدردی کے جذبہ سے نیکی اور صلہ رحمی کرنا جائز ہے۔

قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” لا ینھکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم وتقسطوا الیھم ان اللہ یحب المقسطین “۔ (الممنحنۃ : ٨)

ترجمہ : اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور عدل کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے تم سے دین میں جنگ نہیں کی ‘ اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ‘ بیشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت اسماء بنت ابوبکر (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں میری والدہ میرے پاس آئیں وہ اس وقت مشرکہ تھیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : میری والدہ اسلام سے اعراض کرتی ہیں کہ میں ان سے صلہ رحمی کروں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں اپنی ماں سے صلہ رحمی کرو۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٣٥٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن الزبیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ قیلہ بنت عبدالعزی اپنی بیٹی اسماء بنت ابی بکر کے پاس گوہ ‘ ترس (ایک قسم کی سبزی) اور گھی کا ہدیہ لے کر آئی حضرت اسماء (رض) نے اس کا ہدیہ لینے سے انکار کیا اور اس کو اپنے گھر آنے سے بھی منع کردیا۔ حضرت عائشہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ عدل اور نیکی کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے دین میں تم سے جنگ نہیں کی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ہدیہ قبول کرنے اور اس کو گھر میں آنے کی اجازت دینے کا حکم دیا۔ (مسند احمد ٤ ص ٤ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

امام ابو احمد بن عدی جرجانی متوفی ٣٦٥ ھ اپنی ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ روم کے بادشاہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کچھ ہدئیے بھیجے جن میں ایک سونٹھ کا گھڑا تھا آپ نے اس کو اپنے اصحاب میں تقسیم کردیا ‘ آپ نے ہر انسان کو ایک ٹکڑا دیا اور مجھے بھی ایک ٹکڑا دیا۔

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ دومۃ الجندل کے ایک عیسائی سردار نے آپ کو گوند کا ایک گھڑاہدیہ کیا آپ نے اپنے اصحاب کو اس کا ایک ایک ٹکڑا عطا کیا۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال ج ٥‘ ص ١٧٨٧‘ مطبوعہ دارا الفکر بیروت)

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نجاشی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مشک ‘ عنبر اور کافور سے مرکب خوشبو کی ایک شیشی ہدیہ کی اور مسلمان ہوگیا۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال ج ٦‘ ص ٢١١٤‘ مطبوعہ بیروت)

حافظ نور الدین علی بن ابی بکر الہیثمی متوفی ٨٠٧ ھ ‘ امام بزار کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) روایت کرتے ہیں کہ قریش کو سخت قحط سالی پہنچی حتی کہ انہوں نے سوکھی ہوئی ٹہنیاں بی کھالیں اور اس وقت قریش میں رسول اللہ اور حضرت عباس بن عبدالمطلب سے زیادہ کوئی خوش حال نہیں تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عباس سے کہا اے چچا ! آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے بھائی ابوطالب کثیر العیال ہیں اور قریش کو جس قحط سالی کا سامنا ہے وہ بھی آپ کے علم میں ہے۔ آئیے ان کے پاس چلیں اور ان سے انکے بعض بچوں کو لے لیں پس وہ گئے اور کہا اے ابوطالب ! آپ کو اپنی قوم کا حال معلوم ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ آپ کی بھی یہی کیفیت ہے ہم آپ کے پاس اس لئے آئے ہیں کہ آپ اپنے بعض بچوں کو ہمیں دے دین ‘ ابو طالب نے کہا میرے لئے عقیل چھوڑ دو اور جو تمہیں پسند ہو وہ کرو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو لیا اور عباس نے جعفر کو لے لیا وہ دونوں جب تک مستغنی نہ ہوئے ان کے پاس رہے۔ سلیمان بن داؤدنے کہا کہ حضرت جعفر عباس (رض) کے ساتھ رہے حتی کہ انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ (مجمع الزوائد ج ٨ ص ‘ ٥٣ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

کفار اور عقیدہ لوگوں کے ساتھ معاشرتی برتاؤ کرنا ‘ خریدو فروخت ‘ قرض کا لین دین ‘ بیمار پرسی اور تعزیت وغیرہ کرنا جائز ہے البتہ مرتدین سے کسی قسم کا کوئی معاملہ کرنا جائز نہیں ہے۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے کہ ایک طویل القامت لمبے اور بکھرے ہوئے مالوں والا مشرک آیا جو بکری لے جارہا تھا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا یہ بکری فروخت کرو گے یابطور تحفہ دوگے ؟ اس نے کہا بلکہ میں فروخت کروں گا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے بکری خریدلی۔

حضرت عائشہ (رض) کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک یہودی سے مدت معینہ کے ادھار پر طعام خریدا اور لوہے کی ایک زرہ گروی رکھ دی۔

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جو کی روٹی اور چر بی کے گئے درآں حالیکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں ایک یہودی کے پاس اپنی زرہ گروی رکھی ہوئی تھی اور آپ نے اپنے اہل کے لئے اس سے جو لئے تھے۔ بخاری ج ١ ص ‘ ٢٩٥۔ ٢٧٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام بخاری نے عیادۃ المشرک کا عنوان قائم کیا ہے اور اس کے تحت یہ حدیث ذکر کی ہے :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی کا لڑکا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کرتا تھا وہ بیمار ہوگیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی عیادت کے لئے گئے۔ آپ نے اس سے فرمایا اسلام قبول کرلو۔ اس نے اسلام کرلیا۔ سعید بن مسیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابوطالب مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی عیادت کے لئے گئے۔ بخاری ج ٢ ص ‘ ٨٤٥۔ ٨٤٤ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

عبدالرحمن بن ابی لیلی بیان کرتے ہیں کہ سہل بن حنیف اور قیس بن سعد قادسیہ میں بیٹھے ہوئے تھے ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا وہ دونوں کھڑے ہوگئے انہیں بتایا گیا کہ یہ ذمی کا جنازہ تھا انہوں نے کہا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے ایک جنازہ گزرا آپ سے کہا گیا کہ یہ ایک یہودی کا جنازہ ہے آپ نے فرمایا کیا یہ روح نہیں ہے۔ بخاری ج ١ ص ‘ ١٧٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

کفار اور بدعقیدہ لوگوں کے ساتھ مدارات (نرم گفتگو اور ملائمت) کے متعلق احادیث :

کافروں ‘ ظالموں اور بدعقیدہ لوگوں کے شر سے بچنے کے لئے ان کے ساتھ نرم رویہ اور ملائمت کے ساتھ پیش آنا ‘ ان سے میٹھی باتیں کرنا اور ان سے ہنستے مسکراتے اور خوشی سے ملنا مدارات ہے تاکہ انسان انی کی اذیت رسانی ‘ بدزبانی اور ان کے ہاتھوں بےعزتی سے محفوظ رہے ‘ اور یہ کفار سے دوستی محبت اور موالات کے حکم میں نہیں ہے جو کہ ممنوع ہے یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ مسنون ہے۔

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لوگوں کے ساتھ مدارات کرنا صدقہ ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عقل کی اصل مدارات ہے اور جو لوگ دنیا میں نیک ہیں وہی آخرت میں بھی نیک ہوں گے۔

ابن المسیب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ پر ایمان لانیکے بعد بڑی عقل مندی یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ مدارات کی جائے۔

حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص میں تین خصلتوں میں سے کوئی خصلت بھی نہ ہو اس کے عمل میں کسی قابل ذکر چیز کا گمان نہ کرو۔

(١) خوف خدا جو اس کو اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے روکے۔

(٢) حلم جس کی وجہ سے وہ جاہل سے باز رہے۔

(٣) وہ خلق جس کی وجہ سے وہ لوگوں کے ساتھ حسن معاشرت کے ساتھ رہے۔

وہیب مکی بیان کرتے ہیں کہ جس شخص میں تین صفات نہ ہوں اس کے عمل کا اعتبار نہ کرو۔

(١) خوف خدا جس کی وجہ سے وہ حرام کاموں سے باز رہے۔

(٢) حلم جس کی وجہ سے وہ جاہل کو لوٹا دے۔

(٣) وہ خلق جس کی وجہ سے لوگوں کی مدارات کرے۔ (شعب الایمان ج ٦ ص ٣٤٤۔ ٣٣٩ ملتقطا ‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ١٤١٠)

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ پر ایمان لانے کے بعد عقل کا کمال یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ محبت سے رہا جائے ‘ اور کوئی شخص مشورہ سے مستغنی نہیں ہے اور جو لوگ دنیا میں نیک ہیں وہی آخرت میں بھی نیک ہوں گے اور جو لوگ دنیا میں برے ہیں وہ آخرت میں بھی برے ہوں گے۔ (شعب الایمان ج ٦ ص ٥٠١۔ ٥٠٠ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ١٤١٠)

امام ابوبکر عبداللہ بن محمد بن شیبہ متوفی ٢٣٥ ھ بیان کرتے ہیں :

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایمان لانے کے بعدعقل کا کمال یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ مدارات کی جائے ‘ مشورہ کے بعد کوئی شخص ہلاک نہیں ہوگا ‘ جو لوگ دنیا میں ہیں وہی آخرت میں نیک ہوں گے۔ (المصنف ج ٨ ص ٣٦١‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ‘ ١٤٠٦ ھ)

اس حدیث کو حافظ ابن عساکر نے بھی روایت کیا ہے۔ (تہذیب تاریخ دمشق ج ٢ ص ٣٠١۔ ٣٠٠‘ مختصر تاریخ دمشق ج ٣ ص ١٦٤‘ مطبوعہ بیروت)

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) (رض) بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کی اجازت طلب کی اس وقت میں بھی آپ کے ساتھ تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ اپنی قوم کا برا آدمی ہے۔ پھر آپ نے اس کو اجازت دی اور اس سے بہت نرم گفتگو کی جب وہ چلا گیا تو میں نے پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے اس کے متعلق جو فرمایا تھا پھر آپ نے اس کے ساتھ ملائمت کے ساتھ بات کی ؟ آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! لوگوں میں سب سے برا شخص وہ ہے جس کی بدکلامی کی وجہ سے لوگ اس سے ملنا چھوڑ دیں۔

حضرت ابو درداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم بعض لوگوں سے ہنس کر ملتے ہیں اور ہمارے دل ان پر لعنت کرتے ہیں (صحیح بخاری ج ٢ ص ٩٠٥‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

مدارات کے جواز میں اور بہت احادیث ہیں تاہم اتنی مدارات نہیں کرنی چاہیے جس سے دینی حمیت جاتی رہے اور مدارات کرنے والے کے متعلق مداہنت کا گمان کیا جائے۔

مداہنت کی تحقیق :

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

(آیت) ” ودوالوتدھن لوتدھن فیدھنون “۔ (القلم : ٩)

انہوں نے یہی چاہا کہ (دین کے معاملہ میں) آپ ان سے بےجانرمی اختیار کریں تو وہ بھی نرم ہوجائیں۔

علامہ سیدمحمد مرتضی حسینی زبیدی حنفی متوفی ١٢٠٥ ھ لکھتے ہیں :

دل میں جو بات چھپائی ہے اس کے خلاف بیان کرنا مداہنت ہے۔ ابوالہیثم نے کہا مداہنت کا معنی ہے قول میں نرمی اور کلام میں کسی کی موافقت کرنا ‘ ہمارے شیخ نے کہا اصل میں مداہنت کا معنی ہے کسی چیز کو تیل لگا کر حسی طور پر نرم کرنا بعد میں اس کا استعمال معنوی نرمی میں ہوا اس کا مجازا ” استعمال بہ طور تحقیر کیا جاتا ہے کیونکہ جو شخص اپنے دین یا اپنی رائے میں متصلب نہیں ہوتا وہ اس میں مداہنت کرتا ہے اور اب مداہنت کا لفظ اسی معنی میں حقیقت عرفیہ ہے اور مدارات کا معنی کلام میں مطلقا ‘ نرمی کرنا ہے۔ (تاج العروس ج ٩ ص ٢٠٥‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ١٣٠٦ ھ)

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں :

کسی کی ناحق طرف داری کرنا مداہنت ہے جو شخص نیکی کا حکم دے نہ برائی کو مٹائے حقوق کو ضائع کرے اور دکھاوا کرے وہ مداہن ہے۔ (عمدۃ القاری ج ١٣ ص ٢٩٣‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)

شیخ عبدالحق محدث دہلوی متوفی ١٠٥٢ ھ لکھتے ہیں :

مداہنت یہ ہے کہ کوئی شخص برائی دیکھے اور اس کو نہ مٹائے اور باوجود قادر ہونے کے شرم کے سبب دینی بےغیرتی اور بےحمیتی سے رشوت لے کر یا کسی کی جانب داری کے سبب اس سے منع نہ کرے۔ (اشعۃ اللمعات ج ٤ ص ١٧٤‘ مطبوعہ مطبع تیج کمار لکھنو)

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت نعمان بن بشیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ کی حدود میں مداہنت کرنے اور اللہ کی حدود کو توڑنے والوں کی مثال یہ ہے کہ بحری جہاز میں قرعہ اندازی کے ذریعہ کچھ لوگ بالائی منزل میں بیٹھے ہوں اور کچھ نچلی منزل میں ‘ نچلی منزل والے پانی کے لئے بالائی منزل میں جاتے ہوں جس سے ان کو تکلیف ہوتی ہو تب نچلی منزل والوں نے ایک کلہاڑی لے کر جہاز کے نچلے حصے کو توڑنا شروع کیا (تاکہ سمندر سے پانی لے لیں) پھر بالائی منزل والوں نے توڑنے والوں سے کہا یہ تم کیا کر رہے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ تم کو ہمارے پانی لینے سے تکلیف ہوتی ہے اور ہمیں پانی کی ضرورت ہے ‘ اب اگر انہوں نے توڑنے والوں کے ہاتھوں کو پکڑ لیا تو وہ انکو بھی بچالیں گے اور خود کو بھی ‘ اور اگر انہوں نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا تو وہ ان کو بھی ہلاک کردیں گے اور خود کو بھی۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٣٦٩ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

مداہنت اور مدارات کا اصطلاحی فرق :

ملاعلی بن سلطان محمد القاری متوفی ١٠١٤ ھ لکھتے ہیں :

مداہنت ممنوع ہے اور مدارات مطلوب ہے اور ان میں فرق یہ ہے کہ مداہنت کا شرعی معنی یہ ہے کہ کوئی شخص برائی کو دیکھے اور وہ اس کو روکنے پر قادر بھی ہو لیکن برائی کرنے والے یا کسی اور کی جانب داری کی وجہ سے یا خوف کے سبب یا طمع کی وجہ سے یا دینی بےحمیتی کی وجہ سے اس برائی کو نہ روکے ‘ اور مدارات یہ ہے کہ اپنی جان یا مال یا عزت کے تحفظ کی خاطر اور متوقع شر اور ضرر سے بچنے کے لئے خاموش رہے ‘ خلاصہ یہ ہے کہ کسی باطل کام میں بےدینوں کی حمایت کرنا مداہنت ہے اور دین داروں کے حق میں حفاظت کی خاطر نرمی کرنا مدارات ہے (مرقات ج ٩ ص ٣٣١‘ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان۔ ١٣٩٠ ھ)

شیخ عبدالحق محدت دہلوی لکھتے ہیں :

مدارات اور مداہنت میں فرق یہ ہے کہ دین کی حفاظت اور ظالموں سے بچنے کے لئے جو نرمی کی جائے وہ مدارات ہے اور ذاتی منفعت ‘ طلب دنیا اور لوگوں سے فوائد حاصل کرنے کے لئے دین کے معاملہ میں جو نرمی کی جائے وہ مداہنت ہے۔ (اشعۃ اللمعات ج ٤ ص ١٧٤‘ مطبوعہ مطبع تیج کمار لکھنو)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جس نے ایسا کی وہ اللہ کی حمایت میں بالکل نہیں ہے ماسوا اس (صورت) کے کہ تم ان سے بچاؤ کرنا چاہو۔ (آل عمران : ٢٨)

تقیہ کی تعریف ‘ اس کی اقسام اور اس کے شرعی احکام :

اس آیت میں تقیہ کی مشروعیت پر دلیل ہے۔ تقیہ کی تعریف یہ ہے : جان ‘ عزت اور مال کو دشمنوں کے شر سے بچانا ‘ اور دشمن دو قسم کے ہیں ایک وہ جن کی دشمنی دین کے اختلاف کی وجہ سے ہو جیسے کافر اور مسلمان ‘ دوسرے وہ ہیں جن کی دشمنی اغراض دنیوی کی وجہ سے ہو مثلا مال ‘ متاع ‘ مالک اور امارت کی وجہ سے عداوت ہو ‘ اس وجہ سے تقیہ کی بھی دو قسمیں ہوگئیں۔

تقیہ کی پہلی قسم جو دین کے اختلاف کی وجہ سے عداوت پر مبنی ہو اس کا حکم شرعی یہ ہے کہ وہ ہر مومن جو کسی ایسی جگہ پر ہو جہاں مخالفین کے غلبہ کی وجہ سے اس کے لئے دین کا اظہار کرنا ممکن نہ ہو اس پر اس جگہ سے ایسی جگہ ہجرت کرنا واجب ہے جہاں وہ دین کا اظہار کرسکے ‘ اور اس کے لئے یہ بالکل جائز نہیں ہے ‘ کہ وہ دینی دشمنوں کی سرزمین میں رہے اور اپنے ضعف کا عذر ظاہر کرکے اپنے دین کو چھپائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی زمین بہت وسیع ہے ‘ اگر ہجرت نہ کرنے میں ان کا کوئی عذر شرعی ہو مثلا ‘ وہ لوگ بچے ‘ عورتیں اور نابینا ہوں یا قید میں ہوں یا ان سے مخالفین نے یہ کہا ہو کہ اگر تم نے ہجرت کی تو ہم تم کو قتل کردیں گے یا تمہاری اولاد یا تمہارے ماں باپ کو قتل کردیں گے خواہ ان کی گردنیں اڑا دیں یا ان کو قید میں رکھ کر بھوکا مار دیں اور اس بات کا ظن غالب ہو کہ وہ اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہنائیں گے ‘ اس صورت میں ان کے لئے کافروں کی سرزمین میں رہنا جائز ہے اور بقدر ضرورت تقیہ کرکے ان کی موافقت کرنا جائز ہے اور ان پر واجب ہے کہ وہ اس علاقہ سے نکلنے کا حیلہ تلاش کریں اور اپنے دین کی حفاظت کے لئے وہاں سے نکل بھاگیں اور اگر مخالفین کسی منفعت کو سلب کرنے کی دھمکی دیں یا ایسی مشقت میں ڈالنے کی دھمکی دیں جس کا برداشت کرنا ممکن ہو مثلا قید میں ڈال دیں اور قید میں کھانا دیں یا ان کو ماریں لیکن ایسی ضرب نہ ہو جس سے انسان مرجائے تو پھر تقیہ کرنا اور ان کے دین کی موافقت کرنا جائز نہیں ہے ‘ اور جس صورت میں تقیہ جائز ہے اس صورت میں بھی ان کی موافقت کی رخصت ہے اور عزیمت یہ ہے کہ وہ اس صورت میں بھی تقیہ نہ کرے اور اپنے دین کا اظہار کرے اور اگر اس کو دین کے اظہار کے جرم میں مار ڈالا جائے تو وہ شہید ہے۔

جب کوئی مسلمان کفار کے علاقہ میں ہو اور اس کو دین کے اظہار کے سبب اپنی جان ‘ مال اور عزت کا خطرہ ہو تو اس پر اس علاقہ سے ہجرت کرنا واجب ہے اور تقیہ کرنا اور کفار کی موافقت کرنا جائز نہیں ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ :

قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” ان الذین توفھم الملآئکۃ ظالمی ٓ انفسھم قالوا فیم کنتم قالوا کنا مستضعفین فی الارض قالوا الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتھاجروا فیھا فاولئک ماوھم جھنم، وسآءت مصیرا ‘۔ الا المستضعفین من الرجال والنسآء والولدان لا یستطیعون حیلۃ ولا یھتدون سبیلا۔ فاولئک عسی اللہ ان یعفوعنھم وکان اللہ عفوا غفورا “۔ (النسآء : ٩٩۔ ٩٧)

بے شک جن لوگوں کی جانیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے ‘ فرشتے (ان سے) کہتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے ؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم زمین میں بےبس تھے ! فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ براٹھکانہ ہے۔ مگر وہ لوگ جو (واقعی) بےبس اور مجبور ہیں وہ مرد ‘ عورتیں اور بچے جو نکلنے کا حیلہ نہ پائیں اور نہ راستے سے واقف ہوں تو قریب ہے کہ اللہ ان سے درگزر فرمائے اور اللہ بہت معاف فرمانے والا بےحد بخشش والا ہے۔

جبر اور اکراہ کی صورت میں جان بچانے کے لئے تقیہ پر کرنا رخصت اور تقیہ کو ترک کرنا عزیمت ہے اس پر دلیل یہ حدیث ہے :

حسن بصری روایت کرتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دو اصحاب کو گرفتار کرلیا ان میں سے ایک سے پوچھا : کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ‘ اس نے کہا ہاں پھر پوچھا کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے کہا ہاں ‘ تو اس کو رہا کردیا ‘ پھر دوسرے کو بلا کر پوچھا کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ؟ اس نے کہا ہاں ‘ پھر پوچھا کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے کہا میں بہرا ہوں اور تین بار سوال کے جواب میں یہی کہا مسیلمہ نے اس کا سر تن سے جدا کردیا ‘ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک یہ خبر پہنچی تو فرمایا جو شخص قتل ہوا اور اپنے صدق اور یقین پر گامزن رہا اس نے فضیلت کو حاصل کیا اس کو مبارک ہو ‘ دوسرے نے رخصت پر عمل کیا اس پر اسے کوئی ملامت نہیں ہے۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ١٠ للجصاص)

تقیہ کی دوسری قسم یعنی جب مال ومتاع اور امارت کی وجہ سے لوگوں سے عداوت ہو تو اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ اس صورت میں آیا ہجرت واجب ہے یا نہیں ؟ بعض علماء نے کہا اس صورت میں بھی ہجرت واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

(آیت) ” ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ۔ (البقرہ : ١٩٥)

ترجمہ : اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔

دوسری دلیل یہ ہے کہ مال کو ضائع کرنے کی بھی شریعت میں ممانعت ہے۔

اور بعض علماء نے یہ کہا کہ کسی دنیاوی مصلحت کی وجہ سے ہجرت واجب نہیں ہوتی ‘ اور بعض علماء نے یہ کہا کہ جب اپنی جان یا اپنے رشتہ داروں کی جان کا یا اپنی اور ان کی عزت کا خطرہ ہو تو حق یہ ہے کہ ہجرت واجب ہوتی ہے لیکن یہ عبادت اور قرب الہی نہیں ہے جس کی وجہ سے ثواب حاصل ہو ‘ کیونکہ اس ہجرت کا وجوب محض دنیاوی مصلحت کی وجہ سے ہے دین کی حفاظت کی وجہ سے نہیں ہے اور ہر واجب پر ثواب نہیں ملتا ‘ کیونکہ تحقیق یہ ہے کہ ہر واجب عبادت نہیں ہوتا بلکہ بہت سے واجبات پر ثواب نہیں ملتا جیسے سخت بھوک کے وتق کچھ کھانا واجب ہے اور اس پر ثواب نہیں ہے ‘ اسی طرح بیماری میں جن چیزوں کے کھانے سے ضرر کا یقین ہو یا اس پر ظن غالب ہو ان سے احتراز کرنا واجب ہے اور اس صحت کی حالت میں مضر صحت اور زہریلی اشیاء کو کھانے سے احتراز کرنا واجب ہے۔ یہ ہجرت بھی اسی قسم کی ہے۔ یہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہجرت کی مثل نہیں ہے ‘ ہرچند کہ یہ اعلی درجہ کی ہجرت نہیں ہے لیکن یہ ہجرت اجرو ثواب سے خالی نہیں ہے۔ اسی طرح مفید اشیاء کو کھانا اور مضر اشیاء سے اجتناب کرنا بھی اجر وثواب سے خالی نہیں اور بعض علماء کا یہ کہنا کہ ہر واجب پر ثواب نہیں ملتا صحیح نہیں ہے۔

تقیہ کے متعلق شیعہ کا نظریہ :

شیعہ علماء کی تقیہ میں بہت مختلف اور مضطرب عبارات ہیں بعض علماء نے یہ کہا کہ ضرورت کے وقت تمام اقوال میں تقیہ کرنا جائز ہے اور بعض اوقات کسی مصلحت کی وجہ سے تقیہ واجب ہوتا ہے اور ایسے کسی فعل میں تقیہ کرنا جائز نہیں جس سے مومن کا قتل ہو یا اس کے قتل کئے جانے کا ظن غالب ہو۔ مفید نے کہا کبھی تقیہ کرنا واجب ہوتا ہے اور کسی وقت میں تقیہ کرنا افضل ہوتا ہے اور کسی وقت میں تقیہ نہ کرنا افضل ہوتا ہے۔ ابو جعفر طوسی نے کہا ظاہر الروایات میں یہ ہے کہ جب جان کا خطرہ ہو تو تقیہ کرنا واجب ہے اور بعض علماء نے یہ کہا مال کے خطرہ کے وقت بھی تقیہ کرنا واجب ہے۔ اور عزت کی حفاظت کے لئے تقیہ کرنا مستحسن ہے۔ حتی کہ سنت یہ ہے کہ جب شیعہ اہل سنت کے ساتھ جمع ہوں تو نماز ‘ روزہ اور باقی دینی امور اہل سنت کے مطابق کریں ‘ انہوں نے بعض ائمہ اہل بیت سے روایت کیا ہے کہ جس شخص نے کسی سنی کی اقتداء میں تقیہ ’ نماز پڑھی اس نے گویا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز پڑھی ‘ اور بعد میں اس نماز کے اعادہ میں ان کے مختلف اقوال ہیں ‘ کسی ایک سنی سے مذہب شیعہ کو بچانے کے لئے تقیہ کی افضیلت میں ان کا اختلاف ہے بعض نے کہا ہے جائز ہے بعض نے کہا معمولی سے خوف یا معمولی سے لالچ کی بناء پر تقیۃ کفر کو ظاہر کرنا واجب ہے ‘ علماء شیعہ کے نزدیک تقیہ دین کی عظیم اصل ہے حتی کہ انہوں نے انبیاء (علیہم السلام) کی طرف بھی تقیہ منسوب کیا ہے ‘ ان کی تقیہ سے اہم غرض خلفاء راشدین (رض) کی خلافت کو باطل کرنا ہے اللہ ان سے پناہ میں رکھے۔

تقیہ کے بطلان پر نقلی اور عقلی دلائل :

کتب شیعہ سے حضرت علی (رض) اور ان کی اولاد امجاد کا تقیہ نہ کرنا ثابت ہے اور اس سے تقیہ کی وہ فضیلت بھی باطل ہوتی ہے جس کا انہوں نے اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے۔ نہج البلاغت جو ان کے نزدیک کتاب اللہ کے بعد روئے زمین پر صحیح ترین کتاب ہے اس میں لکھا ہے : حضرت علی (رض) نے فرمایا : ایمان کی علامت یہ ہے کہ جہاں تم کو صدق سے نقصان اور کذب سے نفع ہو وہاں تم کذب پر صدق کو ترجیح دو ۔ (نہج البلاغت ص ٢٩٦‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران)

کہاں حضرت علی (رض) کا یہ ارشاد اور کہاں ان کا (آیت) ” ان اکرمکم عنداللہ اتقکم “ کی یہ تفسیر کرنا “ اللہ کے نزدیک مکرم وہ ہے جو زیادہ تقیہ کرے “ اور اسی نہج البلاغت میں ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : خدا کی قسم اگر میرا دشمنوں سے مقابلہ ہو درآں حالیکہ میں اکیلا ہوں اور ان کی تعداد سے زمین بھری ہو تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ہوگی ‘ نہ گھبراہٹ ہوگی کیونکہ جس گمراہی میں وہ مبتلاء ہیں اور اس کے مقابلہ میں جس ہدایت پر ہوں اس پر مجھے بصیرت ہے اور مجھے اپنے رب پر یقین ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور حسن ثواب کی امید ہے۔ حضرت علی کے اس ارشاد میں یہ دلالت ہے کہ حضرت امیر اکیلے ہوں اور دشمن بہت ہوں تب بھی وہ نہیں ڈرتے تو یہ کیسے متصور ہوسکتا ہے کہ تقیہ نہ کرنا بےدینی ہو ‘ نیز عیاشی نے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کر کے مسجد میں داخل ہوا حضرت علی آئے اور اس کی گدی پر ضرب لگا کر فرمایا افسوس ! تو بےوضو نماز پڑھ رہا ہے ! اس نے کہا مجھے عمر نے کہا تھا۔ حضرت علی (رض) اس کا ہاتھ پکڑ کر حضرت عمر (رض) کے پاس لے گئے اور بہ آواز بلند فرمایا : دیکھو یہ تمہارے متعلق کیا کہہ رہا ہے حضرت عمر (رض) نے کہا ہاں اس کو میں نے موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس روایت میں یہ ذکر ہے کہ حضرت علی (رض) نے حضرت عمر (رض) سے بہ آواز بلند گفتگو کی اور تقیہ نہیں کیا۔

تقیہ کے بطلان پر واضح دلیل یہ ہے کہ تقیہ خوف کی وجہ سے کیا جاتا ہے اور خوف دو قسم کا ہے ایک جان کی ہلاکت کا اور دوسرا تکلیف ‘ اذیت ‘ مشقت بدنی اور سب وشتم کا۔ اول الذکر یعنی جان کا خوف حضرات ائمہ میں دو وجہوں سے منتفی ہے پہلی وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک ائمہ کی طبعی موت ان کے اختیار سے واقع ہوتی ہے جیسا کہ کلینی نے کاف میں اس مسئلہ کو ثابت کیا ہے اور اس مسئلہ کے لئے ایک باب منعقد کیا ہے ‘ اور اس پر تمام امامیہ کا اجماع بیان کیا ہے ‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک تمام ائمہ کو ماکان وما یکون کا علم ہوتا ہے پس ان کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی مدت حیات کتنی ہے اور موت کی کیا کیفیت ہے اور کس وقت میں موت واقع ہوگی وہ تمام تفاصیل اور کیفیات پر مطلع ہوتے ہیں ‘ لہذا موت کے وقت سے پہلے ان کو موت سے پہلے ان کو موت سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ تقیہ کرنا چاہیے۔ ثانی الذکر خوف کی وجہ بدن کی تکلیف اور اذیت اور سب وشتم اور بےعزتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان امور کو برداشت کرنا اور ان پر صبر کرنا ہمیشہ سے صالحین کا طریقہ رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت میں ہمیشہ مشقتوں کو برداشت کرتے رہے ہیں اور بسا اوقات انہوں نے جابر سلطانوں سے مقابلہ کیا اور اپنے جد کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین کی نصرت کے لئے حضرت اہل بیت کا اذیتوں اور مصیبتوں کو برداشت کرنا اور تکلیفوں پر صبر کرنا دوسرے صلحاء امت کی بہ نسبت انہیں زیادہ لائق ہے پھر ان تکلیفوں اور مصیبتوں سے بچنے کے لئے تقیہ کرنے اور باطل کی موافقت کرنے کی کیا حاجت ہے !

نیز اگر تقیہ واجب ہوتا تو حضرت علی (رض) ابتداء تقیہ کرلیتے اور حضرت ابوبکر (رض) سے بیعت کرنے میں چھ ماہ تک توقف نہ کرتے۔ اور حضرت حسین (رض) تقیۃ یزید کی بیعت کرلیتے اور اپنے رفقاء سمیت کربلا میں شہید نہ ہوتے ‘ کیا حضرت علی (رض) اور حضرت حسین (رض) کو یہ علم نہیں تھا کہ جان کی حفاظت کے لئے تقیہ کرنا واجب ہے اور کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ امام الائمہ تارک واجب تھے۔

علماء شیعہ نے انبیاء (علیہم السلام) کی طرف جو تقیہ کی نسبت کی ہے اس کے بطلان کے لئے قرآن مجید کی یہ آیات کافی ہیں :

(آیت) ” الذین یبلغون رسلت اللہ ویخشونہ ولا یخشون احدا الا اللہ وکفی باللہ حسیبا “۔ (الاحزاب : ٣٩)

ترجمہ : جو لوگ اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اسی سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور اللہ کافی ہے حساب لینے والا۔

(آیت) ” یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسلتہ واللہ یعصمک من الناس “۔ (المائدہ : ٦٧)

ترجمہ : اے رسول ! جو کچھ آپ پر آپ کے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے اس کو پہنچا دیجئے اور اگر آپ نے (ایسا) نہ کیا تو آپ نے اپنے رب کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ آپ کو لوگوں (کے شر اور ضرر) سے بچائے گا۔

اس کے علاوہ اور بھی قرآن مجید میں آیات ہیں جو تقیہ کے بطلان پر دلالت کرتی ہیں۔

تقیہ کے متعلق ائمہ اہل سنت کے مذاہب :

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں :

اضطرار کی حالت میں تقیہ کرنے کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے ‘ اور یہ واجب نہیں ہے بلکہ تقیہ کو ترک کرنا افضل ہے ہمارے اصحاب نے کہ جس شخص کو کفر پر مجبور کیا گیا اور اس نے کفر نہیں کیا حتی کہ وہ شہید ہوگیا وہ اس شخص سے افضل ہے جس نے تقیہ کیا ‘ مشرکین نے حضرت خبیب بن عدی (رض) کو گرفتار کرلیا حتی کہ ان کو شہید کردیا مسلمانوں کے نزدیک وہ حضرت عمار بن یاسر سے زیادہ افضل تھے جنہوں نے تقیۃ کفر کو ظاہر کیا۔ (احکام القرآن ج ٢‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)

علامہ ابوالحیان اندلسی لکھتے ہیں :

امام ابوحنیفہ کے اصحاب نے یہ کہا ہے کہ تقیہ اللہ کی طرف سے رخصت ہے اور اس کو ترک کرنا افضل ہے ‘ کسی شخص کو کفر پر مجبور کیا جائے اور وہ کفر نہ کرے حتی کہ اس کو قتل کردیا جائے تو وہ اس شخص سے افضل ہے جان بچانے کے لئے تقیۃ کفر کو ظاہر کرے ‘ اسی طرح ہر وہ کام جس میں دین کا اعزاز ہو اس کو تلوار پر پیش کیا جائے تو آپ تقیۃ جواب دیں گے ؟ فرمایا نہیں۔ امام احمد نے فرمایا جب عالم تقیہ سے جواب دے اور جاہل جہالت کا اظہار کر رہا ہو تو حق کیسے ظاہر ہوگا، اور جو چیز ہم تک تواتر اور تسلسل سے پہنچی وہ یہ ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین عظام نے اللہ کی راہ میں اپنی جانوں کو خرچ کردیا اور انہوں نے اللہ کی راہ میں کبھی کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ کی اور نہ کسی جابر کے ظلم کی۔

امام رازی نے کہا کہ ضرورت کی بناء پر تقیہ کی رخصت کا تعلق صرف اظہار حق اور دین کے ساتھ ہے اور جس چیز میں ضرورت کا تعلق دوسروں کے ساتھ ہو اس میں تقیہ کی رخصت کا تعلق صرف اظہار حق اور دین کے ساتھ ہے اور جس چیز میں ضرورت کا تعلق دوسروں کے ساتھ ہو اس میں تقیہ کرنے کی اجازت نہیں ہے، مثلا جان بچانے کے لئے کسی کو قتل کرنا ‘ زنا کرنا ‘ کسی کا مال چھیننا ‘ جھوٹی گواہی دینا۔ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا اور مسلمانوں کے رازوں سے کفار کو مطلع کرنا اس قسم کے امور کو تقیۃ انجام دینا بالکل جائز نہیں ہے۔

اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب کفار غالب ہوں تو ان کے ساتھ تقیہ کی رخصت ہے ‘ مگر امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ اگر مسلمانوں میں ایسی صورت حال پیدا ہوجائے تو جان اور مال کی حفاظت کے لئے ان کے درمیان بھی تقیہ کرنا جائز ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٩٥‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

علامہ ابوعبداللہ محمد بن قرطبی مالکی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

جب مسلمان کافروں کے درمیان گھر جائے تو اس کے لئے جائز ہے کہ اپنی جان بچانے کے لئے نرمی سے جواب دے درآں حالیکہ اس کا دل تصدیق سے مطمئن ہو اور جب تک قتل کا اعضاء کاٹنے کا یا سخت ایذا پہنچانے کا خطرہ نہ ہو تقیہ کرنا جائز نہیں ہے ‘ اور جس شخص کو کفر پر مجبور کیا جائے تو صحیح مذہب یہ ہے کہ وہ ثابت قدمی سے دین پر جما رہے اور کفریہ کلمہ نہ کہے اگرچہ اس کی رخصت ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٥ ص ٥٧ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

علامہ عبدالرحمان بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی ٥٩٧ لکھتے ہیں :

تقیہ کرنے کی رخصت ہے یہ عزیمت نہیں ہے۔ امام احمد سے پوچھا گیا کہ آپ کے سر پر تلوار رکھ دی جائے تو کیا آپ تقیہ سے جواب دیں گے فرمایا نہیں ! آپ نے فرمایا جب عالم تقیہ سے جواب دے اور جاہل جہالت پھیلا رہا ہو تو حق کیسے ظاہر ہوگا۔ (زادالمیسر ج ١ ص ‘ ٣٧٢ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

امام فخر الدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

جب کوئی شخص کافروں میں رہتا ہو اور اس کو اپنی جان اور مال کا خطرہ ہو تو وہ ان سے نرمی کے ساتھ بات کرے اور دشمنی ظاہر نہ کرے بلکہ یہ بھی جائز ہے کہ ان سے اس طرح باتیں کرے جس سے ان کی محبت اور دوستی ظاہر ہو لیکن دل سے محبت نہ رکھے بلکہ دشمن جانے ‘ نیز جس صورت میں جان بچانے کے لئے تقیہ کرنا جائز ہے وہاں بھی حق کا اور ایمان کا اظہار کرنا افضل ہے (تفسیر کبیر ج ٢ ص ٤٢٩ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 28