نفس کی پاکیزگی

رفعت رضا نوری

اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام کو اس دنیا میں اس لیے مبعوث فرمایاتاکہ وہ انسانی سماج کی اصلاح و تربیت ، دلوں کی صفائی اور اخلاق وکردار کو سنواریں، ایسی تعلیم دیں جس سے اللہ کی پہچان کی جا سکے، ایسی پاکیزہ چیزیں اور حکیمانہ باتیں بتائیں جن سے ایمان وایقان کومضبوط کیاجا سکے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتاہے:

 لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤمِنِیْنَ إِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْ أَنفُسِہِمْ یَتْلُوْاعَلَیْہِمْ آیَاتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَإِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ(آل عمران ۴۶)

 ترجمہ: اللہ تبارک و تعالیٰ نے مومنوں پر یہ احسان فرمایا کہ اُنھیں میں سے ایک رسول مبعوث فرمایاجو اُن پر اللہ تعالیٰ کی آیتیں تلاوت کرتے ہیں،اُن کے دلوں کوپاک کرتے ہیں اور اُنھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں،جب کہ وہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔

یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو پاک و صاف رکھنےاور اُن کے سینوں کو علم و حکمت سے پُر کرنے کے لیے انبیاو مرسلین علیہم السلام کو مبعوث فرمایا جنھوں نے اِس ذمے داری کو نبھایا اور دین کو اپنے زمانے میں ہرطرف پھیلانے کی کوشش کی۔ انبیاومرسلین علیہم السلام کے بعد اِس کام کو اُن کے حواری اور ان کے ماننے والوں نے آگے بڑھایا،اورعام مخلوق کی ہدایت کے ساتھ اُنھیں سیدھی راہ دکھانے کا فریضہ انجام دیا۔ یہ لوگ نہ صرف انبیاومرسلین علیہم السلام کی حیات میں اُن کے مددگارومعاون رہے بلکہ اُن کے پردہ فرماجانے کے بعدبھی اُن کے مبارک عمل کو رُکنے نہ دیا۔

خود صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بڑے پیمانے پر رشدو ہدایت کا فریضہ اداکیا،جس کی وجہ سے اُنھیں اصلاح و تربیت اورہدایت کاخزانہ قراردیا گیا ہے۔

 نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں:

 أَصْحَابِي كَالنُّجُوْمِ، فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ۔

ترجمہ:میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں،اُن میں تم جس کسی کی پیروی کروگے،کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔

گویاصحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں ہر ایک سے ہدایت و اصلاح کی روشنی حاصل کی جا سکتی ہے۔

 صحابۂ کرام کے بعداِس فریضے کو ہر دور میں اللہ کے نیک بندے انجام دیتےر ہیں،جوآج بھی جاری ہے اور قیامت تک ایسے صالحین و نیک بندوں کی جماعت پیدا ہوتی رہے گی جن سے اصلاح و تربیت کا نظام چلتا رہے گااوراُن کے روحانی فیضان سے دلوں کی مردہ زمینیں سیراب ہوتی رہیں گی۔

 اللہ قادر مطلق ہے ،وہ مخلوق کے تزکیہ و تطہیر کے لیے کسی بھی بندے کو مقرر کر سکتا ہے۔اس کی پہچان یہ ہوگی کہ وہ مومن، عاقل اور پابند شریعت ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت سے زیادہ محبت کرنے والے والاہوگا،وہ اپنی جان و مال دونوں کو قربان کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے میں مصروف ہوگا،وہ طاعت و فرماں برداری کا پیکر ہوگا،اُن کا قلب محبت الٰہی اور عشق نبی سے سرشار ہوگا، اس کی صحبت میں بیٹھنے سے اللہ یاد آئےگا،ان کی صبح و شام ذکر الٰہی اور فکر آخرت میں گذر رہی ہو گی، ان کی راتیں قیام و سجود میں بیت رہی ہوں گی، وہ رب تعالیٰ سے ملاقات کے لیے سراپا مشتاق ہوں گے، ان کی آنکھیں نورِالٰہی سے روشن اوردل معرفت الٰہی سے معمورہوگااوروہ مخلوقات کی تکلیفوں کو دیکھ کرتڑپ اٹھتے ہوں گے،اگر ایسے عارف باللہ،ایسے ذاکرباللہ اور ایسے انسانی خدمت گار،مردانِ خدا مل جائیں تو بلا کسی چوں چرا کے اپنا سر اُن کے قدموں پر ڈال دینا چاہیے ،کیوں کہ ظاہری اور باطنی گناہوں سے بچنے کے لیے اور نفس و شیطان کی دھوکہ بازی سے محفوظ رہنے کے لیے، اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی نیک بندوں کے ساتھ رہنے اور اُن کی صحبت سے فیض حاصل کرنے کا حکم دیا ہے۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشادفرماتاہے:

 وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗ وَلَا تَعْدُ عَیْنَاکَ عَنْہُمْ تُرِیْدُ زِیْنَۃَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا( کہف ۲۸)

ترجمہ: ایسے نیک لوگوں کے ساتھ رہا کروجو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں اور صرف اُس کی رضا کے طلب گار رہتے ہیں ،اوراپنی نظروں کو اُن نیک لوگوںسے نہ پھیرو، کیااُن خاصان خدا سے نظر پھیر کرتو دنیاوی زندگی کی زینت چاہتا ہے؟

یہ وہ بندے ہیں جنھوں نے اپنے کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کردیاتواللہ تعالیٰ بھی اُن کاہوگیا۔ ایسے نیک لوگوں کی بارگاہ میں ایک لمحے کی بھی صحبت مل جائے تو غنیمت سمجھنی چاہیے، کیوں کہ وہ لمحہ غرور سے پاک اور صرف اللہ رب العزت ہی کے لیے ہوتا ہے:؎

گذر کسی کا یہاں نہیں ہے

قسم خدا کی کہ تو ہی تو ہے

ایسے ہی لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے والوں کو یہ فضیلت دی گئی کہ بدبختی اُن کے قریب بھی نہیں بھٹکتی ہے۔

حدیث پاک میں ارشاد ہے:

ھُمُ الْقَوْمُ لَایَشْقِیْ بِھِمْ جَلِیْسُھُمْ۔

ترجمہ:یہ وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے والے بدبخت اورسخت دل نہیں ہوتے۔

 بلکہ اُن کی صحبت میں بدبختی اور سخت دلی دور ہوجاتی ہے۔ نفس کو پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔ مردہ دل زندہ ہوجاتے ہیں اورجسم کے تمام اعضا پر اللہ تعالیٰ کا قبضہ ہو جاتا ہے:؎

 جس کی صحبت میں گنہگار و شقی

 آکے ہو جاتے ہیں ابدال و ولی

باطن کی پاکیزگی اور نفس کی اصلاح کی معنویت ہر شخص کے سامنےسورج کی طرح ظاہر ہے،اگر وہ اپنے آپ کا جائزہ لیتاہے اور اپنے باطن میں جھانکتا ہے تواُس پریہ واضح ہوتا ہے کہ اس کا دل صاف نہیں ہے،اس کے دل پر گناہوں کا گرد وغبار جما ہوا ہے، وہ خواہشات نفس کا غلام ہوچکا ہے،وہ دنیا کا لالچی ہوگیاہے،اس کے حرکات و سکنات اورذہنی وقلبی میلان سیدھی راہ سے ہٹے ہوئے ہیں،اُسے جب بھی ذرا فراخی اور آسانی ملتی ہے تو غرور و تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے اورجب ذرا سی تنگی اور آزمائش آجاتی ہے تو وہ مرجھا جا تا ہے اور ناامید ہوجاتاہے۔

غرض کہ آج نہ نگاہوں میں شوخی ہے نہ دل میں درد۔نہ روح میں سوز ہے اور نہ گفتگو میں ساز۔ گویا زندگی توہے لیکن زندہ دلی نہیں،بلکہ آج کی اِس مادی دنیا میں ’’کماؤ ،کھاؤاور عیش کرو۔‘‘ زندگی کا مقصد بن گیا ہے۔ کیا واقعی یہی حیات انسانی کے اعلیٰ مقاصد ہیں؟

بدل گیا ہے جو اپنی حیات کا مقصد

 بھٹک رہی ہے سر راہ زندگی کیسی

یاد رکھیں! اگرانسان نے اپنے اندراصلاح اور سدھار پیدا نہ کی تو اللہ تعالیٰ کے فرمان :

 اُولٰٓىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ(الاعراف۱۷۹)

(وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ اُن سے بھی بدترہیں۔)

 اور

وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا(۲۸)

 (جس نے اپنی خواہش کی پیروی کی اس کا معاملہ حد سے بڑھ گیا۔)

کے خانے میں وہ داخل ہو جائےگا اور اگر ایسا ہوا تو داستانِ زندگی کا ایک ایک حرف حیات ابدی کے دفترسے مٹا دیا جائے گا۔

جس نے غفلت میں گذاری زندگی

 آخرش ہوگی اسے افسردگی

 خواب غفلت سے اٹھ اے مرد خدا

 تاکہ حاصل ہو تجھے فضل خدا