أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اِنۡ تُخۡفُوۡا مَا فِىۡ صُدُوۡرِكُمۡ اَوۡ تُبۡدُوۡهُ يَعۡلَمۡهُ اللّٰهُ‌ؕ وَيَعۡلَمُ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِؕ‌ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ

ترجمہ:

آپ کہیے کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے تم اس کو چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ کو اس کا علم ہے اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمینوں میں ہے اسے اس کا (بھی) علم ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہئے کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے تم اس کو چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ کو اس کا علم ہے اور جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے اسے اس کا (بھی) علم ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔۔ (آل عمران : ٢٩)

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کفار کے ساتھ ظاہری اور باطنی موافقت اور دوستی رکھنے سے منع فرمایا تھا اور جان ‘ مال اور عزت کے خطرہ کے وقت ان سے تقیۃ ظاہری موافقت کی اجازت دی تھی ‘ اب اللہ تعالیٰ نے اس پر وعید فرمائی ہے کہ تقیۃ کے وقت اگر ان سے باطنی موافقت کی تو اللہ تعالیٰ علیم وخبیر ہے اس سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے علم کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے قدرت کا بھی ذکر فرمایا ہے کہ وہ دلوں کے حال کو جاننے والا بھی ہے اور معصیت پر مواخذہ کرنے پر قادر بھی ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 29