مشائخ سے محبت کیوں ؟

جہانگیر حسن مصباحی

محترم قارئین! ہم جو زندگی بسرکررہے ہیں اُس پر غوروفکرکریں تو اُس کے دورُخ سامنے آتے ہیں :

۱۔ دنیوی رُخ 

 ۲۔دینی رُخ 

اور یہ دونوں رُخ ہماری زندگی کے انتہائی لازمی جزو ہیں۔اس سے نہ تو ہم منھ موڑ سکتے ہیں اورنہ اُس کے بغیرہماری زندگی کی گاڑی آگے بڑھ سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے ہمیں ان دونوں شعبوں کو بہتر سے بہتر بنانے کی تاکیدو تلقین فرمائی ہے اور اُس کے لیے دعا مانگنےکایہ قرآنی طریقہ بھی عنایت فرمایا ہے:

 رَبّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ (بقرہ ۲۰۱)

 یعنی اے ہمارےرب!ہماری دنیا بھی بہتر بنااور ہماری آخرت بھی اور ہمیں جہنم کی تکلیف سے بھی محفوظ رکھ ۔

 گویاہماری زندگی کے اِن دونوں خانوں میں جب تک اعتدال وتوازن(Balance)قائم نہیں ہوجاتا،اس وقت تک نہ ہماری دنیوی زندگی کامیابی سے ہمکنارہوسکتی ہےاور نہ ہی ہماری دینی زندگی صلاح وفلاح کے پُل صراط سے گذرسکتی ہے،اگر اعتدال وتوازن قائم نہیں ہوتا تو یقین جان لیں کہ ہم عذابِ الٰہی کےمستحق ضرورہوں گے ۔

 اب سوال یہ ہے کہ ہماری دنیوی اور دینی زندگی میں اعتدال وتوازن کیسے قائم ہو،اورہم کون سا عمل کریں جس سے ہماری دنیابھی حسین رہے اور ہماری آخرت بھی سنورجائے ؟

تو اِس سلسلے میں عرض ہے کہ کتاب وسنت پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں عارفین باللہ اورصوفیامشائخ سےبھی محبت و عقیدت رکھنی ہوگی، تاکہ ہمارابےنور دل پُرنورہو،اورخودشناسی کے ساتھ اُن سےخداشناسی کی دولتیں بھی حاصل ہوں۔ کیوں کہ یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ جس طرح قلبی اطمینان کے لیے قلب کاتزکیہ وتصفیہ ناگزیر ہے اسی طرح خداشناسی کے لیے خودشناسی بھی انتہائی لازم و ضروری ہے،کیوں کہ خودشناسی پر ہی خداشناسی موقوف ہے۔ اس کی تائید اِس قول سے بھی ہوتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے:

 مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدَ عَرَفَ رَبَّہٗ۔ 

یعنی جس نے خود کو پہچان لیا گویااُس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔

چنانچہ اگر ہم واقعی خودشناسی اورخدا شناسی کے طلب گار ہیں تو ہمارے اوپرواجب ہے کہ ہم اپنے دلوں میں عارفین باللہ اورصوفیامشائخ کی محبت کو راسخ کریں،اُن کی صحبت اختیارکریں اوراُن کی تعلیمات کو اپنا وظیفہ بنائیں۔ کیوں کہ یہ فطری بات ہے کہ جب ہم کسی سے محبت کرتے ہیں تواخلاقی طورپر اُس کی چھوٹی سے چھوٹی بات کوبھی نظرانداز نہیں کرپاتے بلکہ اُس کی ہر بات کوبسروچشم قبول کرلیتے ہیں،چاہے اُس کی وجہ سےہمیں ہزارمصیبتوں کا ہی سامنا کیوں نہ کرنا پڑے ،یعنی ہمیشہ اور ہرحال میں اُس کی رضا وخوشنودی کے طالب رہتے ہیں ،اسی طرح عارفین باللہ اورصوفیامشائخ سے جب ہماری محبت گہری اور سچی ہو گی تو یقیناً ہم اُن کی تعلیمات مثلاًتواضع وانکساری،اخوت ومحبت،تعظیم مومن،اصلاح نفس،عیب پوشی اور اس طرح کے دوسرے اعلی ایمانی اور اخلاقی اقدار سے حصہ پائیں گے اور جب ہمارے اعمال وکردارمیں اُن کی تعلیمات واصلاحات رچ بس جائیں گی تو پھر ہماری دنیابھی بن جائے گی اورہماری آخرت بھی سنورجائے گی۔

 یہاں یہ بات بھی یادرکھنے کی ہے کہ عارفین باللہ اورصوفیامشائخ ایک آئینے کی حیثیت بھی رکھتے ہیں،جس طرح آئینے کے سامنے جانے سے ہم اپنے بدن کے ظاہری عیوب ونقائص سے آگاہ ہوتے ہیں اوراُن کو دورکرکے اپنی ظاہری خوب صورتی میں چارچاند لگاتے ہیںاسی طرح عارفین باللہ اورصوفیامشائخ کی خدمت میں جانے سے ہمیں اپنے قلبی اورذہنی عیوب ونقائص سے آگاہی ہوتی ہے جنھیں ہم مشائخ کے فیضان اور اُن کی صحبت کی برکتوں سے دورکرتے ہیں اور ہمارا باطن نورِ حق سے منورہواُٹھتا ہے۔ پھر نتیجے کے طورپر ہم اپنی حقیقت وجودسے بھی آگاہ ہوتے ہیں اور اللہ وحدہ لاشریک لہ کی ذات وصفات سے بھی ۔

مزید ہمیں اس پہلو پر بھی نظر رکھنی ہوگی کہ ہم جوعارفین باللہ اورصوفیامشائخ سے محبت وعقیدت رکھتے ہیں اس میں ہم کہاں تک سچے ہیں،اور ہماری یہ عقیدت ومحبت کہیں رسمی تو نہیں؟ میرے خیال میں اس کی حقیقت واصلیت کو چانچنے کرنے کا آسان ساطریقہ یہ ہے کہ ہم اپنااپنامحاسبہ کریں اور یہ دیکھیں کہ جن مشائخ سے ہم محبت و عقیدت کے دعویدار ہیں اُن کے اعمال وکردار کا اثر ہماری دنیوی اوردینی زندگی پر کس قدر ہے؟ اُن کے فرمودات وتعلیمات پر ہم کہاں تک عمل کررہے ہیں اوراُن کے پیغامات کے سانچے میں واقعی ہم ڈھل بھی رہے ہیں یا اُن کے پیغامات کو اپنے بنائے ہوئے سانچے میں ڈھال رہے ہیں؟اگرہمارے اندراُن کے اعمال وکردارکااثر ہےتوالحمدللہ!ورنہ ہم اپنے اندرموجودعیوب ونقائص کودورکرنے کی پوری پوری کوشش کریں۔ وہ اس طورپر کہ اپنے محبوب ومقتدامشائخ کےقابل تقلید اعمال وکردار کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں اوراُنھیں اپنی دنیوی ودینی زندگی میں نافذ کریں ،اور جس طرح اُن نفوس قدسیہ نے ایک دوسرے کی عزت نفس کا خیال رکھا اور عیب پوشی کے ساتھ اختلاف کی صورت میں بھی اتحاد واتفاق کادامن نہیں چھوڑا،اسی طرح ہم بھی ایک دوسرے کی عزت نفس کا خیال رکھیں اورعیب پوشی کے ساتھ اختلاف کے باوجود اتحاد واتفاق کا دامن نہ چھوڑیں ۔ مثلاًیہ واقعات دیکھیں:

۱۔ایک بار شیخ شہا ب الدین سہروردی اور شیخ اکبر ابن عربی کا آمنا سامنا ہو ا۔ دو نو ں بزرگوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، لیکن کوئی بات نہیں کی،اور دونوں اپنی اپنی منزل کی طرف بڑھ گئے۔ یہ دیکھ کر ایک شخص نے شیخ اکبر ابن عربی سے دریافت کیاکہ شیخ شہاب الدین سہروردی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ اس پر اُنھوں نے فرمایا:

 مَمْلُوْءُ سُنَّۃٍمِّنْ فَوْ قِہٖ إلٰی قَدْمِہٖ۔

یعنی وہ سرسے پاؤں تک سنت مبارکہ میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

اس کے بعد اُس شخص نے شیخ شہا ب الدین سہر وردی سے دریافت کیاکہ شیخ اکبر ابن عربی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟اس پر اُنھوں نےفرمایا :

 ھُوَ بَحْرُ الْحَقَا ئِقِ۔

 یعنی وہ حقائق ومعارف کے سمندر ہیں ۔

۲۔امام شافعی کااپنےشاگرد یونس بن عبد الاعلیٰ سے ایک مسئلےمیں مبا حثہ ہو گیااوروہ دونوں ایک رائے پر متفق نہ ہو سکے ۔ پھرجب کچھ دنوں بعد امام شافعی کی ملاقات یونس بن عبدالاعلیٰ سے ہوئی، توامام شافعی نے اُن کا ہاتھ تھاما اور فر مایا:کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم بھائی بھائی بن کر رہیں،اگرچہ ایک مسئلے میں ہمارا اتفاق نہیں۔

 ۳۔ایک بار مخدوم بہار شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری کا گذر ایک گاؤں سےہوا۔عصر کا وقت تھا،جماعت کھڑی تھی،اور باوضوبھی تھے ،جماعت میں شامل ہوگئے ۔نمازبعد چلنے لگے کہ ایک شخص نے اُن کو پہچان لیا،پھر اُن سے کہنے لگا کہ حضور! جس امام کے پیچھے آپ نے نماز اداکی ہے وہ ایک شرابی ہے۔آپ نے فرمایاکہ وہ رات میں پیتا ہوگا دن میں نہیں ۔اس شخص نے کہا کہ نہیں، حضور! دن میں بھی پیتاہے،پھر انھوں نے فرمایاکہ اچھا روزروزنہیں پیتاہوگا۔اُس شخص نے پھر کہا کہ نہیں، حضور!وہ روز پیتا ہے ،پھر اُنھوں نے فرمایا کہ اچھا عام دنوں میں پیتا ہوگا رمضان کے دنوں میں نہیں پیتا ہوگا ۔غرض کہ وہ شخص امام کے عیب کو مزے لے لے کر بیان کرتا رہا اور مخدوم بہار اُس کی عیب پوشی کرتے رہے۔یہ خبر امام تک پہنچی تو وہ فوراً مخدوم بہار کی خدمت میں پہنچا اور یہ کہہ کر تائب ہوگیا کہ حضور!ہرایک نےمیرے عیبوں کوبیان ہی کیا،آج تک کسی نےاس پر پردہ نہیں ڈالا۔ آپ وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے نہ صرف میرے عیبوں کو چھپایاہے بلکہ مجھے ذلیل ورسوا ہونے سے محفوظ رکھنے کی کوشش بھی کی ہے۔

 یہ سن کر مخدوم بہار نے فرمایاکہ یہ کوئی بڑی بات نہیں ۔سنو! اللہ رب العزت جب ہمارے ہزاروں عیبوں کو چھپاسکتا ہے اور دنیا والوں کے سامنے رسوا ہونےسے بچاسکتا ہے تو کیا ہم اُس کےبندے ہوکر مخلوق کےایک عیب کو بھی چھپانہیں سکتے۔

 ان تینوں واقعات میں جس مثبت فکراوراِکرام واحترام کے جس جذبےکا اظہار کیاگیا ہے ،میرے خیال میں اس کے پیچھے اصل وجہ یہی ہے کہ یہ اشخاص نہ صرف اپنی عزت نفس کے رکھوالے تھے بلکہ تمام مخلوقات کی عزت نفس کے محافظ بھی تھے،اوریہ اُسی کی برکت ہے کہ لاکھ اختلاف کے باوجودیہ لوگ آپس میںایک دوسرےکا ازحداِکرام واِحترام کیاکرتے تھے ،جس کا نتیجہ یہ نکلاکہ شروفساد سراُٹھانے سے پہلے ہی سرنگوں ہوگیا۔ اِنھیں باتوں کی تعلیم دیتے ہوئےسلطان العارفین مخدوم شاہ عارف صفی فرماتے ہیں: ہر شخص کوچاہیے کہ دوسروں کو اپنے سے افضل جانے، اپنے عیبوں کو دیکھے،اور دوسروں کے عیوب پر نگاہ نہ رکھے۔

 گویا اِن مشائخ کےمذکورہ بالا اعمال وکردارواضح طورپر ہمیں یہ پیغام وترغیب دیتے ہیں کہ ہم اپنے اعمال وکردارکاپل پل جائزہ لیں کہ ہم ایک دوسرے کی عزت نفس کاخیال کہاں تک رکھتے ہیں؟کیا اختلاف اور عدم اتفاق کی صورت میں بھی ہم آپسی اخوت ومروت کا مظاہرہ کرتے ہیں؟اور کیاہم اپنے بھائیوں کے عیوب کی پردہ پوشی کرکے اُسے ذلیل و رسوا ہونے سے بچاتے ہیں؟چنانچہ بالخصوص آج کے اس افراتفری کے ماحول میں جب کہ ایک سے ایک قدآور شخصیات ایک دوسرے کی عزت نفس کاخیال نہیں رکھ پارہی ہیں عارفین باللہ اورصوفیامشائخ سے محبت وعقیدت اوربھی ناگزیر ہوگئی ہےکہ ایک طرف اُن سے عقیدت ومحبت ہمیں برائیوں میں ملوث ہونے سے محفوظ رکھے گی تو دوسری طرف ہمارے دلوں میں دیگر علماو مشائخ کے احترام واکرام کا جذبہ بیدارکردے گی ،اورپھرہم تخریب کاری کی جگہ تعمیری عمل کافریضہ انجام دے سکیں گے۔