أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَوۡمَ تَجِدُ كُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ مِنۡ خَيۡرٍ مُّحۡضَرًا ۖۚ ۛ وَّمَا عَمِلَتۡ مِنۡ سُوۡٓءٍ ۚۛ  تَوَدُّ لَوۡ اَنَّ بَيۡنَهَا وَبَيۡنَهٗۤ اَمَدًاۢ بَعِيۡدًا ‌ؕ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفۡسَهٗ‌ؕ وَاللّٰهُ رَءُوۡفٌۢ بِالۡعِبَادِ

ترجمہ:

وہ دن جس میں ہر شخص اپنی کی ہوئی نیکی کو (بھی) حاضر پائے گا اور اپنی کی ہوئی برائی کو (بھی) اور وہ یہ خواہش کرے گا کہ اس شخص کے اور اس دن کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہوتا ‘ اور اللہ تعالیٰ اپنی ذات (کے غضب) سے ڈراتا ہے اور اللہ بندوں پر نہایت مہربان ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ دن جس میں ہر شخص اپنی کی ہوئی نیکی کو (بھی) حاضر پائے گا اور اپنی کی ہوئی برائی کو (بھی) حاضر پائے گا اور وہ یہ خواہش کرے گا کہ اس شخص کے اور اس دن کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہوتا ‘ اور اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات (کے غضب) سے ڈراتا ہے اور اللہ تعالیٰ بندوں پر نہایت مہربان ہے۔ (آل عمران : ٣٠)

وعد اور وعید اور ترغیب اور ترہیب :

اس آیت کے پہلے حصہ میں ترہیب ہے اور دوسرے حصہ میں ترغیب ہے۔ اس میں فرمایا ہے کہ ہر شخص قیامت کے دن اپنی کی ہوئی نیکی اور برائی کو حاضر پائے گا۔ اس پر یہ سوال ہے کہ انسان کے کئے ہوئے اعمال تو اس سے صادر ہونے کے بعد باقی نہیں رہتے پھر قیامت کے دن یہ اعمال کیسے موجود ہوں گے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قیامت کے دن صحائف اعمال موجود ہوں گے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

(آیت) ” انا کنا نستنسخ ماکنتم تعملون “۔ (الجاثیہ : ٢٩ )

ترجمہ : بیشک ہم لکھتے رہے جو کچھ تم کرتے تھے۔

(آیت) ” یوم یبعثھم اللہ جمیعافینبئھم بما عملوا احصہ اللہ ونسوہ واللہ علی کل شیء شھید “۔۔ (المجادلہ : ٦)

ترجمہ : جس دن اللہ سب کو جمع کرے گا پھر ان کے کئے ہوئے کاموں کی ان کو خبر دے گا اللہ نے ان سب کو محفوظ کرلیا ہے اور وہ انہیں بھول چکے ہیں ‘ اور اللہ پر ہر چیز پر گواہ ہے۔

مومن المجادلہجن گناہوں سے توبہ کرلیتا ہے اللہ تعالیٰ ان کو صحیفہ اعمال سے مٹا دیتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے کرم سے یہ متوقع ہے کہ جن گناہوں پر بندے نے توبہ کرلی ہے وہ اس عموم سے مستثنی ہوں گے۔

اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر انسان اپنے کئے ہوئے عمل کی جزا پائے گا ‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(آیت) ” فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ۔ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ “۔ (الزلزال : ٨۔ ٧)

ترجمہ : سو جس نے ذرہ برابر نیکی کی وہ اس (کی جزا) کو دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی وہ اس (کی سزا) کو دیکھے گا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اللہ تمہیں اپنی ذات کے غضب سے ڈراتا ہے اس میں وعید کا بیان ہے اس کے ساتھ ہی فرمایا اللہ عباد (اپنے بندوں) پر نہایت مہربان ہے ‘ وعید کے بعد وعد کا ذکر فرمایا کیونکہ ایمان خوف اور امید کے مابین ہے اور وعد میں رؤف مبالغہ کا صیغہ ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ اس کی وعید پر اور اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال علم اور وسعت قدرت کا ذکر کرکے یہ ظاہر فرمایا کہ وہ ہر ظاہر اور ہر باطن چیز کے مواخذہ پر قادر ہے سو اس کے غضب سے ڈرنا چاہیے اس کے ساتھ اپنے رؤف ہونے کا ذکر کیا کیونکہ وہ بندہ کے گناہوں پر فوری گرفت نہیں کرتا بلکہ وہ بندوں کو اللہ سے توبہ کرنے اور اس گناہ کی تلافی اور تدارک کی مہلت دیتا ہے ‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عباد کا لفظ استعمال فرمایا ہے کہ وہ عباد پر رؤف ہے اور قرآن مجید میں عباد کا لفظ زیادہ تر نیکوکاروں پر آیا ہے۔ :

(آیت) ” وعبادالرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا “۔ (الفرقان : ٦٣)

ترجمہ : رحمن کے بندے (وہ ہیں) جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے شیطان کا قول نقل فرمایا :

(آیت) ” ولا غوینہم اجمعین۔ الاعبادک منھم المخلصین “۔ (الحجر : ٤٠۔ ٣٩)

ترجمہ : اور میں ضرور ان سب کو گمراہ کروں گا ماسوا تیرے ان بندوں کے جو ان میں سے چن لئے گئے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے کفار اور فساق کی وعید کا ذکر کیا پھر مومنین اور صالحین کے لئے وعدہ کو ذکر کیا اور یہ ظاہر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس طرح کفار اور فساق کو سزا دینے والا ہے اسی طرح مطیعین اور محسنین کو جزا دینے والا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 30