حدیث نمبر :184

روایت ہے حضرت مالک ابن انس سے مرسل ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں نے تم میں دوچیزیں وہ چھوڑی ہیں جب تک انہیں مضبوط تھامے رہو گے گمراہ نہ ہوگے اﷲ کی کتاب اور اس کے پیغمبرکی سنت ۲؎ یہ روایت موطا میں ہے۔

شرح

۱؎ محدثین کے نزدیک مرسل وہ حدیث ہے جس میں صحابی کا ذکر نہ ہو،تابعی یہ کہہ دیں کہ حضور نے فرمایا۔مگر فقہا کے نزدیک وہ حدیث بھی مرسل ہے جس میں تابعی اور صحابی دونوں چھوٹ گئے ہوں تبع تابعی فرمادیں کہ حضور نے یہ فرمایا۔یہاں فقہی مرسل مراد ہے کیونکہ امام مالک تابعی نہیں تبع تابعی ہیں وہ فرماتے ہیں حضور نے ارشاد فرمایا۔

۲؎ کتاب اﷲ سے قرآن کریم کی غیر منسوخ آیات مراد ہیں۔سنت سے وہ حدیثیں مراد ہیں جو امت کے لیئے قابل عمل ہیں،منسوخ آیتیں اور حدیثیں اور ایسے ہی حضور کے خصوصیات پر عمل ناممکن ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دین کے اصل اصول قرآن و سنت ہیں چونکہ حضور کے زمانہ میں اجماع ناممکن تھا اور قیاس مجتہدین کتاب و سنت سے ملحق ہے کہ اگر آیت پر قیاس ہے تو وہ قیاس قرآن سے ملحق اور اگر سنت پر ہے تو سنت سے ملحق،اس لیئے ان دونوں کا یہاں ذکر نہ ہوا،نیز اماموں کی تقلید کتاب وسنت سمجھنے کے لیئے ہے انہیں چھوڑنے کے لیئے نہیں،لہذا یہ حدیث غیرمقلدوں کی دلیل نہیں بن سکتی جب وہ حضرات حدیث سمجھنے کے لیئے علم صرف و نحو،لغت و ادب سے مدد لیتے ہیں تو اگر ہم بھی اس کے لیئے فقہ سے مدد لیں تو کیا حرج ہے۔اس کی پوری بحث ہماری کتاب”جاء الحق”حصہ اول میں دیکھو۔