حدیث نمبر :185

روایت حضرت غضیف بن حارث ثمالی ۱؎ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کوئی قوم بدعت نہیں ایجاد کرتی مگر اسی قدر سنت اٹھالی جاتی ہے ۲؎ لہذا سنت کو پکڑنا بدعت کی ایجاد سے بہتر ہے۳؎(احمد)

شرح

۱؎ آپ کی صحابیت میں اختلاف ہے،ابن حبان نے کتاب الثقات میں فرمایا کہ غضیف فرماتے ہیں کہ حضور کے زمانہ میں پیدا ہوا اور لڑکپن میں آپ سے مصافحہ اور بیعت کی اگر یہ روایت صحیح ہے تو آپ صحابی ہیں ثُمالہ قبیلہ بنی ازد کی ایک شاخ ہے جس سے آپ تعلق رکھتے ہیں اس لیئے ثمالی کہے جاتے ہیں۔

۲؎ یہ حدیث ان تمام حدیثوں کی تفسیر ہے جس میں بدعت کی برائیاں آئیں یعنی بری بدعت وہی عمل ہے جو سنت کے خلاف ایجاد کیا جائے جس پر عمل کرنے سے سنت چھوٹ جائے۔مثلًا عربی میں خطبہ نماز و اذان سنت ہے،اب اردو میں ادا کرنا اس سنت کو مٹا دے گا کہ اردو میں اذان دینے والا عربی میں نہ دے سکا۔ایسے ہی سرڈھک کر پاخانے جانا سنت ہے ننگے سر پاخانے جانے والا اس سنت میں عمل نہ کرسکا،ہر بری بدعت کا یہی حال ہے،معمولی بدعت چھوٹی سنت کو مٹا دے گی اور بڑی بدعت بڑی سنت کو۔ “مثلھا”سے یہی مراد ہے بدعت حسنہ سنت کو مٹاتی نہیں بلکہ کبھی سنت کو رائج کرتی ہے۔دیکھوعلم دین سکھاناسنت ہے اب اس کے لیئے کتابیں چھاپنا،مدرسہ بنانا،وہاں تعلیم کے نصاب اورکورس بنانا اگر چہ بدعت ہیں مگر سنت کے معاون نہ کہ مخالف،بزرگوں کی یادگاریں قائم کرنا سنت ہیں،اب اس کے لیئے میلاد شریف کی محفلیں،عرسوں کی مجالس قائم کرنا اس کی معاون ہیں نہ کہ مخالف۔اسی جگہ مرقاۃ نے فرمایا کہ بدعت حسنہ سنت سے ملحق ہے۔

۳؎ یہاں خیرشر کے مقابلے میں ہے،یعنی بری بدعتیں ایجادکرنا بُرا اور اس کے مقابل سنت پر عمل کرنا اچھا کہ سنت پر نور ہے اور بری بدعت میں تاریکی،یہ مطلب نہیں کہ بری بدعتیں بھی ٹھیک ہیں مگر سنتیں اچھی۔