حدیث نمبر :188

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں جس نے قرآن سیکھا ۱؎ پھر اس کی اتباع کی۲؎ اﷲ اسے دنیا میں گمراہی سے بچائے گا اور قیامت کے دن سخت عذاب سے محفوظ رکھے گا ۳؎ ایک روایت میں ہے کہ فرماتے ہیں جو قرآن کی پیروی کرے گا وہ دنیا میں گمراہ اور آخرت میں بدبخت نہ ہوگا پھر یہ آیت تلاوت کی کہ جو میری ہدایت کی اتباع کرے وہ نہ گمراہ ہو اور نہ بدنصیب۴؎ (رزین)

شرح

۱؎ یعنی قران پڑھنا سکھایا،اسے حفظ کیا،یا اس کے احکام سیکھے،یا علم تجوید،یہ کلمہ ہرقسم کے قرآنی علم کو شامل ہے۔خیال رہے کہ فقہ،اصول فقہ اور حدیث سیکھنا بھی بالواسطہ قرآن ہی سیکھنا ہے۔ان شاءاﷲ اس پربھی اجر ہے۔

۲؎ یعنی احکام قرآن پرصحیح عمل کیا حدیث اور فقہ کی روشنی میں لہذا اس سے چکڑالوی دلیل نہیں پکڑ سکتے۔

۳؎ معلوم ہوا کہ علمائے دین اور خدام قرآن کی دنیا بھی کامیاب ہے اور آخرت بھی مگر یہ وہی لوگ ہیں جنہیں قرآن کی صحیح فہم اور اس پر صحیح عمل نصیب ہو چکڑالویوں کی طرح محض عقل سے قرآن سمجھنے والا گمراہ ہوگا۔رب فرماتا ہے:”یُضِلُّ بِہٖ کَثِیۡرًا وَّیَہۡدِیۡ بِہٖ کَثِیۡرًا”۔

۴؎ خیال رہے کہ جیسے اس حدیث کی بنا پر ہم سنت رسول اﷲ سے بے نیاز نہیں ہوسکتے اور فقط قرآن پر کفایت نہیں کرسکتے ایسے ہی پچھلی ہدایت کی بنا پر جس میں کتاب و سنت کا ذکر ہے ہم فقہ اور قیاس مجتہدین سے بے نیاز نہیں ہوسکتے۔اس سے اہل حدیث حضرات کو عبرت پکڑنی چاہیے۔