جہنمیوں کی پہچان

جہانگیر حسن مصباحی

والدین کا حق

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

اَنَّ رجُلاً قَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!ما حَقُّ الْوَالِدَیْنِ عَلٰی وَلَدِ ھِمَا؟ قَالَ: ھُمَا جَنَّتُکَ و نَا رُکَ۔ (سنن ابن ماجہ،باب:بر الوالدین)

 ترجمہ: ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ!ﷺ ماں باپ کا اولاد پر کیا حق ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ دونوں تمہارے لیے جنت بھی ہیں اور جہنم بھی۔

 اس حدیث پاک سے تین باتیں معلوم ہوتی ہیں:

 ۱۔ ماں باپ کارتبہ اوراُن کی عظمت کا اظہار

 ۲۔اُن اولادکے لیے جہنم کی سزاہےجو اپنے ماں باپ کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہیں۔

۳۔ اُن اولاد کے لیے جنت ٹھکانہ ہے جو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں۔

یعنی جو شخص اپنے ماں باپ کو راضی رکھتاہے وہ جنتی ہے اور جو اُنھیں ناراض رکھتاہے وہ دوزخی ہے۔

 جہنمیوں کی پہچان

حضرت عبد اللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہماکا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا:

لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَاقٌّ وَلَا قَمَّارٌ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ۔ (مسنداحمد،مسندعبداللہ ابن عمرو)

 ترجمہ: والدین کی نافرمانی کرنے والا، جوا کھیلنے والا، احسان جتانے والا اور شراب کا عادی جنت میں نہیں جائےگا۔

 اس حدیث پاک میں چار اشخاص کو جہنمی بتایاگیا ہے:

۱۔ ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا،کیوںکہ ماں باپ کی ناراضگی میں رب تبارک و تعالیٰ کی ناراضگی ہے اورجواللہ کو ناراض رکھتا ہےاُس کا ٹھکانہ جہنم کے سوا اور کہاں ہوسکتاہے۔

۲۔ جوا کھیلنے والا،یعنی وہ کھیل جس میں روپے اور دولت کی بازی لگائی جاتی ہے۔

۳۔احسان جتانے والا،یعنی جوشخص کسی پر احسان کرکے اس سے اس کا بدلہ چاہتا ہے، اسے حقیر سمجھتا ہے یااس سے اپنی تعریف و خوشامدچاہتاہے۔ایسے احسان کرنے والے کو نہ تو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اورنہ اُس کا رسول،پھر جنھیں اللہ و رسول پسندہی نہ کریں اس کا ٹھکانہ جہنم ہی تو ہے۔

۴۔ شراب کاعادی، شراب حرام ہے جس کے استعمال سے اللہ تعالیٰ نے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے،اورجو شخص حرام عمل کرتاہے اس کی سزا جہنم ہے۔

 سچ اور جھوٹ 

حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

 اِنَّ الصِدْقَ بِرٌّ اِنَّ البِرَّ یَھْدِیْ اِلَی الْجَنَّۃِ وَ اِنَّ الکِذْبَ فُجُوْرٌ وَ اِنَّ الفُجُوْرَ یَھْدِیْ اِلَی النَّارِ۔ (صحیح مسلم،باب: قبح الکذب وحسن الصد۱ق)

 ترجمہ: سچ بولنا نیکی ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے۔ جھوٹ بولنا براعمل (گناہ) ہے اور برا عمل (گناہ)دوزخ میں پہنچادیتا ہے۔

غیبت اورچغلی 

حضرت عبد الرحمن بن غنم اور اسما بنت یزید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

شِرَارُ عِبَادِ اللّٰہِ الْمَشَّاؤُنَ بِالنَّمِیْمَۃِ۔ اَلْمُفَرِّقُوْنَ بَیْنَ الاَحِبَّۃِ۔(مسنداحمد،حدیث عبدالرحمن بن غنم اشعری)

 ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے بدترین بندے وہ ہیں جو لوگوں میں چغلی کھاتے پھرتے ہیں اور دوستوں کے درمیان جدائی ڈالتے رہتےہیں۔

 چغلی کے ذریعے انسان دو جرموں کا ارتکاب کرتا ہے:

 ۱۔ اللہ کی حرام کی ہوئی چیز کو اپناتا ہے جو آخرت کے لیے گھاٹے کا سودا ہے ۔

 ۲۔ اپنے دوستوں کو خود سے جدا کر لیتا ہے جو سماج و معاشرے میں ہر جگہ نقصان دہ ہے۔

بعض دفعہ انسان گفتگو کے دوران کچھ ایسی باتیں کہہ جاتا ہے جسے وہ جھوٹ، چغلی اور گناہ نہیں سمجھتا،جب کہ وہی باتیں انسان کے لیے دھیرے دھیرے سختی اور عذاب کی شکلیں اختیار کر لیتی ہیں۔

 اہل وعیال پر خرچ کرنا 

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:

 دِينَارٌ أَنْفَقْتَهٗ فِي سَبِيْلِ اللهِ وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهٗ فِي رَقَبَةٍ، وَدِينَارٌ تَصَدَّقْتَ بِهٖ عَلٰى مِسْكِيْنٍ، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهٗ عَلٰى أَهْلِكَ، أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذِي أَنْفَقْتَهٗ عَلٰى أَهْلِكَ۔(صحیح مسلم ،فضل النفقۃ علی العیال)

ترجمہ: ایک دینار وہ ہے جسے تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہو،اور ایک دینار وہ ہے جسے تم غلام پر خرچ کرتے ہو،اورایک دینار وہ ہے جس کو تم مسکین پر صدقہ کرتے ہو،نیز اس میں ایک دینار و ہ بھی ہے جسے تم اپنے اہل وعیال پر خرچ کرتے ہو،اُن میں سب سے زیادہ اجر اُس دینا ر پرملے گا جس کو تم اپنے اہل پر خرچ کرتے ہو۔

 گویااللہ کی راہ میں اورغلام ومسکین پرخرچ کرنےکے مقابلے اپنےاہل و عیال پرخرچ کرنا اوراُسے تعلیم وتربیت دینا زیادہ بہتر اور ثواب کا کام ہے۔

حضرت ابو مسعودبدری کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں:

 إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلٰى أَهْلِهٖ نَفَقَةً، وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا، كَانَتْ لَهٗ صَدَقَةً۔ (صحیح مسلم،فضل النفقۃ)

ترجمہ : مسلمان جب اپنے اہل و عیال پر ثواب کی امید سے خرچ کرتا ہے تو یہ بھی ایک طرح سے صدقہ ہے ۔

یعنی اپنے اہل وعیال پر خرچ کرتے وقت یہ نیت کرلی جائے کہ اس عمل کی وجہ سے اللہ اُسے ثواب عطافرمائے گا تو اس صورت میں اوربھی ثواب ہوگا۔

 

زکاۃ نہ دینے کا نقصان 

حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:

 انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ:هُمُ الْأَخْسَرُوْنَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ:فَجِئْتُ حَتَّى جَلَسْتُ، فَلَمْ أَتَقَارَّ أَنْ قُمْتُ، فَقُلْتُ: يَارَسُولَ اللهِ!فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي،مَنْ هُمْ؟ قَالَ:هُمُ الْأَكْثَرُوْنَ أَمْوَالًا، إِلَّا مَنْ قَالَ هٰكَذَا وَهٰكَذَا وَهٰكَذَا،مِنْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ وَعَنْ يَمِينِهٖ وَعَنْ شِمَالِهٖ ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ، مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ، وَلَا بَقَرٍ، وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ، وَأَسْمَنَهٗ تَنْطَحُهٗ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا، كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا، عَادَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا، حَتّٰى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ۔ (صحیح مسلم،باب تغلیظ العقوبۃ)

 ترجمہ : میں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا،اُس قت آپ کعبہ کے سائے میں تشریف فرماتھے، آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایاکہ رب کعبہ کی قسم!وہ لوگ خسارے والے ہیں۔ میں آکر بیٹھ گیا پھر بےقراری کے عالم میں کھڑا ہوا ، اور عرض کیا :یا رسول اللہ!آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، وہ کون لوگ ہیں؟

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ لوگ بڑے بڑے سرمایہ دار ہیں۔لیکن اُن کے سواجواِس طرح اِس طرح یعنی آگے پیچھے دائیں بائیں خرچ کرتے ہیں ، ایسے سرمایہ دار بہت کم ہیں ،اور جو شخص اونٹ یاگائے یا بکریاں رکھتا ہو، اور اُن کی زکاۃ نہ دیتاہو، توقیامت کے دن وہ جانور پچھلے تمام دنوں سے زیادہ فربہ اور چرب ہوکر آئیں گے اور اپنے سینگوں سے اس کو ماریں گے اور کھروں سے روندیں گے ۔ جب آخری جانور روند کر گزر جائے گا تو پھر پہلا روندنے کے لیے آجائے گا اور فیصلہ ہونے تک یونہی عذاب ہوتا رہے گا ۔

اس حدیث پاک میں اُن ما ل داروںپر سخت ملامت کی گئی ہے جن پرزکاۃ فرض ہے ،لیکن وہ زکاۃ نہیں اداکرتے ہیں اور حیلہ بہانہ سے کام لیتے ہیں۔

 

بخیلی اور بدخلقی 

 حضرت ابو سعید خدری کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

خَصْلَتَانِ لَاتَجْتَمِعَانِ فِي مُؤْمِنٍ: البُخْلُ وَسُوءُ الخُلُقِ۔ (سنن ترمذی،باب البخل )

 ترجمہ: مومن میں دوخصلتیں اکٹھا نہیں ہوتیں،ایک بخل اور بد خلقی ۔

 اس حدیث پاک سے معلوم ہواکہ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والوں کو بخیل کہا گیا ہے،اس لیے ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ جس قدراور جو کچھ میسر آئے اللہ کی راہ میں خرچ کرے،تاکہ اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا اور خوشنودی حاصل ہو۔