أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذُرِّيَّةًۢ بَعۡضُهَا مِنۡۢ بَعۡضٍ‌ؕ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ‌ۚ

ترجمہ:

ان میں سے بعض ‘ بعض کی اولاد ہیں اور اللہ بہت سننے والا، خوب جاننے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان میں سے بعض، بعض کی اولاد ہیں اور اللہ تعالیٰ بہت سننے والا اور خوب جاننے والا ہے۔

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے بعض ‘ بعض کی حقیقی اولاد ہیں تو حضرت آدم (علیہ السلام) کے سوا باقی سب حضرت آدم کی اولاد ہیں یا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب ایک دوسرے کی معنوی اولاد ہیں اور توحید ‘ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور اخلاص میں ایک دوسرے کے متبع ہیں ‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ بہت سننے والا خوب جاننے والا ہے ‘ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتوں کو سننے والا ہے اور ان کے کاموں اور ان کے دلوں کی باتوں کو جاننے والا ہے اور اپنی مخلوق میں سے جس کے اقوال اور افعال کی استقامت کا اس کو علم ہوتا ہے اس کو منتخب فرما لیتا ہے اور اسی کو فضیلت عطا فرماتا ہے ‘ جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

(آیت) ” اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ “۔ (الانعام : ١٢٤)

ترجمہ : اللہ اپنی رسالت رکھنے کی جگہ کو خوب جانتا ہے۔

(آیت) ” انھم کانوا یسارعون فی الخیرات ویدعوننا رغبا ورھبا وکانوا لنا خشعین “۔ الانبیاء 90

ترجمہ : بیشک یہ (انبیاء) نیک کاموں میں جلدی کرتے تھے ‘ اور (ہماری رحمت کی) توقع اور (ہمارے جلال کے) خوف سے ہم سے دعا کرتے تھے اور ہمارے لئے عاجزی کرنے والے تھے اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہودیہ کہتے تھے کہ ہم آل ابراہیم اور آل عمران سے ہیں اس لئے ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں اور عیسائی یہ کہتے تھے کہ عیسیٰ اللہ کے بیٹے ہیں ‘ حالانکہ ان کو یہ علم تھا کہ یہ اقوال باطل ہیں لیکن انکے علماء اغراض باطلہ کی بنا پر یہ کہتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اللہ ان کے باطل اقوال کو سننے والا ہے اور ان کی اغراض فاسدہ کو جاننے والا ہے، تو اس آیت کا اول حصہ انبیاء (علیہم السلام) کی فضیلت میں ہے اور اس کا آخری حصہ ان کے منکرین کی مذمت اور تہدید میں ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 34