حدیث نمبر :189

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ نے سیدھے راستہ کی مثال قائم فرمائی ۱؎ اور اس راستہ کے دوطرفہ دو دیواریں ہیں جن میں کھلے ہوئے دروازے ہیں دروازوں پر پردے لٹکے ہیں راستہ کے کنارے پر پکارنے والا کہہ رہا ہے کہ راستہ پر سیدھے چلے جاؤ ٹیڑھے نہ ہونا اس کے اوپر ایک منادی بھی ہے جو پکارتا ہے جب کوئی بندہ ان میں سے کوئی دروازہ کھولنا چاہتا ہے تو داعی کہتا ہے ہائے افسوس اسے نہ کھول اگر کھولے گا تو اس میں گھس جائے گا۲؎ پھر اس کی تفسیر یوں فرمائی کہ راستہ تو اسلام ہے ۳؎ اور کھلے ہوئے دروازے اﷲ کے محرمات ہیں۴؎ اور لٹکے ہوئے پردے اﷲ کی حدیں ہیں۵؎ اور راستے کے کنارے پر پکارنے والا قرآن ہے اور اس کے اوپر بلانے والا اﷲ کا واعظ ہے جو ہر مؤمن کے دل میں ہوتا ہے ۶؎ اسے رزین نے روایت کیا۔

شرح

۱؎ یہ حدیث قدسی ہے،کیونکہ یہ مضمون قرآن شریف میں نہیں آیا،حضور پر وحی ہوا جسے حضور نے رب تعالٰی کی نسبت سے اپنے الفاظ میں بیان فرمایا اسی کو حدیث قدسی کہتے ہیں۔سیدھے راستہ سے مراد نبوت کا راستہ ہے رب تک پہچانے والا۔اب وہ قرآنی راستہ ہے کہ کوئی شخص اب دین موسوی یا عیسوی میں رہ کر رب تک نہیں پہنچ سکتا پرانی جنتری گمراہ کرتی ہے۔

۲؎ سبحان اﷲ! کیا پیاری تمثیل ہے۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں سچ اور جھوٹ،نقل و اصل ملے ہوئے ہیں مگر ان میں امتیاز کرنے کے لیئے رب نے بڑے انتظامات فرمادیئے ہیں۔ڈیری فارم کا دودھ اور خالص دودھ دونوں سفید ہیں،ولایتی اور دیسی سونا دونوں پیلے ہیں،اصلی اورنقلی گھی دونوں یکساں ہیں مگر قدرت نے ان میں فرق کرنے کے لیئے کسوٹی اور دوسرے آلے پیدا فرمادیئے ہیں۔ایسے ہی یہاں نقلی نبی بھی ہیں،نقلی دین بھی،نقلی کتابیں بھی،نقلی مولوی،بلکہ نقلی خدا بھی کیونکہ دنیا امتحان گاہ ہے ان میں فرق کے لیئے رب نے وہ انتظامات فرمائے جو آگے آرہے ہیں۔

۳؎ کہ اس کے بغیر خدا رسی ناممکن ہے رب فرماتا ہے:”وَمَنۡ یَّبْتَغِ غَیۡرَ الۡاِسْلٰمِ دِیۡنًا فَلَنۡ یُّقْبَلَ مِنْہ”۔

۴؎جنہیں رب نے جرم قرار دیا جیسے ارتداد،چوری،زنا وغیرہ لہذا یہ کلمہ بدعقیدگی بدعملی سب کو شامل ہے۔

۵؎جس سے آگے بڑھنا جرم ہے ا س سے مراد رب تعالٰی کے احکام اور ممانعتیں ہیں بلکہ بعض جرموں پر سزائیں ہیں جیسے ارتداد پر قتل،زنا پر رجم،چوری پر ہاتھ کاٹنا۔

۶؎یعنی رب نے داخلی اور خارجی دو واعظ عطا فرمائے ہیں،خارجی واعظ قرآن ہے اور داخلی واعظ وہ فرشتہ جو مؤمن کے دل میں اچھے خیال اور برائیوں سے نفرت پیدا کرتا رہتا ہے۔