حکایت نمبر86: شایداِسی میں بھلائی ہو!

حضرت سیدنا اعمش بن مسروق علیہ رحمۃ اللہ القدوس سے روایت ہے :” ایک نیک شخص کسی جنگل میں رہا کرتا تھا اس مرد صالح کے پاس ایک مرغ، ایک گدھا اور ایک کتا تھا ، مرغ صبح سویرے اسے نماز کے لئے جگاتا، گدھے پر وہ پانی اور دیگر سامان لاد کرلاتا اور کتا اس کے مال ومتا ع اور دیگر چیزوں کی رکھوالی کرتا۔

ایک دن ایسا ہوا کہ اس کے مرغ کو ایک لومڑی کھاگئی جب اس نیک شخص کو معلوم ہو اتو اس نے کہا : میرے لئے اس میں بہتری ہوگی(یعنی وہ اپنے رب عزوجل کی رضا پر راضی رہااور صبر کا دامن نہ چھوڑا ) لیکن گھر والے اس سے بہت پریشان ہوئے کہ ہمارا نقصان ہوگیا۔چند دن کے بعد ایک بھیڑیا آیا اور اس نے ان کے گدھے کو چیر پھاڑ ڈالا جب گھر والوں کو اس کی اطلاع ملی تو وہ بہت غمگین ہوئے اور آہ وزاری کرنے لگے کہ ہمارا بہت بڑا نقصان ہوگیا۔ لیکن اس نیک شخص نے کوئی بے صبری والے جملے زبان سے نہ نکالے بلکہ کہا کہ اس گدھے کے مرجانے ہی میں ہماری عافیت ہوگی، پھر کچھ عرصہ کے بعد کُتے کو بھی بیماری نے آلیا اور وہ بھی مرگیا ،لیکن اس صابر و شاکر شخص نے پھر بھی بے صبر ی اور ناشکری کا مظاہر ہ نہ کیا بلکہ وہی الفاظ دہرائے کہ ہمارے لئے اس کے ہلاک ہوجانے میں ہی عافیت ہوگی۔وقت گزرتا رہا کچھ دنوں کے بعد دشمنوں نے رات کو اس جنگل کی آبادی پر حملہ کیا اور ان تمام لوگو ں کو پکڑ کر لے گئے جو اس جنگل میں رہتے تھے ان سب کی قید کا سبب یہ بنا کہ ان کے پاس جانور وغیرہ موجود تھے جن کی آواز سن کر دشمن متوجہ ہوگیا اور دشمنوں نے جانوروں کی آواز سے ان کی رہائش کی جگہ معلوم کرلی پھر ان سب کو ان کے مال واَسباب سمیت قیدکر کے لے گئے۔لیکن وہ نیک شخص اور اس کا ساز وسامان سب بالکل محفو ظ رہا کیونکہ اس کے پاس کوئی جانور ہی نہ تھا جس کی آواز سن کر دشمن اس کے گھر کی طر ف آتے ۔اب اس نیک مرد کا یقین اس بات پر مزید پختہ ہوگیا کہ اللہ عزوجل کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے ۔” (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)(میٹھے اسلامی بھائیو!اس مرد کامل کا اس بات پر پختہ یقین تھاکہ اللہ عزوجل جب بھی ہمیں کسی مصیبت میں مبتلا کرتا ہے اس میں ہمارا ہی فائدہ اورہماری ہی بھلائی پیشِ نظر ہوتی ہے اگر چہ بظاہر نظر نہ بھی آئے )