صالحین کی قبروں سے تبرک اور عقیدۂ اسلاف

ضیاء الرحمان علیمی

امام احمد بن حنبل سے قبرنبوی کو چھونے اور چومنے کے بارے میں سوال کیاگیاتو اُنھوں نے اس عمل میں کوئی حرج نہیں سمجھا

صالحین کی قبروں پر دعا اور عقیدۂ اسلاف کے عنوان سے اسلاف کے جو واقعات بیان کیے گئے ہیں ان سے جہاں صالحین کی قبروں پر دعا کا جواز ثابت ہوتا ہے وہیں صالحین کی قبروں سے برکت حاصل کرنے کا عقیدہ بھی ثابت ہوتا ہے،کیوں کہ ان تمام واقعات میں صالحین کی قبروں کی زیارت اورپھراس مقام پر خصوصیت کے ساتھ دعا کا ذکر ملتاہے۔ویسےدعا توکہیں بھی کی جاسکتی ہے اور صالحین کا وسیلہ لینے کے لیےبھی ان کی قبروں پرجانا ضروری نہیں،بلکہ دور رہ کر بھی انھیں وسیلہ بنایاجاسکتا ہے لیکن خاص طورسے قبروں پر حاضر ہوکر دعاکرنایہ ثابت کرتا ہےکہ ہمارے اسلاف نے اس جگہ کی برکت اور صالحین کے جسموں کو سمیٹے ہونے کی وجہ سے خود ان قبروں کی برکت حاصل کرنے کا ارادہ کیااور صالحین کی قبروں کے واسطے سے رب تعالیٰ کے خیر کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔

خود شیخ ابن تیمیہ بھی قبروں پر دعاسے منع کرنے کے باوجود اِس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ صالحین کی قبریں برکت والے مقامات ہیں۔اپنی مشہورکتاب ’’اقتضاءالصراط المستقیم ‘‘میں لکھتے ہیں:

وَكَذٰلِكَ مَا يُذْكَرُ مِنَ الْكَرَامَاتِ،وَخَوَارِقِ الْعَادَاتِ، الَّتِي تُوْجَدُ عِنْدَ قُبُوْرِالْأنْبِيَاءِ وَالصَّالِحِيْنَ مِثْلَ نُزُوْلِ الْأنْوَارِ وَالْمَلَائِكَةِ عِنْدَهَاوَتَوَقِی الشَّيٰطِيْنِ وَالْبَهَائِمِ لَهَا،وَاِنْدَفَاعُ النَّارِعَنْهَاوَعَمَّنْ جَاوَرَهَا، وَشَفَاعَةُ بَعْضِهِمْ فِي جِيْرَانِهٖ مِنَ الْمَوْتٰى، وَاِسْتِحْبَابُ الْاِنْدِفَانِ عِنْدَ بَعْضِهِمْ،وَحُصُوْلُ الْأنْسِ وَالسَّكِيْنَةِ عِنْدَهَا،وَنُزُوْلُ الْعَذَابِ بِمَنْ اِسْتَهَانَهَا،فَجِنْسُ هٰذَا حَقٌّ۔ (جلد:۲،النوع الثانی،ص:۷۳۶،مکتبہ الرشد، الریاض )

 ترجمہ:یوں ہی انبیاوصالحین کی قبروں پر ظاہرہونے والی کرامتیں اور محیرالعقول باتیں مثلا وہاں پر انوار کا نازل ہونا،فرشتوں کا اُترنا،شیاطین اورجانوروں کاان کی قبروں سے دور رہنا،ان کا اور ان کے پڑوسیوں کا آگ سے محفوظ رہنا، اُن کے پڑوس میں رہنے والے مردوں کے حق میں ان کا شفاعت کرنا ، اُن کے جوار میں دفن کا مستحب ہونا،وہاں اُنس وسکینہ کا نازل ہونااور اُن کی قبروں کی بے حرمتی کرنے والوں پر عذاب کانازل ہونا، اس طرح کی دوسری باتیں برحق ہیں۔

مزیدآگے لکھتے ہیں:

 وَمَا فِي قُبُوْرِالْأنْبِيَاءِ وَالصَّالِحيْنَ،مِنْ كَرَامَةِ اللهِ وَرَحْمَتِهٖ، وَمَالَهَاعِنْدَاللهِ مِنَ الْحُرْمَةِوَالْكَرَامَةِ فَوْقَ مَايَتَوَهَّمَهٗ أكْثَرُ الْخَلْقِ۔ (نفس مصدر )

ترجمہ:انبیا اور صالحین کی قبروںپرجو اللہ تعالیٰ کی جانب سے کرامت ورحمت ہے اور اُن کی قبروں کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جو مقام ومرتبہ حاصل ہے وہ اکثر لوگوں کے وہم و گمان سے بڑھ کر ہے۔

 شیخ ابن تیمیہ کی ان تصریحات سے یہ بات تو روشن ہوجاتی ہے کہ انبیاوصالحین کی قبروں پر برکتوں کا نزول ہوتا ہے اور یہ برکت والے مقامات ہیں،کیوں کہ اصطلاح شریعت میں برکت یہ ہے کہ کسی چیز میںرب تعالیٰ کی جانب سے خیر کا ہونا ثابت ہوجائے،اوراس بناپر اس سےبرکت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تو اسی کو تبرک کہتے ہیں، اس لیے اب اگر کوئی بندہ مومن انبیاو صالحین کی قبروں پر پائی جانے والی برکتوں اور رحمتوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ کوئی شرکیہ عمل نہیں،بلکہ در حقیقت اس حدیث پاک پر عمل کرتاہے جس میں یہ فرمایاگیاہے:

 إنَّ لِلہِ فِی أیَّامِ دَہْرِکُمْ نَفْحَات ألَا فَتَعَرَّضُوْلَہَا۔ (معجم کبیر،محمدبن مسلمہ انصاری)

 ترجمہ:تمہارے زمانے کے اوقات میں رب تعالیٰ کی خوشبوئیں ہیں،اس لیے تم ان کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔

 یہ خوشبوئیں رب تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں۔اسی لیے ہمارے اسلاف کرام نے انبیاو صالحین کی قبروں سے برکت حاصل کیااور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ان میں سے چند کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں:

۱۔امام احمد بن حنبل(۲۴۱-۱۶۴ھ) 

 امام احمد بن حنبل بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو بطور تبرک چومنے کے جواز کے قائل ہیں۔

 حافظ ذہبی اپنی ’’معجم الشیوخ ‘‘میں فرماتے ہیں:

وَ قَدْ سُئِلَ اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ عَنْ مَسِّ الْقَبْرِ النَّبْوِیِّ وَتَقْبِیْلِہٖ فَلَمْ یَرَ بِذٰلِکَ بَاسًا،رَوَاہُ عَنْہُ وَ لَدُہٗ عَبْدُاللہِ ۔ (ذکر احمد بن عبدالمنعم،ص:۵۶،دارالکتب العلمیۃ بیروت:۱۹۹۰)

ترجمہ:امام احمد بن حنبل سے قبرنبوی کو چھونے اور چومنے کے بارے میں سوال کیاگیاتو اُنھوں نے اس عمل میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔اس قول کو اُن کے صاحبزادے عبداللہ نے روایت کیاہے۔

 قبروں سے برکت حاصل کرنا اور ان کو بوسہ دینے میں اگرشرک کا کوئی شائبہ بھی ہوتا تو کیا احمد بن حنبل جیسے کتاب وسنت کے امام کو اِس کا علم نہ ہوتا؟

۲۔امام ابن مکندر(مابعد۱۳۰-۳۰ھ) 

امام حافظ و قدوۃ شیخ الاسلام ابوعبداللہ قرشی مدنی نے صحابۂ کرام کی ایک جماعت سے حدیث کی روایت کی،نیز سفیان بن عیینہ ،سفیان ثوری، اوزاعی،ابوحنیفہ،مالک،جعفر صادق جیسے ائمہ کرام نے ان سے حدیث روایت کی۔

امام ابن مکندر کا مقام ومرتبہ ذکرکرنے کے بعدحافظ ذہبی لکھتے ہیں:

مصعب بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے اسمٰعیل بن یعقوب تیمی نے بیان کیاکہ ابن مکندر اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوتے تو کبھی کبھی ان کی زبان گنگ ہوجاتی۔چنانچہ وہ اسی حالت میں اٹھ جاتے اور قبرنبوی پر جاکر اپنا رخسار رکھ دیتے ، پھر لوٹ آتے،اس پر لوگوں نے کچھ نامناسب باتیں کیں تو آپ نے فرمایا کہ مجھے گنگ ہونے کاخطرہ محسوس ہوتاہے تو میں قبرنبوی سے مدد طلب کرتا ہوں۔ (سیراعلام النبلاء،طبقہ:۳،جلد:۵،بن مکندر، موسسۃ الرسالۃ،۱۴۲۲ھ)

محمدابن مکندر جیسےامام قبر نبوی سےاستعانت کررہے ہیں تو کیا توحید وشرک کےمسائل اُن پربھی واضح نہیں تھے؟

 ۳۔امام بخاری(۲۵۶ھ)

 امام بخاری ہر خاص وعام کے نزدیک مشہورومعروف ہیں۔یہی امام بخاری نےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرمبارک کے پاس بیٹھ کر اپنی کتاب ’’التاریخ‘‘ لکھی۔

اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے حافظ ذہبی امام بخاری کے حوالے سےلکھتے ہیں:

وَصَنَّفْتُ کِتَابَ التَّارِیْخِ إذْ ذَاکَ عِنْدَقَبْرِرَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی اللَّیَالِی الْمُقْمِرَۃِ۔ (نفس مصدر،طبقہ:۱۴،جلد:۱۲،البخاری)

ترجمہ:میں (امام بخاری)نے التاریخ نامی کتاب اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرکے پاس چاندنی راتوں میں لکھی۔

کسی کتاب کی تصنیف کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف کے انتخاب کی،اس کے علاوہ کوئی اور وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ انھوں نے قبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے برکت حاصل کرنا چاہا۔

۴۔امام جعفر خلدی(م:۳۴۲ھ) 

امام ومحدث اور مقتدائے زمانہ شیخ ابومحمد جعفر بن محمد بغدادی خلدی امام جنید اورابوالحسین نوری کے اصحاب میں سے ہیں امام حاکم،ابوعلی شاذان وغیرہم نے آپ سے روایت کی ہے،خطیب بغدادی نے ان کو ثقہ کہاہے۔ (نفس مصدر،طبقہ:۲۰،جلد:۱۵،الخلدی)

اسی عظیم مقتدائے زمانہ کے حوالے سے حافظ ابن جوزی اپنی کتاب’’ المنتظم فی تاریخ الملوک والامم‘‘ میں اپنی سند سے نقل کرتے ہیں :

 کَانَ بِی جَرَبٌ عَظِیْمٌ فَتَمَسَّحْتُ بِتُرَابِ قَبْرِ الْحُسَیْنِ، فَغَفَوْتُ فَانْتَبَہْتُ وَلَیْسَ عَلَیَّ مِنْہُ شَیءٌ۔ (جلد:۵،حوادث:۶۱ھ)

 ترجمہ:مجھ کو سخت قسم کی خارش ہوگئی،چنانچہ میں امام حسین رضی اللہ عنہ کی قبرکی مٹی لگاکر سوگیااور جب بیدار ہوا تو خارش کا کوئی اثر باقی نہیں تھا۔

 اس واقعے کی سند میں جعفر خلدی جن کی عظمت پر گفتگو ہوچکی ہے،ان کے اور حافظ ابن جوزی کے درمیان چار راوی ہیںاور وہ سب ثقہ ہیں،

پہلے راوی محمد بن ناصر بغدادی ہیں (۵۵۰-۴۶۷)ان کو حافظ ذہبی نے امام حافظ ومحدث لکھا ہے اور حافظ ابن جوزی، ابن نجار اور ابوطاہر سلفی کے حوالے سے ان کا ثقہ ہونا نقل کیاہے۔ (نفس مصدر،طبقہ:۲۹،جلد:۲۰،ابن ناصر)

 دوسرے راوی مبارک بن عبدالجبار بغدادی ابن طیوری (۵۰۰-۴۱۱)ہیں ان کو بھی حافظ ذہبی نے امام ومحدث کہاہے اور ابو سعد سمعانی،ابوعلی بن سکرہ صدفی،ابن ناصر،ابوطاہر سلفی وغیرہم کے حوالے سے ان کی ثقاہت کا قول کیاہے۔ (نفس مصدر،طبقہ:۲۶،جلد:۱۹،ابن طیوری)

 تیسرےراوی ابوالحسین احمد بن محمد عتیقی بغدادی (۳۶۷ھ ) ہیں،ان کو بھی حافظ ذہبی نے امام ومحدث ثقہ کے لقب سے یاد کیاہے۔ (نفس مصدر،الطبقۃ:۲۳،جلد:۱۷،العتیقی)

 چوتھے راوی ابوبکر محمد بن الحسن بن عبدان صیرفی ہیں۔ یہ بھی ثقہ ہیں ،ان کوعبیداللہ بن احمدنے ثقہ سے بھی اوپر درجے کا شخص قرار دیا ہے۔(تاریخ بغداد،جلد:۲،ص:۶۱۹،مکتبہ شاملہ)

۵۔حافظ ذہبی(۶۷۳-۷۴۸ھ) 

علوم اسلامیہ کا ہر طالب علم حافظ ذہبی کی عظمت سے واقف ہے ۔وہ اپنی کتاب’’معجم الشیوخ‘‘ میں فرماتے ہیں:

وَنَحْنُ مَالَمْ یَصِحّ لَنَامِثْلُ ہٰذَاالنَّصِیْبِ الْاَوْفَرِ تَرَامَیْنَاعَلٰی قَبْرِہٖ بِالْاِلْتِزَامِ وَالتَّبْجِیْلِ وَالْاِسْتِلَامِ وَالتَّقْبِیْلِ …وَھٰذَہِ الْاُمُوْرُ لَایُحَرِّکُہَا مِنَ الْمُسْلِمِ إلَّا فَرْطُ حُبِّہٖ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (ذکر احمد بن عبدالمنعم،ص:۵۶)

 ترجمہ:جب ہم کو اسی طرح کا عظیم حصہ نہیں حاصل ہوسکا (جو صحابۂ کرام کو حاصل تھا)تو ہم ان کی قبر سےلپٹنے،تعظیم کرنے اوراستلام وبوسہ کے لیے ٹوٹ پڑے…اور مسلمانوں کی طرف سے ایسے افعال کا صدور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شدید محبت ہی کی وجہ سے ہے۔

 یہاں تو خود حافظ ذہبی اس بات کا اعتراف کررہے ہیں کہ قبرنبوی سے لپٹنا ،اس کی تعظیم کرنا اور اس کو چومنے کی وجہ محبت رسول ہے، کوئی اورچیز نہیں۔تو کیا اس مقام پر ذہبی جیسے ناقد بھی توحید وشرک کی باریکیوں کو نہیں سمجھ سکے۔

مذکورہ بالا اسلاف کے اقوال وافعال سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ نیکوں کی قبروں سے برکت حاصل کرنا درست ہے اور اس میں شرک جیسی کوئی بات نہیں،کیوں کہ ہر مسلمان صرف رب تعالیٰ کو ہی نفع ونقصان کا مالک سمجھتا ہے۔