أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِذۡ قَالَتِ امۡرَاَتُ عِمۡرٰنَ رَبِّ اِنِّىۡ نَذَرۡتُ لَـكَ مَا فِىۡ بَطۡنِىۡ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلۡ مِنِّىۡ ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ‌

ترجمہ:

جب عمران کی بیوی نے عرض کیا اے میرے رب ! جو میرے پیٹ میں ہے اس کی میں نے تیرے لیے نذر مانی ہے (خاص تیرے لئے ‘ دیگر ذمہ داریوں سے) آزاد کیا ہوا سو تو میری طرف سے (اس نذر کو) قبول فرما ‘ بیشک تو بہت سننے والا خوب جاننے والا ہے

تفسیر:

عمران کی بیوی کی نذر ماننے کی تفصیل :

علامہ ابو جعفر محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :

عمران کی بیوی حضرت مریم کی ماں ہیں اور حضرت عیسیٰ بن مریم صلوات اللہ علیہ کی نانی ہیں ‘ ان کا نام حنہ بنت فاقوذ بنت قتیل ہے اور ان کے خاوند کا نام عمران بن یاتھم ہے یہ حضرت سلیمان بن داؤد (علیہما السلام) کی اولاد سے ہیں۔ محمد بن اسحاق نے بیان کیا کہ حضرت زکریا اور حضرت عمران نے دو بہنوں سے شادی کی ‘ حضرت زکریا کی بیوی سے حضرت یحییٰ پیدا ہوئے اور حضرت عمران کی بیوی سے حضرت مریم پیدا ہوئیں۔ حضرت عمران فوت ہوئے تو ان کی بیوی حنہ حضرت مریم سے حاملہ تھیں۔ مورخین نے بیان کیا ہے کہ وہ عمر رسیدہ ہوچکی تھیں اور ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی ان کے گھر کے پاس ایک درخت تھا ایک دن انہوں نے دیکھا کہ ایک پرندہ اپنی چونچ سے اپنے بچے کو دانہ کھلا رہا تھا اس وقت ان کے دل میں بچہ کی تمنا پیدا ہوئی۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کو بچہ عطا فرمائے تو انہیں حضرت مریم کا حمل ہوگیا اور حضرت عمران فوت ہوگئے جب انہیں یہ محسوس ہوا کہ ان کے پیٹ میں بچہ ہے تو انہوں نے اس کی اللہ کے لئے نذر مان لی یعنی وہ اس کو عبادت گاہ کے لئے وقف کردیں گی اور وہ بچہ دنیا کی کسی چیز سے نفع نہیں اٹھائے گا ‘ اور جب ان کے ہاں حضرت مویم پیدا ہوئیں تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے عذر پیش کرتے ہوئے کہا اے اللہ ! میرے ہاں لڑکی پیدا ہوئی ہے، کیونکہ انہوں نے بیت المقدس کی خدمت کے لئے نذر مانی تھی اور لڑکی اپنی کمزور طبیعت کی وجہ سے خدمت کے بہت سے کام سرانجام نہیں دے سکتی ‘ اور بعض احوال میں (مثلا حیض اور نفاس میں) مسجد میں داخل نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم نے جس لڑکے کے حصول کی دعا کی تھی وہ اس مرتبہ کا نہیں ہے جس پائے کی میری دی ہوئی لڑکی ہے۔ (جامع البیان ج ١ ص ١٥٩۔ ١٥٧‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

حضرت عیسیٰ کا مس شیطان سے محفوظ رہنا ہمارے نبی کی فضیلت کے منافی نہیں ہے۔ 

عمران کی بیوی نے کہا میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے ان کی زبان میں مریم کا معنی عبادت کرنے والی ‘ اللہ کا قرب حاصل کرنے والی اور اللہ کے سامنے عاجزی اور خشوع اور خضوع کرنے والی ہے ‘ اور انہوں نے کہا اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود کے شر سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بنو آدم میں سے جو شخص بھی پیدا ہوتا ہے اس کی پیدائش کے وقت شیطان اسے چھوتا ہے تو وہ شیطان کے چھونے سے چیخ مار کر روتا ہے ماسوا مریم اور بیٹے کے ‘ پھر حضرت ابوہریرہ (رض) نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٤٨٨ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

علامہ شرف الدین طیبی متوفی ٧٤٣ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ کو ولادت کے وقت مس شیطان سے مستثنی کرنے سے ہمارے نبی پر ان کی فضیلت لازم نہیں آتی کیونکہ ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہت سے ایسے فضائل اور معجزات ہیں جو حضرت عیسیٰ کو حاصل تھے نہ کسی اور نبی کو اور افضل میں مفضول کی خصال کا ہونا لازم نہیں ہے۔ شرح الطیبی ج ١ ص ٢٠٦)

ملا علی قاری نے طیبی کی اس عبارت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے اس کی نظیر طبرانی کی یہ حدیث ہے ہر ابن آدم نے خطا کی ہے یا خطا کا ہم (ارادہ) کیا ہے سوا حضرت یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) کے۔ (مرقات ج ١ ص ١٣٩)

شیخ عبدالحق محدث دہلوی متوفی ١٠٥٢ ھ علامہ طیبی کی تحریر نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

مشہور یہ ہے کہ فضیلت کلی جزی کے منافی نہیں لیکن بندہ ضعیف یہ کہتا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو آدم کے اس عموم سے مستثنی ہیں اور اس حدیث میں آپ نے دوسرے فرزندان آدم کی خبر دی ہے اور طہارت میں آپ کا مقام اس سے بہت بلند ہے کہ آپ ولادت کے وقت شیطان آپ پر کسی قسم کا تصرف کرسکے ‘ بعض شارحین نے کہا ہے کہ جب متکلم اس قسم کا کلام کرتا ہے تو اس کی ذات عموما کلام سے خارج ہوتی اور ذوق اور حال اس کا قرینہ ہوتا ہے۔

شیخ محمد ادریس کا ندھلوی نے شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی اس تقریر کو لمعات کے حوالے سے لکھا ہے۔

(اشعۃ اللمعات ج ١ ص ٨٢ مطبع تیج کمار لکھنؤ التعلیق الصیح ج ١ ص ٦٤ مطبوعہ لاہور)

علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں :

قاضی نے یہ اشارہ کیا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اس فضیلت کے حصول میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریک ہیں علامہ قرطبی نے کہا یہ قتادہ کا قول ہے (عمدۃ القاری ج ١٥ ص ١٧٧‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)

علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

ہمارے علماء نے یہ کہا ہے کہ اس حدیث سے مستفاد ہوتا ہے کہ حضرت مریم کی والدہ کی دعا مستجاب ہوگئی اور شیطان تمام اولاد آدم کی کو کھ میں انگلی چبھوتا ہے حتی کہ انبیاء اور اولیاء کے بھی انگلی چبھوتا ہے سوا حضرت مریم اور ان کے بیٹے کے۔ قتادہ نے کہا شیطان ہر نوزائیدہ بچے کے پہلو میں چبھوتا ہے سوا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کے ان کے درمیان حجاب کردیا گیا تو اس کی انگلی حجاب پر لگی اور حجاب کے پار نافذ نہیں ہوئی اور بچہ کے انگلی چبھونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ شیطان اس بچہ کو گمراہ کرنے یا بہکانے پر قادر ہوگیا ہے کیونکہ کتنے انبیاء (علیہ السلام) کو بہکانے اور ورغلانے کے لئے شیطان نے حملے کئے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

(آیت) ” ان عبادی لیس لک علیہم سلطان “۔ (الحجر : ٤٢ )

علامہ ازیں ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان پیدا کیا جاتا ہے تو مریم اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ اگرچہ شیطان کے انگلی چبھونے سے محفوظ رہے لیکن شیطان کے ہر وقت ساتھ اور لازم رہنے سے محفوظ نہیں رہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٤ ص ٦٨ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

خلاصہ یہ کہ شیطان کے انگلی نہ چبھونے سے زیادہ فضیلت اس میں ہے کہ باقی انبیاء (علیہم السلام) اس کے انگلی چبھونے باوجود اس کے شر سے محفوظ رہے۔

میں کہتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ فضیلت اور خصوصیت ہے کہ آپ کے ساتھ جو شیطان اور ہمزاد پیدا کیا گیا تھا آپ کی نگاہ کیمیا اثر سے اس کی بھی کا یا پلٹ گئی وہ شیطان مسلمان ہوگیا اور بجائے ورغلانے اور بہکانے کے آپ کو نیکی اور بھلائی کے مشورے دینے لگا۔

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان لگا دیا جاتا ہے (سفیان کی روایت میں ہے اور ایک فرستہ لگا دیا جاتا ہے) صحابہ نے پوچھایا رسول اللہ آپ کے ساتھ بھی ؟ آپ نے فرمایا : ہاں میرے ساتھ بھی لیکن اللہ تعالیٰ نے میری مدد فرمائی وہ مسلمان ہوگیا اور وہ مجھے بھلائی کے سوا کوئی اور مشورہ نہیں دیتا۔

(صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ٣٧٦ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فیض نگاہ سے شیطان کا مسلمان ہوجانا بہت عظیم فضیلت ہے اور یہ فضیلت بشمول حضرت عیسیٰ کے کسی نبی کو بھی حاصل نہیں ہے۔

بچہ کا نام رکھنا ‘ اس کو گھٹی دینا ‘ اور بچہ کی ولادت کے دیگر مسائل :

ان آیات میں ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر دلیل ہے اور یہود کے اس دعوی کا رد ہے کہ انبیاء صرف بنو اسرائیل سے مبعوث ہوں گے ‘ اور مشرکین کا رد ہے جن کا زعم تھا کہ بشر نبی نہیں ہوسکتا کیونکہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گذشتہ نبیوں اور امتوں کے ان احوال سے مطلع فرمایا جن کی تصدیق ان کی کتابوں میں موجود تھی اور یہ آپ کی نبوت کے صدق پر واضح دلیل ہے۔

نبی کی ولادت اور اعلان نبوت سے پہلے جو امور خلاف عادت ظاہر ہوں ان کو ارہاص کہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ مریم ایسی خاتون سے پیدا ہوئیں جو بوڑھی اور بانجھ تھیں یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ارہاص ہے، اسی طرح حضرت مریم کو بیت المقدس کی خدمت کے لئے قبول کرلیا گیا یہ بھی ان کے معمول کے خلاف تھا تاکہ ان کی پاکیزہ سیرت ان کے بیٹے کے روح اور کلمۃ اللہ ہونے کا عنوان بن جائے۔

عمران کی بیوی حنہ نے اپنی بیٹی کے ولادت کے دن ان کا نام مریم رکھا اس سے معلوم ہوا کہ ولادت کے دن نام رکھنا جائز ہے ہرچند کہ یہ شریعت سابقہ لیکن ہماری شریعت میں بھی اس کی تائید ہے :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میرے ہاں ایک بچہ ہوا میں اس کو لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور اس کو کھجور کی گھٹی کھلائی اور برکت کی دعا کی۔ یہ حضرت ابو موسیٰ کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٨٢١ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میرے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا میں اس کو لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور اس کو کھجور کی گھٹی کھلائی اور اس کے لئے برکت کی دعا کی یہ حضرت ابو موسیٰ کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٨٢١‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ (رض) کا بیٹا بیمار تھا وہ سفر پر چلے گئے اس اثناء میں وہ بیٹا فوت ہوگیا جب واپس آئے تو حضرت ام سلیم سے پوچھا میرا بیٹا کیسا ہے ؟ حضرت ام سلیم نے کہا پہلے سے زیادہ پر سکون ہے۔ ان کو شام کا کھانا کھلایا اور رات کو حضرت ابوطلحہ (رض) نے ان سے عمل زوجیت کیا۔ صبح کو حضرت ام سلیم نے کہا اب بیٹے کو دفن کردو۔ حضرت ابوطلحہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ماجرا بیان کیا آپ نے پوچھا تم نے رات اس عمل میں گزاری ؟ انہوں نے کہا ہاں ! آپ نے دعا کی اے اللہ ان دونوں کو برکت عطا فرما تو ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ مجھ سے حضرت ابو طلحہ نے کہا تم اس بچہ کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے جاؤ میں اس بچہ کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے گیا اور میرے کچھ کھجوریں بھی بھیجیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بچہ کو لے کر پوچھا کے اس کے ساتھ کچھ چیز بھی ہے لوگوں نے کہا ہاں کچھ کھجوریں ہیں، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھجور لی اور اس کو چبا کر اس بچہ کے منہ میں رکھا اور اس کو گھٹی دی اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٨٢٢‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ١٣٨١ ھ)

اس حدیث کے مسائل میں سے یہ ہے کہ جب کوئی شخص تھکا ماندہ سفر سے آئے تو فورا اس کو غمناک خبر نہیں سنانی چاہیے، بچہ کی موت پر ماں باپ کو پر سکون رہنا چاہیے۔ بچہ پیدا ہوا تو کسی بزرگ سے اس کے منہ میں گھٹی ڈلوانی چاہیے اس سے برکت کی دعا کرانی چاہیے اور بچہ کا اچھا نام رکھنا چاہیے۔ خصوصا انبیاء (علیہم السلام) اور بزرگوں کے نام پر اس کا نام رکھنا چاہیے، امام ابو داؤد سلمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں ؛

حضرت ابوہب جشمی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انبیاء (علیہم السلام) کے نام رکھو۔ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمان ہے اور سب سے سچا نام حارث اور ہمام ہے اور سب سے برا نام حرب اور مرہ ہے۔

حضرت ابو درداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن تم کو تمہارے ناموں اور تمہارے باپوں کے نام سے پکارا جائے گا اس لئے اپنے اچھے نام رکھو۔ (سنن ابوداؤد ج ص ‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لوگوں کو قیامت کے دن ان کے آباء سے منسوب کرکے پکارا جائے گا مثلا فلاں بن فلاں اور یہ جو عوام میں مشہور ہے کہ لوگوں کو ان کی ماؤں کی طرف منسوب کرکے پکارا جائے گا یہ صحیح نہیں ہے ‘ اس کی تحقیق انشاء اللہ سورة احزاب میں آئے گی۔ ولادت کے دن بچہ کے نام رکھنے کے علاوہ اور بھی شرعی احکام ہیں ان احکام میں سے ہم عقیقہ کا بیان کر رہے ہیں پہلے ہم اس کے ثبوت میں احادیث بیان کریں گے اور اس کے بعدمذاہب فقہاء بیان کریں گے۔

عقیقہ کے متعلق احادیث ‘ آثار اور اقوال تابعین۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت سلیمان بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لڑکے کے ساتھ عقیقہ ہے۔ اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس گندگی کو دور کرو۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٨٢٢ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ام کرز (رض) روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ سے عقیقہ کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف ایک بکری (ذبح کرو) اس میں کوئی حرج نہیں کہ وہ نر ہو یا مادہ۔

امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

اس حدیث کو امام دارمی (سنن دارمی ج ٢ ص ٨) اور امام احمد (مسند احمد ج ٦ ص ٤٥٦۔ ٤٢٢۔ ٣٨١) نے بھی روایت کیا ہے۔

حضرت سمرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لڑکا اپنے عقیقہ کے بدلے میں گروی ہے۔ ولادت کے ساتویں دن اسکی طرف سے ذبح کیا جائے ‘ اس کا نام رکھا اور اس کے بال مونڈے جائیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی ص ٢٣٧‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی)

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (علیہ السلام) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسن اور حضرت حسین (رض) کی طرف دو دو مینڈھے ذبح کئے۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ‘ ٣٦ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

امام ابو عبدالرحمان احمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسن اور حضرت حسین (رض) کی طرف سے دو دو مینڈھے ذبح کئے۔ (سنن نسائی ج ٢ ص ١٨٨‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی)

صحیح بخاری اور جامع ترمذی میں جن احادیث کا ذکر ہے وہ سب سنن ابو دادؤ اور سنن نسائی میں بھی مذکور ہیں۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ سنن ابو داؤد میں حضرت حسن اور حضرت حسین کی طرف سے ایک ایک مینڈھے کو ذبح کرنے کا تذکرہ ہے اور سنن نسائی میں دو دو مینڈھے ذبح کرنے کا ذکر ہے تو اس کی کیا توجیہ ہے اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی ولادت کے دن ایک ایک مینڈھا ذبح کیا اور ساتویں دن ایک ایک مینڈھا اور ذبح کیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک مینڈھا آپ نے اپنی طرف سے ذبح کیا اور حضرت علی (رض) اور حضرت فاطمہ (رض) کو دوسرا مینڈھا ذبح کرنے کا حکم دیا تو جس نے ایک ایک مینڈھے کے ذبح کی روایت کی اس نے آپ کی طرف ذبح کی حقیقی نسبت کی اور جس نے دو دو کو ذبح کرنے کی روایت کی اس نے آپ کی طرف مجازا نسبت کی۔

امام عبدالرزاق نے حضرت عائشہ (رض) اور عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسن اور حضرت حسین کی طرف سے دو دو مینڈھے ذبح کئے۔ (المصنف ج ٤ ص ٣٣٠)

امام ابن ابی شیبہ نے حضرت ابو درداء ‘ حضرت جابر اور عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسن اور حضرت حسین (رض) کا عقیقہ کیا۔ (المصنف ج ٨ ص ٤٧۔ ٤٦)

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسن اور حضرت حسین (رض) کی طرف سے دو مینڈھے ذبح کئے۔

محمد بن علی بن حسین روایت کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسن اور حضرت حسین (رض) کے بالوں کے ہم وزن چاندی صدقہ کی اور امام مالک نے یحی بن سعید سے روایت کیا ہے کہ آپ نے حضرت علی کے دو بیٹوں حضرت حسن اور حسین (رض) کا عقیقہ کیا۔ (سنن کبری ج ٩ ص ٢٩٩ مطبوعہ ملتان)

امام عبدالرزاق بن ھمام متوفی ٢١١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول نے اعلان نبوت کے بعد خود اپنا عقیقہ کیا، (المصنف ج ٤ ص ٣٢٠)

حافظ الہیثمی نے لکھا ہے اس حدیث کو امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں روایت کیا ہے اور اس حدیث کے روای ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد ج ٤ ص ٥٩)

اس حدیث کو امام بیہقی نے بھی روایت کیا ہے۔ (سنن کبری ج ٩ ص ٣٠٠‘ مطبوعہ ملتان)

امام ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ متوفی ٢٣٥ ھ روایت کرتے ہیں :

عطا بیان کرتے ہیں کہ ام اسباع نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کیا میں اپنی اولاد کی طرف سے عقیقہ کروں آپ نے فرمایا ہاں لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک۔ (المصنف ج ٨ ص ٥٠ مطبوعہ کراچی)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ نے ہمیں لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری کا عقیقہ کرنے کا حکم دیا نیز حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا لڑکے کی طرف سے دو بکریاں سنت ہیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری سنت ہے۔ (المصنف ج ٨ ص ٥٠ مطبوعہ کراچی)

امام عبدالرزاق روایت کرتے ہیں۔

نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) سے جو بھی عقیقہ کے متعلق سوال کرتا وہ اس کو عقیقہ کرنے کا حکم دیتے۔ (المصنف ج ٨ ص ٣٣١ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت)

امام ابوالقاسم سلیمان احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت اسماء بنت یزید یبان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لڑکے کی طرف سے دو بکریوں کا عقیقہ ہے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری کا۔ (المعجم الکبیر ج ٢٤ ص ١٨٣)

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک اپنے بیٹوں کی طرف سے اونٹ ذبح کرکے عقیقہ کرتے تھے۔ (المعجم الکبیر ج ١ ص ٢٤٤‘ مطبوعہ بیروت)

حافظ الہیثمی نے لکھا ہے اس حدیث کے تمام راوی صحیح ہیں۔ (مجمع الزوائد ج ٤ ص ‘ ٥٩ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

امام ابوبکرعبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ متوفی ٢٣٥‘ ھ روایت کرتے ہیں :

جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ نے جو عقیقہ کیا تھا اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حکم دیا تھا کہ اس کی ایک ٹانگ دائی کے پاس بھیجی جائے اور اسکی کسی ہڈی کو نہ توڑا جائے۔

ابن ابی ذئب بیان کرتے ہیں کہ میں زہری سے عقیقہ کے متعلق سوال کی انہوں نے کہا اس کی ہڈیوں کو توڑا جائے نہ سر کو اور نہ بچہ کو اس کے خون میں لتھیڑا جائے۔

ہشام بیان کرتے ہیں کہ حسن اور ابن سیرین عقیقہ میں ان تمام باتوں کو مکروہ کہتے تھے جو قربانی میں مکروہ ہیں اور ان کے نزدیک عقیقہ بہ منزلہ قربانی ہے اس کے گوشت کو کھایا جائے اور کھلایا جائے۔

حضرت سمرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ساتویں دن عقیقہ کیا جائے بچہ کا سر مونڈا جائے اور اس کا نام رکھا جائے۔

ابو جعفر بیان کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ نے ساتویں دن اپنے بیٹے کا عقیقہ کیا۔ اس کا نام رکھا۔ اس کا سر مونڈا۔ اس کا ختنہ کیا اور اس کے بالوں کے برابر چاندی صدقہ کی۔ (المصنف ج ٨ ص ٥٥۔ ٥٢ مطبوعہ ادارۃ القرآن ٗکراچی ٗ ١٤٠٦ ھ)

امام عبدالرزاق بن ہمام متوفی ٢١١ ھ روایت کرتے ہیں :

عطا کہتے ہیں کہ ساتویں دن بچہ کا عقیقہ کیا جائے اگر اس دن نہ کرسکیں تو اگلے ساتویں دن موخر کردیں اور میں نے دیکھا ہے کہ لوگ ساتویں دن ہی عقیقہ کا قصد کرتے ہیں اور عقیقہ کرنے والے خود بھی گوشت کھائیں اور لوگوں کو ہدیہ بھی دیں۔ ابن عیینہ نے کہا میں نے پوچھا کیا یہ سنت ہے ؟ کہا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا حکم دیا ہے ابن عیینہ نے کہا کیا اس کے گوشت کو صدقہ کردیں ؟ کہا نہیں اگر چاہیں تو صدقہ کریں اور چاہیں تو خود کھالیں۔ (المصنف ج ٨ ص ٣٣٢ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ)

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عقیقہ ساتویں دن کیا جائے اور چودھویں دن اور اکیسویں دن۔ (سنن کبری ج ٩ ص ٣٠٣‘ مطبوعہ نشرالسنہ ملتان)

جو دن بھی سات سے تقسیم ہوجائے اس میں عقیقہ کرنا سنت ہے اگر بچہ مثلا منگل کو پیدا ہوا ہے تو جس پیر کو بھی عقیقہ کی جائے وہ سات دن سے تقسیم ہوگا۔

عقیقہ کے متعلق فقہاء حنبیلہ کا نظریہ :

علامہ عبداللہ بن احمد ابن قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں :

عقیقہ کرنا سنت ہے۔ عام اہل علم کا یہی مذہب ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ حضرت ابن عمر ‘ حضرت عائشہ ‘ فقہاء تابعین اور تمام ائمہ کا یہی نظریہ ہے ماسوا فقہاء احناف کے انہوں نے کہا یہ سنت نہیں۔ بلکہ امر جاہلیت سے ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت ہے کہ آپ سے عقیقہ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ عقوق کو ناپسند کرتا ہے گویا آپ نے لفظ عقوق کو ناپسند فرمایا (اس کا معنی قطع کرنا اور ماں باپ کی نافرمانی ہے) اور فرمایا جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ جانور ذبح کرنا چاہے تو جانور ذبح کرے۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ٣٧۔ ٣٦‘ سنن نسائی ج ٢ ص ١٨٧‘ ابوداؤد اور نسائی میں اس کے بعد مذکورلڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری) امام مالک نے اس حدیث کو اپنی موطا میں روایت کیا ہے۔ حسن بصری اور داؤد (ظاہری) نے کہا عقیقہ کرنا واجب ہے حضرت بریدہ (رض) نے بیان کیا کہ لوگ پانچ نمازوں کی طرح عقیقہ کا اہتمام کرتے ہیں کیونکہ حضرت سمرہ بن جندب (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے کہ ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے ساتھ گروی رکھا ہوا ہے، ساتویں دن اس کا عقیقہ کیا جائے اس کا نام رکھا جائے اور اس کا سر مونڈا جائے۔ حضرت ابوہریرہ سے بھی اس کی مثل مروی ہے امام احمد نے کہا اس حدیث کی سند جید ہے۔ عقیقہ کے استحباب پر یہ احادیث دلیل ہیں۔ اور حضرت ام کرز سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری کا عقیقہ کیا جائے اور عقیقہ کے استحباب پر اجماع ہے۔ ابو الزناد نے کہا عقیقہ کو ترک کرنا مکروہ ہے، امام احمد نے کہا عقیقہ کرنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت ہے آپ نے حضرت حسن اور حضرت حسین (رض) کا عقیقہ کیا ہے اور آپ کے اصحاب نے عقیقہ کیا ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لڑکا عقیقہ کے ساتھ گروی رکھا ہوا ہے۔ امام ابوحنیفہ نے یہ کہا کہ عقیقہ جاہلیت کے افعال میں سے ہے اور ان کے ساتھ حسن ظن یہ ہے کہ ان کو یہ احادیث نہیں پہنچیں۔ (المغنی ج ٩ ص ٣٦٣‘ مطبوعہ دارا الفکر بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

عقیقہ کے متعلق فقہاء شافعیہ کا نظریہ : 

علامہ ابواسحق ابراہیم بن علی بن یوسف شیرازی شافعی متوفی ٤٥٥ ھ لکھتے ہیں :

عقیقہ سنت ہے اس کی تعریف یہ ہے کہ مولود کی طرف سے ایک جانور ذبح کی جائے کیونکہ حضرت بریدہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسن اور حضرت حسین (رض) کی طرف سے عقیقہ کی اور یہ واجب نہیں ہے کیونکہ حضرت ابو سعید خدری (رض) نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عقیقہ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا میں عقوق کو پسند نہیں کرتا ‘ اور جس شخص کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ جانور ذبح کرنا چاہتا ہو تو کرے۔ آپ نے عقیقہ کو محبت پر معلق کیا ہے یہ اس کی دلیل ہے کہ عقیقہ واجب نہیں ہے نیز عقیقہ بغیر کسی جنایت (جرم) اور نذر کے خون بہانا ہے لہذا یہ قربانی کی طرح واجب نہیں ہے (شوافع کے نزدیک قربانی بھی واجب نہیں ہے۔ سعیدی غفرلہ) اور سنت یہ ہے کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ذبح کرے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کرے کیونکہ حضرت ام کرز (رض) بیان کرتی ہیں۔ کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عقیقہ کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا لڑکے کے لئے دو بکریاں اور لڑکی کے لئے ایک بکری ‘ نیز عقیقہ خوشی کی وجہ سے مشروع کیا گیا ہے اور لڑکے کی ولادت پر لڑکی کی بہ نسبت زیادہ خوشی ہوتی ہے اس لئے اس کی ولادت پر دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔ (المہذب ج ١ ص ٢٤١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت)

عقیقہ کے متعلق فقہاء مالکیہ کا نظریہ : 

امام مالک بن انس اصبحی متوفی ١٧٩ ھ روایت کرتے ہیں :

نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے اہل سے جو شخص بھی عقیقہ کے متعلق سوال کرتا وہ اس کو عقیقہ کرنے کا حکم دیتے اور آپ اپنی اولاد کی طرف سے ایک ایک بکری کا عقیقہ کرتے تھے۔ لڑکے اور لڑکی دونوں کی طرف سے۔

محمد بن حارث تیمی بیان کرتے ہیں کہ عقیقہ کرنا مستحب ہے خواہ چڑایا سے کیا جائے۔ (یہ مبالغہ فرمایا)

امام مالک فرماتے ہیں ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے دو بیٹوں حسن اور حسین (رض) کا عقیقہ کیا گیا۔

ہشام بن عروہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد عروہ بن زبیر اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کا ایک ایک بکری کے ساتھ عقیقہ کرتے تھے۔

امام مالک فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک عقیقہ کا حکم یہ ہے کہ جو شخص عقیقہ کرے وہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی طرف سے ایک ایک بکری ذبح کرے اور عقیقہ کرنا واجب نہیں ہے لیکن عقیقہ مستحب ہے ‘ اور ہمارے نزدیک یہ وہ کام ہے جس کو ہمیشہ لوگ کرتے رہے ہیں جو شخص اپنے بیٹے کی طرف سے عقیقہ کرے وہ بہ منزلہ قربانی ہے اس میں کا نے ‘ لاغر ‘ سینگ ٹوٹے ہوئے اور بیمار جانور کو ذبح کرنا جائز نہیں ہے اس کی کھال اور گوشت کو فروخت نہیں کیا جائے گا اس کی ہڈیوں کو توڑا جائے گا۔ گھر والے اس کے گوشت کو کھائیں گے اور اس میں صدقہ کریں گے اور بچہ کو اس کے خون میں نہ لتھیڑا جائے گا۔ (موطا امام مالک ص ٤٩٥۔ ٤٩٤‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی پاکستان لاہور)

امام مالک نے عقیقہ میں لڑکے اور لڑکی دونوں کی طرف سے ایک ایک بکری ذبح کرنے کے متعلق جو ارشاد فرمایا ہے یہ ان احادیث کے خلاف ہے جن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ذبح کرنے کا حکم فرمایا ہے اور حضرت ابن عمر اور عروہ بن زبیر نے جو بیٹوں کی طرف سے ایک ایک بکری ذبح کی ہے وہ کسی عذر پر محمول ہے اسی طرح ہڈیاں توڑنا بھی احادیث کے خلاف ہے اور خون میں لتھیڑنا بھی احادیث کے خلاف ہے۔

عقیقہ کے متعلق فقہاء احناف کا نظریہ : 

امام محمد بن حسن شیبانی متوفی ١٨٩ ھ لکھتے ہیں :

امام محمد از امام ابو یوسف از امام حنیفہ روایت کرتے ہیں کہ لڑکے کا عقیقہ کیا جائے نہ لڑکی کا۔ (الجامع الصغیر ص ٥٣٤‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ‘ ١٤١١ ھ)

نیز امام محمد لکھتے ہیں :

ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ عقیقہ زمانہ جاہلیت میں تھا اور ابتداء اسلام میں بھی عقیقہ کیا گیا پھر قربانی نے ہر اس ذبیحہ کو منسوخ کردیا جو اس سے پہلے تھا اور رمضان کے روزوں نے ہر اس روزہ کو منسوخ کردیا جو اس سے پہلے تھا اور غسل جنابت نے ہر اس غسل کو منسوخ کردیا جو اس سے پہلے تھا اور زکوۃ نے ہر اس صدقہ کو منسوخ کردیا جو اس سے پہلے تھا ‘ ہم کو اسی طرح حدیث پہنچی ہے۔ (موطا امام محمد ص ٨٩۔ ٨٨‘ مطبوعہ محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی)

علامہ ابوبکر مسعود کا سانی حنفی متوفی ٥٨٧ ھ لکھتے ہیں :

عقیقہ وہ ذبیحہ ہے جو بچہ کی پیدائش کے ساتویں دن کیا جاتا ہے ہم نے عقیقہ اور عتیرہ کا منسوخ ہونا اس روایت سے پہچانا : حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا رمضان کے روزے نے ہر پہلے روزے کو منسوخ کردیا ‘ اور قربانی نے اس سے پہلے کے ہر ذبیحہ کو منسوخ کردیا ‘ اور غسل جنابت نے اسے پہلے کے ہر غسل کو منسوخ کردیا ‘ اور ظاہر یہ ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس حدیث کو سنا تھا کیونکہ اجتہاد سے کسی چیز کو منسوخ نہیں کیا جاسکتا۔ (الی قولہ) امام محمد نے جامع صغیر میں ذکر کیا ہے۔ لڑکے کا عقیقہ کیا جائے نہ لڑکی کا۔ اس عبارت میں عبارت میں عقیقہ کے مکروہ ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ عقیقہ کرنے میں فضیلت تھی اور جب فضیلت منسوخ ہوگئی تو اس کا صرف مکروہ ہونا باقی رہ گیا۔ (بدائع الصنائع ج ٥ ص ٦٩‘ مطبوعہ ایچ ایم سعید کراچی ‘ ١٤٠٠ ھ)

اور فتاوی عالمگیری میں لکھا ہے :

ولادت کے ساتویں دن لڑکے یا لڑکی کی طرف سے بکری ذبح کرنا اور لوگوں کی دعوت کرنا اور بچہ کے بال مونڈنا عقیقہ ہے یہ نہ سنت ہے اور نہ واجب ہے اسی طرح کردری کی وجیز میں ہے۔ امام محمد نے عقیقہ کے متعلق ذکر کیا ہے جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے اس کا اشارہ اباحت کی طرف ہے اس لئے اس کا سنت ہونا ممنوع ہے اور امام محمد نے جامع صغیر میں ذکر کیا ہے لڑکے اور لڑکی کی طرف سے عقیقہ نہ کیا جائے اور یہ کراہت کی طرف اشارہ ہے اسی طرح بدائع کی کتاب الاضحیہ میں ہے۔ (فتاوی عالمگیری ج ٥ ٣٦‘ مطبوعہ مطبع کبری امیریہ بولاق مصر ‘ ١٣١٠ ھ)

عقیقہ کے متعلق احکام شرعیہ اور مسائل : 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں :

عقیقہ نفل ہے اگر چاہے تو کرے اور اگر چاہے تو نہ کرے ‘ اور عقیقہ کی تعریف یہ ہے کہ بچہ پیدا ہونے کے سات دن گزرنے کے بعد ایک بکری ذبح کی جائے اور امام شافعی (بلکہ ائمہ ثلاثہ) کے نزدیک عقیقہ سنت ہے ‘ پھر جب کوئی شخص عقیقہ کرنے کا ارادہ کرے تو لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کرے ‘ کیونکہ عقیقہ ولادت کی خوشی کے لئے مشروع کیا گیا ہے اور لڑکے کی ولادت پر زیادہ خوشی ہوتی ہے ‘ اور اگر لڑکے اور لڑکی دونوں کی طرف سے ایک ایک بکری ذبح کی تب بھی جائز ہے کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسن اور حضرت حسین کی طرف سے ایک ایک بکری کو ذبح کیا تھا (سنن ابو داؤد میں اسی طرح ہے اور سنن نسائی ‘ مصنف ابن ابی شیبہ ‘ مصنف عبدالرزاق اور سنن بیہقی میں ہے آپ نے ان کی طرف سے دو دو بکریاں ذبح کیں اور یہی صحیح ہے) عقیقہ میں بھیڑ اور دنبہ چھ ماہ سے کم کا نہ ہو اور بکری ایک سال سے کم نہ ہو ‘ عقیقہ کا جانور قربانی کے جانور کی طرح عیوب اور نقائص سے بری ہو کیونکہ عقیقہ بھی قربانی کی طرح شرعا جانور کا خون بہانا ہے ‘ اگر عقیقہ کو ساتویں دن پر موخر یا مقدم کردیا جائے تو پھر بھی جائز ہے البتہ ساتواں دن افضل ہے ‘ اور مستحب یہ ہے کہ اس کا گوشت ہڈیوں سے الگ کرلیں اور نیک شگون کے لئے ہڈیوں کو نہ توڑیں تاکہ اس بچہ کی ہڈیاں سلامت رہیں۔ عقیقہ کے گوشت کو خود کھائیں، کھلائیں اور صدقہ کریں۔ فصل الکراہۃ والاستحسان میں مذکور ہے کہ ولادت کے ساتویں دن عقیقہ کیا جائے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عقیقہ حق ہے۔ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعثت کے بعد کے خود اپنا عقیقہ کیا ہے۔ عقیقہ کی دعا یہ ہے : ذبح کے وقت کہے۔ اے اللہ یہ میرے فلاں بیٹے کا عقیقہ ہے اس جانور کا خون میرے بیٹے کے خون کے عوض ہے اور اس کا گوشت اس کے گوشت کے عوض ہے ‘ اس کی ہڈیاں اس کی ہڈیاں کے عوض ہیں ‘ اس کی کھال اس کی کھال کے عوض ہے ‘ اس کے بال اس کے بال کے عوض ہیں۔ اے اللہ ! اس جانور کو میرے بیٹے کی جہنم سے آزادی کا فدیہ بنا دے۔

عقیقہ کی ہڈیوں کو توڑا نہ جائے اور اس کی ران دائی کو دی جائے اور گوشت پکا لیا جائے اور بچہ کے سر کو اس کے خون میں لتھیڑنا مکروہ ہے۔ (العقود الدریۃ ج ٢ ص ٢٣٣۔ ٢٣٢‘ مطبوعہ دارالاشاعۃ العربیہ کوئٹہ)

عقیقہ کو منسوخ قرار دینے کے دلائل پر بحث و نظر : 

امام محمد شیبانی نے فرمایا ہے کہ عقیقہ رسم جاہلیت میں سے ہے اور یہ ابتداء اسلام میں بھی مشروع رہا ہے بعد میں قربانی نے اس کو منسوخ کردیا ‘ اس لئے عقیقہ نہ کیا جائے ‘ علامہ کا سانی نے اس پر متفرع کیا ہے کہ عقیقہ کرنا مکروہ ہے اور وجیز میں اس کی اباحت کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ کار ثواب نہیں ہے۔

ہمارے نزدیک عقیقہ کو قربانی سے منسوخ قرار دنیا صحیح نہیں ہے کیونکہ ہجرت کے پہلے سال قربانی مشروع ہوگئی تھی۔

امام ترمذی روایت کرتے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام کیا اور قربانی کرتے رہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٢٣٧‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

اگر قربانی سے عقیقہ منسوخ ہوگیا تھا تو قربانی مشروع ہونے کے بعد عقیقہ نہیں ہونا چاہیے تھا حالانکہ ہجرت کے پہلے سال سے قربانی مشروع ہوگئی تھی اور تین ہجری کو حسن (رض) پیدا ہوئے۔ (اسد الغابہ ج ٢ ص ٩‘ مطبوعہ دارا الفکربیروت)

اور چار ہجری کو حضرت حسین (رض) پیدا ہوئے۔ (اسد الغابہ ج ٢ ص ٩‘ مطبوعہ دارا الفکربیروت) اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں کا عقیقہ کیا۔ اگر قربانی کے بعد عقیقہ منسوخ ہوگیا ہوتا تو تو آپ ان کو عقیقہ نہ کرتے اور آپ کے وصال کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر نے اپنے بچوں کا عقیقہ کیا اور حضرت انس (رض) نے اپنے بچوں کا عقیقہ نہ کرتے اور آپ کے وصال کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنے بچوں کا عقیقہ کیا اور حضرت انس (رض) نے اپنے بچوں کا عقیقہ نہ کیا۔ عروہ ابن الزبیر نے اپنے بچوں کا عقیقہ کیا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) اور حضرت عائشہ (رض) عقیقہ کے قائل تھے۔ بہ کثرت احادیث صحیحہ میں آپ نے عقیقہ کا حکم دیا اور متعدد صحابہ کرام اور فقہاء تابعین عقیقہ کو سنت قرار دیتے تھے۔ امام مالک ‘ امام شافعی اور احمد بھی بالاتفاق عقیقہ کے سنت ہونے کے قائل ہیں اور جس چیز کا سنت ہونا اتنی کثیر احادیت سے ثابت ہو وہ مکروہ یا مباح کیسے ہوسکتی ہے۔

امام احمد رضا کا احادیث کو اقوال فقہاء پر مقدم رکھنا : 

اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی (رض) متوفی ١٣٤٠ ھ بلند پایہ محقق تھے وہ اندھی تقلید سے بہت تھے ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث کو اقوال فقہاء پر مقدم رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام فقہاء احناف نے عقیقہ کرنے کو مکروہ یا مباح لکھا لیکن امام احمد رضا نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث کے پیش نظر عقیقہ کو سنت لکھا فرماتے ہیں :

عقیقہ ولادت کے ساتویں روز سنت ہے اور یہی افضل ہے ورنہ چودہویں ‘ اکیسویں دن ‘ اور خصی جانور اور قربانی میں افضل ہے اور عقیقہ کا گوشت آباء و اجداد بھی کھا سکتے ہیں۔ مثل قربانی اس میں بھی تین حصہ کرنا مستحب ہے اور اس کی ہڈی توڑنے میں علماء تفاولانہ توڑنا بہتر جانتے ہیں۔ پسر کے عقیقہ میں دو جانور درکار ہیں اور یہی کافی ہے اگرچہ خصی نہ ہو۔

نیز فرماتے ہیں :

باپ اگر حاضر اور ذبح پر قادر ہو تو اسی کا ذبح کرنا بہتر ہے کہ یہ شکر نعمت ہے جس پر نعمت ہوئی وہی اپنے ہاتھ سے شکر ادا کرے وہ نہ ہو یا ذبح نہ کرسکے تو دوسرے کو قائم کرے یا کیا جائے اور ذبح کرے وہی دعا پڑھے۔ عقیقہ پسر میں کہ باپ ذبح کرے دعا یوں پڑھے :

اللہم ھذہ عقیقۃ ابنی فلان (فلاں کی جگہ بیٹے کا نام لے) دمہا بدمہ ولحمھا بلحمہ وعظمھا بعظمہ وجلدھا بجلدہ وشعرھا بشعرہ اللہم اجعلھا فداء لابنی من النار بسم اللہ اللہ اکبر۔

فلاں کی جگہ پسر کا جو نام رکھنا ہولے۔ دختر ہو تو دونوں جگہ ابنی کی جگہ بنتی اور پانچوں جگہ کی جگہ پاک ہے اور دوسرا شخص ذبح کرے تو دونوں جگہ ابنی فلاں یا بنتی فلاں کی جگہ فلاں بن فلاں یا فلانہ بنت فلاں کہے ‘ بچہ کو اس کے باپ کی طرف نسبت کرے۔ ہڈیاں توڑنے میں حرج نہیں اور نہ توڑنا بہتر اور دفن کردینا افضل۔ عقیقہ ساتویں دن افضل ہے نہ ہو سکے تو چودہویں ورنہ اکیسویں۔ ورنہ زندگی بھر میں جب کبھی ہو۔ وقت دن کا ہو رات کو ذبح کرنا مکروہ ہے۔ کم سے کم ایک تو ہے ہی اور پسر کے لئے دو افضل ہیں ‘ استطاعت نہ ہو تو ایک بھی کافی ہے گوشت بنانے کی اجرت داموں میں مجرا کرسکتا ہے۔ سری پائے خود کھائے خواہ اقرباء یا مساکین جسے چاہے خواہ سب حجام یا سب سقا کو دے دے۔ شرع مطہر نے ان کا کوئی خاص حق مقرر نہ فرمایا (فتاوی رضویہ ج ٨ ص ٥٤٢۔ ٥٤١‘ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی)

نذر کے بعض احکام اور ماں کی اولاد پر ولایت :

علامہ ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں :

عمران کی بیوی حنہ نے اپنے پیٹ کے بچہ کو بیت المقدس کی خدمت کے لئے وقف کرنے کی جو نذر مانی تھی اس طرح کی نذر ماننا ہماری شریعت میں بھی صحیح ہے ‘ مثلا انسان یہ نذر مانے کہ وہ اپنے چھوٹے بیٹے کی پرورش اور تربیت اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی اطاعت میں کرائے گا اور اس کے سوا اس کو اور کسی کام میں مشغول نہیں رکھے گا ‘ اور اس کو قرآن مجید ‘ احادیث ‘ فقہ اور دیگر علوم دینیہ کی تعلیم دے گا ‘ یہ نذر صحیح ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی عبادت ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ نذر سے کوئی چیز واجب ہوجاتی ہے اور جس عبادت کی نذر مانی جائے اس کا پورا کرنا واجب ہے اور یہ کہ نذر پورا کرنے کا تعلق مستقبل کے ساتھ ہوتا ہے اور یہ کہ کسی مجہول چیز کی نذر ماننا جائز ہے کیونکہ حنہ نے اپنے پیٹ کے بچہ کی نذر مانی تھی اور ان کو معلوم نہیں تھا کہ لڑکا ہوگا یا لڑکی۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ماں کو بھی اپنی اولاد پر ایک قسم کی ولایت حاصل ہوتی ہے اور وہ اس کی تادیب ‘ تعلیم اور تربیت کا حق رکھتی ہے اگر وہ اس کی مالک نہ ہوتی تو اپنی اولاد میں اس کی نذر نہ مانتی ‘ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ماں کو بھی بچہ کا نام رکھنے کا حق ہے اور اس کا رکھا ہوا نام صحیح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو اس کے رب نے اس کو اچھی طرح قبول کرلیا یعنی حنہ نے مریم کو بیت المقدس کی عبادت کے لئے وقف کرنے کی جو اخلاص کے ساتھ نذر مانی تھی اس کو قبول کرلیا۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ‘ ١١ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 35