حکایت نمبر 88: قصاب کی توبہ

حضرت سیدنا بکر بن عبد اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:” بنی اسرائیل کا ایک قصاب اپنے پڑوسی کی لونڈی پر عا شق ہوگیا۔ اتفاق سے ایک دن لونڈی کو اس کے مالک نے دوسرے گاؤں کسی کام سے بھیجا ،قصاب کو موقع مل گیا اوروہ بھی اس لونڈی کے پیچھے ہولیا ، جب لونڈی جنگل سے گزری تو اچانک قصاب نے سامنے آکر اسے پکڑ لیا اور اسے گناہ پر آمادہ کرنے لگا۔جب اس لونڈی نے دیکھا کہ اس قصاب کی نیت خراب ہے تو اس نے کہا:

”اے نوجوان تُو اس گناہ میں نہ پڑ !حقیقت یہ ہے کہ جتنا تُومجھ سے محبت کرتا ہے اس سے کہیں زیادہ میں تیری محبت میں گر فتار ہوں لیکن مجھے اپنے مالک حقیقی عزوجل کا خوف اس گناہ کے اِرتکاب سے روک رہا ہے ۔”

اس نیک سیرت اور خوفِ خدا عزوجل رکھنے والی لونڈی کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ تاثیر کا تیربن کر اس قصاب کے دل میں پیوست ہوگئے اور اس نے کہا: ” جب تُو اللہ عزوجل سے اِس قدر ڈر رہی ہے تو مَیں اپنے پاک پرور دگار عزوجل سے کیوں نہ ڈرو ں، مَیں بھی تو اسی مالک عزوجل کا بندہ ہوں ، جا!تو بے خوف ہو کر چلی جا۔” اتنا کہنے کے بعد اس قصاب نے اپنے گناہوں سے سچی تو بہ کی اور واپس پلٹ گیا ۔

راستے میں اسے شدید پیاس محسو س ہوئی لیکن اس ویران جنگل میں کہیں پانی کا دور دور تک کو ئی نام ونشان نہ تھا قریب تھا کہ گرمی اور پیاس کی شدت سے اس کا دم نکل جاتا، اتنے میں اسے اس زمانے کے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک قاصد ملا،جب اس نے قصاب کی یہ حالت دیکھی تو پوچھا:”تجھے کیا پریشانی ہے؟”کہا:” مجھے سخت پیاس لگی ہے۔”یہ سن کر قاصدنے کہا: ”آؤ! ہم دونوں مل کر دعا کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل ہم پر اپنی رحمت کے بادل بھیجے اور ہمیں سیراب کرے یہاں تک کہ ہم اپنی بستی میں داخل ہوجائیں۔”قصاب نے جب یہ سنا تو کہنے لگا: ”میرے پاس تو کوئی ایسا نیک عمل نہیں جس کا وسیلہ دے کر دعا کرو ں، آپ نیک شخص ہیں آپ ہی دعا فرمائیں ۔”

اس قاصد نے کہا : مَیں دعا کر تا ہوں، تم آمین کہنا، پھر قاصد نے دعا کرنا شروع کی اور وہ قصاب آمین کہتا رہا،تھوڑی ہی دیر میں بادل کے ایک ٹکڑے نے ان دونوں کو ڈھانپ لیا اور وہ بادل کا ٹکڑا ان پر سایہ فگن ہوکر ان کے ساتھ ساتھ چلتا رہا ۔

جب وہ دونوں بستی میں پہنچے تو قصاب اپنے گھر کی جانب روانہ ہوا اور وہ قاصد اپنی منزل کی طر ف جانے لگا، بادل بھی قصاب کے ساتھ ساتھ رہا جب اس قاصد نے یہ ماجر ہ دیکھا توقصاب کو بلایا اور کہنے لگا :” تم نے تو کہا تھا کہ میرے پاس کوئی نیکی نہیں ، اور تم نے دعا کرنے سے اِنکار کردیا تھا ، پھر میں نے دعا کی اورتم آمین کہتے رہے ،لیکن اب حال یہ ہے کہ بادل تمہارے ساتھ ہولیا ہے او رتمہارے سر پر سایہ فگن ہے ، سچ سچ بتاؤ! تم نے ایسی کو ن سی عظیم نیکی کی ہے جس کی وجہ سے تم پر یہ خاص کرم ہوا؟” یہ سن کر قصاب نے اپنا سارا واقعہ سنایا۔اس پر اس قاصد نے کہا :” اللہ عزوجل کی بارگاہ میں گناہوں سے توبہ کرنے والوں کا جومقام و مرتبہ ہے وہ دوسرے لوگوں کا نہیں ۔” (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)

(اے ہمارے پاک پر وَردْگار عزوجل !ہمیں بھی اپنے گناہوں سے سچی تو بہ کی توفیق عطا فرمایا اور ہمیں اپنا خوف عطا فرما، اپنے خوف سے رونے والی آنکھیں عطا فرما، گناہوں کے مرض سے نجات عطا فرماکر بیمارِ مدینہ بنادے ،دنیا کے غموں سے بچا کر غم آخرت نصیب فرما ، ہر وقت تیرے خوف اور تیرے پیارے حبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکے غم میں رونے والی آنکھیں عطا فرما ۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)

؎ ترے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ میں تھر تھر رہوں کانپتا یا الٰہی عزوجل!

بہتی رہے ہر وقت جو سرکار کے غم میں روتی ہوئی وہ آنکھ مجھے میرے خدا عزوجل دے 

کب گناہوں سے کنارہ میں کروں گا یارب عزوجل! نیک کب اے میرے اللہ بنوں گا یا رب عزوجل