حکایت نمبر90: شیطان کا جال

حضرت سیدنا عبد الرحمن بن زیاد بن انعم علیہ رحمۃ اللہ الا کرم فرماتے ہیں: ”ایک مرتبہ حضرت سیدنا موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام محفل میں تشریف فرما تھے کہ ابلیس ملعون آپ علیہ السلام کے پاس آیا ،اس نے اپنے سرپر مختلف رنگوں والی بڑی سی ٹوپی پہن رکھی تھی، ابلیس آپ (علیہ السلام) کے قریب آیا اوررنگین ٹو پی اُتا ر کر آپ علیہ السلام کے سامنے رکھ دی ، پھر کہنے لگا:اے موسیٰ (علیہ السلام) ! آپ پر سلامتی ہو۔

حضرت سیدناموسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃوالسلام نے اس سے پوچھا :” تُوکون ہے ؟” اس نے کہا: ”میں ابلیس ہوں۔” آپ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃوالسلام نے یہ سن کر فرمایا:” تُو ابلیس ہے، اللہ تعالیٰ تجھے سلامتی نہ دے بلکہ بر باد کرے، تُو میرے پاس کیوں آیا ہے ؟” اس لعین نے جواب دیا :” اللہ عزوجل کی بارگاہ میں آپ(علیہ السلام) کا مقام بہت بلند وبر تر ہے، آپ (علیہ السلام) اللہ عزوجل کے برگُزِیدہ پیغمبر ہیں، مَیں اسی لئے آپ کی بارگاہ میں سلام عرض کرنے آیا ہوں۔

آپ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃوالسلام نے پوچھا:”یہ مختلف رنگوں والی ٹوپی کیا ہے اور تُو نے یہ کیوں پہن رکھی ہے ؟” ابلیس نے جواب دیا:” یہ میرا جال ہے، میں اس کے ذریعے لوگو ں کے دِلوں کو شکار کرتا ہوں، انہیں اپنے جال میں پھنساتا ہوں اور ان پر حاوی ہوجاتا ہوں۔”یہ سن کر آپ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃوالسلام نے استفسار فرمایا: ”کس سبب سے تُو نیک لوگوں پر حاوی ہوجاتا ہے؟” شیطان نے کہا: ” جب انسان (اپنے اعمال پر) مغرورہوجائے،اپنی نیکیوں کو بہت زیادہ شمار کرنے لگے اور گناہوں کوبھول جائے تو میں اس پر غالب آجاتا ہوں اوراسے مضبوطی سے جکڑ لیتا ہوں ۔”اے موسیٰ (علیہ السلام) ! مَیں آپ کو تین باتوں سے خبر دار کرتا ہوں ،(۱)۔۔۔۔۔۔ کبھی بھی کسی ایسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ رہنا جو اَجنبیہ (یعنی غیر محرم) ہو کیونکہ جب انسان کسی غیر محرم عورت کے ساتھ ہوتا ہے تو ان دونوں کے درمیان تیسرا مَیں ہوتا ہوں اور انہیں گناہ میں مبتلا کر دیتا ہوں۔(۲)۔۔۔۔۔۔ جب کبھی اللہ عزوجل سے کوئی وعدہ کرو تو اسے ضرور پورا کرو،اور اسے پورا کرنے میں جلدی کرو کیونکہ جب بھی کوئی شخص اللہ عزوجل سے وعدہ کرتا ہے تو مَیں اور میرے ساتھی اس کو وعدہ پورا کرنے سے روکتے ہیں ۔(۳)۔۔۔۔۔۔ جب بھی کسی پر صدقہ کرنے کا ارادہ کرو تو فورا ًاس پر عمل کر و کیونکہ جب بھی کوئی شخص ایسا نیک ارادہ کرتاہے تو مَیں اور میرے ساتھی اسے وَرْغلاتے ہیں اور اسے اس نیک عمل سے روکتے ہیں۔اتنا کہنے کے بعد شیطان مردود آپ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃوالسلام کے پاس سے رخصت ہوگیاوہ یہ کہتا جا رہا تھا:”ہائے افسوس! موسیٰ (علیہ السلام) میرے تینوں وَاروں سے واقف ہوگئے ،ان کے ذریعے ہی تو میں لوگو ں کو بہکاتا ہوں، اب موسیٰ (علیہ السلام) تو لوگوں کوان با توں سے آگا ہ کر دیں گے۔”(اللہ عزوجل ہمیں شیطان کے حملوں سے محفوظ فرما ئے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)