فلسفہ حج

فلسفہ ٔ حج

امام الدین سعیدی

جس نےاللہ کے لیے حج کیااور فسق وفجور والی کوئی بات نہ کی تو وہ ایسےپاک لو ٹتا ہے جیسے اس کی ماں نے اُسے آج ہی جنا ہو

اللہ رب العزت کا ارشاد ہے :

 وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰی كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ(۲۷) لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰی مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآىِٕسَ الْفَقِیْرَ(۲۸) ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ (حج ۲۹)

ترجمہ: اے محبوب! لوگوں میں حج کا ا علان کردیں کہ وہ آپ کے پاس پیدل بھی آئیں گے اور ان اونٹنیوں پر سوار ہوکر بھی جو کمزور اور لاغر ہو گئی ہوں وہ دورودراز کے گہرے پہاڑی راستوں سے چلتی ہو ئی پہنچیں گی تا کہ وہ اپنی منفعت کی جگہوں پر حاضر ہوجائیں اور چند مقرر و معلوم دنوں میں اللہ کے عطاکردہ چوپایوں پر اللہ کا نام لیں،ان میں سے خود کھائیں اور تنگ دست فقیروں کو بھی کھلائیں۔پھر یہ لوگ اپنی گندگی دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم ترین گھر کا طواف کریں ۔

یہ وہ اعلان تھا جو صدیوں پہلے بلند ہو ااور جس کے جواب میں تب سےلےکر آج تک اہل ایمان لبیک لبیک پکارتے ہو ئے اس مقدس گھر کی طرف سفر کرتے ہیں جس گھر کوبیت الحرام کہا جاتا ہے وادی ٔ بطحا میں وہ خدا کا پہلا گھر تھا جو اللہ کو ایک ماننے والوں کے لیے مرکز و معبد بنا ۔حج،دین براہیمی میں عبادت و بندگی کا سب سے اعلی درجہ ہے کہ اپنے رب کے لئے بندہ اپنے جان ومال کے ساتھ اس کی بارگاہ میں حاضری دیتا ہے اور والہانہ جذبہ کے ساتھ اپنی بندگی کا ثبوت پیش کرتا ہے۔
یو ں تو اس حکیم مطلق کا کو ئی بھی حکم غایت وحکمت سے خالی نہیں ہو تا اس کی جانب سے جو بھی احکام آتے ہیں ان میں بے شمار مقاصد و مصالح مو جود ہو تے ہیں خواہ ہماری عقل ان کا ادراک کرے یا نہ کرے ۔
حج اور اس کے ارکان و مناسک میں بھی اللہ تعالیٰ نے بے شمار حکمتیں رکھی ہیں جو مومن کے انفرادی و اجتماعی صلاح و فلا ح پر مبنی ہیں۔
ذیل میں چند فوائد کا بیان کیا جارہا ہے جن میں ایمان و اخلاق ،نفس ووجدان کے لئے تربیتی پہلو موجود ہیں ۔

خود سپردگی 
ہم اپنی طبیعت و مزاج کو اطاعت الٰہی کے لیے آمادہ کرنے میں کس قدر ریاضت وتربیت کے محتاج ہیں یہ ہمیں بخوبی علم ہے ۔ حج اس ریا ضت کی ایک بہترین مثال ہے ۔ حجاج کرام کا طواف کرنا ،حجر اسود کو بوسہ دینا ،رمی جمار وغیرہ جیسے اعمال اس بات کا بین ثبوت ہے کہ بندہ طمانیت قلب کے ساتھ حکم ا لٰہی کے آگے سر تسلیم خم کیے ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ کے لیے پُرمشقت سفر کرکےپُرخلوص انقیاد و اطاعت کا اظہار بلاشبہ کمال بندگی ہے ۔

شعائر اللہ کی تعظیم و حرمت 
مقاصد حج میں ایک یہ بھی ہے کہ شعائر الٰہیہ کو نہایت تقدس و عظمت کی نگاہ سے ملاحظہ کرے اوراس کی جلالت و حرمت کا مکمل پاس ولحاظ رکھے ۔
اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآىِٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ (سورۂ حج ۳۲)

ترجمہ: جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرتا ہے تو گویا کہ وہ اس کے دل کے تقوی کا حصہ ہے ۔

اسی کی طرف یہ حدیث بھی اشارہ کررہی ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

 لَا تَزَالُ هٰذِهِ الْأُمَّةُ بِخَيْرٍ مَا عَظَّمُوْا هٰذِهِ الْحُرْمَةَ حَقَّ تَعْظِيْمِهَا، فَإِذَا ضَيَّعُوْا ذٰلِكَ، هَلَكُوْا۔ (سنن ابن ماجہ،باب:فضل المدینۃ )
ترجمہ:اس امت سے بھلائی کبھی ختم نہیں ہوگی جب تک کہ یہ اس محترم گھر ( کعبہ ) کی حرمت کو برقرار رکھے گی اور جس دن وہ اس کی بے حرمتی کا ارتکاب کرے گی تو ہلاک کردی جائےگی ۔

تصور آخرت میں تازگی اور پختگی 
حاجی جب حج کے سفر پر روانہ ہوتاہے تو اپنے وطن عزیز کو چھوڑتا ہے ، سفر کی مشقت سے دوچار ہو تا ہے ۔یہ اس بات کی علامت ہو تی ہے کہ اسے ایک دن اسی طرح دنیا چھوڑ دینا ہے مو ت جیسی تلخ حقیقت کا سامنا کرنا ہے ،احرام پہننا گویا اسے اپنے کفن کی یاد دلا تا ہے کہ جس طرح آج دو بغیر سلی ہو ئی چادر اس کا لباس ہے مرنے کے بعدبھی اس کو یہی پہننا ہے عرفات میں خلق خدا کا ازدحام قیامت کی بھیڑ والا منظر بیان کرتا ہے ۔اس طرح حج کرنے والا آخرت و قیامت کے تعلق سے بہت حساس اور فکرمند ہو جاتاہے ۔

کثرت میں وحدت اور اخوت ایمانی 
حج کے موقع پر مختلف ممالک اور طبقے کے لو گ جمع ہوتے ہیں ،رنگ و نسل کی تفریق کے باوجود سب ایک مقام پرہو تے ہیں ، ایک لباس میں ہو تے ہیں ،ایک وقت میں ہوتے ہیں ،ایک ہی طرح کے اعمال میں مصروف ہو تے ہیں گو یا حج ساری تفریق و امتیاز کو ختم کرکے امت مسلمہ کو ایک مقام پر جمع کردیتا ہے ،باہمی رابطہ کی راہ ہموار کرتا ہے اور ان کے مابین اخوت ایمانی و صلہ ٔ رحمی کے جذبےکو بیدار کرتا ہے ۔

محبت رسول 
بلاشبہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ایمان کی اساس اور بنیاد ہے اعمال حج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور آپ کی سنت کو اپنانا آپ کی محبت میں اضافہ کرتا ہے آپ کی اقتداو پیروی ہی اصل میں آپ سے محبت کی دلیل ہے، دراصل آپ کی متابعت ہی آپ کی محبت کے حصول کا ذریعہ ہے ،نیز اسی کے ذریعہ اللہ کی محبت بھی حاصل ہوتی ہے۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود ارشاد فرمایا :

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ( آل عمران ۳۱ )
ترجمہ:اے محبوب!آپ فرمادیں کہ اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہوتو میری اتباع کرو،اللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہوں کی بخشش فرمادے گااور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

حصول تقوی 
قرآن کریم میں ارشاد ہے :

اَتِمُّواالْحَجَّ وَ الْعُمْرَۃَ… وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (سورۂ بقرہ ۱۹۶)
ترجمہ : حج اور عمرہ اللہ کے لیے کرو، تقوی اختیار کرواور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔

دوسری آیت کریمہ میں ہے :

 وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی ( بقرہ ۱۹۷)
ترجمہ:توشہ اختیارکرو بے شک تقویٰ بہترین توشہ ہے مذکورہ بالا آیتوں میں حج کے حکم کے ساتھ واضح لفظوں میں تقوی کا بھی ذکر مربوط ہے جو حج کے اغراض ومقاصدکو شامل ہے۔

کثرت ذکر 
حج کے تلبیہ و تہلیل اور دعاؤں میں اگر غور کیا جائے تو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ تلبیہ و تسبیح کا بار بار پڑھنا اور دعا و مناجات میں مصروف رہنا ذکر الٰہی کی کثرت پر دلیل ہے اس کا مقصود یہی ہے کہ ایام حج میں کثرت سے اللہ کا ذکر کریں اپنے اوقات کو غافل ہو کر نہ گذاریں۔چنانچہ قرآن میں مناسک کو بیان کرتے ہو ئے متعدد بار ذکر الٰہی پر زور دیا گیا ہے ۔ ال
لہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے :

فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ( بقرہ ۱۹۸)
ترجمہ:مشعرحرام کے پاس اللہ کو یاد کرواور جس طرح اس نے تمھیں ہدایت دی ہے تم اُسےبھی یاد کرو۔

 اسی طرح جب مناسک حج کی تکمیل ہوجائے تو وہاں ذکر کا حکم دیاگیا جیسا کہ ارشاد قرآنی ہے :

فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا( بقرہ ۲۰۰)
ترجمہ:جب تم مناسک پورےکرلوتو اللہ کاذکرکرو جس طرح تم اپنےآباواجدادکاذکر کرتے تھےبلکہ ان سے زیادہ ۔

 بلا شبہ حج وعمرہ کا وہی مقصد ہے جو ان کی حقیقت ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ کی عطاکی ہو ئی نعمتوں کا اعتراف ،اور اس کی وحدانیت کا اقرار،اس کی نشانیوں کی زیارت اور اس امر کی یاد دہانی کہ ایمان لا نے کے بعد ہم اپنے آپ کو مکمل طور سے خدا کے حوالہ کر چکے ہیں اب ہم اپنے اختیار اور طبیعت سے کچھ نہیں کرسکتے ،وہی کریں گے جو اللہ کا حکم ہو گا ۔یہ وہ تمام چیزیں ہیں جو حج کے مقاصد و منافع میں شمار کئے گئے ہیں سورۂ حج کی جو ابتدائی آیت ہے اس میں اللہ رب العزت مناسک حج کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتاہے :

 لِیَشْہَدُوْا مَنَافِعَ لَہُمْ  (حج ۲۸)
ترجمہ: تاکہ وہ اپنے لیے نفع بخش مقامات پر حاضر ہوں ۔

 اور احرام باندھ لینے کے بعد یہ الفاظ ہر ایک کی زبان پر تسلسل کے ساتھ جاری رہتے ہیں :

 لَبَّیْکَ أللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ ،إنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ ،لَا شَرِیْکَ لَکَ۔
ترجمہ:یااللہ! میں حاضر ہو ں،میں حاضر ہو ں، تیرا کوئی شریک نہیں ،میں حاضر ہو ں ،ساری حمد تیرے ہی لیے ہے ۔ سب نعمتیں تیری ہیں،ساری بادشاہی تیری ہے ۔تیرا کو ئی شریک نہیں ۔

اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ کس قدر غیر معمولی عبادت ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقعہ پر ایمان اور جہاد کے بعد اسی کی فضیلت بیان فرمائی ۔
حضرت ماعز سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پو چھا گیا کہ کو ن سا عمل افضل ہے ؟
تو آپ نے فرما یا کہ اللہ کے ایک ہونے پر ایمان لانا، پھر جہاد کرنا ،پھر حج ۔اس لئے کہ حج وہ نیکی ہے جسے دوسرے تمام اعمال پر فضیلت ہے۔ ( صحیح بخاری)
نیزیہ بھی فرمایاہے :

 مَنْ حَجَّ لِلهِ فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهٗ أُمُّهٗ۔(صحیح بخار ی،باب فضل الحج المبرور)
ترجمہ:جو شخص اللہ کے لیے حج کرے پھر کو ئی شہوت اور فسق وفجور والی بات نہ کرے تو وہ ایسے لو ٹتا ہے جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو۔

ایک دوسری جگہ ارشاد ہے :

 وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَيْسَ لَهٗ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ۔ ( مسلم،باب:فضل الحج المبرور)
ترجمہ:حج مبرور کا بدلہ جنت ہی ہے ۔

 ضروری اصلاحا ت 
چند باتیں جو حج کی منفعت اور اس کے مقصد کے لئے نقصان دہ ہیں جن میں بہت سارے حجاج کرام مبتلا نظر آتے ہیں ان سے بچنا نہایت ضروری ہے نیزیہ آداب حج کے خلاف بھی ہیں ۔

۱۔ حج کی نیت میں صرف اللہ کی خوشنودی اور اس کی فریضہ کی ادائیگی مقصود ہو حاجی کے لقب کا اضافہ یا شہرت و ناموری کی ہو س نہ ہو بعض مالدار حضرات حج کے مقصد کو نہ سمجھ پانے کی وجہ سے بار بار حج کرکے تعداد میں ریکارڈ بنانے کے دھن میں رہتے ہیں ایسا حج جو محض تعداد میں اضافہ پیدا کرنے لئے ہو کسی کام کا نہیں۔
۲۔حج کے درمیان مقامات مقدسہ کی زیارت کا مقصد ان سے فیو ض و برکات ،اور درس و عبرت حاصل کرنا ان میں اللہ کی حیرت انگیز نشانیوں کا مشاہدہ کرنامقصود ہےنہ کہ صرف سیر و تفریح اور عمارتوں کی تعمیرو تزئین سے محظوظ ہو نا ۔
۳۔اوقات حج کو فضول کاموں اور لغو باتوں میںصرف نہ کیا جائے بلکہ ذکر وتسبیح اور نوافل و تلاوت میں مشغول رہیں کسی بھی طرح کے فسق وفجور سے گریز کریں ورنہ ساری محنت رائیگاں ہو سکتی ہے ۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.