أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوۡلٍ حَسَنٍ وَّاَنۡۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا ۙ وَّكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ‌ؕ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيۡهَا زَكَرِيَّا الۡمِحۡرَابَۙ وَجَدَ عِنۡدَهَا رِزۡقًا ‌ۚ‌ قَالَ يٰمَرۡيَمُ اَنّٰى لَـكِ هٰذَا ؕ‌ قَالَتۡ هُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ

ترجمہ:

تو اس کے رب نے اس کو اچھی طرح قبول فرما لیا اور اس کو عمدہ پرورش کے ساتھ پروان چڑھایا اور زکریا کو اس کا کفیل بنایا (رض) جب بھی زکریا اس کے پاس اس کی عبادت کے حجرے میں داخل ہوتے تو اس کے پاس تازہ رزق (موجود) پاتے انھوں نے کہا اے مریم ! تمہارے پاس یہ (رزق) کہاں سے آیا ؟ مریم نے کہا یہ (رزق) اللہ کے پاس سے آیا ہے۔ بیشک اللہ جسے چاہے بےحساب رزق عطا فرماتا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تو اس کے رب نے اس کو اچھی طرح قبول فرما لیا اور اس کو عمدہ پرورش کے ساتھ پروان چڑھایا۔ (آل عمران : ٣٧)

امام ابن جریر طبری نے اپنی سند کے ساتھ ابن جریج سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کو عبادت گاہ کی خدمت کے لئے وقف کئے جانے کو قبول فرما لیا۔ (جامع البیان ج ٣ ص ١٦٢‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

حضرت مریم کی عمدہ پرورش کے متعلق امام رازی نے نقل کیا ہے کہ ایک دن میں حضرت مریم کی نشو و نما اتنی ہوتی تھی جتنی عام بچوں کی ایک سال میں ہوتی ہے اور دین داری میں بھی ان کی تربیت بہت اچھی تھی وہ بہت زیادہ نیک کام کرتی تھیں۔ پاکباز رہتی تھیں اور عبادت کرتی تھی۔ (تفسیر کبیر ج ٢ ص ٤٣٧ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور زکریا کو اس کا کفیل بنایا۔

حضرت زکریا (علیہ السلام) کی سوانح : 

حافظ ابوالقاسم علی بن الحسن ابن عساکر متوفی ٥٧١ ھ لکھتے ہیں :

زکریا بن حنا اور زکریا بن دان بھی کہا جاتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے زکریا بن ادن بن مسلم بن صدوف۔ ان کا نسب حضرت سلیمان بن داؤد (علیہما السلام) تک پہنچتا ہے یہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے والد ہیں۔ یہ بنی اسرائیل سے ہیں۔ بثینہ نام کی دمشق کی ایک بستی میں اپنے بیٹے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو ڈھونڈنے گئے تھے اور ایک قول یہ ہے کہ جس وقت ان کے بیٹے یحییٰ کو قتل کیا گیا تو یہ دمشق میں تھے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حضرت زکریا نجار (بڑھئی) تھے۔

مورخین نے بیان کیا ہے کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے والد زکریا بن دان ان انبیاء (علیہم السلام) کے بیٹوں میں سے تھے جو بیت المقدس میں وحی لکھتے تھے ‘ اور عمران بن ماثان حضرت مریم کے والد تھے اور بنو اسرائیل کے بادشاہوں کے بیٹوں میں سے تھے اور حضرت سلیمان کی اولاد تھے۔ (الکامل لابن اثیرج ١ ص ٢٩٨‘ البدایہ والنہایہ ج ٢ ص ٥١ ایضا)

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا بنو اسرائیل کے انبیاء کے بیٹوں سے یا ان کی نسل اور ان کی جنس سے کسی نہ کسی کو بیت المقدس کی خدمت کے لئے دیگر کاموں اور ذمہ داریوں سے الگ کر کے وقف کردیا جاتا تھا اور حضرت زکریا نے حضرت مریم بنت عمران کی بہن سے شادی کی تھی اور وہ حضرت یحییٰ کی ماں تھیں ‘ اور حضرت مریم بنت عمران آل داؤد سے تھیں ‘ جو یہودا بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم کے نواسے تھے۔

مکحول نے کہا حضرت زکریا اور عمران نے دو بہنوں سے شادی کی تھی حضرت یحییٰ کی ماں حضرت زکریا کے نکاح میں تھیں اور حضرت مریم کی ماں عمران کے نکاح میں تھیں۔ وہ جب اولاد سے مایوس ہوگئیں تو ان کے ہاں مریم پیدا ہوئیں۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں ہے حضرت زکریا نے رات کو اپنے رب سے چپکے چپکے دعا کی اور کہا اے ہمارے رب میری ہڈی کمزور ہوگئی ہے اور میرا سر سفید ہوگیا ہے، اے میرے رب تو نے اس سے پہلے میری دعا کو کبھی مسترد نہیں کیا اس لئے اس لئے میری اس دعا کو بھی مسترد نہ کرنا ‘ اور مجھے اپنے بعد اپنے رشتہ داروں سے خوف ہے (کہ کہیں وہ میرے بعد دین میں فتنہ نہ پیدا کریں) اور میری بیوی بانجھ ہے ‘ تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرما دے جو میرا اور آل یعقوب کا وارث بنے اور اے میرے رب اس کو (اپنا) پسندیدہ بنا۔ (مریم : ٦۔ ٣)

حضرت ابن عباس فرماتے ہیں : حضرت زکریا اور ان کی بیوی دونوں بوڑھے ہوچکے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی سو جس وقت وہ محراب میں نماز پڑھ رہے تھے جس جگہ قربانی کو ذبح کیا جاتا ہے تو ایک سفید پوش شخص آئے یہ حضرت جبرئیل تھے انہوں نے کہا اے زکریا ! اللہ آپ کو ایک لڑکے کی بشارت دیتا ہے جس کا نام یحییٰ ہے ہم نے اس سے پہلے کوئی اس کا ہم نام نہیں بنایا۔ (مریم : ٧)

پھر وہ (یحی) اللہ کی طرف سے ایک کلمہ (حضرت عیسیعلیہ السلام) کی تصدیق کرنے والے ہوں گے (آل عمران : ٣٩) یعنی حضرت یحییٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سب سے پہلے تصدیق کرنے والے ہوں گے ‘ پھر فرمایا کہ یحییٰ سید اور حصور ہوں گے یعنی حلم ہوں گے اور عورتوں سے اجتناب کرنے والے ہوں گے۔

یزید بن ابی منصور بیان کرتے ہیں کہ حضرت یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) بیت المقدس میں داخل ہوئے تو دیکھا وہاں عبادت گزاروں نے موٹے کپڑے اور اونی ٹوپیاں پہنی ہوئی ہیں ‘ اور مجتہدین نے اپنے آپ کو بیت المقدس کے کونوں میں زنجیروں سے باندھ رکھا ہے جب انہوں نے کہا اے یحییٰ آؤ ہمارے ساتھ کھیلو حضرت یحییٰ نے کہا میں کھیلنے کے لئے پیدا نہیں کیا گیا۔ وہ اپنے ماں باپ کے پاس گئے اور کہا کہ انکے بھی اونی کپڑے بنادیں انہوں نے بنادیئے اور وہ بیت المقدس کی طرف چلے گئے وہ دن کو اس کی خدمت کرتے اور رات کو عبادت کرتے ‘ حتی کہ پندرہ برس گزر گئے پھر ان پر خوف کا غلبہ ہوا اور وہ جنگلوں اور غاروں کی طرف نکل گئے، حضرت یحییٰ کے ماں باپ ان کی طلب میں نکلے تو ان کو بحیرہ اردن کے پاس غاروں میں دیکھا وہ ایک کھاڑی کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے پیرپانی میں ڈوبے ہوئے تھے ‘ قریب تھا کہ وہ پیاس سے ہلاک ہوجاتے اور وہ یہ کہہ رہے تھے اللہ ! تیری عزت کی قسم میں اس وقت تک پانی نہیں پیوں گا جب تک کہ مجھے یہ نہ معلوم ہوجائے کہ تیرے نزدیک میرا مقام کیا ہے۔ ان کے ماں باپ کے پاس جو کی روٹی اور پانی تھا انہوں نے ان سے کھانے اور پینے کے لئے کہا انہوں نے قسم کا کفارہ دیا اور ماں باپ کا کہا مان لیا اور ماں باپ ان کو بیت المقدس واپس لے آئے۔ حضرت یحییٰ جب نماز پڑھنے کھڑے ہوتے تو اس قدر روتے کہ شجر و حجر بھی ان کے ساتھ رونے لگتے ‘ ان کے رونے کی وجہ سے حضرت زکریا بھی روتے حتی کہ بےہوش ہوجاتے۔ حضرت یحییٰ اسی طرح روتے رہے حتی کہ آنسوؤں نے ان کے رخساروں کو جلا دیا اور ان کی داڑھیں نظر آنے لگیں جن پر ان کی والدہ نے روئی کا نمدہ رکھا۔ وہب بن منبہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت زکریا بھاگے اور ایک کھوکھلے درخت میں داخل ہوگئے اس درخت پر آرا رکھ کر اس کے دو ٹکڑے کردیئے گئے، جب ان کی پشت پر آرا چلنے لگا تو اللہ تبارک وتعالی نے انکی طرف وحی کی اے زکریا ! تم رونا بند کردو ورنہ میں تمام روئے زمین کو اس کے رہنے والوں سمیت پلٹ دوں گا۔ پھر حضرت زکریا خاموش ہوگئے اور ان کے دو ٹکڑے کردیئے گئے۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ شب معراج آسمان پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حضرت زکریا سے ملاقات ہوئی ‘ آپ نے انکو سلام کرکے فرمایا اے ابو یحییٰ مجھے اپنے قتل کئے جانے کی کیفیت کی خبر دیجئے اور آپ کو بنو اسرائیل نے کیوں قتل کیا تھا۔ انہوں نے کہا اے محمد ! میں آپ کو بتاتا ہوں ‘ یحییٰ اپنے زمانے کے سب سے نیک آدمی تھے اور سب سے زیادہ حسین و جمیل تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق فرمایا ہے سیدا و حصورا ! اور ان کو عورتوں کی ضرورت نہیں تھی بنواسرائیل کے ایک بادشاہ کی عورت ان پر فریفہ ہوگئی ‘ وہ بدکار تھی ‘ اس نے ان کو بلوایا۔ اللہ نے ان کو محفوظ رکھا۔ یحییٰ نے اس کے پاس جانے سے انکار کردیا۔ اس نے ان کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا۔ ان کی ہر سال عید ہوتی تھی اور بادشاہ عادت یہ تھی کہ وہ وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا تھا اور نہ جھوٹ بولتا تھا ‘ بادشاہ عید کے دن باہر نکلا اس کی عورت نے اس کو رخصت کیا ‘ بادشاہ کو اس پر تعجب ہوا کیوں کہ اس سے پہلے وہ اس کو رخصت نہیں کرتی تھی بادشاہ نے کہا سوال کرو ! تم نے جب بھی کسی چیز کا سوال کیا ہے میں نے تم کو وہ چیز عطا کی ہے اس نے کہا میں یحییٰ بن زکریا کا خون چاہتی ہوں۔ بادشاہ نے کہا کچھ اور مانگ لو۔ اس نے کہا مجھے یہی چاہیے۔ بادشاہ نے کہا وہ تمہیں مل جائے گا۔ اس عورت نے یحییٰ کے پاس ایک سپاہی بھیجا وہ اس وقت محراب میں نماز پڑھ رہے تھے اور میں ان کی ایک جانب نماز پڑھ رہا تھا۔ ان کو ذبح کردیا گیا اور ان کا سر اور خون ایک طشت میں رکھ کر اس عورت کو پیش کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس بادشاہ ‘ اس کے گھروالوں اور تمام درباریوں کو زمین میں دھنسا دیا۔ جب صبح ہوئی تو بنواسرائیل نے کہا زکریا کا خدا زکریا کی وجہ سے غضب میں آگیا۔ آؤ ہم اپنے بادشاہ کی وجہ سے غضب میں آئیں اور زکریا کو قتل کردیں ‘ وہ مجھے قتل کرنے کے لئے ڈھونڈنے نکلے میں ان سے بھاگا۔ ابلیس ان کی قیادت کر رہا تھا اور میری طرف رہنمائی کر رہا تھا۔ جب مجھے یہ خطرہ ہوا کہ میں ان کو باز نہیں رکھ سکوں گا تو میں نے اپنے آپ کو ایک درخت پر پیش کیا درخت نے آواز دی میری طرف آؤ۔ میری طرف آؤ۔ وہ درخت شق ہوگیا ‘ اور میں اس میں داخل ہوگیا ‘ میں جب درخت میں داخل ہوا تو میری چادر کا ایک پلو باہر رہ گیا تھا اور درخت جڑ گیا تھا ابلیس نے اس چادر کے پلو کو پکڑ لیا اور کہا کیا تم دیکھتے نہیں وہ اس درخت میں داخل ہوگیا ہے اور یہ اس کی چادر کا پلو ہے ! وہ اپنے جادو کے زور سے اس درخت میں داخل ہوگیا ہے انہوں نے کہا ہم اس درخت کو جلا دیتے ہیں ‘ اس نے کہا اس کو آری سے کاٹ کردو ٹکڑے کردو تو مجھے آری کے ساتھ کاٹ کردو ٹکڑے کردیا گیا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا اے زکریا ! کیا آپ نے کوئی درد اور تکلیف محسوس کی۔ حضرت زکریا نے کہا نہیں وہ تکلیف اس درخت نے محسوس کی اللہ تعالیٰ نے میری روح اس درخت میں منتقل کردی تھی۔

وہب بن منبہ سے ایک روایت یہ ہے کہ جس نبی کے لئے درخت شق ہوا تھا اور وہ اس میں داخل ہوئے تھے وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے اشعیاء نام کے نبی تھے اور حضرت زکریا نے طبعی موت پائی تھی۔ (مختصر تاریخ دمشق ج ٩ ص ‘ ٥١۔ ٤٥ مطبوعہ دارالفکر ‘ دمشق ‘ ١٤٠٤ ھ)

حضرت زکریا کا حضرت مریم کی کفالت کرنا : 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت مریم پیدا ہوئیں تو ان کی ماں نے ان کو ایک کپڑے میں لپیٹا اور ان کو کاہن بن عمران کے بیٹے کے پاس لے گئیں جو اس زمانہ میں بیت المقدس کے دربان تھے اور ان سے کہا اس نذر میں مانی ہوئی لڑکی کو سنبھالو یہ میری بیٹی ہے میں اس کو اپنے گھر نہیں لے جاؤں گی۔ انہوں نے کہا یہ ہمارے امام کی بیٹی ہے اور عمران ان کو نمازیں پڑھاتے تھے اور ان کی قربانیوں کے منتظم تھے حضرت زکریا نے کہا یہ لڑکی مجھے دے دو کیونکہ اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے۔ باقی لوگوں نے کہا ہم اس فیصلہ پر خوش نہیں ہیں یہ ہمارے ہمارے امام کی بیٹی ہے ‘ پھر انہوں نے حضرت مریم کی پرورش کے لئے قلموں کے ساتھ قرعہ اندازی کی۔ یہ وہ قلم تھے جن کے ساتھ وہ تورات لکھتے تھے، حضرت زکریا کے نام کا قرعہ نکل آیا اور انہوں نے حضرت مریم کی کفالت کی۔ سدی کی روایت میں ہے کہ وہ لوگ دریا اردن میں گئے اور جن قلموں سے تورات لکھتے تھے وہ دریا میں ڈال دیئے کہ جس کا قلم پانی میں اس طرح کھڑا رہا جس طرح زمین میں نیزہ گاڑ دیتے ہیں۔ تب انہوں نے حضرت مریم کو لے لیا اور ان کی کفالت کی۔ (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ١٦٤۔ ١٦٣ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :۔ جب بھی زکریا اس کے پاس اس کی عبادت کے حجرے میں داخل ہوتے تو اس کے پاس تازہ رزق (موجود) پاتے ‘ انہوں نے کہا : اے مریم : ! یہ رزق کہاں سے آیا ؟ مریم نے کہا یہ (رزق) اللہ کے پاس سے آیا ہے بیشک اللہ جسے چاہے بےحساب رزق عطا فرماتا ہے۔ (آل عمران : ٣٧)

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

ضحاک بیان کرتے ہیں کہ حضرت زکریا حضرت مریم کے پاس سردیوں میں گرمیوں کے ‘ اور گرمیوں میں سردیوں کے پھل دیکھتے تھے مجاہد نے بیان کیا ہے وہ ان کے پاس بےموسمی انگور دیکھتے تھے۔ (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ١٦٥ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ حضرت مریم کی ماں کے فوت ہونے کے بعد حضرت زکریا نے حضرت مریم کو ان کی خالہ حضرت یحییٰ کی ماں کی تحویل میں دے دیا۔ حتی کہ جب وہ بلوغت کو پہنچ گئیں تو ان کی ماں کی نذر کے مطا بق ان کو عبادت گاہ میں پہنچادیا۔ وہ وہاں پلتی بڑھتی رہیں۔ پھر بنواسرائیل تنگی اور قحط سالی کا شکار ہوگئے اور حضرت زکریاکوان کی پرورش کرنے میں ضعف لاحق ہوا ‘ انہوں نے بنواسرائیل سے کہا تم کو معلوم ہے کہ اب میں اس کی پرورش سے عاجز ہو رہا ہوں۔ انہوں نے کہا آپ جن مصائب کا شکار ہیں وہ ہمیں بھی درپیش ہیں وہ ایک دوسرے پر یہ ذمہ داری ڈالنے لگے اور ان کے لیے پرورش کے سوا کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ انہوں نے پھر قرعہ اندازی کی اور اس دفعہ جریج نام کے ایک شخص کا قرعہ نکلا حضرت مریم نے جب جریج کے چہرہ پر پریشانی کے آثار دیکھے تو فرمایا۔ اے جریج اللہ سے حسن ظن رکھو وہ ہم دونوں کو رزق عطا فرمائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت نے کی برکت سے جریج کو غیر معمولی رزق عطا فرمانے لگا حضرت زکریا نے جب رزق کی یہ فراوانی دیکھی تو پوچھا اے مریم ! یہ رزق کہاں سے آیا ‘ حضرت مریم نے کہا اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق عطا فرماتا ہے ‘ اور محراب کا معنی ہے مجلس میں سب سے مشرف مقام۔ جائے صدارت اور محفل میں مقدم جگہ۔ (جامع البیان ج ٣ ص ١٦٦‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 37