معاشرے کی زبوں حالی

مولانا محمد شاکر علی نوری

روز اول سے یہ طریقہ رہا ہے کہ کسی کو برباد کرنا ہو تو اس کی کامیابی کے ذرائع سے اس کو محروم کردو وہ از خود برباد ہوجائے گا۔دولت مند کو دولت سے محروم کردو ،صاحب اقتدار کو اقتدار سے محروم کردو ،صاحب اخلاق سے اخلاق چھین لو ،اور صاحب علم کو علم سے محروم کردو،وہ خود بخود برباد ہوجائے گا ۔

داعیٔ اسلام ﷺ نے اعلان نبوت سے پہلے جس کمال سے اپنی پہچان کروائی ،وہ حیا،صداقت،غریب پروری،امانت داری،اور اس جیسی بے شمار خوبیاں تھیں اور انہیں خوبیوں کی بنیاد پر بعض شریف النفس حضور اکرم ﷺ کی قربت کو پسند کرتے تھے اور ان میں سب سے زیادہ قریب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔جب احکم الحاکمین کی طرف سے دعوت الی اللہ کا حکم ملا تو حضور ﷺ نے لوگوں کو اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی ،جس پر روسائے قریش برہم ہوئے،لیکن یہاں یہ بات دیکھنی ہے کہ داعیٔ اسلام علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوت اِلیٰ اللہ سے پہلے کونسی چیز اپنی قوم کے سامنے پیش فرمائی تھی ۔تو وہ خود حضور ﷺ کا اپنی ذات کے حوالے سے اپنی قوم سے سوال تھا کہ میرے بارے میں تمہارے کیا خیالات ہیں۔ میں اگر کہوں کہ پہاڑی کی اس جانب سے لشکر آرہا ہے تو کیا تم مانوگے؟ تمام لوگوں نے بیک زباں داعیٔ اسلام اکے قول کو تسلیم کرنے کا اظہار کیا ۔لیکن جب حضور ﷺ نے دعوت الی اللہ پیش فرمائی تو سب کے چہرے فک پڑگئے اور اعتراض کرنا شروع کردیا ۔ بہت ساری باتیں کہی گئیں،لیکن کوئی رحمت عالمﷺکے کردار کے حوالے سے اعتراض نہ کرسکا ۔حقیت یہ تھی کہ دل سے تووہ بھی جانتے تھے کہ اسی دعوت پر عمل کرنے سے معاشرے میں امن قائم ہوسکتا ہے ۔ رسول اعظم ﷺ کے سلسلہ میں دل تو ان کا بھی کہتا تھا کہ ان سا سچا اور اچھا ہم نے نہ کبھی دیکھا ہے ،اور نہ کوئی نظر آسکتا ہے ۔ لیکن آباء و اجداد کے دین سے انحراف نیز سوسائٹی کا خیال اور اپنی منفعت اور گناہوں سے آزادی یہ ساری چیزیں مانع تھیں۔ابھی تک نماز روزہ ،حج زکوٰۃ وغیرہ فرض نہ ہوئے تھے۔ابھی تو صرف کردار کی بات تھی کہ قبول اسلام کے بعد بے حیائی سے اپنے وجود کو روکنا ہوگا ،جھوٹ سے اپنی زبان روکنی ہوگی ،اس لئے جس کی دعوت پر لبیک کہہ کر اس کے دین میںشامل ہونا ہے تو اسی کے کردار کو اپناناہوگا ۔ جو ایک غلام نفس کے لئے نہایت ہی دشوار ہے ۔لیکن جو دعوت پر لبیک کہہ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ، ان کی پہچان معاشرے میں حسنِ اخلاق سے ہونے لگی۔

اسلام کی ترویج واشاعت کے دوران بہت سی جنگیں بھی ہوئیں۔لیکن قلت تعدادباوجود کثرت اخلاق نے ان کو ہمیشہ فوزوفلاح کا مسافر بنائے رکھا ۔آج کی جنگوں کاجائزہ لیں تو قوم مسلم کے جیالوں کا کردار اس معاملے میں نمایاں نظر آئیگا کہ فاتح بن کر جب کوئی عاشق رسول ﷺ کسی ملک میں داخل ہوا ہے تو کبھی کسی مذہب سے تعلق رکھنے والی بچی کی عزت اپنی بچی کی عزت سے کم تصور نہیں کیا ۔یہ حضور ﷺ کے کردار کے وارث ہیں ۔دشمنوں نے انہیں کردار پر نقب زنی کی کوشش کی ،اور بد کرداری کے سیلاب کو معاشرے میں داخل کرنے کے لئے کوئی طریقہ نہیں چھوڑا ۔اس لئے کہ انہیں قوم مسلم کے قانون اسلام کے نفاذ سے آزادی کے سلب ہونے کا خدشہ نیز ماضی کی شکست کا انتقام لینے کا جذبہ پریشان کئے ہوئے تھا ۔وہ جانتے تھے کہ جب تک اس قوم کے اخلاق کو خراب نہیں کیا جائے گا ،اس قوم کو شکست نہیں دے سکتے ۔اس لئے سب کچھ ہوا اور ہورہا ہے۔

روئے زمین پر قوم مسلم کو تباہ کرنے والے گروہوں اور ان کے محبوں کی کوئی کمی نہیں ،ان میں سب سے زیادہ جو قومیں قوم مسلم کے خلاف محاذ آرا ہیں ،وہ یہود ونصاریٰ ہیں۔

اسلام دشمن مغربی منصوبہ ساز کا قول ہے:

رنگین شراب کا ایک جام اور خوبصورت مغنیہ امت محمدیہ کو تباہ کرنے میں ہزاروں توپوں سے زیادہ بہتر وموثر ہیں۔اس لئے مسلمان کو شہوات نفسانی میںغرق کرنے کا اہتمام کرو۔

کیا آج قوم مسلم لاشعوری طور پر دشمن کے منصوبہ کا شکار نہیں ہوئی۔کل تک ہمارے معاشرہ کی پہچان ہمارے اخلاق سے ہوتی تھی اور آج ہماری پہچان کن چیزوں سے ہوتی ہے وہ آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں ۔میں یہ نہیں کہتا جو کچھ دنیا کہہ رہی ہے ۔وہ سب کا سب سچ ہے ۔یقینا کچھ تو بدنام کرنے کے لئے افواہیں گشت کرہی ہیں اور کچھ کچھ حقیقت بھی ہے ،اس لئے ہم اپنی پہچان کو زندہ کرنے کے لئے کوششیں کریں،اور بے حیائی سے بچنے کے لئے جد وجہد کریں دشمنوں کے بنائے ہوئے راستوں پر چلنے کے بجائے محسن انسانیت حضور ا کی پیروی کریں ،اور اللہ عزوجل اور اس کے پیارے محبوب ا نے کیا ارشاد فرمایا ہے ،اسے پڑھیں اور اس پر عمل کرکے ایک باوقار انسان اور وفادارن اسلام میں اپنا نام درج کرائیں ۔

اللہ عزوجل نے ایمان والوں میں بے حیائی پھیلانے والوں کو بہت سخت انداز میں تنبیہ فرمایا ہے : ’’ ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین آمنوالھم عذاب الیم فی الدنیا والآخرۃ‘‘ (سورہ نور :آیت ۱۹)

جو لوگ پسند کرتے ہیں کہ اہل ایمان میں بے حیائی پھیلے ان کے لئے دنیا وآخرۃ میں درد ناک عذاب ہے ۔

اس لئے کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیل جائے گی تو ایمان کمزور ہوجائے گا ۔اور نتیجۃ مومن ناکامی سے ہم کنار ہوکر دشمنوں سے مغلوب ہوجائے گا ۔

حیا مسلمانوں کا سب سے بڑا جوہر ہے ۔اور اسلام کی بنیادی تعلیم ہے۔حیا یہ ہے کہ انسان کو ہر برے فحش کام سے گھن آئے۔ ماہر نفسیات رسول اعظم اارشاد فرماتے ہیں:

الحیاء خیر کلہ حیاء سرتا سر خیر ہے۔ (بخاری ومسلم)

بلکہ جو باحیا ہوتا ہے وہ کئی بھلائیوں کا مجسمہ ہوتا ہے ،اور حیا کے ذریعہ وہ عالم انسانیت میں موجب خیر تصور کیا جاتا ہے ۔مخبر صادق ا نے ارشاد فرمایا:

الحیاء لایاتی الا بالخیر حیاء ہمیشہ خیر کا موجب بنتی ہے۔ (بخاری ومسلم)

تاجدار کائنات ﷺنے جس طرح حیا کے متعلق ارشاد فرمایا کہ حیا ہمیشہ خیر کا موجب بنتی ہے ،وہیں پر بے حیائی کے حوالے سے بھی ارشاد فرمایا’’ان مما ادرک الناس من کلام النبوۃ الاولیٰ اذا لم تستحیٖ فاعمل ما شئت‘‘ پچھلے انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام کے کلام سے لوگوں نے جو کچھ پایا ہے اس میں ایک بات یہ بھی ہے کہ جب تمہیں حیا نہیں تو جو چاہو کرو۔

زنا سب سے بڑی بے حیائی ہے ۔اسلام نے بہت بڑا گناہ شمار کیا ہے۔اور اس کے قریب بھی جانے سے منع فرمایا ہے۔ اور ہر اس چیز سے منع فرماتا ہے جو زنا سے قریب کردے۔مثال کے طور پر مردو عورتوں کا اختلاط ،عورت کی بے پردگی،عورتوں کا خوشبو کا استعمال،عورتوں کا پازیب کا استعمال،جسمانی اعضاء کو ظاہر کرنے والے چست لبا س،بن سنور کر غیرمردوںکے درمیان آمد ورفت، دینی تعلیم سے عدم دلچسپی،مردوں کا اجنبیہ عورت کی طرف غلط انداز سے دیکھنا،اگر مذکورہ ساری چیزوں پر غور کیا جائے تو آپ محسوس کریں گے کہ یہ وہ راستے ہیں جہاں سے انسان گزر کر زِنا جیسے بد ترین گناہ کا مرتکب ہوجاتا ہے۔کون نہیں جانتا کہ کسی عورت کا (اجنبی مرد)کو اور کسی اجنبیہ عورت کا مرد کو دیکھنا کتنا بڑا جرم ہے،اور یہ صرف جرم ہی نہیںبلکہ جھگڑے فساد کا سبب بھی بن جاتا ہے۔

پرائی عورت پر نگاہ اٹھانا کیسا؟

حضرت دئود علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی کہ شیر اور ازدہے(سانپ)کے پیچھے جانا روا ہے مگر عورتوں کے پیچھے ہر گز نہ جانا ۔ (کیمیائے سعادت)

رحمت عالم ﷺکے شیدائیو! جلیل القدر نبیٔ برحق حضرت دائود علیہ السلام شیر اور سانپ کے پیچھے جانے کو روا(جائز)فرماتے ہیں،لیکن عورت کے پیچھے جانے کو کیوں منع فرماتے ہیں ۔اس لئے کہ شیر اور سانپ کے کاٹنے سے جسم برباد ہوگا ۔لیکن عورت کے پیچھے جاکر اگر انسان زنا کا مرتکب ہوگیا تو ایمان برباد ہوگا ۔ایمان سلامت تو سب سلامت یاد رکھو!زنا کی ابتداہی نگاہو ں سے ہوتی ہے۔اسی لئے تو حضرت یحیٰ ابن زکریا علیہما السلام نے پوچھا کہ زنا کہاں سے پیدا ہوتا ہے ؟تو آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا : آنکھ سے ۔اندازہ لگائیے ، زنا کی ابتداہی آوارہ نگاہوں سے ہوتی ہے ۔ اسی لئے اللہ کے حبیب انے ارشاد فرمایا:نگاہ ابلیس کے تیروں میں سے ایک بجھا ہو اتیر ہے ۔جو شخص خوف خدا سے اپنی آنکھ کو محفوظ رکھتا ہے،حق تعالیٰ اس کے تئیں ایسا ایمان عنایت فرماتا ہے کہ وہ اس کی حلاوت اپنے دل میں پاتا ہے ۔اور تاجدار کائنات ا نے فرمایا:میں نے اپنے وصال کے بعد اپنی امت کی عورتوں کے مثل کوئی بلا نہیں چھوڑی ہے پتا یہ چلا کہ عورت آزمائش وابتلا میں ملوث کرنے والی شے کا نام ہے۔جس نے اپنے آپ کو عورت کے فتنہ سے بچا لیا ،وہ یقینا کامیاب ہوگیا ۔اور ایک جگہ رحمت عالم ا نے فرمایا :

’’وما من صباح الا ومکان ینادیان ویل للرجال من النساء وویل للنساء من الرجال‘‘۔

ہر صبح دو فرشتے پکارتے ہیں کہ مردوں کے لئے عورتیں تباہ کن ہیں اور عورتوں کے لئے مرد ۔

تباہی وبربادی سے کیا مراد ہے ؟ صرف یہ تصور نہ کیا جائے کہ تباہی وبربادی سے مراد صرف دنیوی تباہی ہے، بلکہ دونوں جہاں کی تباہی وبربادی ہے۔اور جس کے متعلق رحمت عالم ا نے تباہی فرمادی ہے وہ کبھی بھی فائدہ بخش نہیں ہوسکتی ۔انسان نگاہوں کو لذت وسرور دینے کے لئے آوارہ چھوڑ دیتا ہے لیکن اسے نہیں معلوم کہ اس آوارگی کا عذاب کل بروز قیامت کتنا سخت ہوگا ،نگاہ بد زنا کا دروازہ ہے ۔اگر کسی انسان کی نگاہیں آوارہ ہوتی ہیں تو جسم آوارہ بن کر اس فعل قبیح کا مرتکب ہوجاتا ہے ،نگاہوں کی حفاظت کے سلسلہ میں اللہ عزوجل نے قرآن مقدس میں ارشاد فرمایاکہ:

’’قل للمومنین یغضوا من ابصارھم ویحفظوا فروجھم ذالک ازکیٰ لھم ان اللہ خبیربما یصنعون (النور۳)

مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں ،اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ،یہ ان کے لئے بہت ستھرا ہے بے شک اللہ عزوجل کو ان کے کاموں کی خبر ہے ۔

حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ تاجدار کائنات ا نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا کہ اے علی !کسی اجنبی عورت پر اچانک نگاہ پڑجائے تو نظر پھیر لو ۔ دوسری نگاہ اس پر نہ ڈالو۔پہلی نگاہ تو معاف ہے لیکن دوسری نگاہ پر مواخذہ ہوگا ۔اندازہ لگائیے! رحمت عالم ا نے قصدا عورتوں کو دیکھنے پر مواخذہ فرما کر واضح فرمادیا کہ اللہ عزوجل کی عطا کردہ نعمت آنکھ کا بے جا استعمال نہ کرو ورنہ آنکھ کا مالک اس کے بے جا استعمال پر مواخذہ فرمائے گا تو کیا جواب دوگے لہذا اپنی آخرت کو برباد کرنے سے بچو ! اور ایک دوسری روایت میں ہے حضرت جریر بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ا جنبیہ عورت پر نگاہ پڑ جانے کے بارے میں تاجدار دوعالم ا سے دریافت کیا تو سرکار رحمت عالم ا نے ارشاد فرمایا کہ نگاہ پھیر لو ۔ ( مسلم شریف )

جس چیز سے رسول اعظم ا نگاہ پھیر دینے کے متعلق فرمادیں وہ چیز کتنی نقصان دہ ہوگی ،اس کا اندازہ کون لگا سکتا ہے ؟ شومیٔ قسمت کہ آج کا مسلمان اپنے نبی اکے فرمان کا ذرا بھی خیال نہیں کرتا ،نتیجۃً بے شمار برائیوں کا مرتکب ہوکر دنیا و آخرت برباد کر تا ہے ۔

آقائے کریم علیہ التحیۃ و الثناء ایک جگہ ارشاد فرماتے ہیں ’’ عورت،عورت ہے یعنی چھپانے کی چیزہے جب وہ نکلتی ہے تو اسے شیطان جھانک کر دیکھتا ہے یعنی اسے دیکھنا شیطانی کام ہے۔

( ترمذی)

سرور کائنات ﷺ نے عورت کو دیکھنا صرف شیطانی کام نہیں فرمایا بلکہ ایک جگہ تو نہایت ہی سخت ترین انداز میں عورتوں اور مردوں کے متعلق جو تانکنے اور جھانکنے میں لمحات گذارتے ہیں ،ارشاد فرمایا کہ دیکھنے والے اور اس پر جس کی طرف نظر کی گئی اللہ عزوجل کی لعنت ۔ یعنی دیکھنے والا جب بلاعذر قصداً دیکھے اور دوسرا اپنے کو بلاعذر قصداً دکھائے ۔

اللہ اکبر! جو رسول رحمت ا ظاہری طور پر دنیا سے پردہ فرماتے وقت اپنی امت کی بخشش کی دعا کریں ،وہ رسول ا لعنت کیوں کریں ؟ ظاہر سی بات ہے کہ جب وہ کام بے حد برا ہوگا ،تبھی تو رحمت عالم ا لعنت فرمارہے ہیں ،لعنت کا معنیٰ ہوتا ہے رحمت سے دور ہونا،بتائو اگر اللہ اور اس کے رسول کی رحمت ہم سے روٹھ گئی تو ہمارا کیا حشر ہوگا ؟ خدا را ! اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول ا کی لعنت سے بچائو ۔

وہ عورتیں جو چہرے کو کُھلا رکھ کر بے دھڑک بازاروں اور راستوں میں گھومتی ہیں ،اور اور نوجوانوں کو دعوت نظارہ دیتی ہیں ،حیرت ہے ان پر کہ وہ کیسے گوارا کرلیتی ہیں کہ کوئی اجنبی ان کے چہرے کو دیکھے ،کوئی دیکھنے والا بہن یا بیٹی سمجھ کر تو نہیں دیکھے گا ۔ لہذا ڈرو اپنے مولیٰ عزوجل کی گرفت سے کہ کل بروز قیامت اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے ۔آج کے دورِ جدید میں برقعہ اور نقاب تو بڑی بات ہے سر اور چہرے کو کھلا رکھنا فخر سمجھا جاتا ہے یہ آزادی ،عزت و عصمت کا جنازہ نکالنے کے لئے کافی ہے ،اس ہمیں چاہئے کہ ہم خود اپنی نگاہیں نیچی کر کے چلیں اور اپنی بچیوں اور عورتوں کے پردے کا خاص خیال کریں ۔ مولائے کریم ہمیں علم و عمل اور اخلاق و کردار کی دولت بے بہا سے نوازے اور صالح معاشرہ کے تشکیل کی توفیق عطا فرمائے ۔

آمین بجاہ حبیبہٖ سید المرسلین صلوات اللہ علیہم اجمعین ۔