حدیث نمبر :193

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کلام اﷲ کے کلام کو منسوخ نہیں کرتا ۱؎ اور اﷲ کا کلام میرے کلام کو منسوخ کرتا ہے اور اﷲ کا کلام بعض بعض کو منسوخ کرتاہے۲؎

شرح

۱؎ یعنی حدیث سے قرآن کی آیت تلاوۃً منسوخ نہیں ہوسکتی حکمًا بہت سی آیتیں احادیث سے منسوخ ہیں،چنانچہ حدیث “لا وصیۃ للوارث “سے وارث کے لیئے جواز وصیت ثابت کرنے والی آیات منسوخ ہیں۔ایسے ہی حضور کا فرمانا کہ انبیاء کی میراث نہیں بٹتی،حضور کے حق میں آیات میراث کی ناسخ ہے،سجدہ تعظیمی کا جواز قرآن سے ثابت ہے مگر حدیث سے منسوخ یا یہاں کَلَامِیْ سے مراد حضور کے اجتہادات ہیں یعنی میرا اجتہادی کلام حکم قرآنی کو منسوخ نہیں کرے گا لہذا حدیث واضح ہے۔

۲؎ خیال رہے کہ نسخ کی چار صورتیں ہیں:قرآن کا قرآن سے نسخ،جیسے کفار پر نرمی کی آیتیں آیات جہاد سے منسوخ ہیں،حدیث کا حدیث سے نسخ جیسے زیارۃ قبور ازروئے حدیث پہلے منع تھی پھر حدیث ہی نے اس کو جائز کیا،فرماتے ہیں” اَ لَافَزُوْرُوْھَا” قرآن کا نسخ حدیث سے،جیسے سجدہ تحیت حدیث کا نسخ قرآن سے،جیسے بیت المقدس کا قبلہ ہونا حدیث سے تھا اس کا نسخ قرآن سے ہوا کہ رب نے فرمایا:”وُجُوۡہَکُمْ شَطْرَہٗ”۔اس کی پوری تحقیق ہماری”تفسیرنعیمی”پارہ سوم میں دیکھو۔