أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهٗ‌ ‌ۚ قَالَ رَبِّ هَبۡ لِىۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً‌ ‌ ۚ اِنَّكَ سَمِيۡعُ الدُّعَآءِ

ترجمہ:

اس جگہ زکریا نے اپنے رب سے دعا کی کہا اے میرے رب ! مجھے اپنی طرف سے پاکیزہ اولاد عطا فرما بیشک تو ہی دعا سننے والا ہے

تفسیر:

حضرت زکریا (علیہ السلام) کے اولاد کی دعا کرنے کا سبب 

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

سدی بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت زکریا نے حضرت مریم کا حال دیکھا کہ ان کے پاس گرمیوں میں سردیوں کے اور سردیوں میں گرمیوں کے پھل آتے ہیں تو ان کا ذہن اس طرف متوجہ ہوا کہ میرا رب جو بےموسم کے پھل دینے پر قادر ہے وہ ضرور اس بات پر قادر ہے کہ مجھے بےموسم کی یعنی بڑھاپے میں اولاد عطا فرمائے۔ تب وہ اللہ تعالیٰ سے اولاد کی دعا کرنے پر راغب ہوئے انہوں نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی پھر چپکے چپکے اپنے رب سے دعا کی : اے رب میری ہڈی کمزور ہوچکی ہے اور میرا سر سفید ہوگیا ہے اور میں کبھی تجھ سے دعا کرکے نامراد نہیں ہوا اور مجھے اپنے بعد اپنے وارثوں سے (دن میں فتنہ ڈالنے کا) خوف ہے اور میری بیوی بانجھ ہے تو مجھے اپنی طرف سے ایک وارث عطا فرما جو میرا وارث بنے اور آل یعقوب کا وارث بنے اور اے میرے رب اس کو اپنا پسندیدہ بنا۔

بعض علماء اس آیت میں یہ نکتہ آفرینی کرتے ہیں کہ حضرت زکریا نے حضرت مریم کے پاس جا کر دعا کی تو ان کی دعا قبول ہوئی اور ان کے ہاں اولاد ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ دعا کی قبولیت کے لئے ولی کی بارگاہ میں جانا پڑتا ہے اور جب نبی کے لئے بھی ولی کے پاس جائے بغیر چارہ نہیں تو عام آدمیوں کا ذکر ہے ‘ اور اس آیت سے وہ نبی پر ولی کی فضیلت سے ثابت کرتے ہیں اور یہ فکر محض گمراہی ہے ‘ حضرت زکریا کا دعا کرنا محض اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے حضرت مریم کے پاس بےموسم کے پھل دیکھے اور تب ان کا ذہن اس بات کی طرف متوجہ ہوا کہ میرا رب جب بےموسم کے پھل دے سکتا ہے تو بےموسم کی اولاد بھی دے سکتا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 38