زندگی کی حقیقت
آفتاب رشک مصباحی
دنیوی زندگی کھیل کود اور تماشے سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی ،جب کہ آخرت کی زندگی باقی رہنے والی اور مستقل ہے

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

 اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِكَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًاوَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ (حدید۲۰)

 ترجمہ:جان لو کہ دنیا کی زندگی کھیل کود اورسجنے سنورنے ، آپس میںایک دوسرے پربڑائی جتانے اور مال واولاد میں زیادتی چاہنے کے سوا کچھ نہیں۔اُس بارش کی طرح جس سے اُگا ہواسبزہ کسانوں کو بھاتاہے،پھروہ سوکھ جاتاہے، یہاں تک کہ تم اُسے زرد ہوتے دیکھتےہو، پھروہ پامال ہوجاتا ہے۔ آخرت میں سخت عذاب بھی ہے اور اللہ کی بخشش و رحمت بھی،اور دنیا کی زندگی دھوکے کا مال ہے۔

 اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے دنیوی زندگی کی حقیقت بیان فرمائی ہے اور یہ بات واضح کی ہے کہ یہاں کی زندگی محض فریب اور دھوکے کی زندگی ہے ۔ یہ ہمیشہ رہنے والی نہیں بلکہ چند دنوں کی ہے اور جلد ختم ہو جانے والی ہے ۔یوں تویہاں بہار بھی ہے اور خزاں بھی ،عیش و عشرت بھی ہے اور دل لگی کے ہزاروں اسباب بھی، مگر اِن کی حقیقت ایک بے قدر ذرے سے زیادہ کچھ بھی نہیں ۔

 یہ اور بات ہے کہ انسان اپنی نادانی کی وجہ سے اس گھٹیا زندگی کو باقی اور عمدہ زندگی تصور کربیٹھا ہے ۔حالاں کہ اُسے ان حاد ثات کی وجہ سے ہوشیار ہوجانا چاہیے جو شب و روز اُس کے سامنے رونما ہوتے رہتے ہیں۔ کیا وہ نہیں دیکھتا کہ ایک کسان کن دقتوں اور مصیبتوں سے کھیتی کرتاہے ،اورجب بارش کے پانی سے اس کی کھیتیاں لہلہا اٹھتی ہیں تووہ اپنے کھیتوں میں ہریالی دیکھ کرکس قدر خوش ہوتا ہے، اس کا اندازہ ایک کسان ہی کر سکتاہے ۔مگر چند ہی لمحوں یا دنوں میں تقدیر الٰہی سے ایسی آفتیں آتی ہیں کہ پوری کھیتی نیست و نابود ہوکر رہ جاتی ہے۔

 نتیجتاً ایک کسان کے لیے کف افسوس ملنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچتا۔ٹھیک اسی طرح یہ دنیاوی زندگی ہے کہ ہزاروں جتن کے بعد انسان اُسے آباد کرتاہے،اس کی رونقوں میں چار چاند لگاتا ہے ، اُسے سجانے سنوارنے میں اپنی پوری زندگی گذار دیتاہے۔آخرکاربڑھاپاآجاتاہے،بچپن کی معصومیت اورجوانی کی دل کشی رخصت ہوجاتی ہے، ان کی جگہ کمزوری اورپژمردگی لے لیتی ہےاورپھر وہ موت کے منھ میں چلاجاتا ہے۔گویاسیکڑوں برسوں میں راکھ کا ڈھیڑ جمع کر کے ایک پہاڑ بنایاجسے آندھی کا ایک ہی جھٹکااڑالے گیا۔

 دنیوی زندگی کے بر عکس آخرت کی زندگی جوباقی اور مستقل ہے، خواہ وہ عذا ب کی صورت میں ہو یا انعام و اکرام کی صورت میں۔اخروی زندگی اگر عذاب والی ہو تو ایسی صورت میں دنیا کی سار ی حصولیابیاں بے سود اور لا حاصل ہو کر رہ جاتی ہیں، اور اگر انعام و اکرام اور بخشش ومغفرت کی صورت میں ہو تو اُس کے مقابلے تمام دنیا بے معنی اور ہیچ ہو کر رہ جاتی ہے ۔

 اب یہ انسان کے اوپر ہے کہ وہ اس بے معنی، نقصان دہ اور گھٹیا دنیاکو گلے لگاتا ہے یا ہمیشہ کی زندگی اور اُخروی انعام واکرام کو سر کا تاج بناتاہے ۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰی شَیْءٍ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ ( ابراہیم۱۸)

 ترجمہ:جواپنے رب کے منکر ہیں ان کے اعمال کی مثال ایسی ہی ہے جیسےکہ راکھ کےڈھیر، آندھی کے دن جب اس پر ہوا کا سخت جھونکا آتاہےتووہ اپنی کمائیوں میں سے کچھ بھی حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ،اوریہی دُور کی گمراہی ہے۔

یہاں یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ کفر(انکار) کا اطلاق صرف ان عقائد و نظریات اور اعمال وافعال پر ہی نہیں  ہوتا جن سے ضروریات دین کا انکار یا مذاق بنتاہو، بلکہ کبھی کبھی ان اعمال و افعال پر بھی ہوتاہے جورب تعالیٰ کی احسان فراموشی، عہد شکنی، بےوفائی، سرکشی اور نافرمانی کو واضح کرتے ہیں،اس لیے انسان کو اپنے رویے پر ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہیے کہ اُس کےاعمال و افعال اور اخلاق و کردار سے کہیں  اللہ تعالیٰ کی نافرمانی تو نہیں ہو رہی ہے۔

 یوم الست میں ہم نے اپنے رب سے جووعدہ کیا تھا اس کی عہد شکنی تو نہیں ہو رہی ہے۔ اس نے بنا کسی استحقاق کے محض اپنے فضل وکرم سے بے شمار نعمتوں کا خزانہ ہمیں عطا کیا ہےاور بدلے میں شکر بجا لانے کا حکم دیاہے،کہیں ہم شکرگزاری کے بجائے ناشکری تو نہیں کررہے ہیں اور اللہ و رسول کا حکم مان کر بھی اُس کے مطابق زندگی گذارنے کی بجائے اپنی خواہشات کے مطابق زندگی تو نہیں گذار رہے ہیں اگر ایسا ہے تو یاد رکھیںیہ ساری کوششیں، یہ ساری محنتیں ،یہ ساری خدمات جو دنیا اور تعمیر ِدنیا کے لیے شب و روز کر رہے ہیں، اس راکھ کے ڈھیر سے زیادہ کیچھ اہمیت نہیں رکھتیں جنھیں آندھی پلک جھپکتے نظروں سے غائب کر دیتی ہے ۔گویاساری دنیاکی تمام کوششیں کل قیامت میں لا حاصل ہو کر رہ جائیں گی ۔

ایک دوسرے مقام پراللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ حَتّٰی اِذَا اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَا اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَا اَتٰىهَا اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ ( یونس۲۴)

 ترجمہ:دنیا کی زندگی کی کہاوت ایسی ہی ہے جیسے وہ پانی جسے ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے سبب زمین سے اُگنے والی چیزیں گھنی ہوکر نکلیں جسے آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں،یہاں تک کہ جب زمین نے اپنا سنگار لے لیا اور خوب آراستہ ہوگئی اور اس کے مالک سمجھے کہ یہ ہمارے بس میں آگئی، ہمارا حکم اس پر آیا رات میں یا دن میں تو ہم نے اسے کردیا کاٹی ہوئی کھیتی گویا کل تھی ہی نہیں ، ہم یوں ہی غور کرنے والوں کے لیے مفصّل آیتیں بیان کرتے ہیں۔

جب کہ اسی کے آگے یہ فرمایاگیا ہے:

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْا اِلٰی دَارِ السَّلٰمِ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ( یونس۲۵)

ترجمہ:اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہےاور جسے چاہتا ہے سیدھی راہ کی ہدایت دیتا ہے۔

یہاں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ اس ناپائیدار اور جلد ختم ہوجانے والی زندگی کے فریب میں اپنی عمر یں ضائع کرنے والے انسان! تمہارا رب اللہ سبحانہ وتعالیٰ تمھیں اس گھر کی جانب بلا رہاہے جہاں کسی طرح کاکوئی نقصان، کوئی تکلیف نہیں ہے اور جو گھرکبھی بھی ختم ہونے والا نہیں ہے،وہ ہمیشگی کا گھر ہے ، آرام و آشائش اورانعام و اکرام کا گھر ہے ،اس لیے اس دنیوی زندگی کے مکراور جال سے باہر نکل کر ہمیشگی کی آرام دہ زندگی حاصل کرنے کی کوشش کرو۔

مزید ارشادباری تعالیٰ ہے:

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاوَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ(۱۴) قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ( آل عمران۱۵)

ترجمہ:لوگوں کے لیےخواہشات کی محبت آراستہ کی گئی، مثلاً:عورتیں، بیٹے اور تلے اوپر سونے چاندی کے ڈھیر ، نشان زدہ گھوڑے ،چوپائے اور کھیتی، یہ دنیوی زندگی کی پونجی ہے، حالاںکہ اللہ ہی کے پاس اچھا ٹھکانا۔آپ فرمادیںکہ کیا میں تمھیں اس سے بہتر چیز بتادوں؟وہ یہ کہ متقیوں کے لیے ان کے رب کے پاس ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے ،ان کے لیے پاکیزہ بیویاںہیںاور اللہ کی خوشنودی بھی،اوراللہ بندوں پر نگاہ رکھنے والا ہے ۔

ان دونوں آیات مبارکہ میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے دنیا کی تمام نعمتوں اور عیش و عشرت کی ساری چیزوں کو بیان کرنے کے بعد یہ صاف کردیاہے کہ یہ محض چند روزہ زندگی کے ساز و سامان ہیں ۔ہاں ! بہترین ٹھکانہ صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے پاس ہے اور وہ بھی صرف متقیوں اورپرہیزگاروں کے لیے ۔ جن کی زندگی محض اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی رضا کے لیے گذرتی ہے۔ان کا سونا جاگنا، کھانا پینا، چلنا پھرنا، بولنا نہ بولنااور ہنسنا رونا سب کچھ صرف رضائے الٰہی کے لیے ہوتاہے۔

 یہاں وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ بھی غور طلب ہےکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے بندوںپر گہری نظر رکھنے والا ہے گویا آیت کریمہ کے اس ٹکڑے کے ذریعےہماری توجہ اس جانب مبذول کرائی جا رہی ہے کہ جو کوئی انسان نمازو روزے ، صدقات و عبادات اور ظاہری اعمال وکردار کے ذریعے لوگوں میں نیک کہلانے کی تمنا رکھتا ہو اور عوام الناس کو اپنی طرف راغب کرنا چاہتاہو تو وہ یہ اچھی طرح جان لے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس کی نیتوں اور اس کے ارادوں سے خوب خوب واقف ہے ،وہ علیم بذات الصدور ہے،وہ انسان کے چہروں اور اس کی ظاہر داری کو دیکھ کر فیصلہ نہیں کر تا، بلکہ اس کی نظر انسان کی نیتوں اور اس کے ارادوں پر ہوتی ہے۔

اس لیے انسان کو اپنی نیتوں اور اپنے ارادوں پر کڑی نظر رکھنی چاہیے کہ اس کا مقصود اُن اعمال صالحہ سے دکھاوا اور دنیا طلبی ہے یا محض رضائے الٰہی ۔

 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا(۴۵) اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاوَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا( کہف۴۶)

ترجمہ: ان کے سامنے دنیوی زندگی کی یہ مثال بیان کروکہ ہم نے آسمان سے بارش اتاری،اس کی وجہ سےزمین کی وہ گھاس بھی ہری بھری ہوگئی،پھروہ اس طرح سوکھ گئی کہ اُسےہوائیںاڑائے جارہی ہیں،تمام چیزیں اللہ کی قدرت اوراُس کےقابو میں ہیں۔ مال واولاد،دنیوی زندگی کی زیب و زینت اور باقی رہنے والی نیکیوں کا ثواب تمہارے رب کے یہاں بہتر ہے اور وہ اُمید میں سب سے بھلی ہے۔

 گویااللہ سبحانہ وتعالیٰ نے یہ واضح کر دیاہے کہ دنیا میں جو کچھ بھی ہوتاہے وہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہو تا ،بلکہ چند روزہ ہوتاہے۔ چنانچہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی نافرمانی کے باوجود جسے یہ آرام و آسائش میسر ہے اور جوخوش حال زندگی بسرکر رہاہے وہ اس دھوکے میں نہ رہے کہ اس کی آرام دہ زندگی ہمیشہ ایسے ہی رہے گی،کیوں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس بات پر بھی قادر ہے کہ اس کی نافرمانیوں کے بدلے جب چاہے اس سے اپنی نعمتیں چھین لے،مالداروں کو بھی پل بھر میں بھکاری بنا دےاور صاحبانِ اقتدار کوآنِ واحدمیں ذلیل و خوار کر دے ۔

 اس لیے ہر انسان کوچاہیے کہ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے ہمہ دم اسی کی طرف متوجہ رہے اور ناشکری کی بجاے شکرگزاری کرکے اپنےرب کوراضی کرنے کی کوشش کرے اور اس دنیوی زندگی کو آخرت کی آرام دہ زندگی کی حصولیابی کے لیے استعمال کرے۔

 اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

اَلدُّنْیَامَزْرَعَۃُ الْآخِرَۃِ ۔

ترجمہ: دنیا آخرت کی کھیتی ہے ۔