Resultado de imagen de jami ul ahadees imam ahmed raza

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

اما بعد

اللہ رب العزت جل مجدہ کا فضل بے پایاں ہے کہ اس نے اپنے محبوب دانائے غیوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لیل ونہار اور سنتوں کی اشاعت کا مجھ ہیچمداں کو حوصلہ بخشا اور اس فقیر سراپا تقصیر کو توفیق عطافرمائی کہ امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تصانیف میں بکھرے ہوئے جواہرات نبویہ واحادیث کریمہ کو جمع کردیا ۔ امید ہے کہ ملت اسلامیہ کو اس سے فائدہ پہونچے گا اور جو حضرات سیدنا اعلیٰ حضرت کی ضخیم مجلدات پر مشتمل تصانیف کا مطالعہ کما حقہ نہیں کر پاتے ہیں وہ میری اس کاوش سے کم وقت میں آسانی کے ساتھ استفادہ کرسکیں گے ۔

سبب تالیف ۔ آج سے تقریباً دس سال قبل اس کتاب کی ترتیب وتالیف کا منصوبہ اس وقت بنایا گیا جبکہ میں الجامعۃ القادریہ رچھا اسٹیشن بریلی شریف کی خدمات میں مصروف تھا ۔ترجمہ جامع الغموض کاکام مکمل ہوچکا تھا اور فتاوی رضویہ پنجم کی اشاعت ثانیہ سے بھی فراغت حاصل ہوچکی تھی ۔

اس امر پر باعث یہ ہوا کہ میں نے بعض احباب سے سنا کہ فتاوی رضویہ میں موجوداحا دیث کی تخریج وترتیب رامپور میں ہورہی ہے ، پھر یہ بھی سنا گیا کہ وہ کام فتاوی کی صرف ایک جلد تک محدود رہا اور موقوف ہوگیا ، ساتھ ہی یہ بھی سننے میں آیا کہ استاذ گرامی وقار بحر العلوم حضرت مفتی عبد المنان صاحب قبلہ دام ظلہم الاقدس کی دیرینہ خواہش ہے کہ اس نہج پر کوئی کام کرے ۔ چنانچہ حضرت کی خواہش کے احترام میں میرے اندر یہ جذبہ پیداہوا اور میں نے اس کام کا عزم کرکے فتاوی رضویہ کا مطالعہ اسی انداز سے شروع کردیا ۔ ابھی کام باقاعدہ شروع بھی نہ ہوا تھا کہ مجھے الجامعۃ القادریہ سے منتقل ہوکر جامعہ نوریہ رضویہ بریلی شریف آنا پڑا اور پھر وہ کام بالکل موقوف ہوگیا ۔

کچھ خانگی الجھنیں خصوصاً عزیزم محمد منیف رضا سلمہ کی مستقل علالت اور کچھ جدید مدرسہ میں منتقلی سے یکسوئی کا فقدان اور یہاں کی شب وروز مصروفیات نے سارے منصوبے کو طاق نسیاں بنادیا ۔ باربار خیال آتا لیکن حالات اس بات کی مساعدت نہیں کررہے تھے کہ میں اس عظیم کام کا بار اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھاوں ۔ وقت یونہی گذرتا رہا اور میں اپنے اندر ایک ایسی کیفیت محسوس کرتا کہ گویا مجھے اس کام پر کوئی بر انگیختہ کررہاہے ۔ آخر کار تقریباً ایک سال کی طویل مدت کے بعد میں نے اسی کشمکش اور ناگفتہ بہ حالات کی بھیڑ بھاڑ ہی میں توکلاً علی اللہ اس کام کا آغاز کرہی دیا ۔ جو کچھ تھوڑاساکام ہوا تھا اس کو مسترد کرکے نئے سرے سے شروع کیا ۔

جب کام شروع ہوا تھا تو مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ اتنا طویل عمل ہوگا ۔ اس کا اندازہ اس سے کیجئے کہ پہلی جلد کی احادیث جب میں نے نقل کرنا شروع کیں تو دو کیپٹل کاپیوں میں لکھی تھیں ۔

اب جب کہ میں نے باقاعدہ شروعات کی تو اسکی اطلاع بحرالعلوم قبلہ مدظلہ العالی کو بھی دی کہ آپ ہی کی فرمائش پر یہ کام شروع ہوا تھا اور مشوروں کا طالب ہوا ۔ وہ دن اور آج کا دن ہے کہ حضرت نے بارہا مشوروں سے نوازا ۔ متعدد مقامات کی لائبریریوں کی فہرستیں خود اپنے قلم سے ارسال فرمائیں ۔بعض عناوین کے ذریعہ ترتیب وتخریج کاخاکہ ارسال فرمایا ۔میںنے مسودہ تیار کرلیا تو خود دیکھنے کیلئے جامعہ نوریہ تشریف لائے اور رہنمائی فرمائی ۔ اپنی لائبریری سے کتابیں بھی فراہم کیں ، غرضکہ ہر موقع پر حوصلہ افزائی فرمائی ، دعائیں دیں اور میرے ہر دکھ درد کا مداوا فرماتے رہے ۔

جوں جوں کام آگے بڑھتا جاتا آپکی طرف سے مسرت آمیز خطوط آتے جو میرے اندر مزید تحریک پیدا کرتے ، وہ خطوط آج بھی میرے پاس محفوظ ہیں ۔ چند خطوط کے اقتباس سے قارئین اندازہ لگائیں ، تحریر فرماتے ہیں ۔

میرے لئے یہ خبر نہایت فرحت بخش ہے کہ ان خطوط پر آپ کا م کررہے ہیں ، جہاں سمجھ میں نہ آئے بیاض چھوڑدیں اور کام پورا ہوجائے تو مجھے خبر کریں ۔ میں انشاء المولیٰ تعالیٰ بشرط صحت وزندگی بریلی شریف حاضر ہوکر اس کام میں آپ کا ہاتھ بٹائونگا اور پھر کنفرم کیا جائیگا کہ اشاعت کے لئے دیا جائے ۔

دوسرے خط میں فرماتے ہیں :

حدیث شریف کے مجموعہ کی تکمیل کی طرف جوں جوں آپکے قدم آگے بڑھتے ہیں میری مسرت میں اضافہ ہوتاہے ، اللہ تعالیٰ اسے مقبول انام بنائے ،آمین ۔اسکی اشاعت کے وسائل فراہم فرمائے اور آپکے علم وعمل میں برکت عطا فرمائے، آمین ۔

تیسرے خط میں فرماتے ہیں :

احادیث پر آپ کا کارنامہ انشاء اللہ سنگ میل ہوگا اور دونوں جہان میں آپکی سرخروئی کا باعث ، مولیٰ تعالیٰ اس کام میں برکت دے ۔ ان پریشانیوں کے بیچ آپ نے مجموعہ احادیث کاکام جاری رکھا اور تکمیل کے قریب پہونچ گیا ،آپ نے میری قلبی خواہش پوری کی اللہ تعالیٰ آپ کی امیدیں پوری فرمائے ۔آمین ۔

میں نے جب کتاب کا مبیضہ تیار کر لیا تو پھر آپ نے بالاستیعاب دیکھ کر اصلاح فرمائی اس کام میں کتنا وقت صرف ہوا ہوگا قارئین خود اندازہ کرسکتے ہیں ۔ یہ آپ کا غایت کرم اور ذرہ نوازی ہے ، میں ان تمام مہربانیوں کا تہہ دل سے ممنون ہوں ۔مولیٰ تعالیٰ آپ کا سایہ ہمارے سروں پر صحت وسلامتی کے ساتھ دراز فرمائے ۔آمین ۔

اب میں اپنے قارئین کو اسکے علاوہ پوری داستان کیا سنائوں کہ یہ کتاب کن کن مراحل سے گذری اور کیسے کیسے اسکی تکمیل ہوئی ، پھر بھی مختصر روداد عرض کرنا ضروری ہے کہ اسکے بغیر میرے بعض محبین ومخلصین کی ناشکری ہوگی ۔

کام کی ابتداء میں میرے پاس صحاح ستہ کا بھی پورا سیٹ نہیں تھا چہ جائیکہ دوسری کتابیں ۔ سوچاکہ

مشکوۃ شریف سے اس کام کی تکمیل ہوجائیگی لیکن یہ بھی نہایت ناکافی ثابت ہوئی ۔ یہاں کتابوں کے فقدان کایہ عالم کہ جو میرے پاس نہیں تھیں وہ یہاں بھی نہ ملیں اور نہ الجامعۃ القادریہ میں ۔ اب میرے سامنے دوچیزیں تھیں ۔ پہلے سیدنا اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی تصانیف حاصل کرنا ۔ پھر تخریج کیلئے متعلقہ کتب کا حصول۔

چنانچہ تصانیف رضویہ تلاش کرکے جمع کرتا جاتا اور احادیث نقل کرتا ، ساتھ ہی موجودہ کتابوں سے حوالہ بھی لکھتا جاتا ۔ اعلیٰ حضرت محدث بریلوی کی اب تک تقریباً ساڑھے تین سوکتابیں مجھے ملی تھیں، ان میں سے تقریباً تین سو کتابیں ایسی ہونگی جن میں احادیث کا ذخیرہ مو جود تھا۔ان سب کو جمع کرلینے کے بعد نقل کا کام تو پورا ہوتا نظر آرہا تھا لیکن حوالوں کی کتابیں کہاں ملیں ، کیسے حاصل ہوں ، پروگرام یہ طے پایاکہ لائبریریوں میں جاکر حوالے نقل کئے جائیں ۔

اس سلسلہ میں رام پورا ، دہلی ، کلکۃ ، پٹنہ اور حیدرآباد کا سفر کیا لیکن حاصل وصول کچھ نہ نکلا ، مثلاخدا بخش لائبریری پٹنہ میں ایک ہفتہ حاضری کے باوجود کل سات آٹھ حدیثوں کے حوالے مل سکے ۔ وقت کی پابندی زیادہ کام سے مانع رہی ۔

ان تمام اسفار کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ حوالوں کاکام اسی وقت مکمل ہوسکتاہے جبکہ یہ کتابیں یہاں مدرسہ میں موجود ہوں ۔

سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے جن کتابوں کا حوالہ دیا انکی تعداد چارسو سے متجاوز ہے جیسا کہ آخر میں دی گئی فہرست سے ظاہرہے ،اور وہ کتابیں بھی کوئی معمولی نہیں بلکہ پندرہ، بیس اور پچیس جلدوں تک بھی انکی تعداد پہونچتی ہے ، لہذا ان سب کو جمع کرنا نہایت مشکل کام ہے ، کیونکہ مذکورہ بالا مقامات کی تمام لائبریریوں میں بھی وہ کتابیں سب کیا نصف بھی موجود نہیں ، پھر جبکہ وہ انٹر نیشنل لائبریاں جمع نہیں کر سکیں تو ہماری کیا پونجی۔ حالات اس موڑ پر آکر مایوس کن تھے ، چونکہ میں نے یہ التزام کیا تھا کہ ہر حدیث کا حوالہ جلد وصفحہ کی قید سے ضرور لکھو ںگا ۔جہاں عربی متن حدیث نہیں ہے وہاں متن حدیث اصل کتابوں سے ضرور لکھا جائے گا ۔

احباب سے تذکرہ ہوتا تو اکثر حضرات یہ ہی فرماتے کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے جن کتابوں سے حوالے نقل کئے تھے وہ کتابیں تو ہو ںگی ،ان سے نقل کر لیجئے ، میں اسکے جواب میں کیا کہتا بس یہ ہی کہ جب اعلیٰ حضرت کی خود اپنی تصانیف محفوظ نہیں جنکے لئے آج ایک علمی دنیا سر گرداں ہے تو پھر اسکے علاوہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ اسکے بعد سوائے افسوس کے کوئی جواب نہیں ملتا تھا۔

اس ماحول میں بھی اللہ عزوجل کے فضل وکرم پر ہی بھروسہ رہا اور پھر ایک ایک سیٹ کرکے حاصل کیاجاتا رہا ۔ نبیرئہ اعلیٰ حضرت مولانا منان رضا خاں صاحب منانی میاں ناظم اعلیٰ جامعہ نوریہ کی معاونت کے ساتھ احباب کی توجہ اس طرف مبذول کی جاتی اور وہ اس کام کی اہمیت وافادیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے متوجہ ہوتے ، رفتہ رفتہ مدرسہ کے لئے اور اس کتاب کی تخریج وتحقیق کے لئے قدر معتد بہ کتابوں کا ذخیرہ جمع ہوگیا ،لیکن یہ ایک دوسال میں نہیں بلکہ مسلسل چھ سات سال کی کاوش کے بعد ، یہ ہی وجہ ہے کہ جو کام دوتین سال کی مدت میں ہوسکتا تھا آج تقریباً نوسال ہونے کو آئے جب کہیں جا کر یہ مجموعہ ہم اپنے قارئین کے لئے پیش کررہے ہیں ۔

کتاب کاکام اپنے اختتام کو پہنچا ، اب ضرورت اس بات کی تھی کہ اسکے شروع میں مبادیات حدیث ، ضرورت حدیث ،حجیت حدیث ، تدوین حدیث ، علم حدیث کن کن مراحل سے گذر ااور ارتقائی منازل سے کس طرح ہم کنار ہوا ۔ ان تمام چیزوں کو تفصیل سے ذکر کیا جائے ، لہذا بطور مقدمہ ایک جلد اس کے لئے مختص کی گئی جس میں مذکورہ بالاچیزوں کے ساتھ محدثین کے حالات اور انکی اہم خدمات اور پھر امام احمد رضا محدث بریلوی تک سند حدیث کا تسلسل بیان کیا گیا ہے ۔

آخری جلد میں پانچ فہرستیں ہیں ۔

۱۔ فہرست آیات

۲۔ فہرست اطراف حدیث

۳۔ فہرست عنوانات

۴۔ فہرست مسائل ضمنیہ

اسکے بعد اس کتاب میں مروی احادیث کے پانچ سو سے زیادہ راویوں کے مختصر حالات اور انکی مرویات کو نمبروار درج کیا گیا ہے ، لہذا مجموعی چھ جلدیں ہوگئی ہیں ۔

ان تمام مراحل سے گذر نے کے بعد اب اسکی اشاعت کا بارکون اٹھائے ، یہ ایک اہم سوال تھا بہر کیف میں نے اشاعت سے پہلے کتابت کے مسئلہ پر غورکیا ، چونکہ اس کتاب کی ترتیب میں شروع ہی سے ہر سلسلہ میں ایک سے سو تک کی گنتی خود ہی گننا پڑی تھی جیسا کہ گذرا لہذا یہاں بھی ایساہی ہوا کتابت کاکام کسی کاتب کے ذریعہ ہوہی نہیں سکتا تھا کہ پھر چار چھ سال اسی میں گذرتے ، لہذا جدید تقاضوں کے پیش نظر کمپیوٹر پر کتابت طے پائی ۔

اب مشکل یہ تھی کہ بازار سے کام کرانے کے لئے یہاں کوئی ایسا نہیں تھا کہ اتنا لمبا کام کرسکتا ، پھر عموماً کمپیوٹر آپریٹر بھی عربی سے ناواقف ہونے کی وجہ سے غلطیاں بے شمار کرتے ہیں ۔ لہذا چند طلبہ اور فارغین کو سینٹر پر سکھانے کا کام خود کیا ، ساری سہولتیں انکے لئے فراہم کیں پھر اپنے صرف زر سے کمپیوٹر خرید کر انکو مکمل مشق کرائی جب کہیں جاکر کتابت کے لئے راہ ہموار ہوئی اور کام شروع ہوگیا ۔ تین لوگ کام کے لئے متعین ہوئے ،دو کمپیوٹر مستقل اور کبھی تین کے ذریعہ کام ہوا جب کہیں جاکر تقریباً دس ماہ کی مدت میں فراغت ملی ۔

اشاعت کے سلسلہ میں عزیز مکرم مولانا محمد عزیز الرحمن صاحب منانی استاذ جامعہ نوریہ رضویہ نے کانی جد و جہد کی اور میں بھی کوشاں رہا، متعدد حضرات سے رابطہ ہوا اور آخر میں قر عۂ فال مناظر اہل سنت مخیر قوم وملت حضرت علامہ مولانا عبدالستار صاحب ہمدانی بانی وناظم اعلیٰ ادارہ اشاعت وتصنیف مرکز اہل سنت برکات رضا امام احمد رضا روڈ پوربندر گجرات کے نام نکلا اور آپ نے بخندہ پیشانی اس کتاب کی اشاعت کو اپنے ذمہ لے کر نہایت خوبصورت انداز میں پیش کردیا ہے جس کو قارئین نے بچشم خود پہلے ایڈیشن میں مشاہدہ فرمایا ۔ بلاشبہ یہ مولانا موصوف کا میرے اوپر عظیم احسان ہے جس کا میں نہایت ممنون و مشکور ہوں ۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء فی الدار الدنیا والآخرۃ ۔ آمین بجاہ النبی الکریم علیہ التحیۃ والتسلیم ۔

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر X لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا 

اس کتاب کااول وآخر پورے طور پر اس شعر کا مصداق ہے ۔جب آغاز ہوا تھا تو میں اکیلا ہی تھا لیکن منزل مقصود تک پہونچنے کے لئے میرا کتنے لوگوں نے ساتھ دیا اور کس کی کیا خدمات ہیں اس کی ایک جھلک ملاحظہ کریں ۔

سب سے پہلے شریک سفر عزیز مکرم مولانا محمد مشتاق صاحب رضوی پورنوی ہیں جو کتاب کے آغاز کے ایک سال بعد جامعہ نوریہ میں بحیثیت استاذ مقرر ہوئے ،کام کی نوعیت واہمیت سے متاثر ہو کر میرے ساتھ حوالوں کی تخریج میں لگ گئے ، راتوں کو میرے ساتھ جاگتے اور صحاح ستہ سے حوالے نقل کراتے ۔فتاوی سے نقل احادیث میں بھی ایک رجسٹر ان ہی نے نقل کیا ، پٹنہ کے سفرمیں بھی میرے ساتھ رہے ، وہاں بھی تن دہی سے کام کرایا ، دو سال تک جامعہ میں رہے لیکن کبھی ہمت نہیں ہاری ، آج کل دارالعلوم گلشن بغداد رامپور میں مدرس ہیں اور نہایت کامیاب ، کہنہ مشق اور لکھے پڑھے کاتب وخوش نویس ہونے کی حیثیت سے بھی ممتاز ہیں ، کتابوں کے عنوان ان ہی کی خوش خطی کا مظہر ہیں ۔ان کے جانے سے میں نے اس کام میں تنہائی محسوس کی ، میں ان کا نہایت ممنون ہوں ، مولی تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے اور دارین کی سعادتوں سے نوازے ۔ آمین ۔

دوسرے عظیم رفیق مخلص مکرم حضرت مولانا عبدالسلام صاحب رضوی نینی تالی استاذ جامعہ نوریہ رضویہ کی ذات گرامی ہے ، ایک سال کے وقفہ کے بعد آپ جامعہ میں تشریف لائے اور دوسرے ابتدائی و ضروری کاموں سے فارغ ہوکر میرے شریک سفر ہوگئے ۔ ابواب وفصول کے جو عنوان قائم کئے گئے تھے ان سب کو آپ ہی نے نقل کیا ، پھر ترتیب قائم کردی گئی تو اس کی نقل بھی آپ کے ہی ذمہ آئی ، ایک ضخیم رجسٹر میں آپ نے ان سب کو نقل فرمایا اور مبیضہ کے لئے راہ ہموار فرمادی ۔

اب کتاب کا مبیضہ شروع ہوا تو مبیضہ کے بعد ہر رجسٹر کو آپ نے بغور پڑھا اور بالاستیعاب اس کو دیکھا اور مفید مشوروں سے نوازا ۔ نتیجہ کے طور پر حذف واضافہ کیا گیا جو ضروری تھا ،اٹھارہ رجسٹر مکمل آپ نے دیکھے اور میری خاطر اس طویل عمل کو برداشت کیا ، پھر فہرست مسائل ضمنیہ آپ ہی نے مرتب فرمائی، کتابت کے بعد مکمل کتابت کی تصحیح آپ ہی نے کی ، یہ اتنا لمبا کام تھا کہ وہ خود چاہتے تو اس وقت میں ایک ضخیم کتاب لکھ دیتے ، آخر تک نہایت خندہ پیشانی سے یہ کام انجام دیتے رہے ، ساتھ ہی طلبہ کو تعلیم دینا اورنہایت ذمہ داری کے ساتھ پڑھانا، ان کا یہ عمل اوقات مدرسہ کے ساتھ دوسرے اوقا ت میں بھی جاری رہا ، نہایت کامیاب اور ہر دل عزیز مدرس ہیں ، میں ان کا بھی نہایت ممنون کرم ہوں ، مولیٰ تعالیٰ انکے فیوض عام فرمائے اور جزائے خیر عطا فرمائے ۔آمین

عزیز مکرم مولانا صغیر اختر صاحب مصباحی رامپوری استاذ جامعہ نوریہ نے مجھ ہیچمداں کے سوانحی حالات قلم بند کرکے مجھے میری حیثیت سے بہت اونچا دکھانے کی مساعی کی ہیں ورنہ ’’ من آنم کہ من دانم ‘‘ آپ نے جزوی طور پر وف ریڈنگ کا کام بھی انجام دیا ۔

عزیزالقدر مولانا محمد شکیل صاحب رضوی بریلوی استاذ جامعہ نے کتاب میں وارد آیات قرآنیہ کی فہرست تیار کی اور جزوی طور پر پروف ریڈنگ بھی کی ۔ساتھ ہی چندصفحات کی معلوما ت مجھ فقیر سے متعلق سپرد قلم کیں ۔

محترم حافظ محمد ثنا اللہ صاحب خطیبی مدرس جامعہ نوریہ رضویہ اور انکے علاوہ میں ان تمام مدرسین کا بھی ممنون ہوں جنہوں نے کسی بھی حیثیت سے میری معاونت فرمائی ، مولیٰ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر عطافرمائے ۔آمین

اسٹاف کے علاوہ طلبہ اورمحبین نے بھی خلوص کا مظاہرہ کیا ، اور محب گرا می قدر حضرت مولانا قاری عرفان الحق صاحب سنبھلی ناظم مکتبہ مشرق کانکر ٹولہ بریلی شریف نے آخری بار نہایت لگن اور محنت کے ساتھ بعض جلدوں کو پڑھا اور تصحیح فرمائی ۔ نیز محب مکرم حضرت مولانا توفیق احمد صاحب شیش گڈھی نے بھی بعض حصہ کے پروف ریڈنگ کی ۔عزیز مکرم مولوی محمد شمشیر عالم بہاری نے کتاب کے عنوانات نقل کئے ۔عزیز گرامی مولوی حافظ محمد ارشاد صاحب شیر پوری نے فہرست مآخذ حروف تہجی کی ترتیب پر نقل کی ۔

طلبہ میں مولوی محمد محبوب عالم اشرفی ، مولوی علاء الدین رضوی ، مولوی غلام مجتبی ، مولوی محمد افروز عالم برکاتی سلہم اللہ تعالیٰ ۔ متعلمین درجۂ تخصص فی الافتاء جامعہ ہذا۔

مولوی محمد ذاکر ، مولوی محمد فیضان ، مولوی محمد مشاہد رضا ،مولوی محمد عرفان الحق ، مولوی محمد شکیل بریلویاں، مولوی عبدالمبین سیتاپوری ،مولوی محمد شاکر حسین رامپوری ، مولوی نیاز محمد مرادآبادی ، مولوی محمد بختیار خاں رامپوری ، نے کمپیوٹر پر مقابلۂ کتاب میں تعاون کیا۔

نیز مولوی محمد ارشد علی جیلانی جبل پوری متعلم جامعہ نوریہ ، مولوی محمد زاہد علی شاہدی بریلوی ، فارغ التحصیل جامعہ نوریہ رضویہ اور محمد تطہیر خاںرضوی پرتاپوری بریلوی سلہم اللہ تعالیٰ نے پوری کتاب کی کمپوزنگ کی اور کمپیوٹر پر سیٹ کرکے اسکی ظاہری زینت میں چار چاند لگائے۔

مولیٰ تعالیٰ ان سب کو علم نافع اور عمل صالح کی دولت لازوال سے سرفراز فرمائے آمین ۔یہ ہے اس کتاب کی جمع وترتیب اور کتابت وطباعت کے مختلف مراحل سے گذر نے کا پس منظر ۔

ان سب سے بڑھ کر یہ کہ میری اس کاوش کو سراہتے ہوئے اور ذرہ نوازی فرماتے ہوئے ہند وپاک کے جلیل القدر علماء ومشائخ نے اپنے قلم حقیقت رقم سے تقاریظ لکھیں اوراپنے تاثرات سے قارئین کو روشناس کرایا اور اس کتاب سے استفادہ کی دعوت دی ۔

میں اپنے ان تمام بزرگوں کا ممنون کرم اور احسان مند ہوں کہ مجھ پر یہ خصوصی کرم فرمایا اور مجھ بے وقعت کو یہ عزت بخشی ، بلا شبہ یہ سیدنا اعلیٰ حضرت امام اہلسنت محدث بریلوی اور مرشد برحق سیدی حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہما کا فیضان کرم ہے جو اس خاکسار کی جد وجہدکو سراہا گیا اور حقیقت یہ ہے کہ کام بھی انہیں کا تھا جو اس فقیر بے توقیر سے انہوں نے لیا ۔

ترتیب وتخریج کے دوران جن لائبریریوں سے استفادہ کیا

۱۔ نوری لائبریری ۔

سب سے پہلے تخریج کے لئے جامعہ نوریہ رضویہ بریلی شریف کی اسی لائبریری سے استفادہ کیا گیا بلکہ پوری کتاب ہی جامعہ کی لائبریری میں بیٹھ کر مرتب ہوئی ۔

آج جامعہ نوریہ رضویہ کی نوری لائبریری کتب احادیث میں منفرد ہے جامعہ کی فی الحال تین لائبریریاں ہیں ۔

٭ نوری لائبریری کتب احادیث وشروح ودیگر متفرق کتابیں ۔

٭ دارالافتاء کی لائبریری۔ فتوی نویسی سے متعلق کتب فتاوی ۔

٭ درسی لائبریری ۔ طلبہ کے لئے درسی کتب ۔

بحمدہ تعالیٰ جامعہ شب وروز ارتقائی منازل سے ہمکنار ہے، اساتذۂ جامعہ گوناگوں صلاحیتوں کے مالک ہیں ، دو منزلہ عمارت تعمیر ہوچکی ہے ، اسکے عقب میں رضا ہال اور پھراس سے متصل تین بڑے کمرے تعمیری مراحل سے گذر چکے ہیں ۔ بیرونی طلبہ کے قیام وطعام کا انتظام جامعہ کی طرف سے ہرسال رہتاہے ، ناظم ادارہ نبیرئہ اعلیٰ حضرت مولانا منان رضا خانصاحب منانی میاں قبلہ ہیں ۔

۲۔ لائبریری الجامعۃ القادریہ ۔

مدارس اسلامیہ میں الجامعۃ القادریہ رچھا اسٹیشن بریلی شریف کی لائبریری سے بھی کافی استفادہ کا موقع ملا ۔ آج کل بحمدہ تعالیٰ یہاں بھی کتابوں کاکافی ذخیرہ ہے جو بارہ تیرہ سال کی مدت میں جمع کیا گیا ہے ۔

۳۔ لائبریری جامعہ نعیمیہ مراد آباد

استاذ العلماء حضرت مفتی محمد ایوب خانصاحب قبلہ کی نوازش سے اس لائبریری کی چند کتب دستیاب ہوئیں جن سے پھر پور استفادہ کا موقع ملا۔

۴۔ لائبریری مدرسہ عالیہ رامپور۔

محب گرامی قدر حضرت مولانا نورالدین صاحب نظامی کی زمانہ صدارت میں ا ٓپ کی نوازش سے مدرسہ کی لائبریری سے استفادہ کیا۔ قدیم کتابوں کا ذخیرہ ہے چند کتابیں مستعار لیکر حوالے نقل کئے تھے ۔

۵۔ خدا بخش لائبریری پٹنہ ۔

ایک ہفتہ قیام کرکے یہاں کی لائبریری سے استفادہ کیا ، علم حدیث سے متعلق انواع واقسام کی کتابیں دیکھنے کا اتفاق سب سے پہلے اسی لائبریری میں ہوا ، یہاں آکر ہی یہ اندازہ ہوا کہ کتابیں جدید انداز پر چھپ رہی ہیں اور مل سکتی ہیں ، ضرورت سرمایہ کی ہے ۔

۶۔ رضا لائبریری رامپور ۔

یہاں بھی متعدد مواقع پر جانے کا اتفاق ہوا ۔ کتابوں کا عظیم ذخیرہ ہے لیکن کتابیں دیکھنے کا وقت زیادہ نہیں مل پاتا، کچھ کام لائبریری میں کیا اور کچھ کتابوں کی فوٹو اسٹیٹ حاصل کی ۔

۷۔ صولت لائبریری رامپور۔

یہ لائبریری بھی قدیم طرز کی نہایت عظیم لائبریری ہے ، ممبر بن جانے کے بعد یہاں سے کتابیں مل جاتی ہیں ، قدیم کتابیں یہیں سے حاصل ہوئیں اور اطمینان سے قیام گاہ پر کام کرنے کا موقع ملا۔ بلکہ میرے لئے یہاں کے منتظمین نے کام کی اہمیت دیکھ کرخاص رعایت رکھی۔

میں ان تمام کتب خانوں کے منتظمین کا نہایت ممنون ومشکور ہوں۔

نیز محب مکرم حضرت مولانا انوار احمد صاحب خلف اوسط فقیہ ملت علیہ الرحمۃ مالک کتب خانہ امجدیہ کا بھی ممنون کرم ہوں جنکی شب و روز جد و جہد کے بعد حسین انداز میں یہ کتاب منظر عام پر آئی ۔ آخر میں مخلص و کرم فرما حضرت مولانا محمد جزیل صاحب سنبھلی کا بھی شکرگزار ہوں کہ انہوں نے قیمتاً جامعہ کی لائبریری کے لئے دو بئی سے کتابوں کا وافر ذخیرہ فراہم کیا۔

دوسرا ایڈیشن:

خلا ف تو قع پہلا ایڈ یشن ہا تھو ں ہا تھ لیا گیا اور قلیل مد ت میں ختم ہو گیا ۔دوسرے ایڈ یشن کیلئے کا فی دنو ں سے ار با ب علم و فضل کو انتظا ر تھا،چو نکہ پہلے ایڈ یشن میں کچھ کتا بت کی غلطیا ں رہ گئی تھیں لھذا از سر نو اس کو پڑ ھا گیا ، یہ خدمت مند جہ ذیل حضرا ت نے انجا م دی ۔

فاضل جلیل حضرت مو لا نا عبد السلا م صاحب رضو ی مد ر س جا معہ نو ر یہ ر ضو یہ بر یلی شر یف ۔

عز یز گر ا می حضرت مو لینا مفتی محمد محبو ب عا لم مصبا حی اشر فی

عزیز مکرم حضرت مو لینا افرو زعا لم ر ضو ی۔ فا ر غین جا معہ نو ر یہ ر ضو یہ ،

را قم ا لحرو ف نے کمپیو ٹر پر تصحیح کر کے دو با ر ہ نکا لا ہے اور پھر سے نگیٹو بنا ئے گئے ہیں۔نیز سو م اور چہا ر م میں متن

احا د یث پر اعرا ب لگنے سے ر ہ گئے تھے وہ بھی لگا دئے ہیں ۔اور اب اس کی اشا عت اما م احمد ر ضا اکیڈ می بر یلی شر یف کی جا نب سے کی جا رہی ہے ۔

مطالعہ کے وقت قابل لحاظ امور

۱۔ واضح رہے کہ تخریج کے سلسلہ میں جن کتابوں کے نام لکھے گئے ہیں ان کتابوںمیں بعض وہ بھی ہیں جو مختلف مطابع کی ہمیںدستیاب ہوئی تھیں۔ جیسے:۔

السنن للنسائی، متتبۂ رحیمیہ ، دیوبند

السنن للنسائی، مکتبہ اشرفیہ دہلی

المعجم الکبیر مطبوعہ عراق

المعجم الکبیر مطبوعہ مصر

المستدرک للحاکم، مطبوعہ بیروت

المستدرک للحاکم، مطبوعہ مصر

المسند لا حمد بن حنبل، مطبوعہ بیروت

المسند لاحمد بن حنبل، مطبوعہ مصر

السنن الکبری للبیہقی مطبوعہ حیدرآباد دکن

السنن الکبری للبیہقی مطبوعہ پاکستان

السنن الکبری للبیہقی مطبوعہ بیروت

اسی طرح انکے علاوہ بھی دیگر کتب مختلف مطابع کی مطالعہ میں رہیں ،لہذا دونوںطرح کی کتابوں سے حوالے نقل کئے گئے ہیں ۔اگر کسی مقام پر حوالوں کا اختلاف ملے تو وہ مطابع کے اختلاف کی وجہ سے ہوگا۔ قارئین اس بات کو مد نظر رکھیں۔ حوالوں کے ضمن میں مطابع کی تفصیل دینا ایک طویل عمل تھا، بار بار تفصیل آنے سے کتاب کا حجم بڑھتا اور کوئی فائدہ نہ ہوتا، لہذا تخریج کے مآخذ و مراجع میں ا ن کو بیان کر دیا گیا۔ جیسا کہ گزرا۔

۲۔ حوالوں کی کثرت سے ہمارا مقصود صرف یہ ہے کہ حدیث کو متعدد طرق سے تقویت حاصل ہو تی ہے، اگر کوی صاحب کسی حدیث پر جرح و نقد کرنے کی کوشش کریں تو پہلے وہ مذکورہ تمام کتب کی جملہ اسانید پر نظر رکھیں اور پھر فیصلہ کریں۔پھر بھی ضعیف احادیث سے کتاب خالی نہیںلیکن اکثر ان مقامات پر ہے جہاں اپنے موقف کی تائید کے لئے روایت کر تے ہیں ، نہ کہ اس سے کسی عقیدہ کا اثبات اور نہ کہ حلت و حرمت کے سلسلہ میں استدلال مقصود ہے ۔

۳۔ حوالوں کی کثرت اطراف حدیث کی قبیل سے ہے ، لہذا ہر کتاب کے حوالہ میں راوی صحابی یا تابعی کا متحدو واحد ہو نا ضروری نہیں ۔

۴۔ امام احمد رضا محدث بریلوی نے بعض مقامات پر امام ترمذی کے نہج پر کسی ایک حدیث کو متعدد راویوں سے روایت کا حوالہ دیا ہے ، البتہ ہم نے متن حدیث کسی ایک راوی سے ہی نقل کیا ہے، اگر سب جگہ تمام راویان حدیث کی رعایت کی جاتی تو کتاب طویل سے طویل تر ہوجاتی ، بعض مقامات پر ’’ و فی الباب عن فلان و فلان الخ، کے طرز پر یہ کام شروع کیا تھا لیکن بعد میں اسکو بھی ترک کر دیا۔

۵۔ حدیث موصول میں راوی صحابی، اور مرسل روایت میں راوی تابعی متعدد ہوتے ہیں، تو محدثین ان احادیث کو علیحدہ علیحدہ شمار کرتے ہیں۔ امام احمد رضا قدس سرہ نے بھی اس طرف اپنی بعض عبارات میں اشارہ فرمایا ہے، چونکہ ہم نے صرف ایک راوی سے حدیث ذکر کی ہے لہذا اختلاف متن جو تصانیف رضویہ میں ملتا ہے جسکو اس طرح بیان کر تے ہیں۔

بخاری میں الفا ظ یہ ہیں۔

ترمذی میں یہ ہیں۔

ابو داؤد میں یہ ہیں۔

نسائی میں یہ ہیں۔

اگر راوی ایک ہیں تو ہم نے سب کے حوالے نیچے لکھ کر حدیث ایک ہی شمار کی ہے اور الفاظ کسی ایک کتاب کے لئے ہیں۔

اول تو حدیث متعدد حوالوں سے متعدد نہیں ہوتی جبکہ راوی صحابی ایک ہو۔ دوسرے یہ کہ اس سے کتاب کا حجم بڑھتا جو خلاف اصول ہونے کے ساتھ طوالت کاسبب بنتا۔

۶۔ امام احمد رضا محدث بریلوی بعض مقامات پر چند کتب حدیث سے الفاظ التفاط کرکے ایک حدیث بنا ددیتے ہیں، لہذا کسی ایک کتاب میں بعینہ ان الفاظ کا ہونا ضروری نہیں۔

۷۔ بعض مقامات پر روایت با لمعنی بھی کر تے ہیں اور اسکا حق بلا شبہ آپ کو حاصل تھا۔

۸۔ مکر احادیث کو حذف کر دیا گیا ہے پھر بھی بعض مقامات پر مختلف ابواب کے تحت کچھ احادیث آگئی ہیں ۔

ایسی احادیث کی تعداد نہایت قلیل ہے ، اگر تمام احادیث مکررہ کو لکھا جاتا اور ہر راوی سے علیحدہ روایت لی جاتی، یا اختلاف الفاظ سے حدیث علیحدہ شمار کی جاتی تو ایک اندازے کے مطابق احادیث کی تعداد دس ہزار سے کم نہ ہوتی ۔

۹۔ کثیر احادیث وہ ہیں جن کے متون نقل کرنے کی اعلی حضرت کو ضرورت پیش نہ آئی، ہم نے جدو جہد کر کے ایسی تمام احادیث کے متون نقل کئے ہیں اور پھر ترجمہ اسکے ساتھ لکھ دیا ہے۔ بعض جگہ متن کے مقابل جزوی طور پر ترجمہ کا اختلاف نظر آئے تو اس کو اسی طرز پر محمول کریں، نسخوں اور طرق کے تعدد سے معمولی رد و بدل ہوتی رہتی ہے جیسا کہ مشاہدہ ہے۔

پوری کتاب میں صرف ایک حدیث ایسی ہے جسکا متن مجھے نہیں مل سکا اسکے لئے بیاض چھوڑ دی گئی ہے کہ اگر کسی صاحب کو وہ متن مل جائے تو اپنے نسخہ میں تحریر کر لیں اور ہمیں مطلع فرمائیں، ہم شکریہ کے ساتھ آئندہ ایڈیشن میں شائع کر دیں گے۔

۱۰۔ بعض جگہوں پر امام احمد رضا بریلوی نے موقع کے مناسبت سے حدیث کا صرف ایک جملہ نقل کر دیا تھا ،ہم نے ایسی احادیث اکثر مقامات پر پوری لکھی ہیں تاکہ ہمارے قائم کردہ عنوان پر مکمل روشنی پڑ جائے، اور قارئین کو دیگر ضروری معلومات بھی فراہم ہو جائیں۔

۱۱۔ بعض جگہ ایسا بھی ہے کہ حدیث نقل فرما کربقیہ کی طرف مطالعہ کی دعوت دیتے ہیں ، نیز کبھی اس طرز کی دوسری احادیث کی طرف رغبت دلا تے، لہذا ایسی احادیث بھی نقل کر دی گئی ہیں۔