أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّىۡۤ اٰيَةً ‌ؕ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ اِلَّا رَمۡزًا ؕ‌ وَاذۡكُرْ رَّبَّكَ كَثِيۡرًا وَّسَبِّحۡ بِالۡعَشِىِّ وَالۡاِبۡكَارِ

ترجمہ:

زکریا نے) کہا اے میرے رب ! میرے لیے کوئی علامت مقرر کردیجیے، فرمایا تمہاری علامت یہ ہے کہ تم تین دن تک اشاروں کے سوا لوگوں سے کوئی بات نہ کرسکو گے اور اپنے رب کا بہ کثرت ذکر کرو اور اس کی پاکیزگی شام کو اور صبح کے و قت بیان کرو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (زکریانے) کہا اے میرے رب ! میرے لئے کوئی علامت مقرر کر دیجئے فرمایا تمہاری علامت یہ ہے کہ تم تین دن تک اشاروں کے سوا لوگوں سے کوئی بات نہ کرسکو گے اور اپنے رب کا ذکر اور اسکی پاکیزگی شام کو اور صبح کے وقت بیان کرو۔

تین دن کے لئے حضرت زکریا کی زبان بند کرنے کے فوائد اور حکمتیں : 

حضرت زکریا (علیہ السلام) کو بیٹے کی ولادت کی خوش خبری اور اپنی دعا کی قبولیت سے غیرمعمولی خوشی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اس قدر انعام اور اکرام فرمایا اس لئے انہوں نے یہ چاہا کہ اس کی کوئی علامت مقرر کردی جائے جو استقرار حمل پر دلالت کرے تو اللہ تعالیٰ نے اس کی یہ علامت مقرر کردی کہ تم تین راتوں کا ذکر ہے اور ان دونوں آیتوں سے یہ معلوم ہوا کہ یہ علامت تین دن اور تین راتیں حاصل رہی تھی۔ اس علامت کا بیان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی زبان کو تین دن اور تین راتوں تک لوگوں سے بات کرنے روک دیا تھا اس کا ایک فائدہ یہ تھا کہ ان کی زبان کا بندہو جانا استقرار نطفہ کی علامت بن گیا۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ دنیاوی امور میں باتیں کرنے سے اللہ تعالیٰ نے ان کی زبان کو بند کردیا اور تسبیح ‘ تہلیل اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے پر ان کی زبان کو قدرت دے دی۔ اس طرح یہ ایک چیز استقرار حمل کی علامت بھی بن گئی اور اس نعمت پر شکر ادا کرنے کا ذریعہ بن گئی ‘ تیسرا فائدہ یہ ہے کہ اس سے حضرت زکریا (علیہ السلام) کا معجزہ ظاہر ہوا کہ وہ لوگوں سے بات تو نہیں کرسکتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کی تسبیح ‘ تہلیل اور ذکر کرسکتے تھے ‘ اور چونکہ ان کو پہلے بتادیا گیا تھا کہ استقرار حمل کے وقت تمہاری زبان بند ہوجائے گی حالانکہ ان کا بدن صحیح و سلامت تھا اور پھر بعد میں ایسا ہی ہوا تو یہ ایک اور وجہ سے معجزہ ہے۔

اس آیت کی دوسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے استقرار حمل کی علامت یہ بیان فرمائی کہ جب استقرار حمل ہوگا تو تمہیں یہ حکم دیا جائے گا کہ تم لوگوں سے تین دن تین راتیں بات نہ کرو اور تسبیح ‘ تہلیل ‘ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کا شکر ادا کرتے رہو اور لوگوں سے بات کرنے کی اگر ضرورت پیش آئے تو اشاروں سے بات کرو اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس حکم کا آنا استقرار حمل کی علامت ہوگا۔

اس آیت میں فرمایا ہے کہ تم لوگوں سے صرف رمز کی بات کرسکو گے ‘ رمز کا معنی ہے حرکت کرنا اور یہاں رمز سے مراد ہے اشارہ کرنا ‘ خواہ اشارہ ہاتھ سے ہو ‘ سر سے ہو ‘ بھوں سے ہو ‘ آنکھ سے ہو یا ہونٹ سے ہو ‘ نیز اس آیت میں فرمایا ہے اپنے رب کا بہ کثرت ذکر کرو اور شام کے وقت اور صبح کو اس کی تسبیح کرو ‘ اس پر یہ سوال ہے کہ ذکر کے بعد تسبح کا ذکر کیوں فرمایا جبکہ تسبیح کرنا بھی ذکر ہی ہے۔ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ ذکر سے مراد ہے زبان کے ساتھ ذکر کرنا اور صبح اور شام کی تسبیح سے مراد ہے قلب کے ساتھ ذکر کرنا ‘ کیونکہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی معرفت میں مستغرق ہوتے ہیں پہلے وہ بہ کثرت زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں پھر جب اللہ کے ذکر کے نور سے ان کا قلب منور ہوجاتا ہے تو پھر ان کا قلب ذاکر ہوجاتا ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ شام کے وقت اور صبح کو اس کی تسبیح سے مراد ہے شام اور صبح کو نماز پڑھنا کیونکہ نماز تسبیح پر مشتمل ہے اور تسبیح نماز کا جز ہے تو یہاں کل پر جز کا اطلاق ہے ‘ قرآن مجید میں ایک اور جگہ بھی نماز پر تسبیح کا اطلاق ہے :

(آیت) ” فسبحان اللہ حین تمسون وحین تصبحون “۔ (الروم : ١٧)

ترجمہ : اللہ کے لئے نماز پڑھو جب تم شام کا وقت پاؤ اور جب تم صبح کا وقت پاؤ :

نیز شام اور صبح کے وقت نماز پڑھنا اس آیت کے موافق ہے :

(آیت) ” اقم الصلوۃ طرفی النہار “۔ (ھود : ١١٤)

ترجمہ : دن کے دونوں کناروں میں نماز قائم رکھو۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 41